كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ لِلْفَقْرِ وَالسَّقَمِ · حديث 1045
1045 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ وَاقِدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَقْبَلَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ رَثُّ الثِّيَابِ رَثُّ الْهَيْئَةِ مِسْقَامٌ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا فُلَانُ مَا الَّذِي بَلَغَ بِكَ مَا أَرَى؟» قَالَ الْفَقْرُ وَالسَّقَمُ، قَالَ: «أَفَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ إِذَا قُلْتَهُنَّ ذَهَبَ عَنْكَ الْفَقْرُ وَالسَّقَمُ؟» فَقَالَ: مَا يَسُرُّنِي بِهِمَا أَنِّي شَهِدْتُ مَعَكَ بَدْرًا وَأُحُدًا، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِيهِنَّ، قَالَ: " قُلْ: تَوَكَّلْتُ عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ: وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ وَلِيُّ مِنَ الذُّلِّ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا " قَالَ: فَلَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَيَّامٍ فَقَالَ: «يَا أَبَا هُرَيْرَةَ مَا هَذَا الَّذِي أَرَى مِنْ حُسْنِ حَالِكَ؟» قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا زِلْتُ أَقُولُ الْكَلِمَاتِ مُنْذُ عَلَّمْتَنِيهِنَّ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا کہ انصاریوں میں سے ایک شخص ہمارے سامنے آتا ہے جس کے کپڑے میلے کچیلے تھے، اس کی حالت نہ گفتہ بہ تھی اور و ہ بیماری میں مبتلا تھا ۔اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا:اے فلاں شخص! تمہاری یہ کیا حالت ہو چکی ہے جو میں دیکھ رہا ہوں، وہ شخص کہتا ہے:تنگدستی اور بیماری کی وجہ سے میرے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھادوں کہ جب تم وہ کلمات کہے گا تو اس کی وجہ سےفقر دور ہو جائے گا، بیماری ختم ہو جائے گی۔ اس نے کہا: مجھے ان کے مقابلے میں یہ بات زیادہ خوش کرتی ہے کہ میں آپ کے ساتھ ساتھ جنگ بدر و اُحد میں شریک رہا ہوں ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !وہ کلمات مجھے سکھا دیں، آپ نے فرمایا: تم یہ کلمات کہا کرو: میں نے اس اللہ پر توکل کیا جو ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے، اس کو موت نہیں آئے گی: تَوَکَّلْتُ عَلَی الْحَیِّ الَّذِی لَا یَمُوتُ: وَالْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ یَکُنْ لَہُ شَرِیکٌ فِی الْمُلْکِ وَلَمْ یَکُنْ لَہُ وَلِیُّ مِنَ الذُّلِّ وَکَبِّرْہُ تَکْبِیرًا،تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جو نہ اولاد رکھتا ہے نہ اپنی بادشاہت میں کسی کو شریک وساجھی رکھتا ہے اور نہ وہ کمزور ہے کہ اسے کسی حمایتی کی ضرورت ہو اور تو اس کی پوری پوری بڑائی بیان کرتے رہو۔ حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دنوں کے بعد مجھے ملے،فرمایا:اے ابو ہریرہ !تمہاری یہ اس قدر اچھی حالت ،اس کی وجہ کیا ہے ،میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! وہ کلمات جو آپ نے مجھے سکھلائے تھے ،میں مسلسل وہ کلمات کہتا رہا ہوں ان کی وجہ سے یہ میرے حالات اچھے ہوگئے ہیں ۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، ← موسى بن عبيدة ← حَمَّادُ بْنُ وَاقِدٍ الصَّفَارُ ← عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ
Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1045
