كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ بَعْدَ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ · حديث 482
482 - حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بَعَثَنِي الْعَبَّاسُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ مُمْسِيًا وَهُوَ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فَلَمَّا صَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ قَالَ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ رَحْمَةً مِنْ عِنْدِكَ تَهْدِي بِهَا قَلْبِي، وَتَجْمَعُ بِهَا شَمْلِي، وَتَلُمُّ بِهَا شَعَثِي، وَتَرُدُّ بِهَا أُلْفَتِي، وَتُصْلِحُ بِهَا دِينِي، وَتَحْفَظُ بِهَا غَائِبِي، وَتَرْفَعُ بِهَا شَاهِدَيْ، وَتُزَكِّي بِهَا عَمَلِي، وَتُبَيِّضُ بِهَا وَجْهِي، وَتُلْهِمُنِي بِهَا رُشْدِي وَتَعْصِمُنِي بِهَا مِنْ كُلِّ سُوءٍ، اللَّهُمَّ أَعْطِنِي إِيمَانًا صَادِقًا، وَيَقِينًا لَيْسَ بَعْدَهُ كُفْرٌ، وَرَحْمَةً أَنَالُ بِهَا شَرَفَ كَرَامَتِكَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْفَوْزَ عِنْدَ اللِّقَاءِ، وَمَنْزِلَ الشُّهَدَاءِ، وَعَيْشَ السُّعَدَاءِ، وَمُرَافَقَةَ الْأَنْبِيَاءِ، وَالنَّصْرَ عَلَى الْأَعْدَاءِ، اللَّهُمَّ أَنْزَلْتُ بِكَ حَاجَتِي، وَإِنَّ قَصَّرَ رَأْيِي وَضَعُفَ عَمَلِي، وَافْتَقَرْتُ إِلَى رَحْمَتِكَ، فَأَسْأَلُكَ يَا قَاضِيَ الْأُمُورِ وَيَا شَافِيَ الصُّدُورِ كَمَا تُجِيرُ بَيْنَ الْبُحُورِ أَنْ تُجِيرَنِي مِنْ عَذَابِ السَّعِيرِ، وَمِنْ دَعْوَةِ الثُّبُورِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْقُبُورِ، اللَّهُمَّ مَا قَصُرَ عَنْهُ رَأْيِي وَضَعُفَ مِنْهُ عَمَلِي وَلَمْ تَبْلُغْهُ أُمْنِيَّتِي مِنْ خَيْرٍ وَعَدْتَهُ أَحَدًا مِنْ عِبَادِكَ أَوْ خَيْرًا أَنْتَ مُعْطِيهِ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ فَإِنِّي أَرْغَبُ إِلَيْكَ فِيهِ وَأَسْأَلُكَ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا هَادِينَ مَهْدِيِّينَ غَيْرَ ضَالِّينَ وَلَا مُضِلِّينَ، حَرْبًا لِأَعْدَائِكَ وَسِلْمًا لِأَوْلِيَائِكَ، نُحِبُّ بِحُبِّكَ النَّاسَ، وَنُعَادِي بِعَدَاوَتِكَ مِنْ خَالَفَكَ مِنْ خَلْقِكَ، اللَّهُمَّ هَذَا الدُّعَاءُ وَعَلَيْكَ الْإِجَابَةُ، اللَّهُمَّ وَهَذَا الْجَهْدُ وَعَلَيْكَ التُّكْلَانُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، اللَّهُمَّ ذَا الْحَبْلِ الشَّدِيدِ وَالْأَمْرِ الرَّشِيدِ أَسْأَلُكَ الْأَمْنَ يَوْمَ الْوَعِيدِ، وَالْجَنَّةَ يَوْمَ الْخُلُودِ مَعَ الْمُقَرَّبِينَ الشُّهُودِ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ وَالْمُوفِينَ بِالْعُهُودِ إِنَّكَ رَحِيمٌ وَدُودٌ، وَإِنَّكَ تَفْعَلُ مَا تُرِيدُ، سُبْحَانَ الَّذِي تَعَطَّفَ بِالْعِزِّ وَقَالَ بِهِ [ص:166]، سُبْحَانَ الَّذِي لَا يَنْبَغِي التَّسْبِيحُ إِلَّا لَهُ، سُبْحَانَ ذِي الْعِزِّ وَالْبَهَاءِ، سُبْحَانَ ذِي الْقُدْرَةِ وَالْكَرَمِ، سُبْحَانَ الَّذِي أَحْصَى كُلَّ شَيْءٍ بِعِلْمِهِ، اللَّهُمَّ اجْعَلْ لِي نُورًا فِي قَلْبِي، وَنُورًا فِي قَبْرِي، وَنُورًا فِي سَمْعِي، وَنُورًا فِي بَصَرِي، وَنُورًا فِي شَعْرِي، وَنُورًا فِي بَشَرِي، وَنُورًا فِي لَحْمِي، وَنُورًا فِي دَمِي، وَنُورًا فِي عِظَامِي، وَنُورًا بَيْنَ يَدَيَّ، وَنُورًا مِنْ خَلْفِي: وَنُورًا عَنْ يَمِينِي، وَنُورًا عَنْ شِمَالِي، وَنُورًا مِنْ فَوْقِي، وَنُورًا مِنْ تَحْتِي، اللَّهُمَّ زِدْنِي نُورًا، وَأَعْظِمْ لِي نُورًا، وَاجْعَلْ لِي نُورًا "
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عباس رضی اللہ عنہ مجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا ، میں شام کے وقت کے آپ کے پاس پہنچا ، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز کے لیے کھڑے ہوئے ، جب آپ نے فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھیں تو ان کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں دعا کی :اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْاَلُکَ رَحْمَۃً مِنْ عِنْدِکَ تَہْدِی بِہَا قَلْبِی، وَتَجْمَعُ بِہَا شَمْلِی، وَتَلُمُّ بِہَا شَعَثِی، وَتَرُدُّ بِہَا اُلْفَتِی، وَتُصْلِحُ بِہَا دِینِی، وَتَحْفَظُ بِہَا غَائِبِی، وَتَرْفَعُ بِہَا شَاہِدَیْ، وَتُزَکِّی بِہَا عَمَلِی، وَتُبَیِّضُ بِہَا وَجْہِی، وَتُلْہِمُنِی بِہَا رُشْدِی وَتَعْصِمُنِی بِہَا مِنْ کُلِّ سُوء ٍ، اللَّہُمَّ اَعْطِنِی إِیمَانًا صَادِقًا، وَیَقِینًا لَیْسَ بَعْدَہُ کُفْرٌ، وَرَحْمَۃً اَنَالُ بِہَا شَرَفَ کَرَامَتِکَ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْاَلُکَ الْفَوْزَ عِنْدَ اللِّقَاء ِ، وَمَنْزِلَ الشُّہَدَاء ِ، وَعَیْشَ السُّعَدَاء ِ، وَمُرَافَقَۃَ الْاَنْبِیَاء ِ، وَالنَّصْرَ عَلَی الْاَعْدَاء ِ، اللَّہُمَّ اَنْزَلْتُ بِکَ حَاجَتِی، وَإِنَّ قَصَّرَ رَاْیِی وَضَعُفَ عَمَلِی، وَافْتَقَرْتُ إِلَی رَحْمَتِکَ، فَاَسْاَلُکَ یَا قَاضِیَ الْاُمُورِ وَیَا شَافِیَ الصُّدُورِ کَمَا تُجِیرُ بَیْنَ الْبُحُورِ اَنْ تُجِیرَنِی مِنْ عَذَابِ السَّعِیرِ، وَمِنْ دَعْوَۃِ الثُّبُورِ، وَمِنْ فِتْنَۃِ الْقُبُورِ، اللَّہُمَّ مَا قَصُرَ عَنْہُ رَاْیِی وَضَعُفَ مِنْہُ عَمَلِی وَلَمْ تَبْلُغْہُ اُمْنِیَّتِی مِنْ خَیْرٍ وَعَدْتَہُ اَحَدًا مِنْ عِبَادِکَ اَوْ خَیْرًا اَنْتَ مُعْطِیہِ اَحَدًا مِنْ خَلْقِکَ فَإِنِّی اَرْغَبُ إِلَیْکَ فِیہِ وَاَسْاَلُکَ یَا رَبَّ الْعَالَمِینَ، اللَّہُمَّ اجْعَلْنَا ہَادِینَ مَہْدِیِّینَ غَیْرَ ضَالِّینَ وَلَا مُضِلِّینَ، حَرْبًا لِاَعْدَائِکَ وَسِلْمًا لِاَوْلِیَائِکَ، نُحِبُّ بِحُبِّکَ النَّاسَ، وَنُعَادِی بِعَدَاوَتِکَ مِنْ خَالَفَکَ مِنْ خَلْقِکَ، اللَّہُمَّ ہَذَا الدُّعَاء ُ وَعَلَیْکَ الْإِجَابَۃُ، اللَّہُمَّ وَہَذَا الْجَہْدُ وَعَلَیْکَ التُّکْلَانُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللَّہِ، اللَّہُمَّ ذَا الْحَبْلِ الشَّدِیدِ وَالْاَمْرِ الرَّشِیدِ اَسْاَلُکَ الْاَمْنَ یَوْمَ الْوَعِیدِ، وَالْجَنَّۃَ یَوْمَ الْخُلُودِ مَعَ الْمُقَرَّبِینَ الشُّہُودِ وَالرُّکَّعِ السُّجُودِ وَالْمُوفِینَ بِالْعُہُودِ إِنَّکَ رَحِیمٌ وَدُودٌ، وَإِنَّکَ تَفْعَلُ مَا تُرِیدُ، سُبْحَانَ الَّذِی تَعَطَّفَ بِالْعِزِّ وَقَالَ بِہِ ، سُبْحَانَ الَّذِی لَا یَنْبَغِی التَّسْبِیحُ إِلَّا لَہُ، سُبْحَانَ ذِی الْعِزِّ وَالْبَہَاء ِ، سُبْحَانَ ذِی الْقُدْرَۃِ وَالْکَرَمِ، سُبْحَانَ الَّذِی اَحْصَی کُلَّ شَیْء ٍ بِعِلْمِہِ، اللَّہُمَّ اجْعَلْ لِی نُورًا فِی قَلْبِی، وَنُورًا فِی قَبْرِی، وَنُورًا فِی سَمْعِی، وَنُورًا فِی بَصَرِی، وَنُورًا فِی شَعْرِی، وَنُورًا فِی بَشَرِی، وَنُورًا فِی لَحْمِی، وَنُورًا فِی دَمِی، وَنُورًا فِی عِظَامِی، وَنُورًا بَیْنَ یَدَیَّ، وَنُورًا مِنْ خَلْفِی: وَنُورًا عَنْ یَمِینِی، وَنُورًا عَنْ شِمَالِی، وَنُورًا مِنْ فَوْقِی، وَنُورًا مِنْ تَحْتِی، اللَّہُمَّ زِدْنِی نُورًا، وَاَعْظِمْ لِی نُورًا، وَاجْعَلْ لِی نُورًا،’’اے اللہ !میں تجھ سے تیری رحمت کا طلبگار ہوں اس کے ذریعے تومیں دل کی رہنمائی کرے ،اس رحمت کے ساتھ تو میرے بکھرے ہوئوں جمع کردے۔میر ی پرا گندہ حالت کو ٹھیک کردے ،،اس رحمت کے ساتھ تو میری الفت کو لوٹادے ،اس کے ساتھ تو میرے دین کی اصلاح کردے ، اس رحمت کے ساتھ تو میرے غائبین کی حفاظت فرمائے ، میرے موجودین کو سربلند کرے ، اس رحمت کے ساتھ تو میرے اعمال کا کا تزکیہ کرے ، اس رحمت کے ساتھ تو میرے چہرے کو نو ر اور روشنی عطاء کرے ، اس کے ساتھ تو مجھے رشد و ہدایت عطاء کرے ، اس رحمت کے ذریعے تو مجھے ہر قسم کے شر سے بچالے ، اے اللہ !تو مجھے سچا ایمان عطاء فرما ، ایسا یقین عطاء کر کہ اس کے بعد کفر نہ ہو ، ایسی رحمت کہ اس کے ذریعے دنیا و آخرت میں تیری جود و سخا اور کرامت کو حاصل کرلوں ، اے اللہ !میں تجھ سے ملاقات کے وقت کامیابی کا طلبگا ر ہوں ، شہدا ء کے درجات کا خواہش مند ہوں ،سعادت مندو ں کی زندگی چاہتا ہوں ، نبیوں کی رفاقت چاہتا ہوں ، دشمنوں پر مدد چاہتا ہوں ،اے اللہ !میں نے اپنی ضروریات تیرے سامنے رکھ دی ہیں ،اگچہ میری سوچ محدود اور عمل کمزور ہے ،میں تیری رحمت کا محتاج ہوں ،اے تمام معاملات کا فیصلہ کرنے والے!میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ،اے سینوں کے شفائیں دینے والے !جس طرح تو سمندروں میں پناہ دیتا ہے اسی طرح مجھے آگ کے عذاب سے نجات عطاء کر ،ہلاکت کی پکار سے ور قبروں کے فتنوں سے محفوظ فرما ،اے اللہ !اگرچہ ہماری سوچ محدود ہے اور عمل کمزور ہیں لیکن ہماری آرزوئیں خیر سے باہر نہیں ہیں ،وہ خیر جس کا تو نے اپنے بندوں میں سے کسی کے ساتھ وعدہ کیا ہے یا وہ خیر جو تو اپنی مخلوقات میں سے کسی کو عطاء کرنے والا ہے ،اے اللہ !میں اسی خیر کی طرف راغب ہوں اور تجھ اسی خیر کا طلبگار ہوں ،اے تمام جہانوں کے رب ۔اے اللہ !ہمیں ہادی اورمہدی بنادے ،ہمیں گمراہ ہونے والے اور گمراہ کرنے والے نہ بنانا ،اے اللہ !ہمیں اپنے دشمن سے لڑائی کرنے والے بنا دے اور اپنے اولیاء کے لیے امن و سلامتی کا باعث ، اے اللہ !ہمیں ایسا بنادے کہ ہم تیری رضا میں لوگوں سے محبت کرنے والے ہوں۔اے اللہ !تیری مخلوقات میں سے جو تیری مخالفت کرنے والا ہے ہمیں اس سے دشمنی رکھنے والا بنادے ، اے اللہ !یہ ہماری دعا ہے اور تونے ہی اسے قبول کرنا ہے ، اے اللہ !یہ ہمارے محنت ہے اور بھروسہ تجھ پر ہی ہے ، اے اللہ !نیکی کرنے میں اور برائی سے بچنے میں تیری ہی توفیق شامل ہے ۔اے اللہ !یہ مضبوط رسی ہے ،اور سیدھی راہ ہے ،اے اللہ !وعید کے دن امن وشانتی کا سوالی ہوں ، ہمیشہ ہمیش کی زندگی کے لیے مقربین ، شہداء رکوع و سجود کرنے والے ، وعدوں کی پاسداری کرنے والوں کی رفاقت میں تیری جنت کا طلبگار ہوں ، بلاشبہ تو بڑا مہربان اور محبت کرنے والاہے ، اے اللہ !تو جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے ۔پاک ہے وہ ذات !جس نے یہ کہتے ہوئے مہربانی فرمائی :(پاک ہے وہ ذات !تسبیح وتقدیس اس کے علاوہ کسی کے لیے لائق نہیں ،پاک ہے وہ ذات عزت و جبروت والی ہے ،پاک ہے وہ ذات !قدرت و کرم والی ہے ، پاک ہے وہ ذات !جس نے ہر چیز کو علم کے لحاظ سے گھیر رکھا ہے ۔اے اللہ!میرے دل میں نور پیدا فرما،میری قبر میں نور پیدا فرما ، میرے کانوں میں نور پیدا فرما ،میری نظر میں نور پیدا فرما، میرے بالوں میں نور پیدا فرما ، میرے بدن میں نور پیدا فرما ، میرے گوشت میں نور پیدا فرما ، میرے خون میں نور پیدا فرما ، میری ہڈیوں میں نور پیدا فرما ، میرے سامنے نور پیدا فرما ، میرے پیچھے نور پیدا فرما ، میری دائیں طرف نور پیدا کر، میری بائیں طرف نور پیدا کر،میرے شمال میں نور پیدا فرما ، میرے اوپر نور پیدا کر، میرے نیچے نور پیدا کر، اے اللہ !میرے نوز میں اضافہ فرما اور میرے لیے نور کو بڑھا دے ۔
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← دَاوُدَ بْنِ عَلِي، ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ
Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 482
