كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ تَأْوِيلِ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ} [آل عمران: 110] · حديث 1543
1543 - حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ} [آل عمران: 110] يَقُولُ: " يَأْمُرُونَهُمْ أَنْ يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَالْإِقْرَارِ بِهَا، وَيُقَاتِلُونَهُمْ عَلَيْهَا، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ هُوَ أَعْظَمُ الْمَعْرُوفِ {وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ} [آل عمران: 110] وَالْمُنْكَرُ هُوَ التَّكْذِيبُ وَهُوَ أَنْكَرُ الْمُنْكَرِ "
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں: {کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ}تم بہترین امت ہو ،جسے لوگوں کے لیے نکالا گیا ہے ، تم اچھائی کا حکم دیتے ہو۔(آل عمران:110)اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان کو حکم دیتے ہیں کلمہ توحید لا الہ الا اللہ کی گواہی دیں او راس کا اقرار کریں ،اس کے انکار پر قتال کریں ۔کلمہ توحید لا الہ الا اللہ یہی سب سے بڑی نیکی ہے ، {وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ}اور تم برائی سے منع کرتے ہو ۔(آل عمران:110)اس کا مطلب یہ ہے کلمہ توحید کا انکار کرنا ، اس کی تکذیب کرنا ۔اس سے منع کرنا مراد ہے ۔
ابْنِ عَبَّاسٍ: فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ
Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1543
