كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي قَوْلِ الرَّجُلِ لِأَخِيهِ: أَطَالَ اللَّهُ عُمْرَكَ · حديث 1974
1974 - حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ، مَوْلَى أُمِّ قَيْسِ بِنْتِ مِحْصَنٍ، عَنْ أُمِّ قَيْسِ بِنْتِ مِحْصَنٍ، قَالَتْ: تُوُفِّيَ ابْنِي فَجَزِعْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ لِلَّذِي يَغْسِلُ ابْنِي لَا تَغْسِلِ ابْنِي بِالْمَاءِ الْبَارِدِ فَتَقْتُلَهُ، فَانْطَلَقَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِقَوْلِهَا، فَتَبَسَّمَ ثُمَّ قَالَ: " مَا قَالَتْ: طَالَ عُمْرُهَا؟ " قَالَ: فَلَا نَعْلَمُ امْرَأَةً عُمِّرَتْ مَا عُمِّرَتْ
حضرت ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں :میرا بیٹا فوت ہوگیا ، میں نے اس کی وفات پر جزع فزع کی ، میں نے اپنے کو غسل دینے والے سے کہا،میرے بیٹے کو ٹھنڈے پانی سے غسل نہ دینا اس سے تم میرے بیٹے کو قتل کردو گے ، حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ وہاں سے اٹھے اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو ام قیس کی کہی ہوئی بات کے بارے میں خبر دی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بات سنی اور آپ متبسم ہوئے اور دعائیہ جملہ کہا :اللہ تعالیٰ اس کی عمر لمبی فرمائے ، کہتے ہیں :ہمارے علم کے مطابق عورتوں میں سے سب سے طویل عمر پانے والی یہی خاتون تھیں ۔
أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، ← أَبِي الْحَسَنِ مَوْلَى أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ،
Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1974
