كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ جَوَابِ الْمَرِيضِ إِذَا سُئِلَ عَنْ نَفْسِهِ · حديث 1138
1138 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَيْفٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَرِيفٍ، عَنِ الْأَصْبَغِ بْنِ نُبَاتَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ إِلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا نَعُودُهُ فَقَالَ لَهُ عَلِيُّ: كَيْفَ أَصْبَحْتَ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ؟ قَالَ: أَصْبَحْتُ بِحَمْدِ اللَّهِ بَارِئًا، قَالَ: كَذَلِكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ قَالَ الْحَسَنُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَسْنِدُونِي، فَأَسْنَدَهُ عَلِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى صَدْرِهِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ جَدِّيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يُقَالُ لَهَا شَجَرَةُ الْبَلْوَى يُؤْتَى بِأَهْلِ الْبَلَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَلَا يُرْفَعُ لَهُمْ دِيوَانٌ وَلَا يُنْصَبُ لَهُمْ مِيزَانٌ يُصَبُّ عَلَيْهِمُ الْأَجْرُ صَبًّا» وَقَرَأَ {إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ} [الزمر: 10] "
سعد بن طریف روایت کرتے ہیں کہ اصبغ بن نباتہ کہتے ہیں کہ میں حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی عیادت کے لیے حاضر ہوا ۔حضرت علی نے ان سے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے !آپ کی طبیت کیسی ہے ؟انہوں نے کہا:لحمد للہ بہتر ہوں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا:ان شاء اللہ مزید بہتری ہوگی ، حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے کہا:مجھے سہارا دو ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کواپنے سینے کے ساتھ سہارا د ے کر بٹھایا ، تب حضرت حسن نے کہا:میں نے اپنی نانا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا آپ فرمارہے تھے :جنت میں ایک درخت ہے اس درخت کو بلوی (مصائب اور تکلیفوں )کا درخت کہاجاتا ہے ۔آزمائش اور اہل بلاء کوو قیامت لایا جائے گا ، ان کے لیے رجسٹر نہیں کھولے جائیں گے نہ ان کے لیے ترازو قائم کیے جائیں گے ، موسلا دھار بارش کی طرح ان کے اجر کو ان پر برسایا جائے گا ، اس کے ساتھ انہوں نے قرآن مجید کی اس آیت کی تلاوس فرمائی :{إِنَّمَا یُوَفَّی الصَّابِرُونَ اَجْرَہُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ}بلاشبہ صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بغیر حساب و کتاب کے دیا جائے گا ۔(الزمر: 10)
جَدِّيَ رَسُولَ اللَّهِ ← الْحَسَنُ أَسْنِدُونِي، فَأَسْنَدَهُ عَلِيُّ إِلَى صَدْرِهِ، ← كَذَلِكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ ← أَصْبَحْتُ بِحَمْدِ اللَّهِ بَارِئًا، ← لَهُ عَلِيُّ: كَيْفَ أَصْبَحْتَ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ؟ ← دَخَلْتُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ إِلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ نَعُودُهُ ← الأصبغ بن نباتة ← سعد بن طريف ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَيْفٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ
Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1138
