كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابٌ فِي الِاسْتِسْقَاءِ بِالصَّالِحِينَ الْمُتَّقِينَ الطَّاهِرِينَ مِنْ آلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ لَا غِلَّ فِي صَدْرِهِ لِأَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 2211
2211 - حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا سَاعِدَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: خَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَسْتَسْقِي لِلنَّاسِ عَامَ الرَّمَادَةِ بِالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ: " اللَّهُمَّ إِنَّ هَذَا عَمُّ نَبِيِّكَ عَلَيْهِ السَّلَامُ نَتَوَجَّهُ بِهِ إِلَيْكَ فَاسْقِنَا فَمَا بَرِحُوا حَتَّى سَقَاهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَخَطَبَ عُمَرُ النَّاسَ فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرَى لِلْعَبَّاسِ مَا يَرَى الْوَلَدُ لِلْوَالِدِ، وَيُعَظِّمُهُ وَيُفَخِّمُهُ فَاقْتَدُوا أَيُّهَا النَّاسُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَمِّهِ الْعَبَّاسِ وَاتَّخِذُوهُ وَسِيلَةً إِلَى اللَّهِ فِيمَا نَزَلَ بِكُمْ وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ الزُّبَيْرِ بْنِ بَكَّارٍ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بارش کی دعا کے لیے لوگوں کو ساتھ لے کرنکلے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس بن عبد المطلب بھی ساتھ تھے،یہ عام الرمادہ کا واقعہ ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کے سامنے دعا کرتے ہوئے کہا:اے اللہ !یہ آپ کے نبی علیہ السلام کا چچا ہے ،ہم آپ کے نبی کے چچا کے ذریعے سے آپ سے بارش کا سوال کرتے ہیں ،لوگ وہاں پرہی موجود تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی رحمت کی بارش کوبرسا دیا ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور کہا :اے لوگو ! بلا شبہ اللہ کے رسول صلی اللہ وسلم حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ کا اس قدر احترام کیا کرتے تھے کہ جس طرح اولاد اپنے والد کا احترام کرتی ہے ،آپ ان کی تعظیم کیاکرتے تھے اوران کا خیال کیا کرتے تھے ۔لوگو!تم بھی اس معاملے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء اور پیروی کروآپ کے چچا عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں اور ان کو اللہ کے سامنے تقرب اور وسیلے بنائو اپنی مصیبتوں اور پریشانیوں کے موقع پر۔
اللَّهُمَّ ← خَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَسْتَسْقِي لِلنَّاسِ عَامَ الرَّمَادَةِ بِالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ← ابْنِ عُمَرَ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← دَاوُدُ بْنُ عَطَاءٍ ← سَاعِدَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ، ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ،
Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2211
