كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ تَحْمِيدِ الْمَلَائِكَةِ وَتَسْبِيحِهِمْ · حديث 1746
1746 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، ثنا حَجَّاجُ بْنُ فُرَافِصَةَ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ فَدَكَ عَنْ حُذَيْفَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: " بَيْنَمَا أَنَا أُصَلِّي، إِذْ سَمِعْتُ مُتَكَلِّمًا، يَقُولُ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كُلُّهُ، وَلَكَ الْمُلْكُ كُلُّهُ، وَبِيَدِكَ الْخَيْرُ كُلُّهُ، وَإِلَيْكَ يَرْجِعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ، عَلَانِيَتُهُ وَسِرُّهُ أَهْلٌ أَنْ تُحْمَدَ أَبَدًا، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ [ص:497]، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي جَمِيعَ مَا مَضَى مِنْ ذُنُوبِي، وَاعْصِمْنِي فِيمَا بَقِيَ مِنْ عُمْرِي، وَارْزُقْنِي عَمَلًا زَاكِيًا تَرْضَى بِهِ عَنِّي قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: بَيْنَمَا أَنَا أُصَلِّي إِذْ سَمِعْتُ مُتَكَلِّمًا يَقُولُ هَذَا الْكَلَامَ أَجْمَعَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَاكَ مَلَكٌ أَتَاكَ يُعَلِّمُكَ تَحْمِيدَ رَبِّكَ عَزَّ وَجَلَّ»
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نماز پڑھ رہا تھا اسی دوران میں نے ایک بات کرنے والے کی آواز کو سنا وہ شخص یہ کلمات کہہ رہا تھا:اللَّہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ کُلُّہُ، وَلَکَ الْمُلْکُ کُلُّہُ، وَبِیَدِکَ الْخَیْرُ کُلُّہُ، وَإِلَیْکَ یَرْجِعُ الْاَمْرُ کُلُّہُ، عَلَانِیَتُہُ وَسِرُّہُ اَہْلٌ اَنْ تُحْمَدَ اَبَدًا، إِنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیرٌ (ص:497)، اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِی جَمِیعَ مَا مَضَی مِنْ ذُنُوبِی، وَاعْصِمْنِی فِیمَا بَقِیَ مِنْ عُمْرِی، وَارْزُقْنِی عَمَلًا زَاکِیًا تَرْضَی بِہِ عَنِّی ،اے اللہ !تمام قسم کی تعریفیں تیرے لیے ہیں ، تمام قسم کی بادشاہت تیرے پاس ہے ،ہر قسم کی بھلائی تیرے اختیار میں ہے ،تمام معاملات تیری طرف لوٹائے جانے والے ہیں چاہے پوشیدہ ہوںیا اعلانیہ،اے اللہ ! تو اس لائق ہے کہ ہمیشہ تیری ہی حمد کو بیان کیا جائے اور بلاشبہ تو ہر چیز پر قادر ہے ۔اے اللہ !میرے گناہوں کو بخش دے ،میرے گزرے ہوئے گناہوں کو بخش دے ،جو میرے باقی گناہ ہیں مجھے عمر بھر کے لیے ان سے بچا لے ،مجھے ایسے اعمال کرنے کی توفیق عطا جو اعمال مجھے پاک کرنے والے اور تجھے راضی کرنے کا سبب ہوں ۔حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ،میں نے عرض کیا:اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم!میں نماز پڑھ رہا تھا اسی دوران میں نے ایک بات کرنے والے کی آواز کو سنا وہ ان کلمات کے ذریعے سے دعا کر رہا تھا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ فرشتہ تھا جو تمہارے پاس آیا تھا جو تمہیں تمہارے رب کی تعریف اور حمد بیان کرنے کا انداز سکھلا رہا تھا تھا۔
أُصَلِّي ← بَيْنَمَا ← حُذَيْفَةَ ← رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ فَدَكَ ← حَجَّاجِ بْنِ فُرَافِصَةَ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ
Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1746
