Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
كتاب الدعاء

Kitab Al Dua

by Tibrani

2,251 Hadith318 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ رُكُوبِ الدَّابَّةِ · حديث 775

775 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ، ح وَحَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَزِيرِ الْوَاسِطِيُّ، قَالَا: ثنا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ الْوَاسِطِيِّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا رَكِبَ دَابَّةً فَقَالَ: سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ، فَقَالَ لَهُ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «وَبِهَذَا أُمِرْتَ؟» قَالَ: فَكَيْفَ أَقُولُ؟ قَالَ: «تَقُولُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَانِي لِلْإِسْلَامِ وَمَنَّ عَلَيَّ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعَلَنِي فِي خَيْرِ أُمَّةٍ [ص:247] أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ» ، فَهَذِهِ النِّعْمَةُ، فَقَالَ: " تَبْدَأُ بِهَذَا لِقَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {ثُمَّ تَذْكُرُوا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ إِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُوا سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ} [الزخرف: 13] "

حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو سواری پر سوار ہوتے دیکھا ، اس نے یہ دعا پڑھی :{سُبْحَانَ الَّذِی سَخَّرَ لَنَا ہَذَا وَمَا کُنَّا لَہُ مُقْرِنِینَ}پاک ہے وہ ذات جس نے اس کو ہمارے لیے مسخر کیا ،ہم اس پر قابو پانے والے نہ تھے ۔(زخرف:13)حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اسے کہا:کیا تمہیں اس کا حکم دیا گیا ہے ؟اس نے کہا :پھر میں کیا پڑھا کروں ؟انہوں نے کہا:تم یہ دعا پڑھا کرو : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی ہَدَانِی لِلْإِسْلَامِ وَمَنَّ عَلَیَّ بِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَجَعَلَنِی فِی خَیْرِ اُمَّۃٍ،اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ،تمام تعریفات اس اللہ کے لیے جس نے مجھے اسلام کے لیے توفیق اور ہدایت دی اورمجھ پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے احسان کیا اور اس نے مجھے خیر امت میں شامل کیا ،جسے لوگوں کے لیے نکالا گیا ۔‘‘یہ نعمت ہے ، اس سے آغاز کرو ، اللہ عزوجل کے اس فرمان کی روشنی میں :{(ثُمَّ تَذْکُرُوا نِعْمَۃَ رَبِّکُمْ إِذَا اسْتَوَیْتُمْ عَلَیْہِ وَتَقُولُوا سُبْحَانَ الَّذِی سَخَّرَ لَنَا ہَذَا وَمَا کُنَّا لَہُ مُقْرِنِینَ}پھر تم یا د کرو اپنے رب کی نعمتوں کو ، جب تم اس (سواری )پر برابر ہوکر بیٹھ جائو او ر تم کہو :پاک ہے وہ ذات جس نے اس کو ہمارے لیے مسخر کیا ،ہم اس پر قابو پانے والے نہ تھے ۔(زخرف:13)

فكيف أقول ← لَهُ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ «وَبِهَذَا أُمِرْتَ؟» ← {سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ}؟ ← حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا رَكِبَ دَابَّةً ← اَبِیْ مِجْلَزٍ، ← أَبِي هَاشِمٍ الْوَاسِطِيِّ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْوَزِيرِ الْوَاسِطِيُّ ← النُّعْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ الْقَاضِي، ← تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 775

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ رُكُوبِ الدَّابَّةِ · حديث 776

776 - حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْقُرْطُمِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عِيسَى الْعَطَّارُ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ آدَمَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَالَ إِذَا رَكِبَ دَابَّتَهُ: بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ، سُبْحَانَهُ لَيْسَ لَهُ سَمِيٌّ {سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ} [الزخرف: 14] وَالْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِيِنَ وَصَلَّى اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَيْهِ السَّلَامُ، قَالَتِ الدَّابَّةُ: بَارَكَ اللَّهُ عَلَيْكَ مِنْ مُؤْمِنٍ حَلَلْتَ عَلَى ظَهْرِي وَأَطَعْتَ رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَحْسَنْتَ إِلَى نَفْسِكَ، بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي سَفَرِكَ وَأَنْجَحَ حَاجَتَكَ "

حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس شخص نے سواری پر سوار ہوتے وقت یہ دعا پڑھی :’’اللہ کے نام کے ساتھ ،اس کے نام کے ساتھ کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی ، وہ ذات پاک ہے ، اس کا کوئی ہم نام نہیں ہے ،{سُبْحَانَ الَّذِی سَخَّرَ لَنَا ہَذَا وَمَا کُنَّا لَہُ مُقْرِنِینَ وَإِنَّا إِلَی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ}پاک ہے وہ ذات جس نے اس کو ہمارے لیے مسخر کیا ،ہم اس پر قابو پانے والے نہ تھے ۔اور بلاشبہ ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں ۔(زخرف 13.14)وَالْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیِنَ وَصَلَّی اللَّہُ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَیْہِ السَّلَامُ،تمام تعریفات اللہ کے لیے جو تمام جہانوں کا رب ہے ،درود وسلام ہے ہوں محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ۔یہ دعا پڑھنے پر سواری کہتی ہے : بَارَکَ اللَّہُ عَلَیْکَ مِنْ مُوْمِنٍ حَلَلْتَ عَلَی ظَہْرِی وَاَطَعْتَ رَبَّکَ عَزَّ وَجَلَّ وَاَحْسَنْتَ إِلَی نَفْسِکَ، بَارَکَ اللَّہُ لَکَ فِی سَفَرِکَ وَاَنْجَحَ حَاجَتَکَ،اے ایمان والے !اللہ تعالیٰ تجھ پر برکتیں نازل کرے ، تو میر ی پیٹھ پر سوار ہوا ہے ، تو نے اپنے رب کی اطاعت کی ہے ، اپنے آپ کے ساتھ تو احسان کیا ہے ، اللہ تعالیٰ تیرے سفر کو باعث برکت بنائے اور تیری ضرورتوں کو پورا فرمائے ۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ آدَمَ، ← عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عِيسَى الْعَطَّارُ ← الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْقُرْطُمِيُّ الْبَغْدَادِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 776

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ رُكُوبِ الدَّابَّةِ · حديث 777

777 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ح وَحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الصَّغِيرِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: حَمَلَنِي عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَلْفَهُ، ثُمَّ سَارَ فِي جَبَّانَةِ الْكُوفَةِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ: اللَّهُمَّ، اغْفِرْ ذُنُوبِي؛ إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ أَحَدٌ غَيْرُكَ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَضَحِكَ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، اسْتِغْفَارُكَ رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ وَالْتِفَاتُكَ إِلَيَّ تَضْحَكُ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمَلَنِي خَلْفَهُ ثُمَّ سَارَ بِي فِي جَانِبِ الْحَرَّةِ ثُمَ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالُ: «اللَّهُمَّ، اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ أَحَدٌ إِلَّا أَنْتَ» ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَضَحِكَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتِغْفَارُكَ رَبَّكَ وَالْتِفَاتُكَ إِلَيَّ تَضْحَكُ، قَالَ: «ضَحِكْتُ لِضَحِكِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ لِعَجَبِهِ لِعَبْدِهِ أَنَّهُ يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ أَحَدٌ غَيْرُهُ»

علی بن ربیعہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مجھے اپنی سواری پر اپنے پیچھے سوار کیا ،پھر وہ کوفہ کی طرف روانہ ہوئے ،انہوں آسمان کی طرف اپنے سر کو بلند کیا اور کہا:اللَّہُمَّ، اغْفِرْ ذُنُوبِی؛ إِنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوبَ اَحَدٌ غَیْرُکَ،اے اللہ !میرے گناہوں کوبخش دے ، تیرے علاوہ کوئی گناہوں کو بخشنے والانہیں ہے ، اس کے بعد میری طرف متوجہ ہوئے اورہنسنے لگے ، میں نے کہا:ا ے امیر المؤمنین !آپ نے پہلے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کی اور اس کے بعد میری طرف متوجہ ہوکر ہنسنے لگے ، اس کی کیا وجہ ہے ؟حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی سوار ی پر سوا ر کیا ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم حرہ کی طرف روانہ ہوئے اور آپ نے آسمان کی طرف اپنے سر کو بلند کیا اور کہا:اللَّہُمَّ، اغْفِرْ لِی ذُنُوبِی إِنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوبَ اَحَدٌ إِلَّا اَنْتَ ،اے اللہ !میرے گناہوں کوبخش دے ، تیرے علاوہ کوئی گناہوں کو بخشنے والانہیں ہے ، اس کے بعد میری طرف متوجہ ہوئے اورہنسنے لگے ،میں نے کہا:ا ے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ نے پہلے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کی اور اس کے بعد میری طرف متوجہ ہوکر ہنسنے لگے ، اس کی کیا وجہ ہے ؟آپ نے فرمایا:میں ہنسا ہوں ،اپنے رب کے ہنسنے پر کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے بارے میں حیرانگی پر کہ میرا بندہ جانتا ہے کہ میرے گناہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی بخشنے والا نہیں ہے ۔

عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ← إسماعيل بن عبد الملك بن أبى الصغير ← خَلاَّدُ بْنُ يَحْيَى، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 777

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ رُكُوبِ الدَّابَّةِ · حديث 778

778 - حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْعِجْلِيُّ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: كُنْتُ رِدْفًا لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الرِّكَابِ قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ، فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَى ظَهْرِ الدَّابَّةِ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ اللَّهُ أَكْبَرُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: {سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ} [الزخرف: 14] ثُمَّ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، ثُمَّ ضَحِكَ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا يُضْحِكُكَ؟ فَقَالَ: كُنْتُ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَنَعَ كَمَا صَنَعْتُ، ثُمَّ قُلْتُ لَهُ كَمَا قُلْتَ لِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَضْحَكُ إِلَى عَبْدِهِ إِذَا قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، قَالَ: «عَبْدِي عَرَفَ أَنِّي أَغْفِرُ وَأُعَاقِبُ»

علی بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے سواری پر سوار تھا ، جب انہوں نے اپنا پائوں سواری پر رکھا تو کہا :اللہ کے نام کے ساتھ ،جب سواری پر درست ہوکر بیٹھ گئے تو تین بار ’’الحمد للہ ، تین بار ،اللہ اکبر ‘‘کہا پھر یہ دعا پڑھی :{سُبْحَانَ الَّذِی سَخَّرَ لَنَا ہَذَا وَمَا کُنَّا لَہُ مُقْرِنِینَ وَإِنَّا إِلَی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ}پاک ہے وہ ذات جس نے اس کو ہمارے لیے مسخر کیا ،ہم اس پر قابو پانے والے نہ تھے ۔اور بلاشبہ ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں ۔(زخرف 13.14)پھر یہ کلمات کہے :لَا إِلَہَ إِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ إِنِّی ظَلَمْتُ نَفْسِی فَاغْفِرْ لِی ذُنُوبِی، إِنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اَنْتَ،اے اللہ !تو پاک ہے ،بلاشبہ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے ، میرے گناہوں کو بخش دے ، بلا شبہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو بخشنے والا نہیں ہے ۔یہ دعا پڑھنے کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ ہنسنے لگے ، میں نے کہا:اے امیر المؤمنین !آپ کو کس چیز نے ہنسایا ہے ؟حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:میں سواری پر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھا ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسے ہی کیا تھا جس طرح میں نے کیا ،میں نے بھی وہی بات کہی تھی ، جو تم نے مجھے کہی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ عزوجل اپنے بندے پر ہنستا ہے ، جب بندہ کہتا ہے :لَا إِلَہَ إِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ إِنِّی ظَلَمْتُ نَفْسِی، فَاغْفِرْ لِی ذُنُوبِی إِنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اَنْتَ، قَالَ: عَبْدِی عَرَفَ اَنِّی اَغْفِرُ وَاُعَاقِبُ،تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ،اے اللہ !تو پاک ہے ،بلاشبہ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے ، میرے گناہوں کو بخش دے ، بلا شبہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو بخشنے والا نہیں ہے ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :میرا بندہ جانتا ہے کہ میں ہی گناہوں کو بخشنے والا ہوں اور میں ہی سزا دیتا ہوں ۔

عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، ← فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْعِجْلِيُّ ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 778

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ رُكُوبِ الدَّابَّةِ · حديث 779

779 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ زُغْبَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنْبَأَ ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ خَبَّابٍ، عَنْ شَقِيقٍ الْأَزْدِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: أَرْدَفَنِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَلْفَهُ عَلَى بَغْلَةٍ، فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الرِّكَابِ قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ، فَلَمَّا اسْتَوَى قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، ثُمَّ قَالَ: {سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ} [الزخرف: 13] ثُمَّ حَمِدَ اللَّهَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ كَبَّرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَضَحِكَ، فَقُلْتُ: لِمَ تَضْحَكُ؟ فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ ضَحِكَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مِمَّ تَضْحَكُ؟ قَالَ: «ضَحِكْتُ لِعَجَبِ اللَّهِ لِلْعَبْدِ، إِنَّهُ عَلِمَ أَنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ غَيْرُهُ»

علی بن ربیعہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مجھے اپنی خچر پراپنے پیچھے سوارکیا ، جب انہوں نے اپنا پائوں رکاب پر رکھا تو کہا :اللہ کے نام کے ساتھ ،جب سواری پر درست ہوکر بیٹھ گئے تو تین بار ’’الحمد للہ ، تین بار ،اللہ اکبر ‘‘کہا پھر یہ دعا پڑھی :{سُبْحَانَ الَّذِی سَخَّرَ لَنَا ہَذَا وَمَا کُنَّا لَہُ مُقْرِنِینَ}پاک ہے وہ ذات جس نے اس کو ہمارے لیے مسخر کیا ،ہم اس پر قابو پانے والے نہ تھے ۔اور بلاشبہ ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں ۔(زخرف 13.14)پھر بار ’’الحمد للہ ، تین بار ،اللہ اکبر ‘‘کہا ،اس کے بعد یہ دعا پڑھی :اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِی ذَنْبِی إِنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اَنْتَ،اے اللہ !تو پاک ہے ،بلاشبہ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے ، میرے گناہوں کو بخش دے ، بلا شبہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو بخشنے والا نہیں ہے ۔یہ دعا پڑھنے کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ ہنسنے لگے ، میں نے کہا:آپ کو کس چیز نے ہنسایا ہے ؟حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:میں سواری پر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھا ،میں نے بھی وہی بات کہی تھی ، جو تم نے مجھے کہی ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی دعا پڑھی ۔پھر آپ ہنسنے لگے ، میں نے عرض کیا :اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ کیوں ہنسے ؟آپ نے فرمایا:میں اللہ عزوجل کے اپنے بندے پر تعجب اور حیرانگی پر ہنسا ہوں بندہ جانتا ہے کہ و ہی گناہوں کو بخشنے والا ہے اس کے سوا کوئی گناہوں کو بخشنے والا نہیں ہے ۔

عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ← شَقِيقٍ الْأَزْدِيِّ، ← يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ ← عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنْبَأَ ابْنُ لَهِيعَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ زُغْبَةَ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 779

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ رُكُوبِ الدَّابَّةِ · حديث 780

780 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي لَيْلَى، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَلِيِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الرِّكَابِ قَالَ: «بِاسْمِ اللَّهِ» وَإِذَا اسْتَوَى عَلَى الدَّابَّةِ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ» ثُمَّ قَالَ: {سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ} [الزخرف: 14] وَكَبَّرَ ثَلَاثًا وَهَلَّلَ ثَلَاثًا

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنا پائوں رکاب پر رکھا تو آپ نے کہا :بسم اللہ ،اللہ کے نام کے ساتھ ،جب سواری پر درست ہوکر بیٹھ گئے تو ،الحمد للہ ،کہا پھر یہ دعا پڑھی :{سُبْحَانَ الَّذِی سَخَّرَ لَنَا ہَذَا وَمَا کُنَّا لَہُ مُقْرِنِینَ وَإِنَّا إِلَی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ}پاک ہے وہ ذات جس نے اس کو ہمارے لیے مسخر کیا ،ہم اس پر قابو پانے والے نہ تھے ۔اور بلاشبہ ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں ۔(زخرف 13.14)پھر تین بار اللہ اکبر کہا اور تین بار لاالہ الا اللہ ، کہا ۔

إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ} [الزخرف: وَكَبَّرَ ثَلَاثًا وَهَلَّلَ ثَلَاثًا ← {سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ}؟ ← الحمد لله ثم ← «بِاسْمِ اللَّهِ» وَإِذَا اسْتَوَى عَلَى الدَّابَّةِ ← النَّبِيِّ أَنَّهُ كَانَ إِذَا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الرِّكَابِ ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ← الْحَكَمِ ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي لَيْلَى، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ:

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 780

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ رُكُوبِ الدَّابَّةِ · حديث 781

781 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: كُنْتُ رِدْفًا لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ، {سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ} [الزخرف: 14] لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، مَرَّتَيْنِ ثُمَّ اسْتَضْحَكَ، فَقُلْتُ: مَا يُضْحِكُكَ؟ قَالَ: كُنْتُ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلْتُ، فَقُلْتُ: مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " يَضْحَكُ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْعَبْدِ إِذَا قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ "

علی بن ربیعہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مجھے اپنی خچر پراپنے پیچھے سوارکیا ،انہوں نے ،اللہ اکبر،اللہ اکبر،اللہ اکبر ‘‘کہا پھر الحمد للہ کہا پھر یہ دعا پڑھی : {سُبْحَانَ الَّذِی سَخَّرَ لَنَا ہَذَا وَمَا کُنَّا لَہُ مُقْرِنِینَ وَإِنَّا إِلَی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ}پاک ہے وہ ذات جس نے اس کو ہمارے لیے مسخر کیا ،ہم اس پر قابو پانے والے نہ تھے ۔اور بلاشبہ ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں ۔}(زخرف 13.14)اس کے بعددو بار یہ دعا پڑھی : لَا إِلَہَ إِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ إِنِّی ظَلَمْتُ نَفْسِی فَاغْفِرْ لِی ذُنُوبِی إِنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اَنْتَ،تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ،اے اللہ !تو پاک ہے ،بلاشبہ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے ، میرے گناہوں کو بخش دے ، بلا شبہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو بخشنے والا نہیں ہے ۔پھر وہ ہنسنے لگے ، میں نے کہا:آپ کو کس چیز نے ہنسایا ہے ؟حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:میں سواری پر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھا ،آپ نے بھی اسی طرح کیا تھا جس طرح میں نے کیا ہے ، میں نے عرض کیا :اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ کیوں ہنسے ؟آپ نے فرمایا:ہماررب اللہ عزوجل اپنے بندے پر تعجب اور حیرانگی پر ہنستاہے جب بندہ کہتا ہے :تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ،اے اللہ !تو پاک ہے ،بلاشبہ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے ، میرے گناہوں کو بخش دے ، بلا شبہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو بخشنے والا نہیں ہے ۔

كُنْتُ رِدْفًا لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 781

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ رُكُوبِ الدَّابَّةِ · حديث 782

782 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ أَنَّهُ شَهِدَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ رَكِبَ، فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الرِّكَابِ قَالَ: بِاسْمِ اللَّهِ، فَلَمَّا اسْتَوَى قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ {سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ} [الزخرف: 13] لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ حَتَّى {لَمُنْقَلِبُونَ} [الزخرف: 14] ثُمَّ حَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى ثَلَاثًا، وَكَبَّرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، ثُمَّ ضَحِكَ، فَقُلْنَا: مَا يُضْحِكُكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ فَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلْتُ، ثُمَّ ضَحِكَ فَقُلْنَا: مَا يُضْحِكُكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ: " عَجِبْتُ لِلْعَبْدِ إِذَا قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ قَالَ: يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا هُوَ "

علی بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا جب انہوں اپنا پائوں رکاب پر رکھا تو کہا :اللہ کے نام کے ساتھ ،جب سواری پر درست ہوکر بیٹھ گئے تو ’’الحمد للہ ‘‘کہا، پھر یہ دعا پڑھی :{سُبْحَانَ الَّذِی سَخَّرَ لَنَا ہَذَا وَمَا کُنَّا لَہُ مُقْرِنِینَ وَإِنَّا إِلَی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ}پاک ہے وہ ذات جس نے اس کو ہمارے لیے مسخر کیا ،ہم اس پر قابو پانے والے نہ تھے ۔اور بلاشبہ ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں ۔(زخرف 13.14)پھر تین بار الحمد للہ ، تین بار ،اللہ اکبر کہا ،اس کے بعد یہ دعا پڑھی :لَا إِلَہَ إِلَّا اَنْتَ ظَلَمْتُ نَفْسِی فَاغْفِرْ لِی إِنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اَنْتَ،تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ،میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے ، میرے گناہوں کو بخش دے ، بلا شبہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو بخشنے والا نہیں ہے ۔پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ ہنسنے لگے ، ہم نے کہا:اے میر المؤمنین !آپ کو کس چیز نے ہنسایا ہے ؟حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا تھا جس طرح میں نے کیا ،پھر آپ ہنسنے لگے ، میں نے عرض کیا :اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ کو کس چیز نے ہنسایا ہے ؟آپ نے فرمایا:میں بندے کے لیے تعجب پرکرتا ہوں جب وہ کہتا ہے :تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ،میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے ، میرے گناہوں کو بخش دے ، بلا شبہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو بخشنے والا نہیں ہے ۔آپ نے فرمایا:بندہ جانتا ہے کہ اس کے گناہوں کو اللہ کے سوا کوئی بخشنے والا نہیں ہے ۔

عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ الدَّبْرِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 782

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ رُكُوبِ الدَّابَّةِ · حديث 783

783 - حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: كُنْتُ رَدِيفَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الرِّكَابِ قَالَ: بِاسْمِ اللَّهِ، فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَى السُّرُجِ، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، ثُمَّ قَالَ: {سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ} [الزخرف: 14] ثُمَّ حَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثًا، وَكَبَّرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ ذُنُوبِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، ثُمَّ اسْتَضْحَكَ، قُلْتُ: مَا يُضْحِكُكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ فَقَالَ: كُنْتُ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَعَلَ كَالَّذِي رَأَيْتَنِي فَعَلْتُ، قُلْتُ: مَا أَضْحَكَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " عَجِبْتُ لِرَبِّنَا عَزَّ وَجَلَّ يَعْجَبُ لِلْعَبْدِ إِذَا قَالَ: اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، قَالَ: عَلِمَ عَبْدِي أَنَّهُ لَا رَبَّ لَهُ غَيْرِي "

علی بن ربیعہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مجھے اپنی خچر پراپنے پیچھے سوارکیا ،انہوں نے ،اللہ اکبر،اللہ اکبر،اللہ اکبر ‘‘کہا پھر الحمد للہ کہا پھر یہ دعا پڑھی :{سُبْحَانَ الَّذِی سَخَّرَ لَنَا ہَذَا وَمَا کُنَّا لَہُ مُقْرِنِینَ وَإِنَّا إِلَی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ}پاک ہے وہ ذات جس نے اس کو ہمارے لیے مسخر کیا ،ہم اس پر قابو پانے والے نہ تھے ۔اور بلاشبہ ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں ۔(زخرف 13.14)اس کے بعددو بار یہ دعا پڑھی :لَا إِلَہَ إِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ إِنِّی ظَلَمْتُ نَفْسِی فَاغْفِرْ ذُنُوبِی إِنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اَنْتَ،تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ،اے اللہ !تو پاک ہے ،بلاشبہ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے ، میرے گناہوں کو بخش دے ، بلا شبہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو بخشنے والا نہیں ہے ۔پھر وہ ہنسنے لگے ، میں نے کہا:آپ کو کس چیز نے ہنسایا ہے ؟حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:میں سواری پر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھا ،آپ نے بھی اسی طرح کیا تھا جس طرح میں نے کیا ہے ، میں نے عرض کیا :اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ کیوں ہنسے ؟آپ نے فرمایا:ہماررب اللہ عزوجل اپنے بندے پر تعجب اور حیرانگی پر ہنستاہے جب بندہ کہتا ہے :تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ،اے اللہ !تو پاک ہے ،بلاشبہ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے ، میرے گناہوں کو بخش دے ، بلا شبہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو بخشنے والا نہیں ہے ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :میرا بندہ جانتا ہے کہ میرے علاوہ اس کا کوئی رب نہیں ہے ۔

عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 783

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ رُكُوبِ الدَّابَّةِ · حديث 784

784 - حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: شَهِدْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُتِيَ بِدَابَّةٍ لِيَرْكَبَهَا، فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الرِّكَابِ قَالَ: بِاسْمِ اللَّهِ، فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَى ظَهْرِهَا قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، ثُمَّ قَالَ: {سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ} [الزخرف: 14] وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ ثُمَّ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: سُبْحَانَكَ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، ثُمَّ ضَحِكَ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ضَحِكْتَ؟ فَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ كَمَا فَعَلْتُ ثُمَّ ضَحِكَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ضَحِكْتَ؟ فَقَالَ: إِنَّ رَبَّنَا عَزَّ وَجَلَّ عَجِبَ مِنْ عَبْدِهِ إِذَا قَالَ: اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي، قَالَ: «يَعْلَمُ عَبْدِي أَنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ غَيْرِي»

علی بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا جب انہوں اپنا پائوں رکاب پر رکھا تو کہا :’’اللہ کے نام کے ساتھ ،‘‘ جب سواری پر درست ہوکر بیٹھ گئے تو ’’الحمد للہ ‘‘کہا پھر یہ دعا پڑھی :{سُبْحَانَ الَّذِی سَخَّرَ لَنَا ہَذَا وَمَا کُنَّا لَہُ مُقْرِنِینَ}پاک ہے وہ ذات جس نے اس کو ہمارے لیے مسخر کیا ،ہم اس پر قابو پانے والے نہ تھے ۔اور بلاشبہ ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں ۔(زخرف 13.14)پھر تین بار ،الحمد للہ ، تین بار ،اللہ اکبر ،کہا ،اس کے بعد یہ دعا پڑھی:سُبْحَانَکَ إِنِّی ظَلَمْتُ نَفْسِی فَاغْفِرْ لِی إِنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اَنْتَ،میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے ، میرے گناہوں کو بخش دے ، بلا شبہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو بخشنے والا نہیں ہے ۔پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ ہنسنے لگے ، ہم نے کہا:اے میر المؤمنین !آپ کو کس چیز نے ہنسایا ہے ؟حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا تھا جس طرح میں نے کیا ،پھر آپ ہنسنے لگے ، میں نے عرض کیا :اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ کو کس چیز نے ہنسایا ہے ؟آپ نے فرمایا:ہمارا رب اپنے بندے پر خوش ہوتا ہے، جب کہتا ہے : میرے گناہوں کو بخش دے ۔میرا بندہ جانتا ہے کہ میرے سوا اس کے گناہوں کو اللہ کے سوا کوئی بخشنے والا نہیں ہے ۔

عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← مُسَدَّدٌ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 784

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ رُكُوبِ الدَّابَّةِ · حديث 785

785 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ السَّرِيِّ بْنِ مِهْرَانَ النَّاقِدُ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا: ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْأَسَدِيِّ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُتِيَ بِدَابَّةٍ فَوَضَعَ رِجْلَهُ فِي الرِّكَابِ فَقَالَ: بِاسْمِ اللَّهِ، فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَيْهَا قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، {سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ} [الزخرف: 14] ثُمَّ كَبَّرَ ثَلَاثًا، وَحَمِدَ اللَّهَ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، ثُمَّ اسْتَضْحَكَ، فَقُلْتُ: مِمَّ ضَحِكْتَ؟ فَقَالَ: يَعْجَبُ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ مِنْ قَوْلِ عَبْدِهِ: سُبْحَانَكَ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، قَالَ: عَلِمَ عَبْدِي أَنَّ لَهُ رَبًا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ

علی بن ربیعہ اسدی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا ،ان کے پاس ان کی سواری لائی گئی ، جب انہوں اپنا پائوں رکاب پر رکھا تو کہا :’’اللہ کے نام کے ساتھ ،‘‘ جب سواری پر درست ہوکر بیٹھ گئے تو ،الحمد للہ، کہا ، پھر یہ دعا پڑھی :{سُبْحَانَ الَّذِی سَخَّرَ لَنَا ہَذَا وَمَا کُنَّا لَہُ مُقْرِنِینَ وَإِنَّا إِلَی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ}پاک ہے وہ ذات جس نے اس کو ہمارے لیے مسخر کیا ،ہم اس پر قابو پانے والے نہ تھے ۔اور بلاشبہ ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں ۔(زخرف 13.14)اس کے بعددو بار یہ دعا پڑھی لَا إِلَہَ إِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ إِنِّی ظَلَمْتُ نَفْسِی فَاغْفِرْ لِی فَإِنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اَنْتَ،:تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ،اے اللہ !تو پاک ہے ،بلاشبہ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے ، میرے گناہوں کو بخش دے ، بلا شبہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو بخشنے والا نہیں ہے ۔پھر وہ ہنسنے لگے ، میں نے کہا:آپ کو کس چیز نے ہنسایا ہے ؟حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:میں سواری پر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھا ،آپ نے بھی اسی طرح کیا تھا جس طرح میں نے کیا ہے ، میں نے عرض کیا :اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ کیوں ہنسے ؟آپ نے فرمایا:ہماررب اللہ عزوجل اپنے بندے پر تعجب اور حیرانگی پر ہنستاہے جب بندہ کہتا ہے :تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ،اے اللہ !تو پاک ہے ،بلاشبہ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے ، میرے گناہوں کو بخش دے ، بلا شبہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو بخشنے والا نہیں ہے ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا رب ہے جو گناہوں کو بخشنے والا ہے ۔

عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْأَسَدِيِّ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، ← جَرِيرٌ ← أبو خيثمة زهير بن حرب ← مُحَمَّدُ بْنُ السَّرِيِّ بْنِ مِهْرَانَ النَّاقِدُ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 785

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ رُكُوبِ الدَّابَّةِ · حديث 786

786 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْأَجْلَحِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَلِيِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «رَبِّ اغْفِرْ لِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ» ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَعْجَبُ مِنْ عَبْدِهِ إِذَا قَالَ: رَبِّ اغْفِرْ لِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ "

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی :رَبِّ اغْفِرْ لِی إِنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اَنْتَ ،اے میرے رب !میرے گناہوں کو بخش دے ،بے شک تیرے کوئی گناہوں کو بخشنے والا نہیں ہے ۔پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:!بے شک اللہ عزوجل اپنے بندے سے خوش ہوتے ہیں جب بندہ دعا میں یہ کہتا ہے : میرے گناہوں کو بخش دے ۔میرا بندہ جانتا ہے کہ میرے سوا اس کے گناہوں کو اللہ کے سوا کوئی بخشنے والا نہیں ہے ۔

رَبِّ اغْفِرْ لِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ ← إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَعْجَبُ مِنْ عَبْدِهِ إِذَا ← «رَبِّ اغْفِرْ لِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ» ثُمَّ ← النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← الأَجْلَحِ، ← شَیْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 786

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter
307. Chapter
308. Chapter
309. Chapter
310. Chapter
311. Chapter
312. Chapter
313. Chapter
314. Chapter
315. Chapter
316. Chapter
317. Chapter