Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
كتاب الدعاء

Kitab Al Dua

by Tibrani

2,251 Hadith318 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الِاسْتِخَارَةِ · حديث 1301

1301 - حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي لَيْلَى، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا اسْتَخَارَ فِي الْأَمْرِ يُرِيدُ أَنْ يَصْنَعَهُ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا خَيْرًا لِي فِي دِينِي، وَخَيْرًا لِي فِي مَعِيشَتِي، وَخَيْرًا لِي فِيمَا أَبْتَغِي بِهِ الْخَيْرَ، فَخِرْ لِي فِي عَافِيَةٍ وَيَسِّرْهُ لِي، ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ خَيْرًا فَاقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ»

حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کام کے لیے استخارہ کرتے تویہ دعا پڑھتے :اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْتَخِیرُکَ بِعِلْمِکَ، وَاَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ، وَاَسْاَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ، فَإِنَّکَ تَقْدِرُ وَلَا اَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا اَعْلَمُ، وَاَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوبِ، اللَّہُمَّ إِنْ کَانَ ہَذَا خَیْرًا لِی فِی دِینِی، وَخَیْرًا لِی فِی مَعِیشَتِی، وَخَیْرًا لِی فِیمَا اَبْتَغِی بِہِ الْخَیْرَ، فَخِرْ لِی فِی عَافِیَۃٍ وَیَسِّرْہُ لِی، ثُمَّ بَارِکْ لِی فِیہِ، وَإِنْ کَانَ غَیْرَ ذَلِکَ خَیْرًا فَاقْدُرْ لِیَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ،اے اللہ !میں تیرے علم کا واسطہ دے کر تجھ سے خیر طلب کرتا ہوں، اورتیری قدرت کا واسطہ دے کر میں تجھ سے اچھائی پر قدرت طلب کرتا ہوں، تو غیبوں کو خوب جاننے والاہے، اے اللہ !تو علم رکھتا ہے، میں علم نہیں رکھتا۔ یعنی یہ معاملہ حق میں بہتر ہے یا نہیں، اس کا علم تجھے ہے مجھے نہیں، اور تو قدرت رکھتاہے اور میرے اندر قدرت نہیں، یا اللہ!اگر تیرے علم میں ہے کہ یہ معاملہ (اس موقع پر اس معاملہ کا تصور دل میں لائے، جس کے لئے استخارہ کررہا ہے)میرے حق میں بہتر ہے، میرے دین کے لئے بھی بہتر ہے، میری معاش اور دنیا کے اعتبار سے بھی بہتر ہے، تو اس کو میرے لئے مقدر فرمادیجئے اور اس کو میرے لئے آسان فرمادیجئے اور اس میں میرے لئے برکت پیدا فرمادیجئے، اور اگرتیرے علم میں یہ بات ہے کہ یہ معاملہ میرے حق میں بُرا ہے، میرے دین کے حق میں بُرا ہے یا میری دنیا اور معاش کے حق میں بُرا ہے یا میرے انجام کار کے اعتبار سے بُرا ہے، تو اس کام کو مجھ سے پھیردیجئے اور مجھے اس سے پھیر دیجئے، اور میرے لئے خیر مقدر فرمادیجئے جہاں بھی ہو۔ (یعنی اگریہ معاملہ میرے لئے بہتر نہیں ہے تو اس کو تو چھوڑ دیجئے اور اس کے بدلے جوکام میرے لئے بہتر ہو،اس کو مقدر فرمادیجئے،) پھر مجھے اس پر راضی بھی کردیجئے۔

النَّبِيِّ أَنَّهُ كَانَ إِذَا اسْتَخَارَ فِي الْأَمْرِ يُرِيدُ أَنْ يَصْنَعَهُ ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي لَيْلَى، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1301

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الِاسْتِخَارَةِ · حديث 1302

1302 - حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيِّ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْأَنْطَاكِيُّ، ثنا صَالِحُ بْنُ مُوسَى الطَّلْحِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الِاسْتِخَارَةَ فَقَالَ: " إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَمْرًا فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ، فَإِنَّكَ تَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَتَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، فَإِنْ كَانَ هَذَا الَّذِي أُرِيدُ خَيْرًا لِي فِي دِينِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَيَسِّرْ لِي، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ خَيْرًا لِي فَاقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ، يَقُولُ ذَلِكَ ثُمَّ يَعْزِمُ "

حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں استخار کرنا سکھلایا اور فرمایا:جب تم میں سے کسی کو کوئی کام لاحق ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ یہ دعا پڑھے:اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْتَخِیرُکَ بِعِلْمِکَ، وَاَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ، وَاَسْاَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ، فَإِنَّکَ تَعْلَمُ وَلَا اَعْلَمُ، وَتَقْدِرُ وَلَا اَقْدِرُ، وَاَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوبِ، فَإِنْ کَانَ ہَذَا الَّذِی اُرِیدُ خَیْرًا لِی فِی دِینِی وَعَاقِبَۃِ اَمْرِی فَیَسِّرْ لِی، وَإِنْ کَانَ غَیْرَ ذَلِکَ خَیْرًا لِی فَاقْدُرْ لِیَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ،اے اللہ !میں تیرے علم کا واسطہ دے کر تجھ سے خیر طلب کرتا ہوں، اورتیری قدرت کا واسطہ دے کر میں تجھ سے اچھائی پر قدرت طلب کرتا ہوں، تو غیبوں کو خوب جاننے والاہے، اے اللہ !تو علم رکھتا ہے، میں علم نہیں رکھتا۔ یعنی یہ معاملہ حق میں بہتر ہے یا نہیں، اس کا علم تجھے ہے مجھے نہیں، اور تو قدرت رکھتاہے اور میرے اندر قدرت نہیں، یا اللہ!اگر تیرے علم میں ہے کہ یہ معاملہ (اس موقع پر اس معاملہ کا تصور دل میں لائے، جس کے لئے استخارہ کررہا ہے)میرے حق میں بہتر ہے، میرے دین کے لئے بھی بہتر ہے، میری معاش اور دنیا کے اعتبار سے بھی بہتر ہے، تو اس کو میرے لئے مقدر فرمادیجئے اور اس کو میرے لئے آسان فرمادیجئے اور اس میں میرے لئے برکت پیدا فرمادیجئے، اور اگرتیرے علم میں یہ بات ہے کہ یہ معاملہ میرے حق میں بُرا ہے، میرے دین کے حق میں بُرا ہے یا میری دنیا اور معاش کے حق میں بُرا ہے یا میرے انجام کار کے اعتبار سے بُرا ہے، تو اس کام کو مجھ سے پھیردیجئے اور مجھے اس سے پھیر دیجئے، اور میرے لئے خیر مقدر فرمادیجئے جہاں بھی ہو۔ (یعنی اگریہ معاملہ میرے لئے بہتر نہیں ہے تو اس کو تو چھوڑ دیجئے اور اس کے بدلے جوکام میرے لئے بہتر ہو،اس کو مقدر فرمادیجئے،) پھر مجھے اس پر راضی بھی کردیجئے۔یہ دعا پڑھتے اس کے بعد پختہ ارادہ کرلیتے ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← صالح بن موسى الطلحي ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْأَنْطَاكِيُّ، ← على إبراهيم بن سعيد الجوهري ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1302

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الِاسْتِخَارَةِ · حديث 1303

1303 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُقَاتِلٍ خَالُ الْقَعْنَبِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالُوا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمُوَالِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَةَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ يَقُولُ: " إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالْأَمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي [ص:389] أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ، فَإِنَّكَ تَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَتَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ هَذَا الْأَمْرَ خَيْرًا لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي، أَوْ فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي، وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ هَذَا الْأَمْرَ شَرًّا لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي أَوْ فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ، وَاقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ وَرَضِّنِي بِهِ وَيُسَمِّي حَاجَتَهُ بِاسْمِهَا "

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں استخار اس طرح سکھلاتے جس طرح قرآن مجید کی کوئی سورت سکھلایا کرتے تھے ،آپ نے فرمایا:جب تم میں سے کوئی کسی کام کا ارادہ کرے تو اس کو چاہیے کہ وہ شخص فرائض کے علاوہ دو رکعت نفل نماز ادا کرے پھر یہ دعا پڑھے :اللَّہُمَّ إِنِّی (ص:389) اَسْتَخِیرُکَ بِعِلْمِکَ، وَاَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ، وَاَسْاَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ، فَإِنَّکَ تَعْلَمُ وَلَا اَعْلَمُ، وَتَقْدِرُ وَلَا اَقْدِرُ، وَاَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوبِ، اللَّہُمَّ إِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ ہَذَا الْاَمْرَ خَیْرًا لِی فِی دِینِی وَمَعَاشِی وَعَاقِبَۃِ اَمْرِی، اَوْ فِی عَاجِلِ اَمْرِی وَآجِلِہِ فَاقْدُرْہُ لِی وَیَسِّرْہُ لِی، وَإِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ ہَذَا الْاَمْرَ شَرًّا لِی فِی دِینِی وَمَعَاشِی وَعَاقِبَۃِ اَمْرِی اَوْ فِی عَاجِلِ اَمْرِی وَآجِلِہِ فَاصْرِفْہُ عَنِّی وَاصْرِفْنِی عَنْہُ، وَاقْدُرْ لِیَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ وَرَضِّنِی بِہِ،اے اللہ !میں تیرے علم کا واسطہ دے کر تجھ سے خیر طلب کرتا ہوں، اورتیری قدرت کا واسطہ دے کر میں تجھ سے اچھائی پر قدرت طلب کرتا ہوں، تو غیبوں کو خوب جاننے والاہے، اے اللہ !تو علم رکھتا ہے، میں علم نہیں رکھتا۔ یعنی یہ معاملہ حق میں بہتر ہے یا نہیں، اس کا علم تجھے ہے مجھے نہیں، اور تو قدرت رکھتاہے اور میرے اندر قدرت نہیں، یا اللہ!اگر تیرے علم میں ہے کہ یہ معاملہ (اس موقع پر اس معاملہ کا تصور دل میں لائے، جس کے لئے استخارہ کررہا ہے)میرے حق میں بہتر ہے، میرے دین کے لئے بھی بہتر ہے، میری معاش اور دنیا کے اعتبار سے بھی بہتر ہے، تو اس کو میرے لئے مقدر فرمادیجئے اور اس کو میرے لئے آسان فرمادیجئے اور اس میں میرے لئے برکت پیدا فرمادیجئے، اور اگرتیرے علم میں یہ بات ہے کہ یہ معاملہ میرے حق میں بُرا ہے، میرے دین کے حق میں بُرا ہے یا میری دنیا اور معاش کے حق میں بُرا ہے یا میرے انجام کار کے اعتبار سے بُرا ہے، تو اس کام کو مجھ سے پھیردیجئے اور مجھے اس سے پھیر دیجئے، اور میرے لئے خیر مقدر فرمادیجئے جہاں بھی ہو۔ (یعنی اگریہ معاملہ میرے لئے بہتر نہیں ہے تو اس کو تو چھوڑ دیجئے اور اس کے بدلے جوکام میرے لئے بہتر ہو،اس کو مقدر فرمادیجئے،) پھر مجھے اس پر راضی بھی کردیجئے۔اور اپنے کام کا نام لے ۔

إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالْأَمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ، ثُمَّ ← «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَهْ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ» ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُقَاتِلٍ خَالُ الْقَعْنَبِيِّ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1303

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الِاسْتِخَارَةِ · حديث 1304

1304 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، قَالَا: ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكِ الدَّارِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَمْرًا فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ كَذَا وَكَذَا لِلْأَمْرِ الَّذِي تُرِيدُ خَيْرًا لِي فِي دِينِي وَمَعِيشَتِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي، فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي وَأَعَنِّي عَلَيْهِ، وَإِنْ كَانَ كَذَا وَكَذَا لِلَّذِي يُرِيدُ شَرًّا لِي فِي دِينِي وَمَعِيشَتِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ أَيْنَمَا كَانَ، وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ "

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سناکہ جب تم میں سے کسی کو کوئی کام ہوتو اس کو چاہیے کہ وہ شخص یہ دعا پڑھے :اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْتَخِیرُکَ بِعِلْمِکَ، وَاَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ، وَاَسْاَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ، فَإِنَّکَ تَقْدِرُ وَلَا اَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا اَعْلَمُ، وَاَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوبِ، اللَّہُمَّ إِنْ کَانَ کَذَا وَکَذَا لِلْاَمْرِ الَّذِی تُرِیدُ خَیْرًا لِی فِی دِینِی وَمَعِیشَتِی وَعَاقِبَۃِ اَمْرِی، فَاقْدُرْہُ لِی وَیَسِّرْہُ لِی وَاَعَنِّی عَلَیْہِ، وَإِنْ کَانَ کَذَا وَکَذَا لِلَّذِی یُرِیدُ شَرًّا لِی فِی دِینِی وَمَعِیشَتِی وَعَاقِبَۃِ اَمْرِی فَاصْرِفْہُ عَنِّی وَاقْدُرْ لِیَ الْخَیْرَ اَیْنَمَا کَانَ، وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللَّہِ،اے اللہ !میں تیرے علم کا واسطہ دے کر تجھ سے خیر طلب کرتا ہوں، اورتیری قدرت کا واسطہ دے کر میں تجھ سے اچھائی پر قدرت طلب کرتا ہوں، تو غیبوں کو خوب جاننے والاہے، اے اللہ !تو علم رکھتا ہے، میں علم نہیں رکھتا۔ یعنی یہ معاملہ حق میں بہتر ہے یا نہیں، اس کا علم تجھے ہے مجھے نہیں، اور تو قدرت رکھتاہے اور میرے اندر قدرت نہیں، یا اللہ!اگر تیرے علم میں ہے کہ یہ معاملہ (اس موقع پر اس معاملہ کا تصور دل میں لائے، جس کے لئے استخارہ کررہا ہے)میرے حق میں بہتر ہے، میرے دین کے لئے بھی بہتر ہے، میری معاش اور دنیا کے اعتبار سے بھی بہتر ہے، تو اس کو میرے لئے مقدر فرمادیجئے اور اس کو میرے لئے آسان فرمادیجئے اور اس میں میرے لئے برکت پیدا فرمادیجئے، اور اگرتیرے علم میں یہ بات ہے کہ یہ معاملہ میرے حق میں بُرا ہے، میرے دین کے حق میں بُرا ہے یا میری دنیا اور معاش کے حق میں بُرا ہے یا میرے انجام کار کے اعتبار سے بُرا ہے، تو اس کام کو مجھ سے پھیردیجئے اور مجھے اس سے پھیر دیجئے، اور میرے لئے خیر مقدر فرمادیجئے جہاں بھی ہو۔ (یعنی اگریہ معاملہ میرے لئے بہتر نہیں ہے تو اس کو تو چھوڑ دیجئے اور اس کے بدلے جوکام میرے لئے بہتر ہو،اس کو مقدر فرمادیجئے،)پھر مجھے اس پر راضی بھی کردیجئے۔۔اے اللہ !تیری توفیق کے بغیر ممکن نہیں ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ← عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكِ الدَّارِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← أَبُو خَلِيفَةَ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1304

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الِاسْتِخَارَةِ · حديث 1305

1305 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، وَسَلَامَةُ بْنُ نَاهِضٍ الْمَقْدِسِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ الْعَسْقَلَانِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَانِئِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ، ثنا أَبِي، ثنا عَمِّي إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَا: كُنَّا نَتَعَلَّمُ الِاسْتِخَارَةَ كَمَا يَتَعَلَّمُ أَحَدُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ مَا قَضَيْتَ عَلَيَّ مِنْ قَضَاءٍ فَاجْعَلْ عَاقِبَتَهُ إِلَى خَيْرٍ»

حضرت عبد اللہ بن عمر اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ استخارہ اس طرح سیکھا کرتے تھے جس طرح ہم قرآن کی سورتیں سیکھا کرتے ،استخارہ کی دعا : اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْتَخِیرُکَ بِعِلْمِکَ، وَاَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ، فَإِنَّکَ تَقْدِرُ وَلَا اَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا اَعْلَمُ، وَاَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوبِ، اللَّہُمَّ مَا قَضَیْتَ عَلَیَّ مِنْ قَضَاء ٍ فَاجْعَلْ عَاقِبَتَہُ إِلَی خَیْرٍ،اے اللہ !میں آپ کے علم کا واسطہ دے کر آپ سے خیر طلب کرتا ہوں، اور آپ کی قدرت کا واسطہ دے کر میں اچھائی پر قدرت طلب کرتا ہوں، تو غیبوں کو جاننے والا ہے ۔ اے اللہ !تونے میرے بارے میں جو بھی فیصلہ کیا ہے اس کا انجام اور انتہاء خیر اور بھلائی والی بنادے ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← عَمِّي، إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَانِئِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ الْعَسْقَلَانِيُّ، ← سَلَامَةُ بْنُ نَاهِضٍ الْمَقْدِسِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1305

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الِاسْتِخَارَةِ · حديث 1306

1306 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ بُرْدٍ الْأَنْطَاكِيُّ، قَالَا: ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ شِبْلِ بْنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَمْرًا فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ كَذَا وَكَذَا خَيْرًا لِي فِي مَعِيشَتِي وَخَيْرًا لِي فِي عَاقِبَةِ أَمْرِي فَاقْدُرْهُ لِي وَبَارِكْ لِي فِيهِ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ فَاقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ وَرَضِّنِي بِقُدْرَتِكَ " حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَافِعٍ الطَّحَّانُ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ، أَنَّ أَيُّوبَ بْنَ خَالِدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ، أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي أَيُّوبَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: " اكْتُمُ الْخِطْبَةَ ثُمَّ تَوَضَّأْ فَأَحْسِنْ وضُوءَكَ، ثُمَّ صَلِّ مَا كَتَبَ اللَّهُ لَكَ، ثُمَّ احْمَدْ رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ جَدُّهُ، ثُمَّ قُلِ: اللَّهُمَّ أَنْتَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ لِي فِي فُلَانَةَ خَيْرٌ وَسَمِّهَا بِاسْمِهَا فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَآخِرَتِي فَاقْدِرْهَا لِي، وَإِنْ كَانَ غَيْرَهَا خَيْرًا لِي فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَآخِرَتِي فَاقْضِ لِي بِهَا وَقَدِّرْهَا لِي "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم میں سے کسی کو کوئی کام ہوتو اس کو چاہیے کہ وہ شخص یہ دعا پڑھے :اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْتَخِیرُکَ بِعِلْمِکَ، وَاَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ، وَاَسْاَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ، فَإِنَّکَ تَقْدِرُ وَلَا اَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا اَعْلَمُ، وَاَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوبِ، اللَّہُمَّ إِنْ کَانَ کَذَا وَکَذَا خَیْرًا لِی فِی مَعِیشَتِی وَخَیْرًا لِی فِی عَاقِبَۃِ اَمْرِی فَاقْدُرْہُ لِی وَبَارِکْ لِی فِیہِ، وَإِنْ کَانَ غَیْرَ ذَلِکَ فَاقْدُرْ لِیَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ وَرَضِّنِی بِقُدْرَتِکَ،اے اللہ !میں تیرے علم کا واسطہ دے کر تجھ سے خیر طلب کرتا ہوں، اورتیری قدرت کا واسطہ دے کر میں تجھ سے اچھائی پر قدرت طلب کرتا ہوں، تو غیبوں کو خوب جاننے والاہے، اے اللہ !تو علم رکھتا ہے، میں علم نہیں رکھتا۔ یعنی یہ معاملہ حق میں بہتر ہے یا نہیں، اس کا علم تجھے ہے مجھے نہیں، اور تو قدرت رکھتاہے اور میرے اندر قدرت نہیں، یا اللہ!اگر تیرے علم میں ہے کہ یہ معاملہ (اس موقع پر اس معاملہ کا تصور دل میں لائے، جس کے لئے استخارہ کررہا ہے)میرے حق میں بہتر ہے، میرے دین کے لئے بھی بہتر ہے، میری معاش اور دنیا کے اعتبار سے بھی بہتر ہے، تو اس کو میرے لئے مقدر فرمادیجئے اور اس کو میرے لئے آسان فرمادیجئے اور اس میں میرے لئے برکت پیدا فرمادیجئے، اور اگرتیرے علم میں یہ بات ہے کہ یہ معاملہ میرے حق میں بُرا ہے، میرے دین کے حق میں بُرا ہے یا میری دنیا اور معاش کے حق میں بُرا ہے یا میرے انجام کار کے اعتبار سے بُرا ہے، تو اس کام کو مجھ سے پھیردیجئے اور مجھے اس سے پھیر دیجئے، اور میرے لئے خیر مقدر فرمادیجئے جہاں بھی ہو۔ (یعنی اگریہ معاملہ میرے لئے بہتر نہیں ہے تو اس کو تو چھوڑ دیجئے اور اس کے بدلے جوکام میرے لئے بہتر ہو،اس کو مقدر فرمادیجئے،) پھر مجھے اس پر راضی بھی کردیجئے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← شِبْلُ بْنُ الْعَلَاءِ، ← ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ بُرْدٍ الْأَنْطَاكِيُّ، ← وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ الْعَسْكَرِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1306

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الِاسْتِخَارَةِ · حديث 1307

1307 - بَابُ مَا يَقُولُ مَنِ اشْتَرَى دَابَّةً أَوْ عَبْدًا

حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:پیغام نکاح کو چھپا لو ، اس کے بعد نہایت احسن انداز میں وضوء کرو ،پھر نماز پڑھو جتنی اللہ تعالیٰ نے تمہارے مقدر میں لکھی ہو ، اس کے بعد اپنے رب عزوجل کی حمد کو بیان کرو ، پھر یہ دعا پڑھو :اللَّہُمَّ اَنْتَ تَقْدِرُ وَلَا اَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا اَعْلَمُ، وَاَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوبِ، اللَّہُمَّ إِنْ کَانَ لِی فِی فُلَانَۃَ خَیْرٌ وَسَمِّہَا بِاسْمِہَا فِی دِینِی وَدُنْیَایَ وَآخِرَتِی فَاقْدِرْہَا لِی، وَإِنْ کَانَ غَیْرَہَا خَیْرًا لِی فِی دِینِی وَدُنْیَایَ وَآخِرَتِی فَاقْضِ لِی بِہَا وَقَدِّرْہَا لِی،اے اللہ !تو قدرت رکھتا ہے ، میں قدرت نہیں رکھتا ۔تو علم رکھتا ہے ، میرے پاس اس کا علم نہیں ہے ۔ تو غیبوں کو جاننے والا ہے، اے اللہ !اگر مییرے لیے فلاں عورت خیر و برکت کا باعث ہے (اس کا نام لیے کر دعا کرے ) میرے دین کے لئے بھی بہتر ہے، میری معاش اور دنیا کے اعتبار سے بھی بہتر ہے، تو اس کو میرے لئے مقدر فرمادے اور اگر اس کے علاوہ کسی اور میں میرے لیے خیر ہے میرے دین کے لئے بھی بہتر ہے، میری معاش اور دنیا کے اعتبار سے بھی بہتر ہے، تو اس کو میرے لئے مقدر فرمادے ۔

مَنِ اشْتَرَى دَابَّةً أَوْ عَبْدًا ← بَابُ مَا

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1307

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الِاسْتِخَارَةِ · حديث 1308

1308 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، قَالَا: ثنا حَبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اشْتَرَى أَحَدُكُمْ خَادِمًا فَلْيَأْخُذْ بِنَاصِيَتِهَا وَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهَا وَخَيْرِ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ، وَإِذَا اشْتَرَى دَابَّةً فَلْيَأْخُذْ بِنَاصِيَتِهَا وَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهَا وَخَيْرِ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ، وَإِذَا اشْتَرَى بَعِيرًا فَلْيَأْخُذْ بِذِرْوَةِ سَنَامِهِ وَلْيَقُلْ مِثْلَ ذَلِكَ "

حضرت ابو ہریرہ رضٗی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم غلام خریدو تو اس کی پیشانی کو پکڑ و اور یہ دعا کرو :اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْاَلُکَ مِنْ خَیْرِہَا وَخَیْرِ مَا جَبَلْتَہَا عَلَیْہِ، وَإِذَا اشْتَرَی دَابَّۃً فَلْیَاْخُذْ بِنَاصِیَتِہَا وَلْیَقُلِ: اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْاَلُکَ مِنْ خَیْرِہَا وَخَیْرِ مَا جَبَلْتَہَا عَلَیْہِ،اے اللہ !میں تجھ سے اس کی خیر کا سوال کرتا ہوں اور اس خیر کا طلبگار ہوں جس پر اس کو پیدا کیا گیا ہے ، اور جب کوئی جانور خریدو تو اس کی پیشانی کو پکڑ کر یہ دعا کرو :اے اللہ !میں تجھ سے اس کی خیر کا سوال کرتا ہوں اور اس خیر کا طلبگار ہوں جس پر اس کو پیدا کیا گیا ہے ، اور جب اونٹ خریدو تواس کی کوہان کو پکڑ کر یہ دعا کرو :اے اللہ !میں تجھ سے اس کی خیر کا سوال کرتا ہوں اور اس خیر کا طلبگار ہوں جس پر اس کو پیدا کیا گیا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← حبان بن علي ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ← دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1308

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الِاسْتِخَارَةِ · حديث 1309

1309 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " إِذَا أَفَادَ أَحَدُكُمُ الدَّابَّةَ أَوِ امْرَأَةً أَوْ خَادِمًا أَوْ بَعِيرًا فَلْيَضَعْ يَدَهُ عَلَى نَاصِيَتِهَا وَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ، وَأَمَّا الْبَعِيرُ فَإِنَّكَ تَأْخُذُ بِذِرْوَةِ سَنَامِهِ ثُمَّ تَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ "

عمروبن شعیب اپنے والد سے اور دادارضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم میں سے کوئی شخص جانور ،لونڈی ، غلام یا اونٹ خریدے و تو اس کو چاہے کہ وہ اس کی پیشانی کو پکڑ کر یہ دعا کرے :اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْاَلُکَ خَیْرَہَا وَخَیْرَ مَا جَبَلْتَہَا عَلَیْہِ، وَاَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّہَا وَشَرِّ مَا جَبَلْتَہَا عَلَیْہِ،اے اللہ !میں تجھ سے اس کی خیر کا سوال کرتا ہوں اور اس خیر کا طلبگار ہوں جس پر اس کو پیدا کیا گیا ہے، میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس کے شر ے اور اس شر سے جس پر اس کو پیدا کیا گیا ہے ۔لیکن اونٹ کی کوہان کو پکڑ یہ دعا کی جائے ۔

رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ كَانَ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1309

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter
307. Chapter
308. Chapter
309. Chapter
310. Chapter
311. Chapter
312. Chapter
313. Chapter
314. Chapter
315. Chapter
316. Chapter
317. Chapter