كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ خِطْبَةِ النِّكَاحِ · حديث 931
931 - حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، أَنْبَأَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنْبَأَ شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالُوا: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَةَ الْحَاجَةِ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا} [الأحزاب: 70] الْآيَةَ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ} [آل عمران: 102] الْآيَةَ {يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ} [النساء: 1] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، أَمَّا بَعْدُ " وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ حَمَّادٍ عَنْ شُعْبَةَ
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطبہ حاجت اس طرح سے سکھایا کرتے تھے :الْحَمْدُ لِلَّہِ نَحْمَدُہُ وَنَسْتَعِینُہُ، مَنْ یَہْدِہِ اللَّہُ فَلَا مُضِلَّ لَہُ، وَمَنْ یُضْلِلْ فَلَا ہَادِیَ لَہُ، وَاَشْہَدُ اَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ، وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ ،یقینا تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں ہم اس کی تعریف کرتے ہیں اس کی مدد مانگتے ہیں اور اسی سے بخشش مانگتے ہیں ہم اپنے نفسوں کے شر اور اپنی بداعمالیوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتے ہیں جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ اپنے درسے دھتکاردے اس کے لیے کوئی رہبر نہیں ہو سکتا اور میں گواہی دیتا ہوں کہ معبود بر حق صرف اللہ تعالیٰ ہے وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ابو عبیدہ کہتے ہیں :میں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے سنا وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اگر تم اپنے خطبہ میں قرآن مجید کا کچھ شامل کرنا چاہتے ہو تو یہ آیت شامل کیا کرو :{یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّہَ حَقَّ تُقَاتِہِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ }ایمان والو!اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت نہ آئے مگر صرف اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔(آل عمران :102){یَا أَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّکُمُ الَّذِی خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَۃٍ وَخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالًا کَثِیرًا وَنِسَاء ً وَاتَّقُوا اللَّہَ الَّذِی تَسَاء َلُونَ بِہِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیبًا}اے لوگو!اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور پھر اس جان سے اس کی بیوی کو بنایا اور پھر ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پیدا کیں۔اور انہیں (زمین پر) پھیلایا ۔ اللہ سے ڈرتے رہو جس کے ذریعے (یعنی جس کے نام پر) تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور رشتوں (کو توڑنے)سے بچو۔ بے شک اللہ تمہاری نگرانی کر رہا ہے۔(النساء:01){یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّہَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِیدًا (70) یُصْلِحْ لَکُمْ أَعْمَالَکُمْ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوبَکُمْ وَمَنْ یُطِعِ اللَّہَ وَرَسُولَہُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیمًا}اے ایمان والو!اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور ایسی بات کہو جو محکم (سیدھی اور سچی )ہو اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کی اصلاح اور تمہارے گناہوں کو معاف فرمائے گا اور جس شخص نے اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی تو اس نے بڑی کامیابی حاصل کی۔(الاحزاب:70)امابعد!۔۔
أَبِي عُبَيْدَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ← يُوسُفُ الْقَاضِي ← أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، أَنْبَأَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنْبَأَ شُعْبَةُ، ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ،
Hadith 931
