Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
كتاب الدعاء

Kitab Al Dua

by Tibrani

2,251 Hadith318 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ تَحْمِيدِ الْمَلَائِكَةِ وَتَسْبِيحِهِمْ · حديث 1746

1746 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، ثنا حَجَّاجُ بْنُ فُرَافِصَةَ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ فَدَكَ عَنْ حُذَيْفَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: " بَيْنَمَا أَنَا أُصَلِّي، إِذْ سَمِعْتُ مُتَكَلِّمًا، يَقُولُ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كُلُّهُ، وَلَكَ الْمُلْكُ كُلُّهُ، وَبِيَدِكَ الْخَيْرُ كُلُّهُ، وَإِلَيْكَ يَرْجِعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ، عَلَانِيَتُهُ وَسِرُّهُ أَهْلٌ أَنْ تُحْمَدَ أَبَدًا، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ [ص:497]، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي جَمِيعَ مَا مَضَى مِنْ ذُنُوبِي، وَاعْصِمْنِي فِيمَا بَقِيَ مِنْ عُمْرِي، وَارْزُقْنِي عَمَلًا زَاكِيًا تَرْضَى بِهِ عَنِّي قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: بَيْنَمَا أَنَا أُصَلِّي إِذْ سَمِعْتُ مُتَكَلِّمًا يَقُولُ هَذَا الْكَلَامَ أَجْمَعَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَاكَ مَلَكٌ أَتَاكَ يُعَلِّمُكَ تَحْمِيدَ رَبِّكَ عَزَّ وَجَلَّ»

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نماز پڑھ رہا تھا اسی دوران میں نے ایک بات کرنے والے کی آواز کو سنا وہ شخص یہ کلمات کہہ رہا تھا:اللَّہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ کُلُّہُ، وَلَکَ الْمُلْکُ کُلُّہُ، وَبِیَدِکَ الْخَیْرُ کُلُّہُ، وَإِلَیْکَ یَرْجِعُ الْاَمْرُ کُلُّہُ، عَلَانِیَتُہُ وَسِرُّہُ اَہْلٌ اَنْ تُحْمَدَ اَبَدًا، إِنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیرٌ (ص:497)، اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِی جَمِیعَ مَا مَضَی مِنْ ذُنُوبِی، وَاعْصِمْنِی فِیمَا بَقِیَ مِنْ عُمْرِی، وَارْزُقْنِی عَمَلًا زَاکِیًا تَرْضَی بِہِ عَنِّی ،اے اللہ !تمام قسم کی تعریفیں تیرے لیے ہیں ، تمام قسم کی بادشاہت تیرے پاس ہے ،ہر قسم کی بھلائی تیرے اختیار میں ہے ،تمام معاملات تیری طرف لوٹائے جانے والے ہیں چاہے پوشیدہ ہوںیا اعلانیہ،اے اللہ ! تو اس لائق ہے کہ ہمیشہ تیری ہی حمد کو بیان کیا جائے اور بلاشبہ تو ہر چیز پر قادر ہے ۔اے اللہ !میرے گناہوں کو بخش دے ،میرے گزرے ہوئے گناہوں کو بخش دے ،جو میرے باقی گناہ ہیں مجھے عمر بھر کے لیے ان سے بچا لے ،مجھے ایسے اعمال کرنے کی توفیق عطا جو اعمال مجھے پاک کرنے والے اور تجھے راضی کرنے کا سبب ہوں ۔حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ،میں نے عرض کیا:اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم!میں نماز پڑھ رہا تھا اسی دوران میں نے ایک بات کرنے والے کی آواز کو سنا وہ ان کلمات کے ذریعے سے دعا کر رہا تھا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ فرشتہ تھا جو تمہارے پاس آیا تھا جو تمہیں تمہارے رب کی تعریف اور حمد بیان کرنے کا انداز سکھلا رہا تھا تھا۔

أُصَلِّي ← بَيْنَمَا ← حُذَيْفَةَ ← رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ فَدَكَ ← حَجَّاجِ بْنِ فُرَافِصَةَ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1746

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ تَحْمِيدِ الْمَلَائِكَةِ وَتَسْبِيحِهِمْ · حديث 1747

1747 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا مِسْكِينُ بْنُ مَيْمُونٍ، مُؤَذِّنُ مَسْجِدِ الرَّمْلَةِ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ رُوَيْمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ قُرْطٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى فَلَمَّا رَجَعَ كَانَ بَيْنَ الْمَقَامِ وَزَمْزَمَ، جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَنْ يَمِينِهِ وَمِيكَائِيلُ عَنْ يَسَارِهِ فَطَارَا بِهِ حَتَّى بَلَغَ السَّمَوَاتِ السَّبْعَ فَلَمَّا رَجَعَ قَالَ: «سَمِعْتُ تَسْبِيحًا فِي السَّمَوَاتِ الْعُلَى مَعَ تَسْبِيحٍ كَثِيرٍ سَبَّحَتِ السَّمَوَاتُ الْعُلَى مِنْ ذِي الْمَهَابَةِ مُشْفِقَاتٍ لِذِي الْعُلُوِّ بِمَا عَلَا، سُبْحَانَ الْعَلِيِّ الْأَعْلَى سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى»

حضرت عبدالرحمان بن قرط رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس رات معراج کے لئے مسجد اقصیٰ لے جایا گیا ،جب آپ وہاں سے واپس مکہ آئے، آپ مقام ابراہیم اورزمزم کے کنویںکے درمیان میں موجود تھے ،جبرائیل علیہ السلام آپ کی دائیں طرف سے میکائیل علیہ السلام آپ کی بائیں طرف تھے ، دونوں فرشتے آپ کو لے کر آسمان کی طرف بلند ہوئے ، یہاں تک کہ آپ ساتویں آسمان پر پہنچے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :میں نے ساتویں آسمان پر تسبیح کو سنا ، مختلف الفاظ میں تسبیح بیان کی جارہی تھی ، ساتواں آسمان ہیبت و خوف والی ذات کے لیے مہربان اور مشفق ذات کے لیے تسبیح بیان کررہا تھا ۔تسبیح کے الفاظ : سُبْحَانَ الْعَلِیِّ الْاَعْلَی سُبْحَانَہُ وَتَعَالَی،پاک ہے بلند وبالا ذات ۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ قُرْطٍ: ← عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ ← مِسْكِينُ بْنُ مَيْمُونٍ، مُؤَذِّنُ مَسْجِدِ الرَّمْلَةِ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1747

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ تَحْمِيدِ الْمَلَائِكَةِ وَتَسْبِيحِهِمْ · حديث 1748

1748 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْسٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا وَهْبُ اللَّهِ بْنُ رِزْقٍ أَبُو هُرَيْرَةَ الْمِصْرِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَلَكًا لَوْ قِيلَ لَهُ الْتَقِمِ السَّمَوَاتِ السَّبْعَ وَالْأَرَضِينَ السَّبْعَ بِلَقْمَةٍ وَاحِدَةٍ لَفَعَلَ، تَسْبِيحُهُ سُبْحَانَكَ حَيْثُ كُنْتَ»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:بلاشبہ اللہ عزوجل کے ہاں ایک ایسا فرشتہ ہے اگر اس کو کہا جائے کہ ساتوں آسمانوں کو اورساتوں زمین کو ایک ہی لقمے میں نگل لو تو وہ ایسا کر سکتا ہے۔ اس کی تسبیح کے الفاظ یہ ہں : سُبْحَانَکَ حَیْثُ کُنْتَ،پاک ہے ،اے اللہ !تو جہاں کہیں بھی ہے ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← وَهْبُ اللَّهِ بْنُ رِزْقٍ أَبُو هُرَيْرَةَ الْمِصْرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِرْسٍ الْمِصْرِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1748

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ تَحْمِيدِ الْمَلَائِكَةِ وَتَسْبِيحِهِمْ · حديث 1749

1749 - حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، ثنا قَحْذَمُ بْنُ النَّضْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مَرْضِيَّةَ، قَالَ: " كُنْتُ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ فَصَلَّيْتُ الْعَتَمَةَ وَنِمْتُ فَإِذَا أَنَا بِالْأَبْوَابِ مُغْلَقَةٌ، وَإِذَا أَنَا بِحَفِيفِ أَجْنِحَةٍ، وَإِذَا وَاحِدٌ يَقُولُ: سُبْحَانَ الدَّائِمِ الْقَائِمِ، سُبْحَانَ الْحَيِّ الْقَيُّومِ، سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ الْقُدُّوسِ رَبِّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ، سُبْحَانَ الْعَلِيِّ الْأَعْلَى، سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى، فَإِذَا قَالَهَا قَالُوهَا، فَقُلْتُ لِوَاحِدٍ مِنْهُمْ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا جِبْرِيلُ وَهَؤُلَاءِ الْمَلَائِكَةُ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ، قُلْتُ: وَمَا لِقَائِلِهَا مِنَ الْفَضْلِ؟ قَالَ: مَنْ قَالَهَا عَدَدَ لَيَالِ السَّنَةِ كُلَّ لَيْلَةٍ لَمْ يَمُتْ حَتَّى يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ أَوْ يُرَى لَهُ "

ابو مرضیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں بیت المقدس والے گھر میں موجود تھا وہاں میں نے عشاء کی نماز ادا کی اور میں سو گیا پھر میں نے اچانک سے دیکھا کہ دروازے بند ہوچکے ہیں اور میں نے دیکھا کہ میں ایک انتہائی خفیف پر کے اوپر سوار ہوں اور ایک ان میں سے ایک یہ کلمات کہہ رہا ہے :سُبْحَانَ الدَّائِمِ الْقَائِمِ، سُبْحَانَ الْحَیِّ الْقَیُّومِ، سُبْحَانَ اللَّہِ وَبِحَمْدِہِ، سُبْحَانَ الْقُدُّوسِ رَبِّ الْمَلَائِکَۃِ وَالرُّوحِ، سُبْحَانَ الْعَلِیِّ الْاَعْلَی، سُبْحَانَہُ وَتَعَالَی،پاک ہے وہ ذات جو ہمیشہ قائم رہنے والی ہے، جس کو ہمیشگی اور دوام حاصل ہے، پاک ہے ہمیشہ زندہ رہنے والی ذات، ہمیشہ قائم رہنے والی ذات ، اللہ تعالیٰ اپنی حمد اور تعریف کے ساتھ پاک ہے ، اللہ تعالیٰ تقدیس کے ساتھ پاک ہے ،پاک ہے فرشتوں کا رب اور روح کا ربیعنی جبریل کا ۔ اللہ تعالیٰ بلند و بالا ہے وہ پاک ہے ،اللہ تعالیٰ بلند و بالا ہے، جب اس نے یہ کلمات کہے تو میں نے ان میں سے ایک سے کہا یہ کون ہے؟ اس نے کہا: یہ جبرئیل ہے اور باقی فرشتے ہیں،میں نے کہا: جس شخص نے یہ کلمات کہے ہیں اس کے لئے کیا فضیلت ہے ؟اس نے بتایا کہ جس شخص نے یہ کلمات ایک سال کی راتوں کی تعداد کے برابر کہے تووہ شخص مرنے سے پہلے جنت میں اپنا مقام دیکھ لے گا ۔

سُبْحَانَ الدَّائِمِ الْقَائِمِ، سُبْحَانَ الْحَيِّ الْقَيُّومِ، سُبْحَانَ اللَّهِ ← بِحَفِيفِ أَجْنِحَةٍ، وَإِذَا وَاحِدٌ ← بِالْأَبْوَابِ مُغْلَقَةٌ، وَإِذَا ← كُنْتُ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ فَصَلَّيْتُ الْعَتَمَةَ وَنِمْتُ فَإِذَا ← أَبِي مَرْضِيَّةَ، ← أَبِيهِ ← قَحْذَمُ بْنُ النَّضْرِ، ← يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1749

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ تَحْمِيدِ الْمَلَائِكَةِ وَتَسْبِيحِهِمْ · حديث 1750

1750 - حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ مِقْسَمٍ الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي أُكْسُومٍ، قَالَ: سَمِعْتُ وَهْبَ بْنَ مُنَبِّهٍ، يَقُولُ: «إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ نَهْرًا فِي الْهَوَاءِ بِسَعَةِ الْأَرْضِ كُلِّهَا سَبْعَ مَرَّاتٍ يَنْزِلُ عَلَى ذَلِكَ النَّهَرِ مَلَكٌ مِنَ السَّمَاءِ فَيَمْلَؤُهُ وَيَسُدُّ مَا بَيْنَ أَطْرَافِهِ وَيَغْتَسِلُ بِهِ فَإِذَا خَرَجَ مِنْهُ قَطَرَتْ مِنْهُ قَطَرَاتٌ مِنْ نُورٍ فَتُخْلَقُ مِنْ كُلِّ قَطْرَةٍ مِنْهَا مَلَكٌ يُسَبِّحُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِجَمِيعِ تَسْبِيحِ الْخَلَائِقِ كُلِّهِمْ»

وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بلا شبہ اللہ عزوجل کے لیے فضا میں ایک نہر ہے جس کی وسعت تمام سات زمینوں کے برابر ہے ، اس نہر پر آسمان سے ایک فرشتہ اترتا ہے ، ہ واس کو بھر دیتا ہے اور وہ فرشتہ اس کی ایک سمت کو روک دیتا ہے ، اس کے ساتھ غسل کرتا ہے ، جب وہ فرشتہ اس نہر سے نکلتا ہے اس سے نور کے کچھ قطرات خارج ہوتے ہیں ، ا س کے ہر ایک قطرے سے ایک ایک فرشتے کو پیدا کیا جاتا ہے ، وہ فرشتے اللہ عزوجل کے لیے تمام مخلوقات کی تسبیح کے برابر تسبیح بیان کرتے ہیں ۔

وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← ابْنُ أَبِي أُكْسُومٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ مِقْسَمٍ الصَّنْعَانِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1750

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter
307. Chapter
308. Chapter
309. Chapter
310. Chapter
311. Chapter
312. Chapter
313. Chapter
314. Chapter
315. Chapter
316. Chapter
317. Chapter