Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
كتاب الدعاء

Kitab Al Dua

by Tibrani

2,251 Hadith318 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي أَيَّامِ الْعَشْرِ · حديث 871

871 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ أَيَّامٍ أَفْضَلُ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا أَحَبُّ إِلَيْهِ الْعَمَلُ فِيهِنَّ مِنْ أَيَّامِ الْعَشْرِ، فَأَكْثِرُوا فِيهِنَّ مِنَ التَّسْبِيحِ وَالتَّهْلِيلِ وَالتَّحْمِيدِ»

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:ان دس دنوں سے بڑھ کر اور سب سے زیادہ محبوب اللہ تعالیٰ کو کوئی اور دن نہیں ہیں لہٰذا تم ان دنوں میں کثرت سے تسبیح، تحمید اور تہلیل کیا کرو۔

ابْنِ عُمَرَ ← مُجَاهِدٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 871

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي أَيَّامِ الْعَشْرِ · حديث 872

872 - حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ مُحَمَّدُ بْنُ حُسَيْنٍ الْقَاضِي، ثنا جُنْدَلُ بْنُ وَالِقٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " بَلَغَنَا أَنَّ اللَّهَ، عَزَّ وَجَلَّ أَهْدَى إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ خَمْسَ دَعَوَاتٍ يَدْعُو بِهِنَّ فِي أَيَّامِ الْعَشْرِ وَقَالَ: يَا مُوسَى ادْعُ بِهَؤُلَاءِ الدَّعَوَاتِ فَإِنَّهُ لَيْسَ عِبَادَةٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ عِبَادَةٍ فِي أَيَّامِ الْعَشْرِ أَوَّلُهُنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، وَالثَّانِيَةُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، أَحَدًا صَمَدًا لَمْ يَتَّخِذْ صَاحِبَةً وَلَا وَلَدًا، وَالثَّالِثَةُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، أَحَدًا صَمَدًا لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ، وَالرَّابِعَةُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ حَيُّ لَا يَمُوتُ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، وَالْخَامِسَةُ حَسْبِيَ اللَّهُ وَكَفَى، سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ دَعَا، لَيْسَ وَرَاءَ اللَّهِ مُنْتَهَى، فَسَأَلَ الْحَوَارِيُّونَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ مَا ثَوَابُ مَنْ قَالَ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ الْأُوَلَ؟ قَالَ: أَمَّا مَنْ قَالَ ذَلِكَ مِائَةَ مَرَّةٍ فَإِنَّهُ لَا يَكُونُ لِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ عَمَلٌ أَفْضَلُ مِنْ عَمَلِهِ ذَلِكَ الْيَوْمَ، وَكَانَ أَكْثَرَ الْعِبَادِ حَسَنَاتٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ قَالَ الثَّانِيَةَ مِائَةَ مَرَّةٍ فَكَأَنَّمَا قَرَأَ التَّوْرَاةَ [ص:273] وَالْإِنْجِيلَ مِائَتَيْ مَرَّةٍ وَأُعْطِي ثَوَابَهَا، قَالَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ: يَا جِبْرِيلُ وَمَا ثَوَابُهَا؟ قَالَ: لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَحْمِلَ حَرْفًا وَاحِدًا مِنَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ السَّبْعِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ حَتَّى أُبْعَثَ أَنَا فِيهِمْ وَحَزَاقِيلُ؛ لِأَنِّي أَنَا الَّذِي أَنْزِلُ بِالْوَحْيِ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ، فَيُجْعَلُ فِيَّ قُوَّةُ ذَلِكَ، قَالَ: وَمَا بَالُ حَزَاقِيلُ؟ قَالَ: لِأَنَّهُ أَوَّلُ عَبْدٍ قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، وَمَنْ قَالَ الثَّالِثَةَ مِائَةَ مَرَّةٍ كُتِبَ لَهُ بِهَا عَشْرَةُ آلَافِ حَسَنَةٍ، وَمُحِيَ عَنْهُ بِهَا عَشْرَةُ آلَافِ أَلْفِ سَيِّئَةٍ، وَرُفِعَ لَهُ عَشْرَةُ آلَافِ أَلْفِ دَرَجَةٍ، وَنَزَلَ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ مِنَ السَّمَاءِ رَافِعِي أَيْدِيهِمْ يُصَلُّونَ عَلَى مَنْ قَالَهَا، قَالَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ: وَهَلْ تُصَلِّي الْمَلَائِكَةُ إِلَّا عَلَى الْأَنْبِيَاءِ؟ قَالَ: إِنَّهُ مَنْ آمَنَ بِمَا جَاءَتْ بِهِ الْأَنْبِيَاءُ وَلَمْ يُبَدِّلْ أُعْطِيَ ثَوَابَ الْأَنْبِيَاءِ، وَمَنْ قَالَ الرَّابِعَةَ مِائَةَ مَرَّةٍ تَلَقَّاهَا مَلَكٌ حَتَّى يَضَعَهَا بَيْنَ يَدَيِ الْجَبَّارِ عَزَّ وَجَلَّ فَيَنْظُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى الَّذِي قَالَهَا وَمَنْ نَظَرَ اللَّهُ تَعَالَى إِلَيْهِ لَا يَشْقَى، قَالَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ: يَا جِبْرِيلُ وَمَا ثَوَابُ الْخَامِسَةِ؟ قَالَ: هِيَ دَعْوَتِي وَلَمْ يُؤْذَنْ لِي أَنْ أُفَسِّرَهَا لَكَ "

عبد اللہ بن عبید بن عمیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہمیں یہ بات پہنچی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے موسیٰ علیہ السلام تحفے میں پانچ دعائیں دی گئیں اور ان سے کہا گیا کہ ایام عشرہ ذوالحجہ میں یہ دعائیں کرو ۔ پہلی دعا :َ لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیِی وَیُمِیتُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیر،کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے سوائے اللہ کے ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، تمام قسم کی بادشاہت اسی کے لیے ہے اور تمام تعریفات اسی کے لیے ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔دوسری دعا :ُ اَشْہَدُ اَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ، اَحَدًا صَمَدًا لَمْ یَتَّخِذْ صَاحِبَۃً وَلَا وَلَدًا،میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے، وہ ایک ہے ، نیاز ہے ، نہ اس کی بیوی ہے اور نہ اس کی اولاد ہے ۔تیسری دعا :ُ اَشْہَدُ اَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ، اَحَدًا صَمَدًا لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَہُ کُفُوًا اَحَدٌ،میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے، وہ ایک ہے بے ، نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ ہی اس کی کسی نے جنا ۔نہ اس کا کوئی ہمسر ہے ۔چوتھی دعا : اَشْہَدُ اَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ، یُحْیِی وَیُمِیتُ وَہُوَ حَیُّ لَا یَمُوتُ، بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیرٌ،اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، تمام قسم کی بادشاہت اسی کے لیے ہے اور تمام تعریفات اسی کے لیے ہیں ، وہ زندہ ہے اس کو موت نہیں آتی ، ہر قسم کی خیر و بھلائی اسی کے ہاتھ میں ہے ۔اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔پانچویں دعا :حَسْبِیَ اللَّہُ وَکَفَی، سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ دَعَا، لَیْسَ وَرَاء َ اللَّہِ مُنْتَہَی،میرے لیے اللہ کافی ہے اور وہی کفایت کرنے والا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے دعا کرنے والی کی دعا سن لیا ،اللہ کے علاوہ کوئی سننے والا نہیں ہے ،حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ان کے حواریوں نے سوال کیا کہ یہ پہلی دعا کے کلمات کہنے والوں کے لیے کس قدر اجر وثواب ہے ؟انہوں نے فرمایا:جس شخص نے یہ کلمات ایک سو مرتبہ کہے تو اس دن اہل زمین میں سے کسی اور کے اس سے عمل سے افضل نہیں ہوں گے ، قیامت کے دن اکثر لوگوں کے مقابلے میں اس کی نیکیاں زیادہ ہوں گی ، جس شخص نے دوسری دعا کے کلمات ایک مرتبہ کہے :اس کے لیے ایسے ہی ہے گویا اس نے تورات ، انجیل کو دو دو سو مرتبہ پڑھ لیا اس کو اس قدر اجرو ثواب سے نوازا جائے گا ، عیسیٰ علیہ السلام نے نے کہا:اے جبریل !اس کا ثواب کتنا ہے ؟جبریل امین علیہ السلام نے کہا:ساتوں آسمانوں میں موجود تمام فرشتے تورات اور انجیل کا ایک حرف اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتے یہاں تک ان میں میں اور حزقیل کو ان میں بھیجا گیا ۔اس لیے کہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام پر میں ہی وحی لے جاتا ہوں ۔اس لیے مجھے اس کی قوت سے نوازا گیا ہے ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا:حزقیل کا کیا معاملہ ہے ؟ان میں اس لیے ہمت اور طاقت ہے کہ وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللَّہ۔جس شخص نے تیسری دعا کے کلمات کو ایک مرتبہ پڑھا :اس کے لیے دس ہزار نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں ، دس لاکھ گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں دس لاکھ درجے بلند کردئیے جاتے ہیں ، ستر ہزار فرشتے نازل ہوتے ہیں وہ اپنے ہاتھوں کو بلند کیے ہوئے ہوتے ہیں اور یہ دعا پڑھنے والے کے لیے رحمت اور بخشش کی دعا کرتے ہیں ۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا:کیا فرشتے صرف انبیاء کرام کے لیے ہی دعا کرتے ہیں ؟جبریل علیہ السلام نے کہا:جو شخص انبیاء پر نا زل ہونے والی کتابوں پر ایمان لاتاہے او راس میں کوئی ردو بدل نہیں کرتا ، اس کو بھی انبیاء کرام جیسا اجر وثواب دیا جاتا ہے ۔جس شخص نے چوتھی دعا کو ایک سو مرتبہ پڑھا ، تو اس دعاکو ایک فرشتہ لے کرجاتا ہے اور وہ اسے جبار ذات کے سامنے پیش کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ یہ کلمات کہنے والے شخص کی طرف دیکھتا ہے ،اور جس کی طرف اللہ تعالیٰ نظر ِ التفات فرماتا ہے وہ کبھی محروم اور بدبخت نہیں رہتا ۔ حضر ت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا:اے جبریل !پانچویں دعا کے کلمات پڑھنے والے شحص کے لیے کس قدر اجرو ثواب ہے ؟جبریل علیہ السلام نے بتایا : یہ میری دعا ہے مجھے اس تفصیل بتانے کی اجازت نہیں ہے ۔

بَلَغَنَا ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ، ← جَنْدَلُ بْنُ وَالِقٍ ← أبو حصين محمد بن حسين القاضي

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 872

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي أَيَّامِ الْعَشْرِ · حديث 873

873 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: قِيلَ لِمُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ: مَا أَفْضَلُ مَا نَقُولُ فِي هَذِهِ الْأَيَّامِ أَيَّامِ الْحَجِّ؟ قَالَ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ» قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ وَأَخْبَرَنِي شَيْخٌ مُؤَذِّنٌ كَانَ لِأَهْلِ مَكَّةَ عَنْ عَلِيٍّ الْأَزْدِيِّ قَالَ: سَمِعَهُمُ ابْنُ عُمَرَ يَعْنِي فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ يَقُولُونَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ: هِيَ هِيَ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَا هِيَ هِيَ؟ قَالَ: {وَأَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَى وَكَانُوا أَحَقَّ بِهَا وَأَهْلَهَا} [الفتح: 26]

عمرو بن مرہ کہتے ہیں محمد بن علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ ایام حج میں سب سے افضل کلمات کون سے جو ہم ان دنوں میں کہیں ؟انہوں نے کہا:لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ، وَاللَّہُ اَکْبَرُ۔علی ازدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کچھ لوگوں کو سنا وہ ایام تشریق میں یہ دعاپڑھ رہے تھے :لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ، وَاللَّہُ اَکْبَرُ،‘‘حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے کہا :یہی ہے یہی ہے ، علی ازدی کہتے ہیں میں نے کہا:یہ کیا ہے ؟انہوں نے فرمایا:{وَاَلْزَمَہُمْ کَلِمَۃَ التَّقْوَی وَکَانُوا اَحَقَّ بِہَا وَاَہْلَہَا}اور انہوں نے تقوی کے کلمہ کو اپنے لیے لازم کرلیااور وہ اس کے زیادہ حقدار اور اس کے اہل تھے ۔ (الفتح : 26)

عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← مِسْعَرٍ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ الدَّبْرِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 873

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter
307. Chapter
308. Chapter
309. Chapter
310. Chapter
311. Chapter
312. Chapter
313. Chapter
314. Chapter
315. Chapter
316. Chapter
317. Chapter