Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
كتاب الدعاء

Kitab Al Dua

by Tibrani

2,251 Hadith318 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي التَّهَجُّدِ بِاللَّيْلِ · حديث 753

754 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ، أَنَّ طَاوُسًا، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَهَجَّدَ مِنَ اللَّيْلِ قَالَ: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ إِلَهُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، أَنْتَ الْحَقُّ، وَقَوْلُكَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ»

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جب تہجد کے لیے کھڑے ہوتے تو یہ دعا پڑھتے :اللَّہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِ، وَلَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ قَیِّمُ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِ وَمَنْ فِیہِنَّ، وَلَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِ وَمَنْ فِیہِنَّ، وَلَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ إِلَہُ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِ، اَنْتَ الْحَقُّ، وَقَوْلُکَ الْحَقُّ، وَوَعْدُکَ الْحَقُّ، وَلِقَاوُکَ حَقٌّ، وَالْجَنَّۃُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، اللَّہُمَّ لَکَ اَسْلَمْتُ، وَبِکَ آمَنْتُ، وَبِکَ خَاصَمْتُ، وَإِلَیْکَ حَاکَمْتُ، فَاغْفِرْ لِی مَا قَدَّمْتُ وَمَا اَخَّرْتُ، وَمَا اَسْرَرْتُ وَمَا اَعْلَنْتُ، اَنْتَ إِلَہِی لَا إِلَہَ إِلَّا اَنْتَ،اے میرے اللہ!حمد و ثنا تیری ہی ہے اور تو ہی آسمانوں اور زمین کا نور (منور کرنے والا)ہے حمد و ثنا تیری ہی ہے اور تو ہی زمین و آسمان کا قائم کرنے والا ہے، حمد و ثنا تیری ہی ہے اور تو ہی زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے ،اس سب کا رب ہے، تو حق ہے اور تیرا کلام حق ہے، تیرا وعدہ حق ہے اور تیری ملاقات حق ہے، جنت حق ہے اور (جہنم کی) آگ حق ہے، قیامت حق ہے۔ اے میرے اللہ!میں تیرے لئے مطیع و فرماں بردار ہوا ، تجھ پر ایمان لایا ،تیری رضا کے لیے میں نے جھگڑا کیا ، تیری طرف ہی میں فیصلہ لے کر آیا ،اے اللہ !میرے پہلے گناہ ، میرے بعد والے گناہ ، میرے پوشیدہ گناہوں کو اور میرے اعلانیہ گناہوں کو بخش دے ۔تو ہی میرا الہ ہے ، تیرے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ۔

كَانَ رَسُولُ اللهِ إذَا تَهَجَّدَ مِنَ اللَّيْلِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَنَّهُ ← سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، أَنَّ طَاوُسًا ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ الدَّبْرِيُّ،

Hadith 753

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي التَّهَجُّدِ بِاللَّيْلِ · حديث 754

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَهَجَّدَ مِنَ اللَّيْلِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو تہجد کے بیدا ر ہوتے اور تہجدپڑھا کرتے ۔باقی حدیث انہوں اسی طرح بیان کی ۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا تَهَجَّدَ مِنَ اللَّيْلِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوْسٍ ← سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ

Hadith 754

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي التَّهَجُّدِ بِاللَّيْلِ · حديث 755

755 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْعَبَّاسِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيَّانِ قَالَا: ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا جُنَادَةُ بْنُ سَلْمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بَعْدَ التَّكْبِيرِ وَبَعْدَ أَنْ يَقُولَ: «وَجَّهْتُ وَجْهِي لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا مُسْلِمًا، اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا فِيهِنَّ، أَنْتَ الْحَقُّ، وَقَوْلُكَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» ، ثُمَّ يَقْرَأُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جب تہجد کے لیے کھڑے ہوتے تو یہ دعا پڑھتے :وَجَّہْتُ وَجْہِی لِلَّذِی فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضَ حَنِیفًا مُسْلِمًا، اللَّہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ، اَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِ وَمَا فِیہِنَّ، اَنْتَ الْحَقُّ، وَقَوْلُکَ الْحَقُّ، وَوَعْدُکَ الْحَقُّ، وَلِقَاوُکَ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالْجَنَّۃُ حَقٌّ، وَالسَّاعَۃُ حَقٌّ، اللَّہُمَّ لَکَ اَسْلَمْتُ، وَبِکَ آمَنْتُ، وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ، وَإِلَیْکَ اَنَبْتُ، وَبِکَ خَاصَمْتُ، وَإِلَیْکَ حَاکَمْتُ، فَاغْفِرْ لِی مَا قَدَّمْتُ وَمَا اَخَّرْتُ، وَمَا اَسْرَرْتُ وَمَا اَعْلَنْتُ، اللَّہُمَّ اَنْتَ إِلَہِی لَا إِلَہَ إِلَّا اَنْتَ ،اے میرے اللہ!حمد و ثنا تیری ہی ہے اور تو ہی آسمانوں اور زمین کا نور (منور کرنے والا)ہے حمد و ثنا تیری ہی ہے اور تو ہی زمین و آسمان کا قائم کرنے والا ہے، حمد و ثنا تیری ہی ہے اور تو ہی زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے ،اس سب کا رب ہے، تو حق ہے اور تیرا کلام حق ہے، تیرا وعدہ حق ہے اور تیری ملاقات حق ہے، جنت حق ہے اور (جہنم کی) آگ حق ہے، قیامت حق ہے۔ اے میرے اللہ!میں تیرے لئے مطیع و فرماں بردار ہوا ، تجھ پر ایمان لایا ،تجھ پر ہی میں تے توکل کیا ،تیری رضا کے لیے میں نے جھگڑا کیا ، تیری طرف ہی میں فیصلہ لے کر آیا ،اے اللہ !میرے پہلے گناہ ، میرے بعد والے گناہ ، میرے پوشیدہ گناہوں کو اور میرے اعلانیہ گناہوں کو بخش دے ۔تو ہی میرا الہ ہے ، تیرے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ۔اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرأت کرتے ۔

بَعْدَ التَّكْبِيرِ وَبَعْدَ أَنْ ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوْسٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← جُنَادَةُ بْنُ سَلْمٍ، ← سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ← الْحَسَنُ بْنُ الْعَبَّاسِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيَّانِ

Hadith 755

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي التَّهَجُّدِ بِاللَّيْلِ · حديث 756

756 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:240] كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قِيَامُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، أَنْتَ الْحَقُّ، وَقَوْلُكَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ»

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جب تہجد کے لیے کھڑے ہوتے تو یہ دعا پڑھتے :اللَّہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ، اَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِ، وَلَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ قِیَامُ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِ، وَلَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِ وَمَنْ فِیہِنَّ، اَنْتَ الْحَقُّ، وَقَوْلُکَ الْحَقُّ، وَوَعْدُکَ الْحَقُّ، وَلِقَاوُکَ حَقٌّ، وَالْجَنَّۃُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالسَّاعَۃُ حَقٌّ، اللَّہُمَّ لَکَ اَسْلَمْتُ، وَبِکَ آمَنْتُ، وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ، وَإِلَیْکَ اَنَبْتُ، وَبِکَ خَاصَمْتُ، وَإِلَیْکَ حَاکَمْتُ، فَاغْفِرْ لِی مَا قَدَّمْتُ وَمَا اَخَّرْتُ، وَمَا اَسْرَرْتُ وَمَا اَعْلَنْتُ، وَمَا اَنْتَ اَعْلَمُ بِہِ مِنِّی، اَنْتَ إِلَہِی لَا إِلَہَ إِلَّا اَنْتَ،اے میرے اللہ!حمد و ثنا تیری ہی ہے اور تو ہی آسمانوں اور زمین کا نور (منور کرنے والا)ہے حمد و ثنا تیری ہی ہے اور تو ہی زمین و آسمان کا قائم کرنے والا ہے، حمد و ثنا تیری ہی ہے اور تو ہی زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے ،اس سب کا رب ہے، تو حق ہے اور تیرا کلام حق ہے، تیرا وعدہ حق ہے اور تیری ملاقات حق ہے، جنت حق ہے اور (جہنم کی) آگ حق ہے، قیامت حق ہے۔ اے میرے اللہ!میں تیرے لئے مطیع و فرماں بردار ہوا ، تجھ پر ایمان لایا،تجھ پر ہی میں نے توکل کیا ،تیری طرف میں نے رجوع کیا ، تیری رضا کے لیے میں نے جھگڑا کیا ، تیری طرف ہی میں فیصلہ لے کر آیا ،اے اللہ !میرے پہلے گناہ ، میرے بعد والے گناہ ، میرے پوشیدہ گناہوں کو اور میرے اعلانیہ گناہوں کو بخش دے ۔میرے ان گناہوں کوبھی بخش دے جن کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے ۔تو ہی میرا الہ ہے ، تیرے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوْسٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← مالک بن أنس ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ

Hadith 756

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي التَّهَجُّدِ بِاللَّيْلِ · حديث 757

757 - حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، قَالَا: ثنا عِمْرَانُ بْنُ مُسْلِمٍ الْقَصِيرُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ لِلتَّهَجُّدِ مِنَ اللَّيْلِ قَالَ بَعْدَ مَا يُكَبِّرُ: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، أَنْتَ الْحَقُّ، وَقَوْلُكَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ حَقٌّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ»

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جب تہجد کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر تحریمہ کے بعد یہ دعا پڑھتے :اللَّہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ، اَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِ، وَلَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِ وَمَنْ فِیہِنَّ، اَنْتَ الْحَقُّ، وَقَوْلُکَ الْحَقُّ، وَوَعْدُکَ حَقٌّ، وَلِقَاوُکَ حَقٌّ، وَالْجَنَّۃُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالسَّاعَۃُ حَقٌّ، اللَّہُمَّ لَکَ اَسْلَمْتُ، وَبِکَ آمَنْتُ، وَإِلَیْکَ اَنَبْتُ، وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ، وَبِکَ خَاصَمْتُ، وَإِلَیْکَ حَاکَمْتُ، وَإِلَیْکَ الْمَصِیرُ، اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِی مَا قَدَّمْتُ وَمَا اَخَّرْتُ، وَمَا اَسْرَرْتُ وَمَا اَعْلَنْتُ، اَنْتَ إِلَہِی لَا إِلَہَ إِلَّا اَنْتَ،اے میرے اللہ!حمد و ثنا تیری ہی ہے اور تو ہی آسمانوں اور زمین کا نور (منور کرنے والا)ہے حمد و ثنا تیری ہی ہے اور تو ہی زمین و آسمان کا قائم کرنے والا ہے، حمد و ثنا تیری ہی ہے اور تو ہی زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے ،اس سب کا رب ہے، تو حق ہے اور تیرا کلام حق ہے، تیرا وعدہ حق ہے اور تیری ملاقات حق ہے، جنت حق ہے اور (جہنم کی)آگ حق ہے، قیامت حق ہے۔ اے میرے اللہ!میں تیرے لئے مطیع و فرماں بردار ہوا ، تجھ پر ایمان لایا،تجھ پر ہی میں نے توکل کیا ،تیری طرف میں نے رجوع کیا ، تیری رضا کے لیے میں نے جھگڑا کیا ، تیری طرف ہی میں فیصلہ لے کر آیا ،تیری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے ،اے اللہ !میرے پہلے گناہ ، میرے بعد والے گناہ ، میرے پوشیدہ گناہوں کو اور میرے اعلانیہ گناہوں کو بخش دے ۔تو ہی میرا الہ ہے ، تیرے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوْسٍ ← قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُسْلِمٍ الْقَصِيرُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← مُسَدَّدٌ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Hadith 757

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي التَّهَجُّدِ بِاللَّيْلِ · حديث 758

758 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ الْمُقْعَدُ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، أَعُوذُ بِعِزَّتِكَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَنْ أَضِلَّ، أَنْتَ الْحَيُّ الَّذِي لَا يَمُوتُ، وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ يَمُوتُونَ»

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھا کرتے تھے:اللَّہُمَّ لَکَ اَسْلَمْتُ، وَبِکَ آمَنْتُ، وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ، وَإِلَیْکَ اَنَبْتُ، وَبِکَ خَاصَمْتُ، اَعُوذُ بِعِزَّتِکَ، لَا إِلَہَ إِلَّا اَنْتَ، اَنْ اَضِلَّ، اَنْتَ الْحَیُّ الَّذِی لَا یَمُوتُ، وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ یَمُوتُون، اے میرے اللہ!میں تیرے لئے مطیع و فرماں بردار ہوا ، تجھ پر ایمان لایا،تجھ پر ہی میں نے توکل کیا ،تیری طرف میں نے رجوع کیا ، تیری رضا کے لیے میں نے جھگڑا کیا ، میں تیری عزت کی پناہ لیتا ہوں ۔تیرے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ،یہ کہ میں بھٹک جائوں ، تو زندہ ہے ،جسے موت نہیں آتی ، جبکہ انسان اور جنات مرنے والے ہیں ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو مَعْمَرٍ الْمُقْعَدُ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ،

Hadith 758

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي التَّهَجُّدِ بِاللَّيْلِ · حديث 759

759 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا الْمِنْهَالُ بْنُ عَمْرٍو، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَمَرَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بِتْ بِآلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ صَلَاةَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي حَتَّى لَمْ يَبْقَ فِي الْمَسْجِدِ أَحَدٌ غَيْرُهُ، ثُمَّ مَرَّ بِي، فَقَالَ: «مَنْ هَذَا؟» قُلْتُ: عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: فَمَهْ؟ " قُلْتُ: أَمَرَنِي الْعَبَّاسُ أَنْ أَبِيتَ بِكُمُ اللَّيْلَةَ، قَالَ: «فَالْحَقْ» قَالَ: فَلَمَّا دَخَلَ قَالَ: «أَفْرِشُوا عَبْدَ اللَّهِ» قَالَ: فَأُتِيتُ بِوِسَادَةٍ مِنْ مُسُوحٍ، قَالَ: وَتَقَدَّمَ إِلَيَّ الْعَبَّاسُ: لَا تَنَمْ حَتَّى تَحْفَظَ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ، ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى فِرَاشِهِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَالَ: «سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ مِنْ آخِرِ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ حَتَّى خَتَمَهَا {إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ} قَالَ: ثُمَّ قَامَ ثُمَّ اسْتَنَّ بِسِوَاكِهِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ، ثُمَّ دَخَلَ مُصَلَّاهُ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَيْسَتَا بِطَوِيلَتَيْنِ وَلَا قَصِيرَتَيْنِ، ثُمَّ عَادَ إِلَى فِرَاشِهِ، فَنَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ، ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى فِرَاشِهِ فَفَعَلَ كَمَا فَعَلَ الْمَرَّةَ الْأُولَى، ثُمَّ اسْتَنَّ بِسِوَاكِهِ وَتَوَضَّأَ، ثُمَّ دَخَلَ مُصَلَّاهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَيْسَتَا بِطَوِيلَتَيْنِ وَلَا قَصِيرَتَيْنِ، ثُمَّ عَادَ إِلَى فِرَاشِهِ فَنَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ، ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى فِرَاشِهِ فَفَعَلَ كَمَا فَعَلَ، ثُمَّ اسْتَنَّ بِسِوَاكِهِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ ثُمَّ دَخَلَ مُصَلَّاهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَيْسَتَا بِطَوِيلَتَيْنِ وَلَا قَصِيرَتَيْنِ ثُمَّ عَادَ إِلَى فِرَاشِهِ فَنَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ، ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى فِرَاشِهِ فَفَعَلَ كَمَا فَعَلَ، ثُمَّ اسْتَنَّ بِسِوَاكِهِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ ثُمَّ دَخَلَ مُصَلَّاهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَيْسَتَا بِطَوِيلَتَيْنِ وَلَا قَصِيرَتَيْنِ ثُمَّ عَادَ إِلَى فِرَاشِهِ فَنَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ، ثُمَّ فَعَلَ كَمَا فَعَلَ ثُمَّ أَوْتَرَ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي بَصَرِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي لِسَانِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَاجْعَلْ عَنْ يَمِينِي نُورًا، وَاجْعَلْ عَنْ شِمَالِي نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ أَمَامِي نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ خَلْفِي نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ فَوْقِي نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ أَسْفَلِي نُورًا، وَاجْعَلْ لِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ نُورًا، وَأَعْظِمْ لِي نُورًا»

علی بن عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنے والد یعنی عبداللہ بن عباس سے بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے والد عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں رات گزاروں، مسجد میں گیا رسول اللہﷺنے لوگوں کو عشاء کی نماز پڑھائی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ نے نماز پڑھی یہاں تک کہ مسجد میں میرے اور آپ کے علاوہ کوئی بھی شخص نہیں تھا۔ آپ ﷺ میرے پاس سے گزرے اور کہا کہ کون ہے ؟میں نے بتایا کہ عبداللہ ہوں آپ نے پوچھا کہ اس وقت یہاں کیوں ٹھہرے ہوئے ہو؟ میں نے کہا کہ عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں آپ کے ہاں رات بسر کروں ۔آپ qنے فرمایا :ٹھیک ہے گھر چلے جاؤ، میں گھر چلا گیاآپ qبھی گھر میں داخل ہوئے ،آپ نے اپنے گھر حکم دیا کہ عبداللہ کا بستر لگا دو، میں اپنے بچھے ہوئے بستر کے پر لیٹ گیا۔ اسی دوران عباس رضی اللہ عنہ بھی وہاں پر آئے، انہوں نے مجھے مخاطب کیا اور مجھے کہا کہ تم نے سونا نہیں ہے جب تک کہ اللہ کے نبی صلی اللہ وسلم کی نماز کو سیکھ نہ لو کہ آپ qرات کے وقت کس طرح نماز پڑھتے ہیں ۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے آپ اپنے بستر پر لیٹ گئے ،آپ سو گئے اور یہاں تک کہ میں نے آپ کے خراٹوں کی آواز سنی۔ پھر آپ اپنے بستر پر اٹھ کر بیٹھ گئے اپنا سر مبارک آسمان کی طرف بلند کیا ،آپ نے یہ کلمات تین دفعہ بار کہے :سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوس،پاک ہے وہ بادشاہ جو پاکیزگی والا ہے، اس کے بعد پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ آل عمران کی آخری دس آیات کی تلاوت فرمائی ،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسواک کی، آپ نے وضو کیا پھر آپ اپنی نماز والی جگہ پر کھڑے ہوئے اپنے دو رکعت نماز ادا کی۔ ایسی دور رکعتیں جو زیادہ لمبی نہیں تھی اورزیادہ چھوٹی نہیں تھیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر آ گئے پھر آپ سو گئے یہاں تک کہ میں نے آپ کے خراٹوں کی آواز سنی۔ پھر آپ صلی اللہ وسلم اپنے بستر پر اٹھ کر بیٹھ گئے۔ آپ نے اسی طرح کیا جس طرح آپ نے پہلی مرتبہ کیا تھا ۔پھر آپ نے مسواک کی، آپ نے وضو کیا آپ اپنی نماز والی جگہ پر چلے گئے آپ نے دو رکعت نماز ادا کی ایسی دو رکعتیں پڑھیں جو زیادہ طویل نہیں تھیں جو زیادہ چھوٹی نہیں تھیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر آگئے۔ آپ سو گئے یہاں تک کہ میں نے آپ کے خراٹوں کی آواز کو سنا کچھ دیر کے بعد آپ صلی اللہ وسلم پھر اٹھ کر بیٹھ گئے آپ نے پھر دوبارہ اسی طرح کیا جس طرح آپ نے پہلے کیا تھا۔ آپ نے مسواک کی پھر آپ نے وضو کیا اور آپ اپنی نماز والی جگہ پر چلے گئے ۔آپ نے دو رکعت نماز ادا کی ایسی دور رکعتیں پڑھیں جو زیادہ لمبی نہیں تھی جو زیادہ چھوٹی نہیں تھیں پھر آپ اپنے بستر پر آگئے آپ سو گئے یہاں تک کہ میں نے آپ کے خراٹوں کی آواز کو سنا ۔کچھ دیر کے بعد آپ پھر اٹھے بستر کے پر بیٹھ گئے آپ نے اسی طرح کیا جیسا پہلے آپ نے کیا تھا پھر آپ نے مسواک کی پھر آپ نے وضوکیا پھرآپ نماز والی جگہ پر چلے گئے آپ نے دو رکعت نماز ادا کی ایسی دور رکعتیں جو زیادہ طویل نہیں تھی جو زیادہ قصیر نہیں تھیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر آگئے آپ سو گئے یہاں تک کہ میں نے آپ کے خراٹوں کی آواز کو سنا ۔پھر آپ نے اسی طرح کیا جس طرح پہلے کیا تھا۔پھر آپ نے وتر نماز ادا کی۔ جب آپ صلی اللہ وسلم نے اپنی نماز کو مکمل کر لیا تو میں نے آپ کو سنا آپ ان الفاظ میں دعا کر رہے تھے:اللَّہُمَّ اجْعَلْ فِی بَصَرِی نُورًا، وَاجْعَلْ فِی سَمْعِی نُورًا، وَاجْعَلْ فِی لِسَانِی نُورًا، وَاجْعَلْ فِی قَلْبِی نُورًا، وَاجْعَلْ عَنْ یَمِینِی نُورًا، وَاجْعَلْ عَنْ شِمَالِی نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ اَمَامِی نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ خَلْفِی نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ فَوْقِی نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ اَسْفَلِی نُورًا، وَاجْعَلْ لِی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ نُورًا، وَاَعْظِمْ لِی نُورًااللہ میری آنکھوں میں نور عطا کر دے ،میرے کانوں میں نور عطا کر دے ،میری زبان میں نور کر دے، میرے دل میں نور عطا کردے ،میری دائیں طرف نور عطاء کردے ،میری بائیں طرف نور ڈال دے، میرے سامنے نور عطا کردے ،میرے اوپر نور عطا کردے ،میرے نیچے نور عطا کردے اور قیامت کے دن مجھے نور ہی نور عطا کر دینا اور مجھے وافر نور عطا فرما دے۔

أَبِيهِ ← عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Hadith 759

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي التَّهَجُّدِ بِاللَّيْلِ · حديث 760

760 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ عِيسَى، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ أَبَاهُ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بَعَثَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَوَجَدْتُهُ جَالِسًا مَعَ أَصْحَابِهِ فِي الْمَسْجِدِ، فَلَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أُكَلِّمَهُ، فَلَمَّا صَلَّى الْمَغْرِبَ قَامَ يَرْكَعُ حَتَّى أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ بِصَلَاةِ الْعِشَاءِ وَثَابَ النَّاسُ، ثُمَّ صَلَّى الصَّلَاةَ فَقَامَ يَرْكَعُ حَتَّى انْصَرَفَ مَنْ فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى مَنْزِلِهِ وَتَبِعْتُهُ فَلَمَّا سَمِعَ حِسِّي قَالَ: «مَنْ هَذَا؟» وَالْتَفَتَ إِلَيَّ، فَقُلْتُ: ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: «ابْنُ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ؟» قُلْتُ: ابْنُ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ، قَالَ: «مَرْحَبًا بِابْنِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ، مَا جَاءَ بِكَ؟» قُلْتُ: بَعَثَنِي أَبِي بِكَذَا وَكَذَا، قَالَ: «السَّاعَةَ جِئْتَ؟» فَقُلْتُ: لَا، فَقَالَ: «إِذْ لَمْ تَنْصَرِفْ إِلَى سَاعَتِكَ هَذِهِ فَلَسْتَ مُنْصَرِفًا» فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ وَدَخَلْتُ مَعَهُ فَقُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَرَمَى بِبَصَرِهِ إِلَى السَّمَاءِ وَتَلَا هَذِهِ الْآيَاتِ الَّتِي فِي سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ {إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ} الْآيَاتِ الْخَمْسَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى {إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ} [آل عمران: 194] ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا، وَفِي بَصَرِي نُورًا، وَمِنْ تَحْتِي نُورًا، وَاجْعَلْ لِي عِنْدَكَ نُورًا» وَإِلَى جَانِبِهِ مِخْضَبٌ مِنْ بِرَامِ مُطْبَقٌ عَلَيْهِ سِوَاكٌ فَاسْتَنَّ ثُمَّ تَوَضَّأَ، فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ عَادَ فَنَامَ أَيْضًا حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَتَلَا الْآيَاتِ، وَدَعَا بِالدَّعْوَةِ ثُمَّ اسْتَنَّ ثُمَّ تَوَضَّأَ، ثُمَّ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَتَلَا الْآيَاتِ ثُمَّ دَعَا بِالدَّعْوَةِ، ثُمَّ اسْتَنَّ ثُمَّ تَوَضَّأَ، ثُمَّ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَتَلَا الْآيَاتِ ثُمَّ دَعَا بِالدَّعْوَةِ ثُمَّ اسْتَنَّ ثُمَّ تَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى صَلَاةً عَرَفْتُ أَنَّهُ يُوتِرُ فِيهَا، ثُمَّ قَالَ: «نَامَ الْغُلَامُ؟» فَقُلْتُ: لَا، فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ ثُمَّ أَقْبَلْتُ فَجِئْتُ إِلَى رُكْنِهِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ رَكَعَ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ

حضرت علی بن عبداللہ بن عباس بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے بیان کیا کہ میرے والد نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی کام کے لیے بھیجا ،میں آپ ﷺکو دیکھا آپ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے،اس وقت میں آپ سے بات کرنے کی ہمت نہ کر پایا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز پڑھی، نماز سے فارغ ہوئے ،تو آپ نے کھڑے ہو کے نوافل ادا کرنا شروع کر دئیے ۔یہں تک کہ مؤذن نے عشاء کی اذان کہہ دی، لوگ نماز عشاء کے لئے مسجد میں آ گئے ،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء پڑھی، نماز عشاء کے بعد آپ نے کھڑے ہو کے نوافل ادا کرنا شروع کر دئیے،یہاں تک کہ مسجد میں موجود تمام لوگ اپنے گھروں کی طرف چلے گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کی طرف روانہ ہوئے ،میں آپ کے پیچھے پیچھے تھا ،جب آپ نے میرے قدموں کی آہٹ کو سنا تو آپ نے فرمایا :کون ہے؟ اس کے ساتھ ہی آپ میری طرف متوجہ ہوئے، میں نے کہا: میں عبداللہ بن عباس ہوں۔ آپ نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کا بیٹا؟ میں نے کہا :ہاں!رسول اللہ سلم کے چچا زاد ہوں ۔تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد کے لیے خوش آمدیدومرحبا ہے۔ پھر آپ نے پوچھا کہ تم اس وقت کس کام کے لیے آئے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ مجھے میرے والد نے فلاں فلاں کام کے لیے بھیجا تھا ۔آپ نے پوچھا اس وقت آئے ہو؟ میں نے کہا کہ نہیں میں اس وقت آیا تھاتب آپ مٹغول تھے۔ آپ صلی وسلم اس کے بعد گھر میں داخل ہوئے میں بھی گھر میں داخل ہوا۔ میں نے کہا کہ میں اللہ کے نبی صلی علیہ وسلم کی رات کی نماز کو دیکھوں گا رسول اللہ سلم کاپنے بستر پر سوگئے ، یہاں تک کہ میں نے آپ کے خراٹے کی آواز سنی۔ پھر آپ بیدار ہوئے ۔ آپ نے اپنے چہرے کو آسمان کی طرف بلند کر دیا اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ آل عمران کے آخری رکوع سے پانچ آیات کی تلاوت فرمائیں۔پھر آپ صلی اللہ علیہ دعا کی:اللَّہُمَّ اجْعَلْ فِی سَمْعِی نُورًا، وَفِی بَصَرِی نُورًا، وَمِنْ تَحْتِی نُورًا، وَاجْعَلْ لِی عِنْدَکَ نُورًا، اے اللہ میرے کانوں میں نور عطا فرما دے، میری آنکھوں میں نور عطا فرما دے، میرے نیچے نور عطا فرما دے، مجھے اپنی طرف سے نور ہی نور عطا فرما دے۔ تب آپ کے پہلو میں پانی کا ایک برتن بڑا ہوا تھا اس کے اوپر مسواک تھی آپ نے مسواک کی ،وضو کیا پھر آپ نے دو رکعت نماز ادا کی اور آپ دوبارہ سو گئے۔ اسی طرح کہ میں نے آپ کے خراٹے کی آواز سنی۔ اس کے بعد آپ بیدار ہوئے ۔پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ آل عمران کی پانچ آیات کی تلاوت فرمائی۔ پھر آپ نے وہی دعا کی ،پھر آپ نے مسواک کی، آپ نے وضو کیا پھر آپ نے دو رکعت نماز ادا کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے یہاں تک کہ میں نے آپ کے خراٹے کی آواز کو سنا۔ کچھ دیر کے بعد آپ پھر بیدار ہوئے ۔آپ نے سورۃ آل عمران کی پانچ آیات کی تلاوت کی پھر آپ نے دعا کی۔ پھر مسواک کی پھر آپ نے وضو کیا پھر آپ نے دو رکعت نماز ادا کی پھر آپ سو گئے یہاں تک کہ میں نے آپ کے خراٹے کی آواز کو سنا۔ اس کے بعد آپ پھر بیدار ہوئے پھر آپ نے سورہ آل عمران کی پانچ آیات کی تلاوت کی پھر آپ نے وہی دعا کی پھر آپ نے مسواک کی، وضو کیا نماز ادا کی اور مجھے علم ہوگیا کہ آپ نے نماز وتر اد اکی ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا بچہ سو گیا ہے میں نے کہا کہ نہیں ،میں نے وضو کیا میںآپ کی دائیں طرف متوجہ ہوا ۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی دو رکعتیں ادا کیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے وہاں سے چلے گئے۔

أَبِي ← عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ← مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، ← داود بن عيسى ← أَبِيهِ ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ الدِّمَشْقِيُّ،

Hadith 760

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي التَّهَجُّدِ بِاللَّيْلِ · حديث 761

761 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا هِشَامٌ، ثنا عَطَاءُ بْنُ مُسْلِمٍ الْحَلَبِيُّ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكَارَةَ فَاسْتَصْغَرَهَا، ثُمَّ قَالَ لِي: انْطَلِقْ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا بُنَيَّ فَقُلْ: بِأَبِي أَنْتَ إِنَّا قَوْمٌ نَعْمَلُ فَإِنْ كَانَ عِنْدَكَ أَسَنُّ مِنْهَا فَابْعَثْ بِهَا إِلَيْنَا، فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَقَالَ ابْنُ عَمِّي: «وَجِّهْهَا إِلَى إِبِلِ الصَّدَقَةِ» ثُمَّ أَتَيْتُهُ فِي الْمَسْجِدِ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْعِشَاءَ، فَقَالَ: «مَا تُرِيدُ أَنْ تَبِيتَ عِنْدَ خَالَتِكَ اللَّيْلَةَ؟ قَدْ أَمْسَيْتَ» فَوَافَقْتُ لَيْلَتَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهَا فَعَشَّتْنِي وَوَطَّتْ لِي عَبَاءَةً بِأَرْبَعَةٍ فَافْتَرَشْتُهَا، فَقُلْتُ: لَأَعْلَمَنَّ مَا يَعْمَلُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:243] اللَّيْلَةَ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا مَيْمُونَةُ» فَقَالَتْ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «مَا أَتَاكَ ابْنُ أُخْتِكَ؟» قَالَتْ: بَلَى، هُوَ هَذَا، قَالَ: «أَفَلَا عَشَّيْتِيهِ إِنْ كَانَ عِنْدَكَ شَيْءٌ» قَالَتْ: قَدْ فَعَلْتُ، قَالَ: «وَطَّيْتِ لَهُ؟» قَالَتْ: نَعَمْ، فَمَالَ إِلَى فِرَاشِهِ فَلَمْ يَضْطَجِعْ عَلَيْهِ وَاضْطَجَعَ دُونَهُ وَوَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى الْفِرَاشِ، فَمَكَثَ سَاعَةً ثُمَّ سَمِعْتُهُ قَدْ نَفَخَ فِي النَّوْمِ، فَقُلْتُ: نَامَ وَلَيْسَ بِالْمُسْتَيْقِظِ، وَلَيْسَ بِقَائِمٍ اللَّيْلَةَ، ثُمَّ قَامَ حِينَ قُلْتُ ذَهَبَ الرُّبُعُ الْأَوَّلُ مِنَ اللَّيْلِ، فَأَتَى سِوَاكًا لَهُ وَمِطْهَرَةً فَاسْتَاكَ حَتَّى سَمِعْتُ صَرِيرَ ثَنَايَاهُ تَحْتَ السِّوَاكِ، وَهُوَ يَتْلُو هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ {إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ} ثُمَّ وَضَعَ السِّوَاكَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى قِرْبَةٍ لَهُ فَحَلَّ شِنَاقَهَا فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُومَ فَأَصُبُّ عَلَيْهِ فَخَشِيتُ أَنْ يَذَرَ شَيْئًا مِنْ عَمَلِهِ، فَلَمَّا تَوَضَّأَ دَخَلَ مَسْجِدَهُ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، فَقَرَأَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ مِقْدَارَ خَمْسِينَ آيَةٍ يُطِيلُ فِيهَا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ ثُمَّ جَاءَ إِلَى مَكَانِهِ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ فَاضْطَجَعَ هَوِيًّا، فَنَفَخَ وَهُوَ نَائِمٌ، فَقُلْتُ: نَامَ، لَيْسَ بِقَائِمٍ اللَّيْلَةَ حَتَّى يُصْبِحَ، فَلَمَّا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ نِصْفُهُ أَوْ قَدْرُ ذَلِكَ قَامَ، فَصَنَعَ ذَلِكَ، ثُمَّ دَخَلَ مَسْجِدَهُ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ عَلَى قَدْرِ ذَلِكَ، ثُمَّ جَاءَ إِلَى مَضْجَعِهِ فَاتَّكَأَ عَلَيْهِ فَنَفَخَ، فَقُلْتُ: ذَهَبَ النَّوْمُ لَيْسَ بِقَائِمٍ حَتَّى يُصْبِحَ، ثُمَّ قَامَ حِينَ بَقِيَ سُدُسُ اللَّيْلِ أَوْ أَقَلُّ، فَاسْتَاكَ ثُمَّ تَوَضَّأَ، ثُمَّ دَخَلَ مَسْجِدَهُ، فَكَبَّرَ فَافْتَتَحَ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ، ثُمَّ قَرَأَ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ، ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ثُمَّ قَنَتَ ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ فَلَمَّا فَرَغَ قَعَدَ حَتَّى إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ قَالَ: " يَا عَبْدَ اللَّهِ قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «قُمْ، فَوَاللَّهِ مَا كُنْتَ بِنَائِمٍ» فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ ثُمَّ صَلَّيْتُ خَلْفَهُ، فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ، ثُمَّ قَامَ فِي الثَّانِيَةِ فَقَرَأَ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَلَمَّا سَلَّمَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَفِي سَمْعِي نُورًا، وَفِي بَصَرِي نُورًا، وَمِنْ بَيْنِ يَدَيَّ نُورًا، وَمِنْ خَلْفِي نُورًا، وَعَنْ يَمِينِي نُورًا، وَعَنْ شِمَالِي نُورًا، وَمِنْ فَوْقِي نُورًا، وَمِنْ تَحْتِي نُورًا، وَأَعْظِمْ لِي نُورًا يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے والد کو ایک تحفہ دیا میرے والد نے اس کو چھوٹا سمجھا ،انہوں نے مجھے کہا کہ یہ لے جاؤ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ۔اور کہنا کہ میرے والد نے کہا ہے کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں بے شک ہم قوم کام کرنے والے لوگ ہیں اگر آپ کے پاس اس سے زیادہ کوئی زیادہ عمروالا ہے تو وہ آپ ہمیں دے دیں ۔آپ نے میرے ذریعے اس کو بھیج دیا او رفرما یا:یہ لے جاؤ او یہ صدقے کا اونٹ ہے ۔پھر میں اس کو لے کر مسجد میں گیا میں نے آپ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی ۔ آپ نے فرمایا کیا تم اپنی خالہ کے پاس رہنا پسند نہیں کرو گے ؟ابھی شام ہو چکی ہے اور پھر میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی میری خالہ کے پاس تھے میں اپنی خالہ کے پاس چلا گیا میری خالہ نے مجھے کھانا کھلایا اور میرا بستر چارپائی کی چوڑائی کی طرف لگا دیا میں وہاں پر لیٹ گیا میں نے کہا کہ آج کی رات میں ضرور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رات کے معمولات کو دیکھوں گا۔ رسول اللہ سلم گھر میں داخل ہوئے اور کہا :اے میمونہ !انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی میں حاضر ہوں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج تمہارا بھانجا یہاں آیا ہے؟انہوں نے کہا کہ ہاں وہ یہاں پر موجود ہے۔ پھر آپ نے پوچھا کیا تم نے اس کو کھانا کھلایا ہے ؟انہوں نے کہا کہ ہاں میں نے کھانا کھلا دیا ہے۔ پھر آپ نے پوچھا کیا اس کے لئے بستر لگا دیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاںبستر لگا دیا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر کی طرف متوجہ ہوئے آپ تھوڑی دیرکے لییٹیک لگا کر بیٹھ گئے ۔اس کے بعد آپ نے اپنا سر بسترپر رکھااور آپ سوگئے ،میں نے دیکھا کہ آپ نیند میں ہیں اور آپ کے خراٹوں کی آواز سسنائی دے رہی تھی۔ میں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اب بیدار نہیں ہوں اور نہ ہی قیام کریں گے ۔ جب بیدار ہوئے تومیں نے کہا کہ رات کا ایک پہلا گزر چکا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشکیزے کے پاس آئے،اس کے اوپر رکھی ہوئی مسواک کو اٹھایا اور اپنے دانتوں کے نیچے سے مسواک کر رہے تھے ، آپ کے حلق سے آواز بلند ہورہی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ آپ سورۃ آل عمران کی آخری آیات کی تلاوت کر رہے تھے پھر آپ نے مسواک رکھ دیااور آپ مشکیزے کی طرف متوجہ ہوئے ،آپ نے اس کے تسمے کو کھولا آپ نے اس سے پانی کے کر وضو کرنے کا اردہ کیا ،آپ نے وضو کیا اب اپنی نماز والی جگہ پر داخل ہوئے ۔اپنے چار رکعت نماز ادا کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ہر ایک رکعت میں پچاس آیات کے برابر تلاوت فرمائی ۔ اللہ سے دعا کی۔ بھر آپ آئے اپنی جگہ پر جس جگہ پر لیٹے ہوئے تھے کچھ دیر لیٹ گئے پھر آپ سو گئے اور آپ کے خراٹوں کی آواز سنائی دینے لگی۔ میں نے کہا کہ آپ کے قیام کے لئے نہیں اٹھیں گے صبح تک کے لیے ۔جب رات کا نصف حصہ گزرایا اس کے برابر وقت گزراتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار پھر وہی کام کیا، مسوا ک کی ، وضو کیا،نماز والی جگہ میں داخل ہوئے ۔آپ نے چار رکعت نماز ادا کی اسی طرح جس طرحا آپ نے پہلے ادا کی تھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پرلیٹ پرلیٹ گئے اور آپ سو گئے یہاں تک کہ آپ کے خراٹوں کی آواز آنے لگی ۔ میں نے کہا کہ اب آپ نیند میں چلے گئے ہیں اب آپ صبح تک کے لئے نہیں اٹھیں گے ۔پھر جب رات کا چھٹا حصہ باقی تھا یہاں سے کم وقت آپ نے مسواک کی وضوء کیا اور آپ اپنی نماز والی جگہ پر چلے گئے اپنے تکبیر کے سورہ فاتحہ کو شروع کیا اس کے بعد آپ نے سورۃالا علی کی تلاوت فرمائی پھر آپ نے رکوع کیااور سجدہ کیا پھر آپ کھڑے ہوئے ،آپ نے سورہ فاتحہ پڑھی اور سورہ کافرون کی تلاوت کی ، رکوع کیا اور سجدہ کیا، پھر آپ کھڑے ہوئے ہیں آپ نے سورۃ فاتحہ پڑھی اورسورہ اخلاص کی تلاوت کی اوراس کے بعد آپ نے دعائے قنوت پڑھی، جب آپ فارغ ہوئے آپ بیٹھ گئے یہاں تک کہ فجر طلوع ہو چکی تھی۔ پھر آپ نے فرمایا عبداللہ میں نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ وسلم! میں حاضر ہوں۔ آپ نے فرمایا :اٹھو !میں نے کہا: اللہ کی قسم میں سویا ہوا نہیں میں اٹھا میں نے وضو کیا پھر میں نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی آپ نے صرف فاتحہ پڑھی اور کافروں پڑھی آپ نے رکوع اور سجدہ کیا ،آپ نے دوسری رکعت سورہ باتحہ اور سورہ اخلاص کو پڑھا ۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ یہ دعا پڑھ رہے تھے : اللَّہُمَّ اجْعَلْ فِی قَلْبِی نُورًا، وَفِی سَمْعِی نُورًا، وَفِی بَصَرِی نُورًا، وَمِنْ بَیْنِ یَدَیَّ نُورًا، وَمِنْ خَلْفِی نُورًا، وَعَنْ یَمِینِی نُورًا، وَعَنْ شِمَالِی نُورًا، وَمِنْ فَوْقِی نُورًا، وَمِنْ تَحْتِی نُورًا، وَاَعْظِمْ لِی نُورًا یَا رَبَّ الْعَالَمِینَ،اے اللہ! میرے دل میں نور عطا فرما دے ،میرے کانوں میںنور، میری آنکھوں میں نور، میرے سامنے نور ،میرے پیچھے نور، میری آگے نور، میری دائیں اور بائیں طرف نور عطا فرمادے ،میرے اوپر سے نور عطا فرمائے اور میرے نیچے سے نور عطا فرما دے اور مجھے بہت بڑا نور عطا فرما دے اے تمام جہانوں کے رب!۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ← عَطَاءُ بْنُ مُسْلِمٍ الْحَلَبِيُّ، ← هِشَامٍ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ،

Hadith 761

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter
307. Chapter
308. Chapter
309. Chapter
310. Chapter
311. Chapter
312. Chapter
313. Chapter
314. Chapter
315. Chapter
316. Chapter
317. Chapter