كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْبِئْرِ إِذَا وَقَعَ فِيهَا حَيَوَانٌ · حديث 41
41 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ الْمَوْصِلِيُّ، ثَنَا أَبُو شِهَابٍ الْحَنَّاطُ، عَنْ عِيسَى بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا غُلَامُ، احْفَظِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَحْفَظْكَ، احْفَظِ اللَّهَ تَجِدْهُ أَمَامَكَ، تَعَرَّفْ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الرَّخَاءِ يَعْرِفْكَ فِي الشِّدَّةِ، وَاعْلَمْ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَمَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ، وَاعْلَمْ أَنَّ الْخَلَائِقَ لَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنَ يُعْطُوكَ شَيْئًا لَمْ يُرِدِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُعْطِيَكَ لَمْ يَقْدِرُوا عَلَيْهِ، أَوْ يَصْرِفُوا عَنْكَ شَيْئًا أَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُصِيبَكَ بِهِ لَمْ يَقْدِرُوا عَلَى ذَلِكَ، فَإِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَاعْلَمْ أَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ [ص:34]، وَاعْلَمْ أَنَّ الْفَرَجَ مَعَ الْكَرْبِ، وَأَنَّ مَعَ الْعُسْرِ يَسِّرَا، وَاعْلَمْ أَنَّ الْقَلَمَ قَدْ جَرَى بِمَا هُوَ كَائِنٌ»
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اے لڑکے!میں تمھیں کچھ باتیں سکھانا چاہتا ہوں۔ اللہ (کے حقوق)کی حفاظت کرو، اللہ تمھاری حفاظت کرے گا۔ تم اللہ (کے حقوق)کا خیال رکھو ، اللہ کو اپنے سامنے پاؤ گے ،آسودگی اور خوشحالی کے دنوں میں اللہ کے ہاں اپنی پہچان کروالینا ،وہ سختی کے وقت تمھیں یاد رکھے گا۔ یہ بات یاد رکھنا کہ جو کچھ تمہیں حاصل ہونے والا ہے وہ تم سے چو ک نہیں سکتا ، جو کچھ تم سے چھینا جانے والا ہے وہ تمہیں میسر آنے والا نہیں ،اور اس بات کو جان لوکہ اگر تمام مخلوق بھی تمہیں فائدہ پہنچانا چاہیں، تو تمہیں اتنا ہی فائدہ پہنچا سکتی ہے، جتنا اللہ نے تمھارے لیے لکھ دیا ہے اور اگر سب مل کر بھی تمھیں نقصان پہنچانا چاہیں، تو تمھیں اتنا ہی نقصان پہنچاسکتے ہیں، جتنا اللہ نے تمھارے لیے لکھ دیاہے، جب مانگو، تواللہ ہی سے مانگو اور جب مدد طلب کرو، تو اللہ ہی سے مدد طلب کرو، جان لو کہ آسانی مشکل کے بعد ہے ، مدد صبر کے ساتھ ہی آتی ہے اور کشادگی تنگی پر ہی آتی ہے اور یہ کہ مشکل کے ساتھ ہی آسانی ہے۔ یہ بات یاد رکھنا کہ قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے قلم اس کو لکھ چکا ہے ۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عِيسَى بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ، ← أَبُو شِهَابٍ الْحَنَّاطُ، ← مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ الْمَوْصِلِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ
Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 41
