كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ رُكُوبِ الدَّابَّةِ · حديث 781
781 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: كُنْتُ رِدْفًا لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ، {سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ} [الزخرف: 14] لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، مَرَّتَيْنِ ثُمَّ اسْتَضْحَكَ، فَقُلْتُ: مَا يُضْحِكُكَ؟ قَالَ: كُنْتُ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلْتُ، فَقُلْتُ: مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " يَضْحَكُ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْعَبْدِ إِذَا قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ "
علی بن ربیعہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مجھے اپنی خچر پراپنے پیچھے سوارکیا ،انہوں نے ،اللہ اکبر،اللہ اکبر،اللہ اکبر ‘‘کہا پھر الحمد للہ کہا پھر یہ دعا پڑھی : {سُبْحَانَ الَّذِی سَخَّرَ لَنَا ہَذَا وَمَا کُنَّا لَہُ مُقْرِنِینَ وَإِنَّا إِلَی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ}پاک ہے وہ ذات جس نے اس کو ہمارے لیے مسخر کیا ،ہم اس پر قابو پانے والے نہ تھے ۔اور بلاشبہ ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں ۔}(زخرف 13.14)اس کے بعددو بار یہ دعا پڑھی : لَا إِلَہَ إِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ إِنِّی ظَلَمْتُ نَفْسِی فَاغْفِرْ لِی ذُنُوبِی إِنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اَنْتَ،تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ،اے اللہ !تو پاک ہے ،بلاشبہ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے ، میرے گناہوں کو بخش دے ، بلا شبہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو بخشنے والا نہیں ہے ۔پھر وہ ہنسنے لگے ، میں نے کہا:آپ کو کس چیز نے ہنسایا ہے ؟حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:میں سواری پر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھا ،آپ نے بھی اسی طرح کیا تھا جس طرح میں نے کیا ہے ، میں نے عرض کیا :اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ کیوں ہنسے ؟آپ نے فرمایا:ہماررب اللہ عزوجل اپنے بندے پر تعجب اور حیرانگی پر ہنستاہے جب بندہ کہتا ہے :تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ،اے اللہ !تو پاک ہے ،بلاشبہ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے ، میرے گناہوں کو بخش دے ، بلا شبہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو بخشنے والا نہیں ہے ۔
كُنْتُ رِدْفًا لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ
Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 781
