كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي قَوْلِ الرَّجُلِ لِأَخِيهِ مَرْحَبًا · حديث 1946
1946 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا تَمْشِي كَأَنَّ مِشْيَتَهَا مِشْيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَرْحَبًا يَا بُنَيَّتِي» فَأَجْلَسَهَا عَنْ يَمِينِهِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا چلتی ہوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، ان کے چلنے کا انداز اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چلنے کی طرح تھا ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں ان کا استقبال کیا :میری پیاری بیٹی کے لیے مرحبا(خوش آمدید) ہے ۔اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنی دائیں طرف بٹھالیا ۔
یَّمِیْنِہٖ ← «مَرْحَبًا يَا بُنَيَّتِي» فَأَجْلَسَهَا ← أَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ تَمْشِي كَأَنَّ مِشْيَتَهَا مِشْيَةُ رَسُولِ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← فِرَاسٍ، ← زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ
Hadith 1946
