Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
كتاب الدعاء

Kitab Al Dua

by Tibrani

2,251 Hadith318 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنْ إِسْبَالِ الْإِزَارِ وَالْخُيَلَاءِ · حديث 2057

2057 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالُوا: ثنا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ، ثنا عَقِيلُ بْنُ طَلْحَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو جَرِيءٍ الْهُجَيْمِيُّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَيَجِبُ أَنْ تُعَلِّمَنَا عَمَلًا لَعَلَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَنْفَعَنَا بِهِ، قَالَ: «لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا وَلَوْ أَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَاءِ الْمُسْتَسْقِي، وَلَوْ أَنْ تُكَلِّمَ أَخَاكَ وَوَجْهُكَ مُنْبَسِطٌ إِلَيْهِ، وَإِيَّاكَ أَنْ تُسْبِلَ الْإِزَارَ فَإِنَّهَا مِنَ الْخُيَلَاءِ، وَالْخُيَلَاءُ لَا يُحِبُّهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِذَا سَبَّكَ رَجُلٌ بِمَا يَعْلَمُ فِيكَ فَلَا تَسُبَّهُ بِمَا تَعْلَمُ فِيهِ، فَإِنَّ أَجْرَ ذَلِكَ لَكَ وَيَكُونُ عَلَيْهِ وَبَالُهُ»

ابو جری ہجیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا :اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !بلاشبہ میں ایک دیہاتی آدمی ہوں ، اس لیے یہ بات لازم ہے کہ آپ ہمیں کوئی تعلیم و تربیت دیں ، شاید کہ اللہ عزوجل اس کی وجہ سے ہمیں فائدہ پہنچا دے ۔رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:نیکی والے کسی عمل کو حقیر اور کمتر نہ سمجھنا ، چاہے یہ نیکی ہی کیوں نہ ہو کہ تم اپنے پانی کے ڈول سے پانی طلب کرنے والے کے لیے کچھ پانی انڈیل دو ،چاہے یہ نیکی ہی ہو تم اپنے مسلمان بھائی سے بات کرتے ہوئے مسکراتے ہوئے چہر ے کے ساتھ بات کرو ،فرمایا:اپنے کپڑا ،تہہ بند وغیر ٹخنوں سے نیچے لٹکانے سے پچنا ، بلا شبہ ایسا کرنا تکبر ہے اور تکبر اللہ عزوجل کو پسند نہیں ہے ۔فرمایا:اگر کوئی شخص تمہارے ان عیوب او رنقائص کو بیان کرکے جن کو وہ تمہارے بارے میں جانتا ہے تمہیں گالی دیتا ہے ، تم بھی اس کے عیوب سے واقف ہو اس کے باوجود تم اس کو جواب میں گالی نہ دو ، اس پر تمہارے لیے اجر ہے اور اس کے لیے وبال ۔

قُلْتُ ← أَبُو جَرِيءٍ الْهُجَيْمِيُّ، ← عَقِيلِ بْنِ طَلْحَةَ، ← سَلَامُ بْنُ مِسْكِينٍ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ التَّمَّارُ، ← عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2057

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنْ إِسْبَالِ الْإِزَارِ وَالْخُيَلَاءِ · حديث 2058

2058 - حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ أَبُو الْخَلِيلِ، ثنا عُبَيْدَةُ الْهُجَيْمِيُّ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ، قَالَ: قَالَ أَبُو جَرِيءٍ جَابِرٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَكِبْتُ قَعُودًا لِي فَأَتَيْتُ مَكَّةَ فِي طَلَبِهِ فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ صَلَّى اللَّهُ عَلّيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: «وَعَلَيْكَ السَّلَامُ» فَقُلْتُ: إِنَّا مَعْشَرَ أَهْلِ الْبَادِيَةِ قَوْمٌ مِنَّا الْجَفَا فَعَلِّمْنِي كَلَامًا يَنْفَعُنِي اللَّهُ تَعَالَى بِهِ قَالَ: «اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ أَوِ الْخَيْرِ شَيْئًا وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الْإِزَارِ فَإِنَّهُ مِنَ الْمَخِيلَةِ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُحِبُّ الْمُخْتَالَ» فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَكَرْتَ إِسْبَالَ الْإِزَارِ قَدْ يَكُونُ بِسَاقِ الرَّجُلِ الْقَرْحُ أَوِ الشَّيْءُ يَسْتَحْيِي مِنْهُ فَقَالَ: «لَا بَأْسَ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ أَوِ الْكَعْبَيْنِ إِنَّ رَجُلًا مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ لَبِسَ بُرْدَةً فَتَبَخْتَرَ فِيهَا وَنَظَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ مِنْ فَوْقِ عَرْشِهِ فَمَقَتَهُ فَأَمَرَ الْأَرْضَ فَأَخَذَتْهُ، فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ بَيْنَ الْأَرْضِ فَاحْذَرُوا مَقْتَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ»

ابو جری ہجیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں ایک قافلے کے ساتھ سفر کے لیے روانہ ہوا ، میں مکہ میں پہنچا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرتے ہوئے ،آپ بیٹھے ہوئے تھے ، میں نے کہا :السلام علیک یارسول اللہ !(اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ پر سلامتی ہو )آپ نے میرے سلام کا جواب دیا ۔ میں نے عرض کیا :اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !بلاشبہ میں ایک دیہاتی آدمی ہوں ، اس لیے ہمارے مزاج میں سختی ہے ، آپ ہمیں کوئی تعلیم و تربیت دیں ، شاید کہ اللہ عزوجل اس کی وجہ سے ہمیں فائدہ پہنچا دے ۔رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہمیشہ اللہ سے ڈرتے رہو ، فرمایا:نیکی والے کسی عمل کو حقیر اور کمتر نہ سمجھنا ،فرمایا:اپنے کپڑا ،تہہ بند وغیر ٹخنوں سے نیچے لٹکانے سے پچنا ، بلا شبہ ایسا کرنا تکبر ہے اور تکبر اللہ عزوجل کو پسند نہیں ہے ۔میں نے عرض کیا :اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ نے تہہ بند کا ذکر کیا ہے ،بعض دفعہ چادر آدھی پنڈلی تک یا اس سے کچھ اوپر یا کچھ نیچے ہوتی ہے ، جس سے انسان حیا محسوس کرتا ہے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:آذھی پنڈلی تک یا ٹخنو ں تک رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔آپ نے فرمایا:تم سے پہلی قوموں میں ایک لباس پہنا اور اس لباس میں فخر او ر تکبر انہ انداز اختیار کیا ۔ اللہ عزوجل نے اپنے عرش کے اوپر اس کی طرف دیکھا ، اللہ تعالیٰ اس پر شدید غضبناک ہوا ، اللہ نے زمین کو حکم دیا ، زمین نے اس کو پکڑ لیا ، وہ زمین میں دھنستا چلا جارہا ہے ۔اللہ عزوجل کے غصے سے ڈرتے رہو ۔

أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ ← عُبَيْدَةَ الْهُجَيْمِيَّ ← عَبْدُ السَّلَامِ أَبُو الْخَلِيلِ، ← سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، ← أَبُو مُسْلِمٍ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2058

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنْ إِسْبَالِ الْإِزَارِ وَالْخُيَلَاءِ · حديث 2059

2059 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدَةَ الْهُجَيْمِيِّ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سُلَيْمٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُو يَحْتَبِي بِشَمْلَةٍ قَدْ وَقَعَ هُدْبُهَا عَلَى قَدَمِهِ فَقُلْتُ: أَيُّكُمْ رَسُولُ اللَّهِ؟ فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى نَفْسِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ وَفِيَّ جَفَاؤُهُمْ فَأَوْصِنِي قَالَ: «لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا وَلَوْ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ وَوَجْهُكَ مُنْبَسِطٌ، وَلَوْ أَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَاءِ الْمُسْتَسْقِي، وَإِنِ امْرُؤٌ شَتَمَكَ بِمَا يَعْلَمُ فِيكَ فَلَا تَشْتُمْهُ بِمَا تَعْلَمُ فِيهِ، فَإِنَّهُ يَكُونُ لَكَ أَجْرُهُ وَعَلَيْهِ وِزْرُهُ، وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الْإِزَارِ فَإِنَّ إِسْبَالَ الْإِزَارِ مِنَ الْمَخِيلَةِ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُحِبُّ الْمَخِيلَةَ، وَلَا تَسُبَّنَّ أَحَدًا» فَمَا سَبَبْتُ بَعْدَهُ أَحَدًا وَلَا شَاةً وَلَا بَعِيرًا

ابو جری ہجیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ حضرت جابربن سلیم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر کو اپنے جسم کے گرد لپیٹ کر بیٹھے ہوئے تھے ، آپ کی چادر کا پلو آپ کے قدموں میں گراہوا تھا ، میں نے کہا :تم میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون ہیں ؟اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف اشارہ کیا ، میں نے عرض کیا :اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !بلاشبہ میں ایک دیہاتی آدمی ہوں ، اس لیے ہمارے مزاج میں سختی ہے ، آپ مجھے کوئی نصیحت فرمادیں ،رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:نیکی والے کسی عمل کو حقیر اور کمتر نہ سمجھنا ، چاہے یہ نیکی ہی ہو تم اپنے مسلمان بھائی سے بات کرتے ہوئے مسکراتے ہوئے چہر ے کے ساتھ بات کرو ،چاہے یہ نیکی ہی کیوں نہ ہو کہ تم اپنے پانی کے ڈول سے پانی طلب کرنے والے کے لیے کچھ پانی انڈیل دو ،فرمایا:اگر کوئی شخص تمہارے ان عیوب او رنقائص کو بیان کرکے جن کو وہ تمہارے بارے میں جانتا ہے تمہیں گالی دیتا ہے ، تم بھی اس کے عیوب سے واقف ہو اس کے باوجود تم اس کو جواب میں گالی نہ دو ،فرمایا:اپنے کپڑا ،تہہ بند وغیر ٹخنوں سے نیچے لٹکانے سے پچنا ، بلا شبہ ایسا کرنا تکبر ہے اور تکبر اللہ عزوجل کو پسند نہیں ہے ۔فرمایا:کبھی کسی کو گالی نہ دینا ، کہتے ہیں :میں نے اس کے بعد کبھی کسی کو گالی نہیں دی ، یہاں تک کہ کسی بکری اور اونٹ کو بھی برا بھلا نہیں کہا ۔

جَابِرُ بْنُ سُلَيْمٍ، ← أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ ← عُبَيْدَةَ الْهُجَيْمِيَّ ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2059

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنْ إِسْبَالِ الْإِزَارِ وَالْخُيَلَاءِ · حديث 2060

2060 - حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْمُثَنَّى أَبِي غِفَارٍ، ثنا أَبُو تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيُّ، عَنْ أَبِي جُرَيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: «لَا تَقُلْ عَلَيْكَ السَّلَامُ، عَلَيْكَ السَّلَامُ تَحِيَّةُ الْمَيِّتِ، قُلِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ» قُلْتُ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ؟ قَالَ: «أَنَا رَسُولُ اللَّهِ الَّذِي إِذَا أَصَابَكَ خَبَرٌ دَعَوْتَهُ فَكَشَفَ عَنْكَ، وَإِذَا أَصَابَكَ عَامُ سَنَةٍ فَدَعَوْتَهُ أَسْهَلَ لَكَ» قُلْتُ: اعْهَدْ إِلَيَّ عَهْدًا قَالَ: «لَا تَسُبَّنَّ أَحَدًا، وَلَا تَحْقِرَنَّ شَيْئًا مِنَ الْمَعْرُوفِ وَإِنْ تُكَلِّمْ أَخَاكَ وَأَنْتَ مُنْبَسِطٌ إِلَيْهِ، وَارْفَعْ إِزَارَكَ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ فَإِنْ أَبَيْتَ فَإِلَى الْكَعْبَيْنِ، وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الْإِزَارِ فَإِنَّهُ مِنَ الْمَخِيلَةِ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُحِبُّ الْمَخِيلَةَ، وَإِنِ امْرُؤٌ شَتَمَكَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِيكَ فَلَا تَشْتُمْهُ بِمَا تَعْلَمُ فِيهِ، فَإِنَّمَا وَبَالُ ذَلِكَ عَلَيْهِ»

ابو جری ہجیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان الفاظ میں سلام کہا:علیک السلام یارسول اللہ !آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم یہ نہ کہو علیک السلام، علیک السلام یہ تو فوت شدہ لوگوں کا تحفہ ہے ، اس کی جگہ تم یہ کہو :السلام علیکم ، میں نے کہا:آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ؟آپ نے فرمایا:میںاس اللہ کا رسول ہوں کہ اگر تمہیں مصیبت لاحق ہو ، تم اس کو پکارو تو وہ اللہ تم سے آفت و مصیبت کو دور کردے ، جب تم قخط سالی میں مبتلا ہوجائو ، اس کو پکارو تو وہ اللہ تمہارے لیے آسانیاں پیدا کردے ، میں نے عرض کیا :آپ مجھے کوئی نصیحت کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کبھی کسی کو گالی نہ دینا ،نیکی والے کسی عمل کو حقیر اور کمتر نہ سمجھنا ،چاہے یہ نیکی ہی ہو تم اپنے مسلمان بھائی سے بات کرتے ہوئے مسکراتے ہوئے چہر ے کے ساتھ بات کرو،فرمایا:اپنے کپڑا ،تہہ بند وغیرہ کوآدھی پنڈلی تک بلند رکھنا ، اگر یہ نہ کرسکو تو ٹخنوں تک اونچا رکھنا ،اپنے کپڑا ،تہہ بند وغیرہ کو نیچے لٹکانے پچنا ، بلا شبہ ایسا کرنا تکبر ہے اور تکبر اللہ عزوجل کو پسند نہیں ہے اورفرمایا:اگر کوئی شخص تمہارے ان عیوب او رنقائص کو بیان کرکے جن کو وہ تمہارے بارے میں جانتا ہے تمہیں گالی دیتا ہے ، تم بھی اس کے عیوب سے واقف ہو اس کے باوجود تم اس کو جواب میں گالی نہ دو ، اس پر تمہارے لیے اجر ہے اور اس کے لیے وبال ۔

قُلْتُ: عَلَيْكَ السَّلَامُ ← أَبِي جُرَيٍّ، ← أَبُو تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيُّ، ← الْمُثَنَّى أَبِي غِفَارٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُسَدَّدٌ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2060

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنْ إِسْبَالِ الْإِزَارِ وَالْخُيَلَاءِ · حديث 2061

2061 - حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، ثنا سَالِمٌ أَبُو الْجَمِيعِ، ثنا رَاشِدٌ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحِمَّانِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَوْتُ بِرَاحِلَتِي فَقُلْتُ: لَآتِيَنَّ هَذَا الرَّجُلَ فَلَأَسْمَعَنَّ مِنْهُ، فَأَتَيْتُهُ فَوَجَدْتُهُ قَاعِدًا مُحْتَبِيًا فِي بُرْدَةٍ فَسَمِعْتُهُ يَرُدُّ عَلَى السَّائِلِ: «لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا، وَلَوْ أَنْ تَصُبَّ مِنْ فَضْلِ دَلْوِكَ فِي إِنَاءِ الْمُسْتَسْقِي، وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الْإِزَارِ فَإِنَّهَا مِنَ الْمَخِيلَةِ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُحِبُّ الْمَخِيلَةَ، وَإِنِ امْرُؤٌ شَتَمَكَ أَوْ قَالَ لَكَ مَا لَيْسَ فِيكَ فَلَا تَشْتُمْهُ وَلَا تَقُلْ لَهُ مَا لَيْسَ فِيهِ؛ فَيَكُونُ لَكَ أَجْرُهُ وَعَلَيْهِ وَبَالُهُ، وَلَا تَسُبَّنَّ أَحَدًا» فَمَا سَبَبْتُ شَيْئًا بَعِيرًا وَلَا شَاةً وَلَا إِنْسَانًا مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ السَّبِّ

حضرت جابربن سلیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں سنا،میں نے اپنی سواری منگوائی ، میں نے کہا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ضرور حاضر ہوں گا اور آپ کی باتیں سنوں گا ، چنانچہ میں آپ کی خدمت میں حاضرہوا ، میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ بیٹھے ہوئے تھا اور آپ نے اپنی چادر کو اپنے جسم کے گرد لپیٹا ہوا تھا ، میں نے آپ کو سوالات کے جوابات دیتے ہوئے سنا ،آپ نے فرمارہے تھے :نیکی والے کسی عمل کو حقیر اور کمتر نہ سمجھنا ،چاہے یہ نیکی ہی کیوں نہ ہو کہ تم اپنے پانی کے ڈول سے پانی طلب کرنے والے کے لیے کچھ پانی انڈیل دو،فرمایا:اپنے کپڑا ،تہہ بند وغیر ٹخنوں سے نیچے لٹکانے سے پچنا ، بلا شبہ ایسا کرنا تکبر ہے اور تکبر اللہ عزوجل کو پسند نہیں ہے ،اگر کوئی شخص تمہارے ان عیوب او رنقائص کو بیان کرکے جن کو وہ تمہارے بارے میں جانتا ہے تمہیں گالی دیتا ہے ، تم بھی اس کے عیوب سے واقف ہو اس کے باوجود تم اس کو جواب میں گالی نہ دو ، اس پر تمہارے لیے اجر ہے اور اس کے لیے وبال ۔:کبھی کسی کو گالی نہ دینا ، کہتے ہیں :میں نے اس کے بعد کبھی کسی کو گالی نہیں دی ، یہاں تک کہ کسی بکری اور اونٹ کو بھی برا بھلا نہیں کہا ۔جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گالی سے منع کے بارے میں سنا ۔

سليم بن جابر ← أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ ← زَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← رَاشِدٌ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحِمَّانِيُّ، ← سَالِمٌ أَبُو الْجَمِيعِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2061

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter
307. Chapter
308. Chapter
309. Chapter
310. Chapter
311. Chapter
312. Chapter
313. Chapter
314. Chapter
315. Chapter
316. Chapter
317. Chapter