كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ جَوَابِ مَنْ قَالَ لِأَخِيهِ: كَيْفَ أَصْبَحْتَ · حديث 1936
1936 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: كَيْفَ أَصْبَحْتَ؟ فَقَالَ: «بِخَيْرٍ مِنْ قَوْمٍ لَمْ يَعُودُوا مَرِيضًا، وَلَمْ يَشْهَدُوا جَنَازَةً»
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ،اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : آپ نے کس حال میں صبح کی ہے ؟آپ نے فرمایا:خیر اور بھلائی کے ساتھ ، اس قوم سے ہوں کہ جنہیں بیمارکی تیمار داری کی ضرورت پیش نہیں آئی، یعنی ان میں کوئی بیمار نہیں ہے اور نہ ہی انہیں کسی جنازے میں شرکت کرنا پڑی ہے ۔یعنی ان کا کوئی فوت بھی نہیں ہوا ہے ۔
كَيْف أَصْبَحْتَ ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← سُفْيَانَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ اَبَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ
Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1936
