Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
كتاب الدعاء

Kitab Al Dua

by Tibrani

2,251 Hadith318 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ لِلْفَقْرِ وَالسَّقَمِ · حديث 1045

1045 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ وَاقِدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَقْبَلَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ رَثُّ الثِّيَابِ رَثُّ الْهَيْئَةِ مِسْقَامٌ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا فُلَانُ مَا الَّذِي بَلَغَ بِكَ مَا أَرَى؟» قَالَ الْفَقْرُ وَالسَّقَمُ، قَالَ: «أَفَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ إِذَا قُلْتَهُنَّ ذَهَبَ عَنْكَ الْفَقْرُ وَالسَّقَمُ؟» فَقَالَ: مَا يَسُرُّنِي بِهِمَا أَنِّي شَهِدْتُ مَعَكَ بَدْرًا وَأُحُدًا، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِيهِنَّ، قَالَ: " قُلْ: تَوَكَّلْتُ عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ: وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ وَلِيُّ مِنَ الذُّلِّ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا " قَالَ: فَلَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَيَّامٍ فَقَالَ: «يَا أَبَا هُرَيْرَةَ مَا هَذَا الَّذِي أَرَى مِنْ حُسْنِ حَالِكَ؟» قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا زِلْتُ أَقُولُ الْكَلِمَاتِ مُنْذُ عَلَّمْتَنِيهِنَّ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا کہ انصاریوں میں سے ایک شخص ہمارے سامنے آتا ہے جس کے کپڑے میلے کچیلے تھے، اس کی حالت نہ گفتہ بہ تھی اور و ہ بیماری میں مبتلا تھا ۔اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا:اے فلاں شخص! تمہاری یہ کیا حالت ہو چکی ہے جو میں دیکھ رہا ہوں، وہ شخص کہتا ہے:تنگدستی اور بیماری کی وجہ سے میرے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھادوں کہ جب تم وہ کلمات کہے گا تو اس کی وجہ سےفقر دور ہو جائے گا، بیماری ختم ہو جائے گی۔ اس نے کہا: مجھے ان کے مقابلے میں یہ بات زیادہ خوش کرتی ہے کہ میں آپ کے ساتھ ساتھ جنگ بدر و اُحد میں شریک رہا ہوں ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !وہ کلمات مجھے سکھا دیں، آپ نے فرمایا: تم یہ کلمات کہا کرو: میں نے اس اللہ پر توکل کیا جو ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے، اس کو موت نہیں آئے گی: تَوَکَّلْتُ عَلَی الْحَیِّ الَّذِی لَا یَمُوتُ: وَالْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ یَکُنْ لَہُ شَرِیکٌ فِی الْمُلْکِ وَلَمْ یَکُنْ لَہُ وَلِیُّ مِنَ الذُّلِّ وَکَبِّرْہُ تَکْبِیرًا،تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جو نہ اولاد رکھتا ہے نہ اپنی بادشاہت میں کسی کو شریک وساجھی رکھتا ہے اور نہ وہ کمزور ہے کہ اسے کسی حمایتی کی ضرورت ہو اور تو اس کی پوری پوری بڑائی بیان کرتے رہو۔ حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دنوں کے بعد مجھے ملے،فرمایا:اے ابو ہریرہ !تمہاری یہ اس قدر اچھی حالت ،اس کی وجہ کیا ہے ،میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! وہ کلمات جو آپ نے مجھے سکھلائے تھے ،میں مسلسل وہ کلمات کہتا رہا ہوں ان کی وجہ سے یہ میرے حالات اچھے ہوگئے ہیں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، ← موسى بن عبيدة ← حَمَّادُ بْنُ وَاقِدٍ الصَّفَارُ ← عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1045

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ لِلْفَقْرِ وَالسَّقَمِ · حديث 1046

1046 - حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ النَّضْرِ الْقُرَشِي الْبَصْرِيُّ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ حَرْبِ بْنِ زِيَادٍ الْكِلَابِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو مُدْرِكٍ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى إِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاتَّبَعْتُهُ، فَقَالَ: انْطَلِقْ بِنَا حَتَّى نَدْخُلَ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهَا فَإِذَا هِيَ نَائِمَةٌ مُضْطَجِعَةٌ، فَقَالَ: «يَا فَاطِمَةُ مَا يُنِيمُكِ هَذِهِ السَّاعَةِ؟» قَالَتْ: مَا زِلْتُ الْبَارِحَةَ مَحْمُومَةً، قَالَ: «فَأَيْنَ الدُّعَاءُ الَّذِي عَلَّمْتُكِ؟» قَالَتْ: نَسِيتُهُ، قَالَ: " قُولِي: يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ، وَلَا تَكِلْنِي إِلَى أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ وَلَا إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ "

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں تھے،جب سورج طلوع ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے باہر نکلے میں آپ کے ساتھ تھا ۔آپ نے فرمایا: ہمارے ساتھ چلو ہم فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس جائیں گے ،ہم گئے سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے گھر میں داخل ہوئے ۔توفاطمہ لیٹ کر سوئی ہوئی تھیں، اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے فاطمہ! اس وقت تمہیں کس چیز میں سلا رکھا ہے۔ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کہتی ہیں:میںساری رات پریشانی کا شکار رہی ہوں، آپ نے فرمایا :وہ دعا کہا ں ہے جو میں نے تمہیں سکھلائی تھی ؟ فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہ دعامجھے دعا بھول گئی ہے، آپ نے فرمایا: بیٹی تم یہ دعا کہا کرو:یَا حَیُّ یَا قَیُّومُ بِرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیثُ اَصْلِحْ لِی شَاْنِی کُلَّہُ، وَلَا تَکِلْنِی إِلَی اَحَدٍ مِنَ النَّاسِ وَلَا إِلَی نَفْسِی طَرْفَۃَ عَیْنٍ،اے زندہ رہنے والے !اے ہمیشہ قائم رہنے والے !میں تیری رحمت کے ساتھ مدد کا سوال کرتی ہوں ، میرے تمام معاملات کو درست فرمادے ۔ مجھے ایک لمحے کے لئے لوگوں کے سپرد نہ کرنا اور نہ ہی آنکھ جھپکنے کے برابر مجھے میرے اپنے نفس کے حوالے کرنا ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أبو مدركٍ، ← سَلَمَةُ بْنُ حَرْبِ بْنِ زِيَادٍ الْكِلَابِيُّ، ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ← خَالِدُ بْنُ النَّضْرِ الْقُرَشِي الْبَصْرِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1046

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ لِلْفَقْرِ وَالسَّقَمِ · حديث 1047

1047 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُصَيْرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ: أَصَابَتْ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَاقَةٌ، فَقَالَ لِفَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: لَوْ أَتَيْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتِيهِ وَكَانَ عِنْدَ أُمِّ أَيْمَنَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَدَقَّتِ الْبَابَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُمِّ أَيْمَنَ: «إِنَّ هَذَا لَدَقُّ فَاطِمَةَ، وَلَقَدْ أَتَتْنَا فِي سَاعَةٍ مَا عَوَّدَتْنَا أَنْ تَأْتِيَنَا فِي مِثْلِهَا، فَقُومِي فَافْتَحِي لَهَا الْبَابَ» قَالَتْ: فَفَتَحْتُ لَهَا الْبَابَ، فَقَالَ: «يَا فَاطِمَةُ، لَقَدْ أَتَيْتِنَا فِي سَاعَةٍ مَا عَوَّدْتِنَا أَنْ تَأْتِينَا فِي مِثْلِهَا» فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ الْمَلَائِكَةُ طَعَامُهَا التَّسْبِيحُ وَالتَّحْمِيدُ وَالتَّمْجِيدُ، فَمَا طَعَامُنَا؟ قَالَ: «وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ مَا اقْتَبَسَ فِي آلِ مُحَمَّدٍ نَارٌ مُنْذُ ثَلَاثِينَ يَوْمًا وَقَدْ أَتَانَا أَعْنُزٌ فَإِنْ شِئْتِ أَمَرْتُ لَكِ بِخَمْسَةِ أَعْنُزٍ، وَإِنْ شِئْتِ عَلَّمْتُكَ خَمْسَ كَلِمَاتٍ عَلَّمَنِيهِنَّ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ آنِفًا» قَالَتْ: بَلْ عَلِّمْنِي الْخَمْسَ كَلِمَاتٍ الَّتِي عَلَّمَكَهُنَّ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، قَالَ: " قُولِي: يَا أَوَّلَ الْأَوَّلِينَ، يَا آخِرَ الْآخَرِينَ، ذَا الْقُوَّةِ الْمَتِينَ، وَيَا رَاحِمَ الْمَسَاكِينِ، وَيَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ " قَالَ: فَانْصَرَفَتْ حَتَّى دَخَلَتْ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَتْ: ذَهَبْتُ مِنْ عِنْدِكِ إِلَى الدُّنْيَا وَأَتَيْتُكَ بِالْآخِرَةِ، قَالَ: خَيْرًا يَأْتِيكِ، خَيْرًا يَأْتِيكِ

سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ فقر کا شکار ہوئے ،انہوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا:آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں، آپ سے کچھ سوال کریں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہ کے پاس تھے ، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا وہاں آئیں ،انہوں نے دروازہ بجایا ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام ایمن سے کہا دروازے پر فاطمہ ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزیدفرمایا: اس وقت کسی خاص مقصد کے لییہی فاطمہ کا آنا ہوا ہوگا، اس لیے اٹھو اور دروازہ کھول دو،ام ایمن کہتی ہیں: میں نے جاکر فاطمہ رضی اللہ عنہ کے لیے دروازہ کھول دیا، آپ نے فرمایا: اے فاطمہ تم! اس وقت آئی ہو کہ اس وقت ہم جیسے بغیر کسی نہایت مجبوری کے کسی کے گھر نہیں جایا کرتے، فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !یہ فرشتے ہیں، ان کی غذا تسبیح،تحمیداور تمجیدہے ، ہمارا کھانا اور ہماری غذا کیا ہے ؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے حق دے کر بھیجا ہے !آلِ محمد نے تیس دنوں سے گھر میں آگ نہیں جلائی ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے پاس کچھ دودھ والے جانور آئے ہیں، اگر تم چاہو تو میں تمہارے لیے پانچجانوروں کا حکم دے دیتا ہوں اور اگر تم چاہو تو میں تمہیں پانچ کلمات سکھا دیتا ہوں جو کلمات مجھے جبریل امین علیہ السلام نے ابھی سکھلائے ہیں ۔سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:آپ مجھے وہ کلمات سکھلا دیں جو جبریل علیہ السلام نے آپ کوسکھائے ہیں ۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے یہ پانچ کلمات ان کو سکھلائے :یَا اَوَّلَ الْاَوَّلِینَ، یَا آخِرَ الْآخَرِینَ، ذَا الْقُوَّۃِ الْمَتِینَ، وَیَا رَاحِمَ الْمَسَاکِینِ، وَیَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِین،اے اولین کے اول !اے آخروںکے آخر !اے طاقتوں والے اور قوتوں والے! اے مسکینوں پر رحم کرنے والے! اے سب سے بڑھ کر رحم کرنے والے! حضرت سوید بن غفلہ کہتے ہیں: فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا وہاں سے واپس چلی گئیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس جاکر ان کوبتایا آیا کہ میں آپ کے پاس سے دنیا کے حصول کے لیے گئی تھی لیکن میں تمہارے پاس آخرت کو لے کر آئی ہوں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں بہت ہی خیر اور بھلائی کو لے کر واپس آئی ہو۔بہت ہی خیر اور بھلائی کو لے کر واپس آئی ہو۔

فَفَتَحْتُ لَهَا الْبَابَ، ← لِفَاطِمَةَ لَوْ أَتَيْتِ رَسُولَ اللَّهِ فَسَأَلْتِيهِ وَكَانَ عِنْدَ أُمِّ أَيْمَنَ فَدَقَّتِ الْبَابَ ← أَصَابَتْ عَلِيًّا فَاقَةٌ، ← سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ← عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ نُصَيْرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1047

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ لِلْفَقْرِ وَالسَّقَمِ · حديث 1048

1048 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَنْدَةَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، سَنْدِيلَةُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو هَانِئٍ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ زَائِدَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رِجَالٌ أَصْحَابُ الصُّفَّةِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:320] فَشَكَوْا إِلَيْهِ الْحَاجَةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَادَ الْفَقْرُ أَنْ يَكُونَ كُفْرًا، وَكَادَ الْحَسَدُ أَنْ يَسْبِقَ الْقَدَرَ، قُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ "

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ اہل صفہ میں سے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، انہوں نے آ کر اپنی پریشانیوں کا اظہار کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:فقر اس حد تک خطرناک ہے کہ یہ انسان کو کفر تک لے جاسا ہے اور حسد ااس قدر نقصان دہ اور مہلک ہے کہ یہ تقدیر سے سبقت لے جاسکتا ہے ۔اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم یہ دعا پڑھا کرو :اللَّہُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ، اقْضِ عَنَّا الدَّیْنَ وَاَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ،اے اللہ !اے سات آسمانوں کے رب !اور عرش عظیم کے رب !مجھ سے میرے قرض کو ادا کردے اور مجھے فقر سے بے نیا زکردے ۔

جَاءَ رِجَالٌ أَصْحَابُ الصُّفَّةِ إِلَى النَّبِيِّ [ص:320] فَشَكَوْا إِلَيْهِ الْحَاجَةَ، ← عُمَرَ، ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← الْاَعْمَشِ ← معمر بن زائدة ← أَبُو هَانِئٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَيُّوبَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، سَنْدِيلَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَنْدَهْ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1048

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ لِلْفَقْرِ وَالسَّقَمِ · حديث 1049

1049 - حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْمِصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ مَيْمُونٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو يَقُولُ: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ أَوْسَعَ رِزْقِكَ عَلَيَّ عِنْدَ كِبَرِ سِنِّي، وَانْقِطَاعِ عُمْرِي»

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے :اللَّہُمَّ اجْعَلْ اَوْسَعَ رِزْقِکَ عَلَیَّ عِنْدَ کِبَرِ سِنِّی، وَانْقِطَاعِ عُمْرِی،اے اللہ !میرے بڑھاپے کی عمر میں اور میری زندگی کے آخری لمحات میں میرے رزق کو کشادہ کر دینا۔

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← عِيسَى بْنُ مَيْمُونَ، ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ← سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْمِصْرِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1049

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter
307. Chapter
308. Chapter
309. Chapter
310. Chapter
311. Chapter
312. Chapter
313. Chapter
314. Chapter
315. Chapter
316. Chapter
317. Chapter