Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
كتاب الدعاء

Kitab Al Dua

by Tibrani

2,251 Hadith318 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ أَخْذِ الْمَضَاجِعِ · حديث 220

220 - حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى بْنِ مُعَاذٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عُثْمَانَ اللَّاحِقِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا آوَى الرَّجُلُ إِلَى فِرَاشِهِ ابْتَدَرَهُ مَلَكٌ وَشَيْطَانٌ، فَيَقُولُ الْمَلَكُ: اخْتِمْ بِخَيْرٍ، وَيَقُولُ الشَّيْطَانُ: اخْتِمْ بِشَرٍّ، فَإِنْ ذَكَرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَنَامَ بَاتَ الْمَلَكُ يَكْلَؤُهُ "

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب بندہ اپنے بستر پر آتا ہے ،فوراً اس کے پاس فرشتہ بھی آجاتا ہے اور شیطان بھی ، فرشتہ کہتا ہے :خیر اور بھلائی کے ساتھ خاتمہ کرنا ، شیطان کہتا ہے :برائی کے ساتھ خاتمہ کرنا ،اگر و ہ شخص اللہ عزوجل کا ذکر کرتا ہے اور اسی حال پر سوجاتا ہے ،تو فرشتہ اس کی حفاظت کرتے ہوئے رات بسر کرتا ہے ۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ عُثْمَانَ اللَّاحِقِيُّ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى بْنِ مُعَاذٍ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 220

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ أَخْذِ الْمَضَاجِعِ · حديث 221

221 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَاجِيَةَ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْجَهْمِ السِّمَرِيُّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مِرْدَاسٍ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ أَبُو النَّضْرِ، ثنا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا آوَى الْإِنْسَانُ إِلَى فِرَاشِهِ ابْتَدَرَهُ مَلَكٌ وَشَيْطَانٌ، فَيَقُولُ الْمَلَكُ: اخْتِمْ بِخَيْرٍ، وَيَقُولُ الشَّيْطَانُ: اخْتِمْ بِشَرٍّ، فَإِنْ ذَكَرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى تَغْلِبَهُ عَيْنُهُ طَرَدَ الْمَلَكُ الشَّيْطَانَ وَبَاتَ يَكْلَؤُهُ "

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب بندہ اپنے بستر پر آتا ہے ،فوراً اس کے پاس فرشتہ بھی آجاتا ہے اور شیطان بھی ، فرشتہ کہتا ہے :خیر اور بھلائی کے ساتھ خاتمہ کرنا ، شیطان کہتا ہے :برائی کے ساتھ خاتمہ کرنا ،اگر و ہ شخص اللہ عزوجل کا ذکر کرتا ہے اور اسی حال پر سوجاتا ہے ،تو فرشتہ شیطان کو وہاں سے بھگا دیتا ہے اور اس کی حفاظت کرتے ہوئے رات بسر کرتا ہے ۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ ← يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ أَبُو النَّضْرِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مِرْدَاسٍ الْأَنْصَارِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَاجِيَةَ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْجَهْمِ السِّمَرِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 221

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ أَخْذِ الْمَضَاجِعِ · حديث 222

222 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أُهْدِي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَقِيقٌ أَهدْاهُمْ لَهُ بَعْضُ مُلُوكِ الْعَجَمِ، فَقُلْتُ لِفَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: ائْتِي أَبَاكِ فَاسْتَخْدِمِيهِ خَادِمًا وَاشْتَكِي إِلَيْهِ مَا تَلْقَيْنَ مِنَ الْخِدْمَةِ، فَانْطَلَقَتْ إِلَيْهِ فَلَمْ تَجِدْهُ، وَكَانَ يَوْمَ عَائِشَةَ، ثُمَّ رَجَعَتْ مَرَّةً أُخْرَى فَاخْتَلَفَتْ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَلَمْ يَأْتِ يَوْمَهُ ذَلِكَ حَتَّى صَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، فَلَمَّا أَتَى أَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ فَاطِمَةَ الْتَمَسَتْهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَأَتَى فَاطِمَةَ فَقَالَ: «مَا أَخْرَجَكِ مِنْ بَيْتِكِ» وَطَفِقْتُ أُعِيدُ قُولِي اسْتَخْدِمِي أَبَاكِ، فَأَخْرَجَتْ إِلَيْهِ يَدَيْهَا فَقَالَتْ: قَدْ مَجِلَتَا يَدِي مِنَ الرَّحَى، بِتُّ لَيْلَتِي جَمِيعًا أُدِيرُ الرَّحَى حَتَّى أَصْبَحْتُ وَأَبُو الْحَسَنِ يَحْمِلُ حَسَنًا وَحُسَيْنًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ لَهَا عِنْدَ ذَلِكَ: «اصْبِرِي يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ فَإِنَّ خَيْرَ النِّسَاءِ الَّتِي نَفَعَتْ أَهْلَهَا، أَوَلَا أَدُلُّكُمَا عَلَى خَيْرٍ [ص:91] مِنَ الَّذِي تُرِيدَانِ، إِذَا أَخَذْتُمَا مَضْجَعَكُمَا فَكَبِّرَا اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَاحْمَدَا اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَسَبِّحَا اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، ثُمَّ اخْتِمَا بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَذَلِكَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنَ الَّذِي تُرِيدَانِ وَمِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا»

حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ بیان کرتے ہیں کہ بعض ممالک کے بادشاہوں کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ غلام ہبہ کیے گئے ،میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا:اپنے والد سے پاس جائو ،ان سے خدام کا تقاضا کرو ،آپ کو کام کرتے ہوئے جن مشقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ان کا ذکر بھی کرنا ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کی گئیں ،لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر پر نہ تھے ،تب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر آپ کا وقت تھا ،دوسری بارگئیں پھر ملاقات نہ ہوسکی ، یہاں تک سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے چار مرتبہ چکر لگایا ،ہر بار آپ گھر پر نہ تھے ، یہاں تک کہ نماز عشاء ادا کرلی گئی ،جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو خبر دی کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ سے ملنا چاہتی ہیں ، اس لیے آپ کی تلاش چار چکر لگائے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف فرماہوئے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:تمہیں کس ضرورت نے گھر سے نکالاتھا ،میں نے حضرت فاطمہ سے وہی بات کہی کہ آپ اپنے والد سے خدام کا تقاضا کریں ، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں :چکی چلانے کی وجہ سے میرے ہاتھوں پر آبلے پڑ چکے ہیں ،میں ساری ساری چکی چلاتے ہوئے گزاردیتی ہوں ،ابو الحسن حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو سنبھالتے ہیں ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سن کر ان سے فرمایا:اے میری بیٹی !صبر کرو ، بہترین عورتیں وہ ہیں جو اپنی اہل و عیال کو فائدہ پہنچا تی ہیں ،کیا تمہیں ایسے عمل کے بارے میں نہ بتادوں ؟جو تمہارے اس تقاضے سے بہتر ہے ۔آپ نے فرمایا:جب تم اپنے بستروں پر آئو تو تینتیس بار اللہ اکبر کہو ، تینتیس بار الحمد للہ کہو ، تینتیس بارسبحان اللہ کہو ،سب کے آخر میں لاالہ الا اللہ کہو ،یہ عمل اس سے بہتر ہے جو کا تم لوگوں نے تقاضا کیا ہے اور یہ عمل دنیا و مافیھا سے بھی بہتر ہے ۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ، ← عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ← عُبَيْدُ اللهِ بْنُ زَحْرٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ الْمِصْرِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 222

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ أَخْذِ الْمَضَاجِعِ · حديث 223

223 - حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنْ شَبَثِ بْنِ رِبْعِيٍّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْي فَقَالَ عَلِيٌّ لِفَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: ائْتِ أَبَاكِ فَاسْأَلِيهِ خَادِمًا نَتَّقِي بِهِ الْعَمَلَ، فَأَتَتْ أَبَاهَا حِينَ أَمْسَتْ فَقَالَ لَهَا: مَا لَكِ يَا بُنَيَّةُ؟ " فَقَالَتْ: لَا شَيْءَ جِئْتُ أُسَلِّمُ عَلَيْكَ، وَاسْتَحْيَتْ أَنْ تَسْأَلَهُ شَيْئًا فَلَمَّا رَجَعَتْ قَالَ لَهَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَا فَعَلْتِ؟ قَالَتْ: لَمْ أَسْأَلْهُ وَاسْتَحَيْتُ، حَتَّى إِذَا كَانَتِ الْقَابِلَةُ قَالَ لَهَا: ائْتِ أَبَاكِ فَاسْأَلِيهِ خَادِمًا نَتَّقِي بِهِ الْعَمَلَ، فَخَرَجَتْ حَتَّى إِذَا جَاءَتْهُ قَالَ: «مَا لَكِ يَا بُنَيَّةُ؟» قَالَتْ: لَا شَيْءَ يَا أَبَهْ، جِئْتُ أَنْظُرُ كَيْفَ أَمْسَيْتَ، وَاسْتَحْيَتْ أَنْ تَسْأَلَهُ، حَتَّى إِذَا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الثَّالِثَةُ قَالَ لَهَا عَلِيٌّ: امْشِ فَخَرَجَا جَمِيعًا حَتَّى أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا أَتَى بِكُمَا؟» فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ شَقَّ عَلَيْنَا الْعَمَلُ فَأَرَدْنَا أَنْ تُعْطِيَنَا خَادِمًا نَتَّقِي بِهِ الْعَمَلَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ أَدُلُّكُمَا عَلَى خَيْرٍ لَكُمَا مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ؟» قَالَ عَلِيٌّ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «تَكْبِيرَاتٍ وَتَسْبِيحَاتٍ وَتَحْمِيدَاتٍ مِائَةً حِينَ تُرِيدَانِ أَنْ تَنَامَا فَتَبِيتَانِ عَلَى أَلْفِ حَسَنَةٍ، وَمِثْلُهُ حِينَ تُصْبِحَانِ فَتَقُومَانِ عَلَى أَلْفِ حَسَنَةٍ» فَقَالَ عَلِيٌّ: فَمَا فَاتَتْنِي مُنْذُ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا لَيْلَةَ صِفِّينَ فَإِنِّي ذَكَرْتُهَا مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَقُلْتُهَا

حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ غلام آئے ،میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا:اپنے والد سے پاس جائو ،ان سے خدام کا تقاضا کرو ،تاکہ ہم ان کاموں سے چھٹکارا پاسکیں ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہاشام کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کی گئیں ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:بیٹی !کیا پریشانی ہے ؟انہوں نے کہا:کچھ نہیں ،صرف آپ کو سلام کرنے کے لیے آئی تھی ، ان کو اس بات سے حیا آئی کہ وہ اپنے والد سے کسی چیز کا سوال کریں ،جب واپس گھر آئیں تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا :کیا بنا ؟حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں :مجھے حیا آئی اس لیے میں نے سوال نہیں کیا ۔جب اگلا دن ہواتو میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا:اپنے والد سے پاس جائو ،ان سے خدام کا تقاضا کرو ،تاکہ ہم ان کاموں سے چھٹکارا پاسکیں ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہاشام کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کی طرف گئیں ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:بیٹی !کیا پریشانی ہے ؟انہوں نے کہا:کچھ نہیں،اے میرے اباجان !میں توصرف اس لیے آئی تھی کہ معلوم کروں کہ آپ کیسے ہیں؟، ان کو اس بات سے حیا آئی کہ وہ اپنے والد سے کسی چیز کا سوال کریں ،جب واپس گھر آئیں تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا :کیا بنا ؟حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں :مجھے حیا آئی اس لیے میں نے سوال نہیں کیا ۔جب تیسرا دن ہواتو میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا:اپنے والد سے پاس جائو ،ان سے خدام کا تقاضا کرو ،تاکہ ہم ان کاموں سے چھٹکارا پاسکیں ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہاشام کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کی گئیں ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:بیٹی !کیا پریشانی ہے ؟انہوں نے کہا:کچھ نہیں،اے میرے اباجان !میں توصرف اس لیے آئی تھی کہ معلوم کروں کہ آپ کیسے ہیں؟، ان کو اس بات سے حیا آئی کہ وہ اپنے وال سے کسی چیز کا سوال کریں ،جب تیسرا دن ہواتو میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا:اٹھو ہم سب چلتے ہیں ، سبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کی طرف روانہ ہوئے ، آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تمہیں کون سی چیز یہاں لے کر آئی ہے ؟حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا:اے اللہ رسول !کام کرنا ہمارے لیے مشکل ہوگیا ہے،ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں خادم دے دیں ،تاکہ ہم ان کاموں سے چھٹکارا پاسکیں ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سن کر ان سے فرمایا:کیا تمہیں ایسے عمل کے بارے میں نہ بتادوں ؟جو تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہو،حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :ہاں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ نے فرمایا:جب تم اپنے بستروں پر آئو تو تینتیس بار اللہ اکبر کہو ، تینتیس بار الحمد للہ کہو ، تینتیس بارسبحان اللہ کہو ،اس طرح تم ہزار نیکی لے کر سوئو گے ،اتنی تسبیحات صبح کے وقت کرو ، اس طرح تمہار ی صبح کا آغاز ہزار نیکی کے ساتھ ہوگا ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے اس وقت سے کر آج تلک یہ وظیفہ کرنا نہیں بھولا ،سوائے صفین کی رات کے ۔اس رات میں نے رات کے آخری پہر پڑھے تھے ۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← شَبَثِ بْنِ رِبْعِيٍّ ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 223

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ أَخْذِ الْمَضَاجِعِ · حديث 224

224 - حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالْقَانِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارِ الرَّمَادِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقِ السَّرَّاجُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، قَالُوا: ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، أَنَّهُ سَمِعَ مُجَاهِدًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى [ص:92]، يُحَدِّثُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَضِيَ عَنْهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ خَادِمًا، فَقَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكِ بِمَا هُوَ خَيْرٌ لَكِ مِنْهُ، تُسَبِّحِي اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتَحْمَدِي اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتُكَبِّرِي اللَّهَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ» قَالَ سُفْيَانُ: إِحْدَاهُنَّ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ، قَالَ عَلِيٌّ: فَمَا تَرَكْتُهَا مُنْذُ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا لَهُ: وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ؟ قَالَ: وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ

حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیںاور آپ سے خادم کا تقاضا کیا ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سن کر ان سے فرمایا:کیا تمہیں ایسے عمل کے بارے میں نہ بتادوں ؟جو تمہارے لیے اس سے بہت ہی بہتر ہے ؟اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ نے فرمایا:جب تم اپنے بستروں پر آئو تو تینتیس بارسبحان اللہ کہو ، تینتیس بار الحمد للہ کہو ، تینتیس بارسبحان اللہ کہو اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر کہو ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے اس وقت سے کر آج تلک یہ وظیفہ کرنا نہیں بھولا ،سوائے صفین کی رات کے ۔اس رات میں نے رات کے آخری پہر پڑھے تھے ۔

عُبَيْدِ اللَّهِ1 بْنِ أبي يزيد، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ رَاهُوَيْهِ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ السَّرَّاجُ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالْقَانِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 224

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ أَخْذِ الْمَضَاجِعِ · حديث 225

225 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشٍ، ح وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ صَالِحٍ، كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ فَاطِمَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ خَادِمًا فَقَالَ: «أَلَا أَدُلُّكِ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكِ مِنْ ذَلِكَ؟ إِذَا أَوَيْتِ إِلَى فِرَاشِكِ فَسَبِّحِي اللَّهَ تَعَالَى ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَاحْمَدِيهِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبِّرِيهِ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ»

حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیںاور آپ سے خادم کا تقاضا کیا ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سن کر فرمایا:کیا تمہیں ایسے عمل کے بارے میں نہ بتادوں ؟جو تمہارے لیے اس سے بہت ہی بہتر ہے ؟اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ نے فرمایا:جب تم اپنے بستروں پر آئو تو تینتیس بارسبحان اللہ کہو ، تینتیس بار الحمد للہ کہو ، تینتیس بارسبحان اللہ کہو اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر کہو ۔

عَلِيٍّ، أَنَّ فَاطِمَةَ، أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ تَسْأَلُهُ خَادِمًا ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← مُجَاهِدٍ ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، ← عَمْرُو بْنُ صَالِحٍ، كِلَاهُمَا ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ← جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْوَاسِطِيُّ ← عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 225

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ أَخْذِ الْمَضَاجِعِ · حديث 226

226 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَبِيبٍ الطَّرَائِفِيُّ الرَّقِّيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْأُمَوِيُّ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ حَسَّانَ، أَنَّ مُجَاهِدًا، حَدَّثَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَقِيقًا، فَقُلْتُ لِفَاطِمَةَ وَقَدْ أَثَّرَ الْعَجِينُ فِي كَفِّهَا: ائْتِ أَبَاكِ فَاسْتَخْدِمِيهِ، فَانْطَلَقَتْ فَأَتَتْ بَعْضَ نِسَائِهِ، فَلَمْ تَجِدْهُ فَجَلَسَتْ حَتَّى إِذَا يَئِسَتِ انْطَلَقَتْ وَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: قَدْ كَانَتْ بِنْتُ مُحَمَّدٍ هَاهُنَا حَتَّى أَمْسَتْ ثُمَّ انْقَلَبْتُ، فَلَمْ يَجْلِسِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَقْبَلَ إِلَيْنَا وَأَدْخَلَ رِجْلَيْهِ بَيْنَنَا وَقَالَ إِذَا جِئْتُكُمَا غِرَّتُكُمَا هَذِهِ فَسَبِّحَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَاحْمَدَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبِّرَا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ " قَالَ عَلِيٌّ: فَمَا تَرَكْتُهَا مِنْ بَعْدُ، قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ؟ فَقَالَ عَلِيٌّ: وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ

حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلام تقسیم کیے ، میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا:اپنے والد کے پاس جائو اورخدام کا تقاضا کرو آٹا پیسنے کی وجہ سے ان کے ہاتھوں نشانات بن چکے تھے ،حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا گئیں ،آپ کی ازواج مطہرات سے ملیں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر پر نہ تھے ، وہاں بیٹھی انتظار کرتی رہیں ، مایوس ہوکر واپس آگئیں ، بعد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف فرماہوئے ۔زوجہ مکرم رضی اللہ عنہا نے آپ کو بتایا کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کے انتظار میں یہاں شام ہونے تک بیٹھی رہیں ہیں ، نبی اکرم اسی وقت ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ نے اپنے قدم مبارک کو ہمارے درمیان رکھا ۔تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم اپنے بستروں پر آئو تو تینتیس بارسبحان اللہ کہو ، تینتیس بار الحمد للہ کہو اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر کہو ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے اس وقت سے کر آج تلک یہ وظیفہ کرنا نہیں بھولا ،سوائے صفین کی رات کے ۔اس رات میں نے رات کے آخری پہر پڑھے تھے ۔

حَبِيبُ بْنُ حَسَّانَ، ← سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْأُمَوِيُّ، ← علي بن ميمون الرقي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَبِيبٍ الطَّرَائِفِيُّ الرَّقِّيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 226

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ أَخْذِ الْمَضَاجِعِ · حديث 227

227 - حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، قَالَا: ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنْبَأَ شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ فَاطِمَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْكُو إِلَيْهِ مَا تَلْقَى مِنْ يَدِهَا مِنْ أَثَرِ الرَّحَا، فَلَمْ تَجِدْهُ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ عَائِشَةُ، قَالَ عَلِيٌّ: فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا فَذَهَبْنَا لِنَقُومَ فَقَالَ: «عَلَى مَكَانِكُمَا» قَالَ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَنَا حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَيْهِ عَلَى صَدْرِي فَقَالَ: «أَلَا أُعَلِّمُكُمَا أَوْ أُخْبِرُكُمَا بِخَيْرٍ مِمَّا سَأَلْتُمَا، إِذَا أَوَيْتُمَا إِلَى فِرَاشِكُمَا فَكَبِّرَا اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَاحْمَدَاهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَسَبِّحَاهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ فَإِنَّهُ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ وَمِمَّا سَأَلْتُمَا»

حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائو اورخدام کا تقاضا کرنے کے لیے آئیں ، اس وجہ سے کہ آٹا پیسنے کی وجہ سے ان کے ہاتھوں نشانات بن چکے تھے ،حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا گئیں ،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملیں ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر پر نہ تھے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرماہوئے ۔عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو بتایا کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے آنے کے بارے میں بتایا ۔نبی اکرم اسی وقت ہمارے پاس تشریف لائے ،ہم جلدی سے اٹھنا چاہتے تھے ،آپ نے ہمیں کرتے ہوئے کہا:اپنی جگہوں پر ٹھہر ے رہو ،آپ نے اپنے قدم مبارک کو ہمارے درمیان رکھا ۔میں نے آپ کے قدم مبارک کی ٹھنڈک کواپنے سینے پر محسوس کیا۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا تمہیں ایسے عمل کے بارے میں نہ بتادوں ؟جو تمہارے لیے اس سے بہت ہی بہتر ہے جس کا تم نے سوال کیا ہے ۔آپ نے فرمایا:جب تم اپنے بستروں پر آئو تو تینتیس باراللہ اکبر کہو ، تینتیس بار الحمد للہ کہو اور تینتیس بارسبحان اللہ کہو ۔یہ عمل تمہارے لیے اس سے بہت ہی بہتر ہے جس کا تم نے سوال کیا ہے ۔

عَلِيٍّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← الْحَكَمِ ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنْبَأَ شُعْبَةُ، ← يُوسُفُ الْقَاضِي وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 227

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ أَخْذِ الْمَضَاجِعِ · حديث 228

228 - حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عِيسَى بْنِ الْمُخْتَارِ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ

حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح بیان کرتے ہیں ۔

النَّبِيِّ نَحْوَهُ ← عَلِيٍّ، ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← عِيسَى بْنُ الْمُخْتَارِ ← بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 228

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ أَخْذِ الْمَضَاجِعِ · حديث 229

229 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالْقَانِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ح وَحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، كِلَاهُمَا عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: " أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى وَضَعَ قَدَمَهُ بَيْنِي وَبَيْنَ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَعَلَّمَنَا أَنْ نَقُولَ إِذَا أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَسْبِيحَةً وَثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَحْمِيدَةً وَأَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ تَكْبِيرَةً، قَالَ عَلِيٌّ: فَمَا تَرَكْتُهَا مِنْ بَعْدُ، قَالَ لَهُ رَجُلٌ: وَلَا يَوْمَ صِفِّينَ؟ قَالَ: وَلَا يَوْمَ صِفِّينَ "

حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ،آپ نے اپنے قدم مبارک کو ہمارے درمیان رکھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھلایا کہ جب تم اپنے بستروں پر آئو تو تینتیس بارسبحان اللہ کہو ، تینتیس بار الحمد للہ کہو اورچونتیس باراللہ اکبر کہو ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے اس وقت سے کر آج تلک یہ وظیفہ کرنا نہیں بھولا ،ایک آدمی حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتا ہے کیا آپ نے صفین کی رات بھی نہیں چھوڑا تھا ؟حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا،ہاں !میں نے صفین کی رات بھی نہیں چھوڑا۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، كِلَاهُمَا ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ،: ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 229

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ أَخْذِ الْمَضَاجِعِ · حديث 230

230 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا زَوَّجَ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بَعَثَ مَعَهَا بِخَمِيلَةٍ وَوِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ وَجَرَّتَيْنِ وَسِقَاءٍ قَالَ عَلِيٌّ: فَقُلْتُ يَوْمًا وَاللَّهِ لَقَدْ سَنَوْتُ حَتَّى اشْتَكَيْتُ صَدْرِي وَقَدْ جَاءَ اللَّهُ عَزَّ [ص:94] وَجَلَّ أَبَاكِ بِسَبْي فَأْتِيهِ فَاسْتَخْدِمِيهِ، قَالَتْ: وَأَنَا وَاللَّهِ لَقَدْ طَحَنْتُ حَتَّى مَجِلَتْ يَدَايَ، فَذَهَبَتْ إِلَيْهِ فَاسْتَحْيَتْ أَنْ تَذْكُرَ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهَا: «مَرْحَبًا بِكِ» فَقَالَتْ: جِئْتُ أُسَلِّمُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَرَجَعَتْ فَقَالَ لَهَا عَلِيٌّ: مَا فَعَلْتِ؟ قَالَتِ: اسْتَحَيْتُ أَنْ أَذْكُرَ لَهُ شَيْئًا، فَأَتَيَاهُ جَمِيعًا فَذَكَرَا لَهُ ذَلِكَ وَقَالَا: قَدْ أَتَاكَ اللَّهُ تَعَالَى بِسَبْي فَأَخْدِمْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا أُخْدِمُكُمَا وَأَدَعُ أَهْلَ الصُّفَّةِ يَطْوُونَ جُوعًا، لَا أَجِدُ مَا أُنْفِقُ عَلَيْهِمْ، وَلَكِنِّي أَبِيعُهُمْ فَأُنْفِقُهُ عَلَيْهِمْ» فَرَجَعَا فَدَخَلَا فِي خَمِيلَتَهُمَا فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمَا فِي خَمِيلَتَهُمَا إِذَا غَطَّيَا رُءُوسَهُمَا انْكَشَفَتْ أَقْدَامُهُمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَكَانَكُمَا أَلَا أُخْبِرُكُمَا بِشَيْءٍ خَيْرٍ مِمَّا سَأَلْتُمَانِي عَلَّمَنِيهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، إِذَا أَوَيْتُمَا إِلَى فِرَاشِكُمَا سَبَّحْتُمَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَحَمَّدْتُمَا اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبَّرْتُمَا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ» قَالَ عَلِيٌّ: فَوَاللَّهِ مَا وَدَعْتُهُنَّ مُنْذُ عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو الْكَوَّا قَالَ حَجَّاجٌ: هُوَ ابْنُ الْكَوَّا وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ؟ فَقَالَ عَلِيٌّ: قَاتَلَكُمُ اللَّهُ وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ

حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی کی تو آپ نے ان کے ساتھ ایک چادر ، ایک تکیہ کہ جس میں کھجور کے پتے کوٹ کربھر رے ہوئے تھے اور دو مشکیزے بھیجے تھے ،میں نے ایک دن کہا: اللہ کی قسم !ایک سال گزرچکا ہے ، میں دلی طور پر تنگی محسوس کرتا ہوں ، اب اللہ عزوجل نے آسانیاں پیدا کردی ہیں ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غلام آئے ہوئے ہیں ، اس لیے اے فاطمہ !آپ اپنے والد کے پاس جائیں ،ان سے خدام کا تقاضا کریں ،فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں :آٹا پیسنے کی وجہ سے میرے ہاتھوں پر آبلے پڑ گئے ہیں ،سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر گئیں ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرحبا کہا ،فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میںصرف آپ کو سلام کرنے کے لیے آئی تھی اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ،مجھے آپ سے یہ بات کرنے سے حیا آئی کہ میں اپنے والد سے کسی چیز کا سوال کروں،جب واپس گھر آئیں تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا :کیا بنا ؟حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں :مجھے حیا آئی اس لیے میں نے سوال نہیں کیا اس پر حضرت علی اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کی طرف روانہ ہوئے ، آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تمہیں کون سی چیز یہاں لے کر آئی ہے ؟حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا:اے اللہ رسول !آپ کے پا س غلام آئے ہوئے ہیں ، آپ ہمیں خادم دے دیں ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سن کر ان سے فرمایا:میں تمہیں خادم نہیں دوں گا ، کیا میں اہل صفہ کو چھوڑ دوں کہ وہ بھوکے وقت گزارتے رہیں ، میرے پاس ان پر خرچ کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے ، اس لیے میں غلاموں کو بیچ کر ان پر خرچ کروں گا ، وہ دونوں واپس آگئے اور اپنے بستروں میں چلے گئے ۔تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف فرماہوئے ، حضرت علی اور فاطمہ رضی اللہ عنہما اپنے چہروں کو ڈھانپ چکے تھے ، آپ کے آنے پر انہوں نے اپنے قدموں سے چادر کو ہٹایا ، آپ نے فرمایا :اسی طرح رہو ،کیا تمہیں ایسے عمل کے بارے میں نہ بتادوں ؟جواس سے بہت بہتر ہے جس کا تم نے مجھ سے سوال کیا ہے ، جبریل نے ابھی مجھے بتلایا ہے ۔آپ نے فرمایا:جب تم اپنے بستروں پر آئو تو تینتیس بارسبحان اللہ کہو ، تینتیس بار الحمد للہ کہو اور چونتیس باراللہ اکبر کہو۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے اس وقت سے کر آج تلک یہ وظیفہ کرنا نہیں بھولا ،سوال کرنے والے کہا : صفین کی رات بھی پڑھا تھا ؟فرمایا:اللہ تمہیں ہلاک کرے ، تب بھی پڑھا تھا ۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 230

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ أَخْذِ الْمَضَاجِعِ · حديث 231

231 - حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ فَاطِمَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كَانَتْ حَامِلًا فَكَانَتْ إِذَا خَبَزَتْ أَصَابَ حَرْقُ التَّنُّورَةِ بَطْنَهَا، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ خَادِمًا، فَقَالَ: «لَا أُعْطِيكِ خَادِمًا وَأَدَعُ أَهْلَ الصُّفَّةِ تُطْوَى بُطُونُهُمْ مِنَ الْجُوعِ، أَوَلَا أَدُلُّكِ عَلَى خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ، تُسَبِّحِي اللَّهَ تَعَالَى إِذَا أَوَيْتِ إِلَى فِرَاشِكِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتَحْمَدِيهِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتُكَبِّرِيهِ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ» قَالَ: فَمَا تَرَكْتُهَا مُنْذُ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُتْبَةَ قَالَ لِعَلِيٍّ: وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ؟ قَالَ: وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ، ذَكَرْتُهَا مِنْ آخِرِ السَّحَرِ فَقُلْتُهَا

حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا حاملہ تھیں ،جب ہ روٹی بناتیں تو تندور کی تپش ان کے پیٹ پر پڑتی ، تب فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خادم کا تقاضا کرنے کے لیے آئیں ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سن کر ان سے فرمایا:میں تمہیں خادم نہیں دوں گا ، کیا میں اہل صفہ کو چھوڑ دوں کہ وہ بھوکے وقت گزارتے رہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا تمہیں ایسے عمل کے بارے میں نہ بتادوں ؟جو تمہارے لیے اس سے بہت ہی بہتر ہے جس کا تم نے سوال کیا ہے ۔آپ نے فرمایا:جب تم اپنے بستروں پر آئو تو تینتیس باراللہ اکبر کہو ، تینتیس بار الحمد للہ کہو اور تینتیس بارسبحان اللہ کہو ۔یہ عمل تمہارے لیے اس سے بہت ہی بہتر ہے جس کا تم نے سوال کیا ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے اس وقت سے کر آج تلک یہ وظیفہ کرنا نہیں بھولا ،سوال کرنے والے کہا : صفین کی رات بھی پڑھا تھا ؟فرمایا:اللہ تمہیں ہلاک کرے ، تب بھی پڑھا تھا ۔

عَلِيٍّ، ← أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 231

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter
307. Chapter
308. Chapter
309. Chapter
310. Chapter
311. Chapter
312. Chapter
313. Chapter
314. Chapter
315. Chapter
316. Chapter
317. Chapter