كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ السُّنَّةِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ عَلَى الْمِنْبَرِ · حديث 957
957 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ إِذْ قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَ الْمَالُ وَجَاعَ الْعِيَالُ فَادْعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَمَا فِي السَّمَاءِ قَزَعَةٌ فَمَا وَضَعَهَا حَتَّى ثَارَ السَّحَابُ أَمْثَالَ الْجِبَالِ فَلَمْ يَنْزِلْ عَنْ مِنْبَرِهِ حَتَّى رَأَيْتُ الْمَطَرَ يَنْحَدِرُ مِنْ لِحْيَتِهِ، قَالَ: فَمُطِرْنَا يَوْمَنَا وَالَّذِي مِنْ بَعْدِهِ، وَالَّذِي يَلِيهِ إِلَى الْجُمُعَةِ فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ إِذْ قَامَ ذَلِكَ الرَّجُلُ أَوْ غَيْرُهُ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ تَهَدَّمَ الْبِنَاءُ وَغَرِقَ الْمَالُ فَادْعُ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ: فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ فَجَعَلَ لَا يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى نَاحِيَةٍ إِلَّا انْفَرَجَتْ حَتَّى صَارَتِ الْمَدِينَةُ فِي مِثْلِ الْجَوْبَةِ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص جمعے کے دن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوکر خطبہ دے رہے تھے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اپنا منہ کرکے کھڑا ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ!مال (جانور) تباہ ہو گئے اور راستے بند ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ ہم پر پانی برسائے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا فرمائی:’’اللَّہُمَّ أَغِثْنَا، اللَّہُمَّ أَغِثْنَا، اللَّہُمَّ أَغِثْنَا ،اے اللہ!ہم پر پانی برسا۔ اے اللہ!ہم پر پانی برسا۔ اے اللہ!ہم پر پانی برسا۔انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:اللہ کی قسم!آسمان پر کہیں کسی بادل یا بادل کی ٹکڑی کا نام و نشان تک نہ تھا اور ہمارے اور سلع پہاڑی کے بیچ میں مکانات بھی نہیں تھے، (جو ان کے دیدار میں حائل ہوتے) اتنے میں پہاڑ کے پیچھے سے ڈھال کی طرح بادل نمودار ہوا اور آسمان کے بیچ میں پہنچ کر چاروں طرف پھیل گیا اور برسنے لگا۔ اللہ کی قسم! (اس قدر بارش ہوئی کہ) ہم نے ایک ہفتے تک سورج نہیں دیکھا۔ پھر اسی دروازے سے دوسرے جمعے کے دن ایک شخص مسجد میں داخل ہوا۔ رسول اللہ ? خطبہ دے رہے تھے۔ وہ کھڑے کھڑے ہی آپ کی طرف متوجہ ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! (کثرتِ بارش سے) مال تباہ ہوگئے اور راستے بند ہوگئے؛ اس لیے اللہ تعالی سے دعا کیجیے کہ وہ بارش روک دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کی:اللَّہُمَّ حَوَالَیْنَا وَلا عَلَیْنَا، اللَّہُمَّ علی الآکَامِ وَالظِّرَابِ وَبُطُونِ الأَوْدِیَۃِ وَمَنَابِتِ الشَّجَر اے اللہ! ہمارے اطراف میں بارش برسا۔ ہم پر نہ برسا۔ اے اللہ! ٹیلوں، پہاڑیوں ،وادیوں کے بیچ میں اور درختوں کے اگنے کی جگہوں پر نازل فرما۔ چنانچہ بارش کا سلسلہ پوری طرح اسی وقت تھم گیا اور ہم اس حال میں نکلے کہ دھوپ میں چل رہے تھے۔ شریک نے بیان کیا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کیا یہ وہی پہلا شخص تھا؟ انھوں نے جواب دیا مجھے معلوم نہیں۔
بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ إِذْ قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ
Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 957
