Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
كتاب الدعاء

Kitab Al Dua

by Tibrani

2,251 Hadith318 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الِاسْتِسْقَاءِ فِي السَّفَرِ عِنْدَ عَدَمِ الْمَاءِ · حديث 2209

2209 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْنَشِيطِيُّ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ، قَالَتْ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ إِذِ احْتَاجَ النَّاسُ إِلَى وَضُوءٍ فَالْتَمَسُوا فِي الرَّكْبِ مَاءً فَلَمْ يَجِدُوا، فَجَاءَنِي عَمِّي مُعَاذُ بْنُ عَفْرَاءَ فَقَالَ: يَا بُنَيَّةُ هَلْ فِي إِدَاوَتِكِ مَا يَتَوَضَّأُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: لَا، وَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ مَا فِيهَا شَيْءٌ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا فِي الرَّكْبِ مَاءٌ» فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمْطَرَتْ حَتَّى اسْتَقَى النَّاسُ وَسَقَوْا

حضرت ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم سفر میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، اس دوران لوگوں کو وضو کے لیے پانی کی ضرورت پیش آئی، قافلے میں میں پانی کو تلاش کیاگیا لیکن پانی میسر نہ ہوا ۔میرے چچا معاذ بن عفراء میرے پاس آئے ،انہوں نے کہا: اے میری پیاری بیٹی !کیا آپ کے پاس آپ کے برتن میں پانی موجود ہے کہ جس سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم وضو کر سکیں، میں نے کہا :نہیں قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ وسلم کو حق دے کر بھیجا ہے! میرے اس برتن کے اندر کچھ بھی موجود نہیں ہے، وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ،انہوں نے کہا : پورے قافلے میں سے کسی کے پاس پانی موجود نہیں ہے، تب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے بارش کی دعا کی اللہ تعالیٰ نے بارش برسائی، لوگوں نے پانی پیا اور وضو کے استعمال کیا ۔

الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ، ← أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النَّشِيطِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2209

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ اسْتِسْقَاءِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمٍ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يُبْعَثَ وَهُوَ غُلَامٌ صَغِيرٌ · حديث 2210

2210 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ حَمَّادٍ الْبَرْبَرِيُّ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى أَبُو السِّكِّينِ الطَّائِيُّ، ثنا عَمُّ أَبِي زَحْرِ بْنُ حُصَيْنٍ، عَنْ جَدِّهِ حُمَيْدِ بْنِ مِنْهَبٍ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ مُضَرِّسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لَأْمٍ الطَّائِيُّ، قَالَ: حَدَّثَ مَخْرَمَةُ بْنُ نَوْفَلٍ، عَنْ أُمِّهِ رُقَيْقَةَ بِنْتِ أَبِي صَيْفِيِّ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ، وَكَانَتْ لُدَّةَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَتْ: تَتَابَعَتْ عَلَى قُرَيْشٍ سِنُونَ أَقْحَلَتِ الضَّرْعَ وَأَرَقَّتِ الْعَظْمَ فَبَيْنَا أَنَا رَاقِدَةٌ الْهَمِّ أَوْ مَهْمُومَةٌ فَإِذَا هَاتِفٌ يَصْرُخُ بِصَوْتٍ صَحِلٍ يَقُولُ: مَعْشَرَ قُرَيْشٍ إِنَّ [ص:606] هَذَا النَّبِيَّ الْمَبْعُوثَ قَدْ أَظَلَّتْكُمْ أَيَّامُهُ، وَهَذَا إِبَّانُ نُجُومِهِ فَحَيَّ هَلَّا بِالْحَيَا وَالْخِصْبِ أَلَا فَانْظُرُوا رَجُلًا مِنْكُمْ وَسِيطًا عِظَامًا جِسَامًا أَبْيَضَ بَضًّا أَوْطَفَ الْأَهْدَابِ، سَهْلَ الْخَدَّيْنِ، أَشَمَّ الْعِرْنِينِ، لَهُ فَخْرٌ يَكْظِمُ عَلَيْهِ وَسُنَّةٌ تَهْدِي إِلَيْهِ، فَلْيَخْلُصْ هُوَ وَوَلَدُهُ وَلْيَهْبِطْ إِلَيْهِ مِنْ كُلِّ بَطْنٍ رَجُلٌ فَلْيَشُنُّوا مِنَ الْمَاءِ، وَلْيَمَسُّوا مِنَ الطِّيبِ وَيَسْتَلِمُوا الرُّكْنَ، ثُمَّ لِيَرْقَوْا أَبَا قُبَيْسٍ ثُمَّ لِيَدْعُ الرَّجُلُ وَلْيُؤَمِّنِ الْقَوْمُ فَغِثْتُمْ مَا شِئْتُمْ، فَأَصْبَحْتُ عَلِمَ اللَّهُ مَذْعُورَةً اقْشَعَرَّ جِلْدِي وَوَلِهَ عَقْلِي وَاقْتَصَصْتُ رُؤْيَايَ وَنِمْتُ فِي شِعَابِ مَكَّةَ فَوَالَحُرْمَةِ وَالْحَرَمِ مَا بَقِيَ بِهَا أَبْطَحِيُّ إِلَّا قَالَ: هَذَا شَيْبَةُ الْحَمْدِ وَتَنَاهَتْ إِلَيْهِ رِجَالَاتُ قُرَيْشٍ وَهَبَطَتْ إِلَيْهِ مِنْ كُلِّ بَطْنٍ رَجُلٌ فَشَنُّوا الْمَاءَ وَمَسُّوا وَاسْتَلَمُوا ثُمَّ ارْتَقَوْا أَبَا قُبَيْسٍ وَاصْطَفُّوا حَوْلَهُ مَا يَبْلُغُ سَعْيُهُمْ مُهِلَّهُ حَتَّى إِذَا اسْتَوَوْا بِذِرْوَةِ الْجَبَلِ قَامَ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ وَمَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامٌ قَدْ أَيْفَعَ أَوْ كَرَبَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ سَادَّ الْخَلَّةِ وَكَاشِفَ الْكُرْبَةِ أَنْتَ مُعَلَّمِ غَيْرُ مُعَلَّمٍ مَسْؤولٌ غَيْرُ مُبَخَّلٍ وَهَذِهِ عَبْدَاؤُكَ وَإِمَاؤُكَ بِعَذَرَاتِ حَرَمِكَ يَشْكُونَ إِلَيْكَ سَنَتَهُمْ أَذْهَبَتِ الْخُفَّ وَالظِّلْفَ، اللَّهُمَّ فَأَمْطِرَنْ عَلَيْنَا مُغْدِقًا مَرْتَعًا» فَوَرَبِّ الْكَعْبَةِ مَا رَامُوا حَتَّى تَفَجَّرَتِ السَّمَاءُ بِمَا فِيهَا وَاكْتَظَّ الْوَادِي بِثَجِيجِهِ فَسَمِعْتُ شِيخَانَ قُرَيْشٍ وَجِلَّتَهَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جُدْعَانَ وَحَرْبَ بْنَ أُمَيَّةَ وَهِشَامَ بْنَ الْمُغِيرَةِ يَقُولُونَ لِعَبْدِ الْمُطَّلِبِ: هَنِيئًا لَكَ أَبَا الْبَطْحَاءِ أَيْ عَاشَ بِكَ أَهْلُ الْبَطْحَاءِ وَفِي ذَلِكَ مَا تَقُولُ رُقَيْقَةُ بِنْتُ أَبِي صَيْفِيٍّ: [البحر البسيط] بِشَيْبَةَ الْحَمْدِ أَسْقَى اللَّهُ بَلْدَتَنَا ... وَقَدْ فَقَدْنَا الْحَيَا وَاجْلَوَّذَ الْمَطَرُ فَجَادَ بِالْمَاءِ جُونِيُّ لَهُ سَبَلٌ ... سَحًّا فَعَاشَتْ بِهِ الْأَنْعَامُ وَالشَّجَرُ مَنَا مِنَ اللَّهِ بِالْمَيْمُونِ طَائِرُهُ ... وَخَيْرِ مَنْ بُشِّرَتْ يَوْمًا بِهِ مُضَرُ مُبَارَكُ الْأَمْرِ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِهِ ... مَا فِي الْأَنَامِ لَهُ عَدْلٌ وَلَا خَطَرُ

حضرت رُقیقہ بنت ابی صیفی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے والدِ گرامی کی چچا زاد بہن)نے ایک خواب دیکھا، حضوراکرم، نورِ مجسم، رحمتِ عالم? کے عہدِ طفلی کا یہ واقعہ خود ان ہی کی زبانی نقل کیا جاتا ہے، وہ فرماتی ہیں : قریش کے اوپر مسلسل قحط اور خشک سال گزر رہے تھے جنہوں نے لوگوں کی صحت کوبہت متاثر کردیا تھا، ہڈیوں کو نرم اور کمزور کر دیا تھا۔ (اس صورتِ حال سے انسان، چرند، پرند الغرض حجاز کی ہر روح متاثر ہوئی تھی) میں نے خواب دیکھا، کہنے والا مجھے سنا کر کہہ رہا تھا:اے قریش کی جماعت!بے شک وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہو چکا ہے جو تم لوگوں میں سے ہے اور یہی اس کے ظہور کا وقت ہے۔ وہ خیر اور شادابی کو لے کر آیا ہے۔ خبردا!تم لوگ دیکھو اپنے اندر سے ایسے آدمی کو جو سب سے لمبا ہے، بڑا ہے، انڈے کی سفیدی جیسا اس کا رنگ ہے، اُونچی ناک والا ہے۔ اس کو وہ بڑائی حاصل ہے جو صرف اسی پر بند ہے اور اس کا طور طریقہ ایسا ہے جس کی طرف راستہ بنایا جاتا ہے۔ (لوگ اس کی اتباع کرتے ہیں ) غور سے سنو!اسی کو اور اس کے بیٹے (پوتے)کو منتخب کیا جائے اور چاہیے کہ ہر قبیلے کی ہر شاخ جمع ہو کر اس کے پاس آئے اور سب لوگ خوشبو لگا کر آئیں ، حجرِ اسود کا استیلام کریں اور سات مرتبہ کعبہ کا طواف کریں ۔ اس کے بعد لوگ جبلِ ابوقُبیس پر چڑھ جائیں اور و ہی خاص شخص بارش کی دعا کرے اور باقی قوم آمین کہے۔ آگاہ رہو!پھر تم لوگوں پر بارش برسائی جائے گی، جس قدر چاہو گے اور جب تک جیو گے۔ حضرت رقیقہ صیفی کہتی ہیں کہ میں نے صبح کی، اللہ جانتا ہے کہ میں دل گرفتہ تھی، ڈر رہی تھی، خوف سے میری جلد سکڑ رہی تھی، میری عقل مائوف ہو رہی تھی۔ میں نے اپنا خواب بیان کیا، چنانچہ وہ مکے کی ہر گھاٹی میں پھیل گیا۔حرمت و عزت کی اور حرم کی، مکے میں سے کوئی مکی باقی نہ رہا مگر سب نے کہا:اس خواب (کے اندر جس شخص کی تصویر بتائی گئی) وہ شیبۃُ الحمد ہے (یہ عبدالمطلب کی کنیت تھی)۔قریش ان کے پاس جمع ہو گئے اور ہر قبیلے کی ہر شاخ کا ایک ایک آدمی اُن کے پاس آیا۔ سب نے غسل کیا، خوشبو لگائی، حجرِ اسود کا استیلام کیا اور بیت اللہ کا طواف کیا۔ اس کے بعد سب جبل ابی قبیس پر چڑھ گئے اورحضرت عبدالمطلب کے پاس جمع ہونے لگے،اہلِ حرم بغیر کسی تاخیر کے پہاڑ کی چوٹی پر پہنچے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی کی، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ تھے۔ وہ اس وقت جوانی کے قریب تھے۔ اب حضرت عبدالمطلب دعا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے تو انہوں نے دعا کی۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبدالمطلب کی دعا:اے اللہ!اے درست اور سچی دوستی کرنے والے، اے حقیقی مشکل کشائی کرنے والے!آپ ایسے حقیقت آگاہ ہیں جس کو بتانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ آپ ایسے ذمہ دار ہیں جو کسی سے زیادتی نہیں کرتے (نا کسی کے ساتھ بخل کرتے ہیں ) یہ لوگ تیرے بندے، تیرے غلام ہیں اور یہ تیری بندیاں ہیں آپ کے حرم کے صحن میں ، یہ آپ کی بارگاہ میں اپنی قحط سالی کی شکایت کرتے ہیں ، جس کی وجہ سے مویشی تک سوکھ گئے ہیں ۔ (اے اللہ!) آپ ہم سب کی دعا قبول فرمائیے۔ اے اللہ!آپ بارش برسائیے ایسی بارش جو سیراب کرنے والی ہو اور سبزہ اُگانے والی ہو۔ (دعا ختم ہوئی) یہ لوگ (دعا) کر کے ابھی واپس بیت اللہ میں نہیں پہنچے تھے کہ آسمان پھٹ پڑا (زوردار بارش ہو ئی)جس نے سیلاب کی صورت اختیار کر لی۔ خاندانی بزرگوں کی امیدیں:بنو ہاشم کا ہر فرد اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہنے والا ہر شخص یہ تصور کرتا تھا کہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم بہت بڑی شخصیت کے مالک ہیں ۔ اگر اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زندگی دی تو ایسے کام کر دکھائیں گے جو عام آدمی سے ممکن نہیں ہیں ، لوگوں کی اس امید کی وجہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلوص،اندازِ گفتگو، نتیجہ خیز باتیں ، صفائی، ستھرائی، چال ڈھال، مقصد کی لگن، ان تھک محنت اور مسلسل غور و فکر ہوسکتا ہے، کم عمری میں ہی اللہ نے ان صلاحیتوں کو ظاہر فرما دیا تھا۔ ایک دن جنابِ عبدالمطلب نے حضرت محمد? کو اپنے گمشدہ اونٹ کی تلاش کے لیے بھیجا، جب آپ? دیر تک واپس نہ ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا اپنے لائق پوتے کی جدائی میں اشعار پڑھنے لگے، وہ طواف کرتے ہوئے کہہ رہے تھے۔ شیبۃ الحمد(عبد المطلب)کا شکریہ !اللہ عزوجل نے ان کی دعا پر ہمیں بارش سے نوزاز ۔جبکہ ہم زندگی کی رمق اور بارش کی بوندوں کو ترس چکے تھے ۔موسلادھار بارش سے سیلابی کیفت اور ریل پیل پیداہوئی ۔۔اس بارش کی وجہ سے مخلوقات اورنباتات کی زندگی لوٹ آئی ۔یہ اللہ عزوجل کی طرف سے احسان،نعمت،خیرو برکت ہے ۔۔تنگی و ترشی کے دنوں میں دی جانے والی بہترین بشارت ہے ۔بادلوں سے بارش کا برسنا نہایت بابرک عمل ہے ۔۔اس میں مخلوقات کے لیے خیر ہی خیر ہے ، اس میں کوئی خوف و خطرہ نہیں ہے ۔

عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لاَمَ الطَّائِيِّ ← جَدِّهِ حُمَيْدِ بْنِ مُنْهِبٍ، ← عَمُّ أَبِي زَحْرِ بْنِ حُصَيْنٍ، ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى أَبُو السِّكِّينُ الطَّائِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ حَمَّادٍ الْبَرْبَرِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2210

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابٌ فِي الِاسْتِسْقَاءِ بِالصَّالِحِينَ الْمُتَّقِينَ الطَّاهِرِينَ مِنْ آلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ لَا غِلَّ فِي صَدْرِهِ لِأَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 2211

2211 - حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا سَاعِدَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: خَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَسْتَسْقِي لِلنَّاسِ عَامَ الرَّمَادَةِ بِالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ: " اللَّهُمَّ إِنَّ هَذَا عَمُّ نَبِيِّكَ عَلَيْهِ السَّلَامُ نَتَوَجَّهُ بِهِ إِلَيْكَ فَاسْقِنَا فَمَا بَرِحُوا حَتَّى سَقَاهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَخَطَبَ عُمَرُ النَّاسَ فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرَى لِلْعَبَّاسِ مَا يَرَى الْوَلَدُ لِلْوَالِدِ، وَيُعَظِّمُهُ وَيُفَخِّمُهُ فَاقْتَدُوا أَيُّهَا النَّاسُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَمِّهِ الْعَبَّاسِ وَاتَّخِذُوهُ وَسِيلَةً إِلَى اللَّهِ فِيمَا نَزَلَ بِكُمْ وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ الزُّبَيْرِ بْنِ بَكَّارٍ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بارش کی دعا کے لیے لوگوں کو ساتھ لے کرنکلے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس بن عبد المطلب بھی ساتھ تھے،یہ عام الرمادہ کا واقعہ ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کے سامنے دعا کرتے ہوئے کہا:اے اللہ !یہ آپ کے نبی علیہ السلام کا چچا ہے ،ہم آپ کے نبی کے چچا کے ذریعے سے آپ سے بارش کا سوال کرتے ہیں ،لوگ وہاں پرہی موجود تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی رحمت کی بارش کوبرسا دیا ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور کہا :اے لوگو ! بلا شبہ اللہ کے رسول صلی اللہ وسلم حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ کا اس قدر احترام کیا کرتے تھے کہ جس طرح اولاد اپنے والد کا احترام کرتی ہے ،آپ ان کی تعظیم کیاکرتے تھے اوران کا خیال کیا کرتے تھے ۔لوگو!تم بھی اس معاملے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء اور پیروی کروآپ کے چچا عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں اور ان کو اللہ کے سامنے تقرب اور وسیلے بنائو اپنی مصیبتوں اور پریشانیوں کے موقع پر۔

اللَّهُمَّ ← خَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَسْتَسْقِي لِلنَّاسِ عَامَ الرَّمَادَةِ بِالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ← ابْنِ عُمَرَ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← دَاوُدُ بْنُ عَطَاءٍ ← سَاعِدَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ، ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2211

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَامِعُ أَبْوَابِ كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ فَمِنْ ذَلِكَ أَمْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ · حديث 2212

2212 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ الْأَنْصَارِيُّ، ثُمَّ الْخَطْمِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي الْعَوْجَاءِ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ «يَأْمُرُ بِالصَّلَاةِ عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ»

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سورج اور چاند گرہن کے موقعہ پر نماز کسوف پڑھنے کرنے کا حکم دیا کرتے تھے ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ ← سُفْيَانَ بْنِ أَبِي الْعَوْجَاءِ، ← الْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ الْأَنْصَارِيُّ، ثُمَّ الْخَطْمِيُّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← أبو خيثمة زهير بن حرب ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2212

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَامِعُ أَبْوَابِ كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ فَمِنْ ذَلِكَ أَمْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ · حديث 2213

2213 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، كِلَاهُمَا عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةِ بْنَ شُعْبَةَ، يَقُولُ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ النَّاسُ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَادْعُوا اللَّهَ وَصَلُّوا حَتَّى تَنْكَشِفَ»

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج گرہن ہوا ، جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم کی وفات ہوئی ۔لوگوں نے کہا :ابراہیم کی موت کی وجہ سے سورج گرہن ہوا ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:بلاشبہ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کو کسی موت یا کسی کی زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں کرتا ۔جب تم سورج یا چاند گرہن دیکھو تو اللہ سے دعا کرو اور اس کے صاف ہونے تک نماز پڑھو ۔

النَّاسُ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ، ← کَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ← الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← إسْرَائِيلَ كِلاَهُمَا ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2213

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَامِعُ أَبْوَابِ كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ فَمِنْ ذَلِكَ أَمْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ · حديث 2214

2214 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ ضَحْوَةً فَقَامَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا انْكَسَفَ وَاحِدٌ مِنْهُمَا - يَعْنِي الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ - فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ»

امام شعبی کہتے ہیں کہ صبح کے وقت سورج گرہن ہوا۔حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، انہوں نے لوگوں سے مخاطب ہوکر کہا:اے لوگو!اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب سورج یا چاند ان میں سے کوئی ایک گرہن ہوتو جلدی سے نماز کی طرف لپکو ۔

انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ ضَحْوَةً فَقَامَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ ← الشَّعْبِيِّ، ← مجالد ← أَبِي ← سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2214

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَامِعُ أَبْوَابِ كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ فَمِنْ ذَلِكَ أَمْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ · حديث 2215

2215 - حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ النَّاسُ: إِنَّمَا انْكَسَفَتْ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَإِلَى الصَّلَاةِ»

قیس بن ابو حازم کہتے ہیں میں حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج گرہن ہوا ، جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم کی وفات ہوئی ۔لوگوں نے کہا :ابراہیم کی موت کی وجہ سے سورج گرہن ہوا ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:بلاشبہ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کو کسی موت یا کسی کی زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں کرتا ۔جب تم سورج یا چاند گرہن دیکھو تونماز کی طرف لپکو اور اللہ کا ذکر کرو۔

اللہِ، وَإِلَی الصِّلاۃِ)) ← النَّاسُ إِنَّمَا انْكَسَفَتْ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ ← انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ يَوْمَ تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيَّ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2215

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَامِعُ أَبْوَابِ كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ فَمِنْ ذَلِكَ أَمْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ · حديث 2216

2216 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَسَدِ بْنِ مُوسَى، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ فَقَالَ النَّاسُ: إِنَّمَا انْكَسَفَتْ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ يُخَوِّفُ بِهِمَا عِبَادَهُ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَإِلَى الصَّلَاةِ»

حضرت قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج گرہن ہوا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبراہٹ کی حالت میں باہر آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:بلاشبہ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کو کسی موت یا کسی کی زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں کرتا ۔جب تم سورج یا چاند گرہن دیکھو تونماز فرضی نمازوں کی ادائیگی طرح نماز پڑھو ۔

عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، ← أَبِيهِ ← مُوسَى بْنِ عَلِي بْنِ رَبَاحٍ، ← عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ ← سَعِيدُ بْنُ أَسَدِ بْنِ مُوسَى، ← يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2216

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَامِعُ أَبْوَابِ كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ فَمِنْ ذَلِكَ أَمْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ · حديث 2217

2217 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا رَيْحَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ الْهِلَالِيِّ، قَالَ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزِعًا حَتَّى دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَقَالَ: «إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ يُخَوِّفُ بِهِمَا عِبَادَهُ، فَصَلُّوا كَأَحْدَثِ صَلَاةٍ صَلَّيْتُمُوهَا مِنَ الْمَكْتُوبَةِ»

حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج گرہن ہوا ، جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم کی وفات ہوئی ۔لوگوں نے کہا :ابراہیم کی موت کی وجہ سے سورج گرہن ہوا ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:بلاشبہ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کو کسی موت یا کسی کی زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں کرتا ۔جب تم سورج یا چاند گرہن دیکھو تونماز کی طرف لپکو اور اللہ کا ذکر کرو۔

قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ الْهِلَالِيِّ، ← هِلاَلِ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ، ← ريحان بن سعيد ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2217

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَامِعُ أَبْوَابِ كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ فَمِنْ ذَلِكَ أَمْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ · حديث 2218

2218 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ لَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ»

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج گرہن ہوا ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:بلاشبہ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کو کسی موت یا کسی کی زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں کرتا ۔جب تم سورج یا چاند گرہن دیکھو تونماز کی طرف لپکو اور اللہ کا ذکر کرو۔

خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ الدَّبْرِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2218

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَامِعُ أَبْوَابِ كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ فَمِنْ ذَلِكَ أَمْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ · حديث 2219

2219 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ كُسُوفَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ لَيْسَ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ»

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اے لوگو!بلاشبہ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کو کسی موت یا کسی کی زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں کرتا ۔جب تم سورج یا چاند گرہن دیکھو تونماز کی طرف لپکو ۔

كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2219

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَامِعُ أَبْوَابِ كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ فَمِنْ ذَلِكَ أَمْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ · حديث 2220

2220 - حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَزْرَقُ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ، وَأَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيَّانِ، قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَا: ثنا ابْنُ وَهْبٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا»

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اے لوگو!بلاشبہ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کو کسی موت یا کسی کی زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں کرتا ۔جب تم سورج یا چاند گرہن دیکھو تونماز کی طرف لپکو ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنِ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ وَأَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيَّانِ ← حَجَّاجُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَزْرَقُ، ← أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2220

chevron_left Previous
1…184185186187188
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter
307. Chapter
308. Chapter
309. Chapter
310. Chapter
311. Chapter
312. Chapter
313. Chapter
314. Chapter
315. Chapter
316. Chapter
317. Chapter