كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ جَوَابِ مَنْ أَقْرَأَ رَجُلًا عَنْ رَجُلٍ السَّلَامَ · حديث 1941
1941 - حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا غَالِبُ بْنُ الْقَطَّانِ، قَالَ: كُنَّا عَلَى بَابِ الْحَسَنِ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي نُمَيْرٍ فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ: بَعَثَنِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ائْتِهِ فَأَقْرِئْهُ السَّلَامَ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: إِنَّ أَبِي يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ فَقَالَ: «وَعَلَى أَبِيكَ السَّلَامُ»
غالب بن قطان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ہم حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے دروازے پر تھے ، وہاں بنو نمیر قبیلہ کا ایک آدمی آیا ، اس نے کہا:مجھے میرے والد نے بیان کیااور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی کام لیے بھیجا اور مجھے کہا کہ جاکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہنا ،میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا :میرے والد نے آپ کو سلام بھیجا ہے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں کہا:اور تیرے والد پر سلام ہو۔
«وَعَلَى أَبِيكَ السَّلَامُ» ← ائْتِهِ فَأَقْرِئْهُ السَّلَامَ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: إِنَّ أَبِي يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ ← بَعَثَنِي أَبِي إلَى رَسُولِ اللهِ ← جَدِّي، ← أَبِي ← كُنَّا عَلَى بَابِ الْحَسَنِ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي نُمَيْرٍ ← غالب بن القطان ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← مُسَدَّدٌ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى
Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1941
