كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الْخُرُوجِ إِلَى السَّفَرِ · حديث 805
805 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُسَاوِرٍ الْعِجْلِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمْ يُرِدْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَفَرًا قَطُّ إِلَّا قَالَ: «اللَّهُمَّ بِكَ انْتَشَرْتُ، وَإِلَيْكَ تَوَجَّهَتْ، وَبِكَ اعْتَصَمْتُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ ثِقَتِي، وَأَنْتَ رَجَائِي، اللَّهُمَّ اكْفِنِي مَا هَمَّنِي وَمَا لَا أَهْتَمُّ بِهِ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، اللَّهُمَّ زَوِّدْنِي التَّقْوَى، وَاغْفِرْ لِي ذَنْبِي، وَوَجِّهْنِي لِلْخَيْرِ أَيْنَمَا كُنْتُ» قَالَ: ثُمَّ يَخْرُجُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بھی سفر کا ارادہ کیا تو یہ دعا ضرو ر پڑھی :اللَّہُمَّ بِکَ انْتَشَرْتُ، وَإِلَیْکَ تَوَجَّہَتْ، وَبِکَ اعْتَصَمْتُ، اللَّہُمَّ اَنْتَ ثِقَتِی، وَاَنْتَ رَجَائِی، اللَّہُمَّ اکْفِنِی مَا ہَمَّنِی وَمَا لَا اَہْتَمُّ بِہِ وَمَا اَنْتَ اَعْلَمُ بِہِ مِنِّی، اللَّہُمَّ زَوِّدْنِی التَّقْوَی، وَاغْفِرْ لِی ذَنْبِی، وَوَجِّہْنِی لِلْخَیْرِ اَیْنَمَا کُنْتُ،اے اللہ !تیرے نام کے ساتھ میں سفر کرتا ہوں ، تیر ی طرف ہی میں متوجہ ہوتا ہوں ، تیرے احکامات کو ہی میں مضبوطی سے تھامنے والا ہوں ، اے اللہ !تو میری قوت ہے اور تو ہی میری امیدوں کا محور ہے ، اے اللہ !میرے لیے میرے غموں کے مقابلے میں اور پریشانیاں مجھے لاحق ہونے والی ہیں ان کے مقابلے میں کافی ہوجا اور جن غموں کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے ان کے لیے بھی کافی ہوجا ۔ اے اللہ !میری قوت میں اضافہ فرما ، میرے گناہو ں کو بخش دے ، اورمجھے ہر قسم کی خیر کی طرف متوجہ کردے ، میں جہاں کہیں بھی ہو ں،اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر کے لیے نکلتے ۔
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْحَسَنِ، ← عُمَرَ بْنِ مُسَاوِرٍ الْعِجْلِيِّ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ. ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ
Hadith 805
