كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ كَرَاهِيَةِ الِاعْتِدَاءِ فِي الدُّعَاءِ · حديث 55
55 - حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ مِخْرَاقٍ، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ عَبَايَةَ مَوْلًى لِسَعْدٍ أَنَّ ابْنًا لِسَعْدٍ كَانَ يَدْعُو فَذَكَرَ الْجَنَّةَ فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ مِنْ نَعِيمِهَا وَأَزْوَاجِهَا وَثِمَارِهَا - وَأَكْثَرَ مِنْ نَحْوِ هَذَا - وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ مِنْ سَلَاسِلِهَا وَأَغْلَالِهَا وَسَعِيرِهَا - هَذَا وَنَحْوِهِ وَأَكْثَرَ - فَسَكَتَ عَنْهُ سَعْدٌ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ قَالَ لَهُ سَعْدٌ: لَقَدْ سَأَلْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ نَعِيمًا طَوِيلًا وَتَعَوَّذْتَ بِهِ مِنْ شَرٍّ طَوِيلٍ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّهُ سَيَكُونُ قَوْمٌ يَعْتَدُونَ فِي الدُّعَاءِ وَبِحَسْبِكَ أَوْ كَفَاكَ - شَكَّ شُعْبَةُ - أَنْ تَقُولَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ» وَقَرَأَ {ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ} [الأعراف: 55]
زیاد بن مخراق کہتے ہیں کہ میں نے سعد کے آزاد کردہ غلام قیس بن عبایہ سے سنا :وہ کہتے ہیں :سعد کا بیٹادعا کررہا تھا ،دعا میں اس نے جنت کے حوالے سے مانگنا شروع کیا وہ کچھ اس طرح سے دعا کررہا تھا:اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْاَلُکَ الْجَنَّۃَ مِنْ نَعِیمِہَا وَاَزْوَاجِہَا وَثِمَارِہَا،ا ے اللہ !میں تجھ سے جنت کی نعمتوں کا سوال کرتا ہوں ، جنت کی حوروں کا سوال کرتا ہوں اور میں تجھ سے جنت کے پھلوں کا سوال کرتا ہوں ،ان سب چیزوں کا وافر مقدار میں طلب گار ہو ں ۔اس کے بعد اس نے جہنم سے پناہ کا سوال کیا ،اس کے الفاظ کچھ اس طرح تھے :اے اللہ !میں تجھ سے جہنم کی آگ ، اس کے زنجیر ، اس کے طوق اور اس کی آگ سے پناہ طلب کرتا ہوں ۔حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اس کی دعا کے الفاظ سنے اور وہ خاموش رہے ، جب سعد کا بیٹا نماز سے فارغ ہوا تو حضرت سعد نے اس سے کہا:تم نے اللہ تعالیٰ کی طویل نعمتوں کا سوال کیا اور تم نے اللہ تعالیٰ سے طویل شر سے پناہ طلب کی ۔کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :کچھ لوگ آئیں گے جو دعا میں زیادتی کے مرتکب ہوں گے ، تمہارے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ تم ان الفاظ کے ساتھ دعا کرتے :َ اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْاَلُکَ الْجَنَّۃَ وَمَا قَرَّبَ إِلَیْہَا مِنْ قَوْلٍ اَوْ عَمَلٍ، وَاَعُوذُ بِکَ مِنَ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ إِلَیْہَا مِنْ قَوْلٍ اَوْ عَمَلٍ ،اے اللہ !میں تجھ سے جنت کا سوال کا طلب گار اور ان اعمال و اقوال کا طلب گار ہوں جو جنت کے قریب کرنے والے ہیں ، اے اللہ !میں تجھ سے جہنم کی پناہ چاہتا ہوں اور ان اعمال و اقوال کی پناہ کا طلب گار ہوں جو جہنم کے قریب کرنے والے ہیں۔اس کے بعد انہوں نے قرآن مجید کی اس آیت کریمہ کی تلاوت فرمائی:{ادْعُوا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْیَۃً إِنَّہُ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِینَ}(الاعراف:55)تم اپنے رب کو پکاروعاجزی کے ساتھ اور ڈرتے ہوئے ۔
الْجَنَّةُ ← قَيْسَ بْنَ عَبَايَةَ مَوْلًى لِسَعْدٍ أَنَّ ابْنًا لِسَعْدٍ كَانَ يَدْعُو ← زِيَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ، ← شُعْبَةُ، ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ
Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 55
