كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الِاسْتِخَارَةِ · حديث 1301
1301 - حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي لَيْلَى، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا اسْتَخَارَ فِي الْأَمْرِ يُرِيدُ أَنْ يَصْنَعَهُ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا خَيْرًا لِي فِي دِينِي، وَخَيْرًا لِي فِي مَعِيشَتِي، وَخَيْرًا لِي فِيمَا أَبْتَغِي بِهِ الْخَيْرَ، فَخِرْ لِي فِي عَافِيَةٍ وَيَسِّرْهُ لِي، ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ خَيْرًا فَاقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ»
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کام کے لیے استخارہ کرتے تویہ دعا پڑھتے :اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْتَخِیرُکَ بِعِلْمِکَ، وَاَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ، وَاَسْاَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ، فَإِنَّکَ تَقْدِرُ وَلَا اَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا اَعْلَمُ، وَاَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوبِ، اللَّہُمَّ إِنْ کَانَ ہَذَا خَیْرًا لِی فِی دِینِی، وَخَیْرًا لِی فِی مَعِیشَتِی، وَخَیْرًا لِی فِیمَا اَبْتَغِی بِہِ الْخَیْرَ، فَخِرْ لِی فِی عَافِیَۃٍ وَیَسِّرْہُ لِی، ثُمَّ بَارِکْ لِی فِیہِ، وَإِنْ کَانَ غَیْرَ ذَلِکَ خَیْرًا فَاقْدُرْ لِیَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ،اے اللہ !میں تیرے علم کا واسطہ دے کر تجھ سے خیر طلب کرتا ہوں، اورتیری قدرت کا واسطہ دے کر میں تجھ سے اچھائی پر قدرت طلب کرتا ہوں، تو غیبوں کو خوب جاننے والاہے، اے اللہ !تو علم رکھتا ہے، میں علم نہیں رکھتا۔ یعنی یہ معاملہ حق میں بہتر ہے یا نہیں، اس کا علم تجھے ہے مجھے نہیں، اور تو قدرت رکھتاہے اور میرے اندر قدرت نہیں، یا اللہ!اگر تیرے علم میں ہے کہ یہ معاملہ (اس موقع پر اس معاملہ کا تصور دل میں لائے، جس کے لئے استخارہ کررہا ہے)میرے حق میں بہتر ہے، میرے دین کے لئے بھی بہتر ہے، میری معاش اور دنیا کے اعتبار سے بھی بہتر ہے، تو اس کو میرے لئے مقدر فرمادیجئے اور اس کو میرے لئے آسان فرمادیجئے اور اس میں میرے لئے برکت پیدا فرمادیجئے، اور اگرتیرے علم میں یہ بات ہے کہ یہ معاملہ میرے حق میں بُرا ہے، میرے دین کے حق میں بُرا ہے یا میری دنیا اور معاش کے حق میں بُرا ہے یا میرے انجام کار کے اعتبار سے بُرا ہے، تو اس کام کو مجھ سے پھیردیجئے اور مجھے اس سے پھیر دیجئے، اور میرے لئے خیر مقدر فرمادیجئے جہاں بھی ہو۔ (یعنی اگریہ معاملہ میرے لئے بہتر نہیں ہے تو اس کو تو چھوڑ دیجئے اور اس کے بدلے جوکام میرے لئے بہتر ہو،اس کو مقدر فرمادیجئے،) پھر مجھے اس پر راضی بھی کردیجئے۔
النَّبِيِّ أَنَّهُ كَانَ إِذَا اسْتَخَارَ فِي الْأَمْرِ يُرِيدُ أَنْ يَصْنَعَهُ ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي لَيْلَى، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ،
Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1301
