كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الرُّكْنِ الْيَمَانِيِّ · حديث 858
858 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا، يُحَدِّثُ هِشَامَ بْنَ حَسَّانَ عَنْ عَمٍّ لَهُ عَنْ أَبِي شُعْبَةَ الْبَكْرِيِّ، قَالَ: طُفْتُ وَرَاءَ ابْنِ عُمَرَ فَسَمِعْتُهُ حِينَ حَاذَى الرُّكْنَ الْيَمَانِيَّ قَالَ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، فَلَمَّا جَاءَ الْحَجَرَ قَالَ: {رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ} [البقرة: 201] " فَلَمَّا انْصَرَفْتُ قُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ سَمِعْتُكَ تَقُولُ كَذَا وَكَذَا قَالَ: وَسَمِعْتَنِي؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «فَهُوَ ذَلِكَ أَثْنَيْتُ عَلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ وَشَهِدْتُ شَهَادَةَ حَقٍّ وَسَأَلْتُهُ مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ فَدَعَا هِشَامٌ بِدَوَاةٍ فَكَتَبَهُ»
ہشام بن حسان اپنے چچا ابو شعبہ بکر ی سے بیان کرتے ہیں :حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیت اللہ کا طواف کررہے تھے ،میں ان کے ساتھ تھا دوران طواف انہوں نے یہ دعا کی :لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیرٌ،کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے سوائے اللہ کے ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، تمام قسم کی بادشاہت اسی کے لیے ہے اور تمام تعریفات اسی کے لیے ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔جب حجر اسود کے پاس آئے تب انہوں نے یہ دعا کی :{رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَفِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ}اے ہمارے رب !ہمیں دنیا میں بھلائی عطاء فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کرنا اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا ۔(البقرۃ:201)جب میں واپس آنے لگا تو میں نے کہا:میں نے کہا :اے ابو عبد االرحمن ! میں نے آپ کو فلاں فلاں دعا کرتے سنا ہے ، حضرت عبد اللہ بن عمر کہتے ہیں :کیا تو نے مجھے یہ دعائیں کرتے سنا ہے ؟میں نے ہاں!حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں :یہ میرے رب کی ثناء ہے جو میں نے اس کی حمد کے ساتھ بیان کی ہے ، میں نے حق کی گواہی دی ہے اور میں نے اپنے رب سے دنیا اور آخرت کی بھلائی کا سوال کیا ہے ، اس کے بعد ہشام نے بھی یہی دعا کی اور اس دعا کو لکھ بھی لیا ۔
أَبِي شُعْبَةَ الْبَكْرِيِّ، ← عم له ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← رَجُلًا ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ الدَّبْرِيُّ،
Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 858
