كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الْإِمْلَاكِ وَالتَّرْفِيهِ · حديث 935
935 - حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عِصْمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْخَرَّازُ، ثنا خَازِمٌ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، عَنْ لِمَازَةَ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: شَهِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِمْلَاكَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ: «عَلَى الْخَيْرِ وَالْإِلْفَةِ وَالطَّائِرِ الْمَيْمُونِ، وَالسَّعَةِ فِي الرِّزْقِ، بَارَكَ اللَّهُ لَكُمْ، دَفِّفُوا عَلَى رَأْسِهِ» فَجِيءَ بِدُفٍّ فَضُرِبَ بِهِ، فَأَقْبَلَتْ أَطْبَاقٌ عَلَيْهَا فَاكِهَةٌ وَسُكَّرٌ، فَنُثِرَ عَلَيْهِ فَكَفَّ الْقَوْمُ أَيْدِيَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا لَكُمْ لَا تَنْتَهِبُونَ؟» فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَلَمْ تَنْهَ عَنِ النُّهْبَةِ؟ قَالَ: «إِنَّمَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ نُهْبَةِ الْعَسَاكِرِ، فَأَمَّا الْعُرْسَاتُ فَلَا» قَالَ: فَجَاذَبَهُمْ وَجَاذَبُوهُ
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے گواہی دی اپنے صحابہ میں سے کسی ایک صحابی کو کسی کے ہبہ کرتے وقت ،تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعائیہ کلمات کہے:خیر اور بھلائی کے ساتھ ،الفت اور محبت کے ساتھ ،برکت کے ساتھ ،رزق میں وسعت کے ساتھ ، اللہ تعالیٰ تمہیں برکتوں سے نوازے ، اس کے سرپر دف بجائو ، اس کے بعد دف کو لایا گیا اور وہاں دف بجائی گئی ، وہاں میوہ جات میٹھے کا ٹوکرہ لایا گیا ، اس کو وہاں پھیلادیا گیا ،لوگوں نے اپنے ہاتھ اس پر بڑھا دئیے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تمہیں کیا ہے کہ تم نہبہ کیوں نہیں کرتے ؟صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ نے نہبہ سے منع کیا ہے ؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:نہبہ سامان جنگ منع ہے جبکہ دیگر خوش کن منع ہے ۔حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور لوگوں نے اپنے ہاتھ بڑھالیے ۔ (نوٹ:ہبہ کی اصطلاحی تعریف یہ ہے کہ کسی کو کسی چیز کا بغیر کسی عوض کے فی الحال مفت مالک بنادیا جائے۔شرعاً کسی شے کا مفت یعنی بلاکسی عوض کے مالک بنانا ہبہ کہلاتا ہے۔)
شَهِدَ رَسُولُ اللَّهِ إِمْلَاكَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ← مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← لِمَازَةَ، ← خَازِمٌ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، ← عِصْمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْخَرَّازُ، ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ،
Hadith 935
