Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
كتاب الدعاء

Kitab Al Dua

by Tibrani

2,251 Hadith318 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ أَخْذِ الْمَضَاجِعِ · حديث 229

229 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالْقَانِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ح وَحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، كِلَاهُمَا عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: " أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى وَضَعَ قَدَمَهُ بَيْنِي وَبَيْنَ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَعَلَّمَنَا أَنْ نَقُولَ إِذَا أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَسْبِيحَةً وَثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَحْمِيدَةً وَأَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ تَكْبِيرَةً، قَالَ عَلِيٌّ: فَمَا تَرَكْتُهَا مِنْ بَعْدُ، قَالَ لَهُ رَجُلٌ: وَلَا يَوْمَ صِفِّينَ؟ قَالَ: وَلَا يَوْمَ صِفِّينَ "

حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ،آپ نے اپنے قدم مبارک کو ہمارے درمیان رکھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھلایا کہ جب تم اپنے بستروں پر آئو تو تینتیس بارسبحان اللہ کہو ، تینتیس بار الحمد للہ کہو اورچونتیس باراللہ اکبر کہو ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے اس وقت سے کر آج تلک یہ وظیفہ کرنا نہیں بھولا ،ایک آدمی حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتا ہے کیا آپ نے صفین کی رات بھی نہیں چھوڑا تھا ؟حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا،ہاں !میں نے صفین کی رات بھی نہیں چھوڑا۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، كِلَاهُمَا ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ،: ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 229

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ أَخْذِ الْمَضَاجِعِ · حديث 230

230 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا زَوَّجَ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بَعَثَ مَعَهَا بِخَمِيلَةٍ وَوِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ وَجَرَّتَيْنِ وَسِقَاءٍ قَالَ عَلِيٌّ: فَقُلْتُ يَوْمًا وَاللَّهِ لَقَدْ سَنَوْتُ حَتَّى اشْتَكَيْتُ صَدْرِي وَقَدْ جَاءَ اللَّهُ عَزَّ [ص:94] وَجَلَّ أَبَاكِ بِسَبْي فَأْتِيهِ فَاسْتَخْدِمِيهِ، قَالَتْ: وَأَنَا وَاللَّهِ لَقَدْ طَحَنْتُ حَتَّى مَجِلَتْ يَدَايَ، فَذَهَبَتْ إِلَيْهِ فَاسْتَحْيَتْ أَنْ تَذْكُرَ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهَا: «مَرْحَبًا بِكِ» فَقَالَتْ: جِئْتُ أُسَلِّمُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَرَجَعَتْ فَقَالَ لَهَا عَلِيٌّ: مَا فَعَلْتِ؟ قَالَتِ: اسْتَحَيْتُ أَنْ أَذْكُرَ لَهُ شَيْئًا، فَأَتَيَاهُ جَمِيعًا فَذَكَرَا لَهُ ذَلِكَ وَقَالَا: قَدْ أَتَاكَ اللَّهُ تَعَالَى بِسَبْي فَأَخْدِمْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا أُخْدِمُكُمَا وَأَدَعُ أَهْلَ الصُّفَّةِ يَطْوُونَ جُوعًا، لَا أَجِدُ مَا أُنْفِقُ عَلَيْهِمْ، وَلَكِنِّي أَبِيعُهُمْ فَأُنْفِقُهُ عَلَيْهِمْ» فَرَجَعَا فَدَخَلَا فِي خَمِيلَتَهُمَا فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمَا فِي خَمِيلَتَهُمَا إِذَا غَطَّيَا رُءُوسَهُمَا انْكَشَفَتْ أَقْدَامُهُمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَكَانَكُمَا أَلَا أُخْبِرُكُمَا بِشَيْءٍ خَيْرٍ مِمَّا سَأَلْتُمَانِي عَلَّمَنِيهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، إِذَا أَوَيْتُمَا إِلَى فِرَاشِكُمَا سَبَّحْتُمَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَحَمَّدْتُمَا اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبَّرْتُمَا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ» قَالَ عَلِيٌّ: فَوَاللَّهِ مَا وَدَعْتُهُنَّ مُنْذُ عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو الْكَوَّا قَالَ حَجَّاجٌ: هُوَ ابْنُ الْكَوَّا وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ؟ فَقَالَ عَلِيٌّ: قَاتَلَكُمُ اللَّهُ وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ

حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی کی تو آپ نے ان کے ساتھ ایک چادر ، ایک تکیہ کہ جس میں کھجور کے پتے کوٹ کربھر رے ہوئے تھے اور دو مشکیزے بھیجے تھے ،میں نے ایک دن کہا: اللہ کی قسم !ایک سال گزرچکا ہے ، میں دلی طور پر تنگی محسوس کرتا ہوں ، اب اللہ عزوجل نے آسانیاں پیدا کردی ہیں ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غلام آئے ہوئے ہیں ، اس لیے اے فاطمہ !آپ اپنے والد کے پاس جائیں ،ان سے خدام کا تقاضا کریں ،فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں :آٹا پیسنے کی وجہ سے میرے ہاتھوں پر آبلے پڑ گئے ہیں ،سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر گئیں ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرحبا کہا ،فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میںصرف آپ کو سلام کرنے کے لیے آئی تھی اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ،مجھے آپ سے یہ بات کرنے سے حیا آئی کہ میں اپنے والد سے کسی چیز کا سوال کروں،جب واپس گھر آئیں تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا :کیا بنا ؟حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں :مجھے حیا آئی اس لیے میں نے سوال نہیں کیا اس پر حضرت علی اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کی طرف روانہ ہوئے ، آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تمہیں کون سی چیز یہاں لے کر آئی ہے ؟حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا:اے اللہ رسول !آپ کے پا س غلام آئے ہوئے ہیں ، آپ ہمیں خادم دے دیں ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سن کر ان سے فرمایا:میں تمہیں خادم نہیں دوں گا ، کیا میں اہل صفہ کو چھوڑ دوں کہ وہ بھوکے وقت گزارتے رہیں ، میرے پاس ان پر خرچ کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے ، اس لیے میں غلاموں کو بیچ کر ان پر خرچ کروں گا ، وہ دونوں واپس آگئے اور اپنے بستروں میں چلے گئے ۔تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف فرماہوئے ، حضرت علی اور فاطمہ رضی اللہ عنہما اپنے چہروں کو ڈھانپ چکے تھے ، آپ کے آنے پر انہوں نے اپنے قدموں سے چادر کو ہٹایا ، آپ نے فرمایا :اسی طرح رہو ،کیا تمہیں ایسے عمل کے بارے میں نہ بتادوں ؟جواس سے بہت بہتر ہے جس کا تم نے مجھ سے سوال کیا ہے ، جبریل نے ابھی مجھے بتلایا ہے ۔آپ نے فرمایا:جب تم اپنے بستروں پر آئو تو تینتیس بارسبحان اللہ کہو ، تینتیس بار الحمد للہ کہو اور چونتیس باراللہ اکبر کہو۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے اس وقت سے کر آج تلک یہ وظیفہ کرنا نہیں بھولا ،سوال کرنے والے کہا : صفین کی رات بھی پڑھا تھا ؟فرمایا:اللہ تمہیں ہلاک کرے ، تب بھی پڑھا تھا ۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 230

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ أَخْذِ الْمَضَاجِعِ · حديث 231

231 - حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ فَاطِمَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كَانَتْ حَامِلًا فَكَانَتْ إِذَا خَبَزَتْ أَصَابَ حَرْقُ التَّنُّورَةِ بَطْنَهَا، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ خَادِمًا، فَقَالَ: «لَا أُعْطِيكِ خَادِمًا وَأَدَعُ أَهْلَ الصُّفَّةِ تُطْوَى بُطُونُهُمْ مِنَ الْجُوعِ، أَوَلَا أَدُلُّكِ عَلَى خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ، تُسَبِّحِي اللَّهَ تَعَالَى إِذَا أَوَيْتِ إِلَى فِرَاشِكِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتَحْمَدِيهِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتُكَبِّرِيهِ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ» قَالَ: فَمَا تَرَكْتُهَا مُنْذُ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُتْبَةَ قَالَ لِعَلِيٍّ: وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ؟ قَالَ: وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ، ذَكَرْتُهَا مِنْ آخِرِ السَّحَرِ فَقُلْتُهَا

حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا حاملہ تھیں ،جب ہ روٹی بناتیں تو تندور کی تپش ان کے پیٹ پر پڑتی ، تب فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خادم کا تقاضا کرنے کے لیے آئیں ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سن کر ان سے فرمایا:میں تمہیں خادم نہیں دوں گا ، کیا میں اہل صفہ کو چھوڑ دوں کہ وہ بھوکے وقت گزارتے رہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا تمہیں ایسے عمل کے بارے میں نہ بتادوں ؟جو تمہارے لیے اس سے بہت ہی بہتر ہے جس کا تم نے سوال کیا ہے ۔آپ نے فرمایا:جب تم اپنے بستروں پر آئو تو تینتیس باراللہ اکبر کہو ، تینتیس بار الحمد للہ کہو اور تینتیس بارسبحان اللہ کہو ۔یہ عمل تمہارے لیے اس سے بہت ہی بہتر ہے جس کا تم نے سوال کیا ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے اس وقت سے کر آج تلک یہ وظیفہ کرنا نہیں بھولا ،سوال کرنے والے کہا : صفین کی رات بھی پڑھا تھا ؟فرمایا:اللہ تمہیں ہلاک کرے ، تب بھی پڑھا تھا ۔

عَلِيٍّ، ← أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 231

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ أَخْذِ الْمَضَاجِعِ · حديث 232

232 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالْقَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

حضرت علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح بیان کرتے ہیں ۔

النَّبِیِّ مِثْلَہُ ← عَلِيٍّ، ← أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 232

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ أَخْذِ الْمَضَاجِعِ · حديث 233

233 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، وَزَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: اشْتَكَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مَجْلَ يَدَيْهَا مِنَ الطَّحِينِ، فَقُلْتُ: لَوْ أَتَيْتِ أَبَاكِ فَسَأَلْتِيهِ خَادِمًا، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ تُصَادِفْهُ فَلَمَّا جَاءَ أُخْبِرَ فَأَتَانَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا وَعَلَيْنَا قَطِيفَةٌ إِذَا لَبِسْنَاهَا طُولًا خَرَجَتْ مِنْهُ جُنُوبَنَا، وَإِذَا لَبِسْنَاهَا عَرْضًا خَرَجَتْ رُءُوسُنَا وَأَقْدَامُنَا، فَقَالَ: «يَا فَاطِمَةُ أُخْبِرْتُ أَنَّكِ جِئْتِ فَهَلْ كَانَتْ حَاجَةٌ؟» قَالَتْ: لَا، فَقُلْتُ: بَلَى، شَكَتْ إِلَيَّ مَجْلَ يَدَيْهَا مِنَ الطَّحِينِ، فَقُلْتُ: لَوْ أَتَيْتِ أَبَاكِ فَسَأَلْتِيهِ خَادِمًا قَالَ: «أَدُلُّكُمَا عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنَ الْخَادِمِ، إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا تَحْمَدَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتُسَبِّحَا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ وَتُكَبِّرَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ»

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ نے نے آٹاپیسنے کی وجہ سے اپنے ہاتھوں پر بننے والے آبلوں کی شکایت کی، میں نے کہا:اگر آپ اپنے والد گرامی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلی جائیں۔ ان سے کسی خادم کا سوال کریں۔ تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہااللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں لیکن آپ گھر پر موجود نہ تھے۔ جب آپ صلی اللہ وسلم گھر میں تشریف فرما ہوئے آپ کو بتایا گیا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے ۔ ہم سب اپنے بستروں پر سونے کے لئے لیٹ چکے تھے ۔ہم نے اپنے اوپر ایک چادرلمبائی ڈالی ہوئی تھی، اس میں سے پہلوئوں کی طرف سے ہمارے جسم کا کچھ حصہ باہر نمایاں ہو رہا تھا جبکہ یک چادر ہم نے چوڑائی میں ڈالی ہوئی تھی اس میں سے ہمارے سر باہر نکلے ہوئے تھے اور ہمارے پاؤں دکھائی دے رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے فاطمہ !مجھے اس بات کی خبر دی گئی ہے کہ تم میرے پاس آئی تھی ،کیا تمہیں کوئی ضرورت اور کام تھا؟ انہوں نے کہا کہ نہیں ،میں نے کہا :کیوں نہیں ، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے چکی پیسنے کی وجہ سے اپنے ہاتھوں پر بننے والے آبلوں کی شکایت کی۔ میں نے کہا :آپ اپنے والد گرامی کے پاس جائیں ،ان سے خادم کا سوال کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :کیا میں تمہیں ایسی چیز کے بارے میں بتا دوں جو تمہارے لئے خادم کے مقابلے میں زیادہ بہتر اور خیر کا باعث ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم اپنے بستر پر لیٹنے کے لئے تو تینتیس مرتبہ الحمدللہ کہو چونتیس مرتبہ سبحان اللہ کہو اور تینتیس مرتبہ اللہ اکبر کہو ۔

عَلِيٍّ، ← عُبَيْدَةُ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← ابْنِ عَوْنٍ ← أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَی ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ وَزَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 233

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ أَخْذِ الْمَضَاجِعِ · حديث 234

234 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالَا: ثنا عِيسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَعْلَى النَّهْدِيَّ، يَقُولُ: قَالَ عَلِيُّ: أَتَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْكُو إِلَيْهِ الْعَمَلَ وَتَسْأَلُهُ خَادِمًا، فَقَالَ: «أَوَلَا أَدُلُّكِ عَلَى خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ، إِذَا أَوَيْتِ إِلَى فِرَاشِكِ تُسَبِّحِي اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَاحْمَدِيهِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبِّرِيهِ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ» قَالَ عِيسَى: فَقُلْتُ: أَدْرَكْتَ عَلِيًّا؟ قَالَ: نَعَمْ، وَأَنَا شَابٌّ يَوْمَ صِفِّينَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي نُعَيْمٍ

حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ،اپنے کام کی مشق کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے خادم کا تقاضا کرنے لگیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا تمہیں ایسے عمل کے بارے میں نہ بتادوں ؟جو تمہارے لیے اس سے بہت ہی بہتر ہے جس کا تم نے سوال کیا ہے ۔آپ نے فرمایا:جب تم اپنے بستروں پر آئو تو تینتیس باسبحان اللہ کہو ، تینتیس بار الحمد للہ کہو اورچونتیس باراللہ اکبر اللہ کہو ۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَعْلَى النَّهْدِيَّ، ← عِيسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← يُوسُفُ الْقَاضِي ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 234

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ أَخْذِ الْمَضَاجِعِ · حديث 235

235 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْوَرْدِ، عَنِ ابْنِ أَعْبُدٍ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا ابْنَ أَعْبُدٍ، هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الطَّعَامِ إِذَا طَعِمْتَ؟ قُلْتُ: وَمَا حَقُّهُ يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ؟ قَالَ: أَنْ تَقُولَ بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيمَا رَزَقْتَنَا، وَهَلْ تَدْرِي مَا شُكْرُهُ إِذَا فَرَغْتَ؟ قُلْتُ: وَمَا شُكْرُهُ؟ قَالَ: شُكْرُهُ أَنْ تَقُولَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا، ثُمَّ قَالَ: أَلَا أُخْبِرُكَ عَنِّي وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ مِنْ أَكْرَمِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ، وَكَانَتْ زَوْجَتِي فَرَحَّتِ الرَّحَا حَتَّى أَثَّرَ الرَّحَا بِيَدِهَا، وَاسْتَقَتْ بِالْقِرْبَةِ حَتَّى أَثَّرَتِ الْقِرْبَةُ بِنَحْرِهَا، وَقَمَّتِ الْبَيْتَ حَتَّى اغْبَرَّتْ ثِيَابُهَا، وَأَوْقَدَتْ تَحْتَ الْقَدْرِ حَتَّى دَنِسَتْ ثِيَابُهَا فَأَصَابَهَا مِنْ ذَلِكَ الضُّرُّ، قَالَ: وَقَدِمَ [ص:96] عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَدَمٌ أَوْ سَبْي، فَقُلْتُ لَهَا: لَوْ أَتَيْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتِيهِ خَادِمًا يُعِينُكِ عَلَى مَا أَنْتِ فِيهِ، قَالَ: فَانْطَلَقَتْ وَرَجَعَتْ وَلَمْ تَسْأَلْهُ فَغَدَا عَلَيْهَا وَكَانَ يَفْعَلُ فَقَالَ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَأَدْخُلُ؟» قَالَ: وَنَحْنُ فِي لُفُعِنَا فَاسْتَحْيَيْنَا مِنْ مَكَانِنَا، فَمَكَثْنَا، فَأَعَادَ الْقَوْلَ فَقَالَ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَأَدْخُلُ؟» فَرَهِبْنَا - أَوْ قَالَ رَهِبْتُ - أَنْ يُعِيدَ الثَّالِثَةَ فَنَسْكُتُ وَيَسْكُتُ، قَالَ: فَقُلْتُ وَعَلَيْكَ السَّلَامُ ادْخُلْ، قَالَ: فَدَخَلَ فَقَعَدَ عِنْدَ رُءُوسِنَا فَاسْتَحْيَتْ فَاطِمَةُ مِنْ مَكَانِهَا فَأَدْخَلَتْ رَأْسَهَا فِي لُفُعِهَا فَقَالَ: «يَا فَاطِمَةُ إِنَّكِ جِئْتَنِي أَمْسِ، فَمَا كَانَتْ حَاجَتُكِ إِلَى آلِ مُحَمَّدٍ» فَسَكَتَتْ، فَأَعَادَ عَلَيْهَا فَسَكَتَتْ فَرَهِبَتْ أَنْ يُعِيدَ الثَّالِثَةَ فَتَسْكُتُ، فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ وَأَنَّهُ بَلَغَهَا أَنَّهُ قَدِمَ عَلَيْكَ خَدَمٌ أَوْ سَبْي فَقُلْتُ لَهَا: لَوْ أَتَيْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتِيهِ خَادِمًا يُعِينُكِ عَلَى مَا أَنْتِ فِيهِ فَانْطَلَقَتْ فَاسْتَحْيَتْ، فَرَجَعَتْ وَلَمْ تَسْأَلْكَ، فَقَالَ: «يَا فَاطِمَةُ اتَّقِي اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَاعْمَلِي عَمَلَ أَهْلِكِ، أَلَا أَدُلُّكِ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ، إِذَا أَوَيْتِ إِلَى فِرَاشِكِ فَسَبِّحِي اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَاحْمَدِيهِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبِّرِيهِ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ» فَأَخْرَجَتْ رَأْسَهَا مِنْ لُفُعِهَا وَقَالَتْ: رَضِيتُ عَنِ اللَّهِ تَعَالَى وَعَنْ رَسُولِهِ، رَضِيتُ عَنِ اللَّهِ تَعَالَى وَرَسُولِهِ

ابن اَعبُد کہتے ہیں کہ حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابناَعبُد!کیا تمہیں پتہ ہے کہ جب تم کھانا کھاتے ہو تو کھانے کا حق کیا ہے ؟میں نے کہا کہ ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کھانے کا کیا حق ہے ؟انہوں نے فرمایا : تم یہ دعا پڑھو: بِسْمِ اللَّہِ اللَّہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیمَا رَزَقْتَنَا،اللہ کے نام کے ساتھ ۔اے اللہ !جو تو نے ہمیں رزق عطا کیا ہے اس میں برکتیں عطا فرما اور کیا تم جانتے ہو کے شکر کیا ہے؟جب کھانے سے فارغ ہوجاؤمیں نے کہا:شکرکیا ہے ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہنے کہا:جب تم کھانے سے فارغ ہو جائو کہو :َ الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی اَطْعَمَنَا وَسَقَانَا،تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے ہمیں کھانا کھلایا،جس نے ہمیں پانی پلایا۔ پھر انہوں نے کہا کہ میں تمہیں خبر نہ دوںمیں اپنی طرف اور فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کہ جو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سب سے زیادہ معزز و محترم تھیں اور میری زوجیت میں تھیں۔انہوں نے اپنے ہاتھ سے چکی کو پیسا اس کے نشانات ان کے ہاتھوںپر بن گئے ،اسی طرح وہ مشکیزہ پانی کا بھر کر لایا کرتی تھیںپانی کے مشکیزوںنے ان کے کندھوں کے اوپر اور ان کی کمر کے اوپر نشان چھوڑ دئیے ۔ اسی طرح انہوں نے گھر کے کام کاج کو سنبھالا یہاں تک کہ ان کا لباس گرد آلود ہو گیا ،انہوں نے اپنے گھر میں کھانا بنانے کے لیے انڈیا کے نیچے آگ جلائیاس سے ان کا لباس میں میلا کچیلا ہو گیا اسپروہ پریشان ہوئیں اور تکلیف میں مبتلا ہوئیں۔ اسی دوران اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ خدام اور لونڈیاں آئیں۔ میں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا:اگر آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلی جائیں آپسے خادم کا سوال کریں تاکہ وہ خادم آپ کے گھریلو کام کاج میں آپ کا تعاون کردے ۔حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا گئیں اور پھر واپس آ گئیں ۔انہوں نے آپ سے سوال نہیں کیا ۔جب واپس آئیں تو اگلے دن پھر انہوں نے گھر کا کام کیا تونبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف فرما ہوئے ۔ آپ نے سلام کہا اور کہا کہ کیامیں اندرآ سکتا ہوں؟ ہم اپنے اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے ،ہمیں شرم اور حیا محسوس ہوئی ،ایک ہی بستر پر لیٹنے کی وجہ سے ،ہم جلدی سے اٹھے۔آپ نے دوبارہ سے وہی بات کہی کہ تمہارے پر سلامتی ہو کیا میں اندر آ سکتا ہوں ؟میں نے کہا: وعلیکم السلام آپ اندر آ جائیں ۔حضرت علی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور ہمارے سروں کی جانب بیٹھ گئے ۔ مجھے اس بات پر حیا محسوس ہوئی کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا میرے نکاح میں تھیں۔ تو انہوں نے اپنا سر اپنے لحاف میں داخل کر لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے فاطمہ رضی اللہ عنہا !تم میرے پاس کل آئی تھی تو تمہیں کوئی کام اور ضرورت تھی؟حضرت فاطمہ خاموش رہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات کو پھر دہرایا ۔ اس کے بعد نبی صلی وسلم نے تیسری مرتبہ کہا توحضرت فاطمہ خاموش رہی ۔میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سارا واقعہ بیان کر دیا اور یہ بھی کہا کہ چونکہ آپ کے پاس کچھ خدام اور لونڈیاں آئی تھیں ۔میں نے ان سے کہا تھا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوجائیں اور آپ سے سوال کریںکسی خادمہ یا لونڈی کی تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے فاطمہ اللہ سے ڈرتی رہو اور گھریلو کام کرتی رہو اور کیامیں تمہیں اس ایسے کام کے بارے میں بتا دوں جو تمہارے لئے خادم اورلونڈی سے بہتر ہے؟ جب تم اپنے بستر پر جاؤ توتینتیس مرتبہ سبحان اللہ کہوتینتیس مرتبہ الحمد للہ کہو اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر کہو ۔تب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے لعاف سے اپنا سر باہر نکالا اور کہا :میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے راضی ہوں ،میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے راضی ہوں ۔

ابْنِ أَعْبُدَ، ← أَبِي الْوَرْدِ، ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 235

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ أَخْذِ الْمَضَاجِعِ · حديث 236

236 - حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَوَّارٍ الْعَنْبَرِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ، ثنا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَوَّارٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَسَّانَ الْعَنْبَرِيُّ، أَنَّ جَدَّتَيْهِ، أَخْبَرَتَاهُ أَنَّ قَيْلَةَ بِنْتَ مَخْرَمَةَ كَانَتْ إِذَا أَخَذَتْ حَظَّهَا مِنَ الْمَضْجَعِ بَعْدَ الْعَتَمَةِ قَالَتْ: بِسْمِ اللَّهِ وَأَتَوَكَّلُ عَلَى اللَّهِ، وَضَعْتُ جَنْبِي لِرَبِّي، وَأَسْتَغْفِرُهُ لِذَنْبِي، حَتَّى تَقُولَهَا مِرَارًا ثُمَّ تَقُولُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ وَبِكَلِمَاتِهِ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ مِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا، وَشَرِّ مَا يَنْزِلُ فِي الْأَرْضِ، وَشَرِّ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا، وَشَرِّ فِتَنِ النَّهَارِ وَشَرِّ طَوَارِقِ اللَّيْلِ إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ، آمَنْتُ بِاللَّهِ وَاعْتَصَمْتُ بِهِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي اسْتَسْلَمَ لِقُدْرَتِهِ كُلُّ شَيْءٍ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي ذَلَّ لِعِزَّتِهِ كُلُّ شَيْءٍ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي تَوَاضَعَ لِعَظَمَتِهِ كُلُّ شَيْءٍ، وَالْحَمْدُ اللَّهِ الَّذِي خَشَعَ لِمُلْكِهِ كُلُّ شَيْءٍ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِمَعَاقِدِ الْعِزِّ مِنْ عَرْشِكَ وَمُنْتَهَى الرَّحْمَةِ مِنْ كِتَابِكَ، وَجَدِّكَ الْأَعْلَى وَاسْمِكَ الْأَكْبَرِ، وَكَلِمَاتِكَ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ أَنْ تَنْظُرَ إِلَيْنَا نَظْرَةً مَرْحُومَةً، لَا تَدَعُ لَنَا ذَنْبًا إِلَّا غَفَرْتَهُ، وَلَا فَقْرًا إِلَّا جَبَرْتَهُ، وَلَا عَدُوًّا إِلَّا [ص:97] أَهْلَكْتَهُ، وَلَا عَرِيًّا إِلَّا كَسَوْتَهُ، وَلَا دَيْنًا إِلَّا قَضَيْتُهُ، وَلَا أَمْرًا لَنَا فِيهِ صَلَاحٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا أَعْطَيْتَنَاهُ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ، آمَنْتُ بِاللَّهِ وَاعْتَصَمْتُ بِهِ، ثُمَّ تَقُولُ: سُبْحَانَ اللَّهِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ، ثُمَّ تَقُولُ: يَا بُنَيَّتِي هَذِهِ رَأْسُ الْخَاتِمَةِ إِنَّ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَتْهُ تَسْتَخْدِمُهُ فَقَالَ: «أَلَا أَدُلُّكِ عَلَى خَيْرٍ مِنَ الْخَادِمِ؟» قَالَتْ: بَلَى، فَأَمَرَهَا بِهَذِهِ الْمِائَةِ عِنْدَ الْمَضْجَعِ بَعْدَ الْعَتَمَةِ

عبداللہ بن حسان عنبری بیان کرتے ہیں کہ ان کے دادا اور دادی نے ان کو بیان کیا کہ قیلہ بنت مخرمہ عشاء کی نماز کے بعدجب اپنے بسترپرلیٹتی تو یہ دعا پڑھا کرتیں:بِسْمِ اللَّہِ وَاَتَوَکَّلُ عَلَی اللَّہِ، وَضَعْتُ جَنْبِی لِرَبِّی، وَاَسْتَغْفِرُہُ لِذَنْبِی،اللہ کے نام کے ساتھ اورمیں اللہ پر توکل کرتی ہوں میں نے اپنے پہلو کو اپنے رب کے لئے رکھا ہے میں اپنے رب سے اپنے گناہوں کی بخشش کا سوال کرتی ہوں۔ ان کلمات کے کثرت سے کہا کرتیں ۔اس کے بعد یہ دعا پڑھا کرتیں : اَعُوذُ بِاللَّہِ وَبِکَلِمَاتِہِ التَّامَّاتِ الَّتِی لَا یُجَاوِزُہُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ مِنْ شَرِّ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَاء ِ وَمَا یَعْرُجُ فِیہَا، وَشَرِّ مَا یَنْزِلُ فِی الْاَرْضِ، وَشَرِّ مَا یَخْرُجُ مِنْہَا، وَشَرِّ فِتَنِ النَّہَارِ وَشَرِّ طَوَارِقِ اللَّیْلِ إِلَّا طَارِقًا یَطْرُقُ بِخَیْرٍ، آمَنْتُ بِاللَّہِ وَاعْتَصَمْتُ بِہِ، الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی اسْتَسْلَمَ لِقُدْرَتِہِ کُلُّ شَیْء ٍ، وَالْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی ذَلَّ لِعِزَّتِہِ کُلُّ شَیْء ٍ، وَالْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی تَوَاضَعَ لِعَظَمَتِہِ کُلُّ شَیْء ٍ، وَالْحَمْدُ اللَّہِ الَّذِی خَشَعَ لِمُلْکِہِ کُلُّ شَیْء ٍ، اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْاَلُکَ بِمَعَاقِدِ الْعِزِّ مِنْ عَرْشِکَ وَمُنْتَہَی الرَّحْمَۃِ مِنْ کِتَابِکَ، وَجَدِّکَ الْاَعْلَی وَاسْمِکَ الْاَکْبَرِ، وَکَلِمَاتِکَ التَّامَّاتِ الَّتِی لَا یُجَاوِزُہُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ اَنْ تَنْظُرَ إِلَیْنَا نَظْرَۃً مَرْحُومَۃً، لَا تَدَعُ لَنَا ذَنْبًا إِلَّا غَفَرْتَہُ، وَلَا فَقْرًا إِلَّا جَبَرْتَہُ، وَلَا عَدُوًّا إِلّاَاہْلَکْتَہُ، وَلَا عَرِیًّا إِلَّا کَسَوْتَہُ، وَلَا دَیْنًا إِلَّا قَضَیْتُہُ، وَلَا اَمْرًا لَنَا فِیہِ صَلَاحٌ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ إِلَّا اَعْطَیْتَنَاہُ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ، آمَنْتُ بِاللَّہِ وَاعْتَصَمْتُ بِہِ،میں اللہ کی پناہ میں آتی ہوں اللہ تعالیٰ کے کامل اور مکمل کلمات کے ذریعے سے جن سے کوئی نیک اور فاجرتجاوز نہیں کرسکتا ہر اس شرسے جو آسمان سے اترنے والا ہے ،جو آسمان کی طرف بلند ہونے والا ہے۔ ہر اس چیز سے پناہ چاہتی ہوں جو زمین کی طرف نازل ہوتا ہے اور جو زمین سے نکلتا ہے۔ ہر اس فتنے سے پناہ چاہتی ہوںجو دن کا فتنہ ہے اور ہر رات چمکنے والے فتنے سے سوائے اس کے جوخیر اور بھلائی کے ساتھ چمکتا ہے۔ میں اللہ پر ایمان لاتی ہوں، اللہ پر توکل کرتی ہوں ۔تمام تعریفیں اللہ کی ذات کے لئے ہیںکہ جس کی قدرت پر ہر چیز تابع ہوچکی ہے ۔تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں کہ جس کی عزت کے لیے ہر چیز جھکائو اختیار کر چکی ہے ۔تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس کی عظمت کے لیے ہر چیز تواضع اختیار کرنے والی ہے۔ تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں کہ جس کی بادشاہت کی وجہ سے ہر چیز ڈرنے والی ہے ۔میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری عزت کے واسطے تیرے عرش اور تیری رحمت کی انتہا کے ذریعے سے جو تیری کتاب درج ہے، تیری بلند و بالا بزرگی کے واسطے سے ، تیرے بڑے نام کے واسطے سے اور تیرے کامل کلمات کے ذریعے سے کہ جن سے کوئی نیک اور فاجر تجاوز نہیں کرسکتا کہ تو ہماری طرف اپنی نظرِ رحمت کو مرکوزفرما دے ۔ہمارے لئے ہمارے کسی گناہ کو نہ چھوڑ، تمام گناہوں کو معاف کر دے ۔ہم میں سے جو بھی ضرورت مند ہیں ان کے نقصانات کو پورا فرما دے جو بھی ہمارے دشمن کوھلاک فرمادے ۔جوبرہنا ہے ان کو لباس عطاء کردے ، جو مقروض ہیں انہیں قرض سے خلاصی عطا فرما دے ،ہمارے کوئی بھی ایسے معاملات ہیں جس میں ہمارے لئے دنیا اور آخرت کی بھلائی ہے وہ ہمیں عطا فرما دے ۔اے سب سے بڑھ کر رحم کرنے والے! میں اللہ پر ایمان لایاہوں، اللہ پر توکل کرتا ہوں ۔ اس کے بعد یہ تسبیحات کہا کرتے :تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ اللہ اکبراور چونیتس مرتبہ الحمد للہ ۔پھر انہوں نے کہا:اے میری بیٹی! یہ ہے ایک خادمہ کا سر ہے شک اللہ کے نبی صلی اللہ وسلم کی بیٹی ان کے پاس آیا کرتی، میں ان کی خدمت کیا کرتی اورانھوں نے کہا تھا کہ کیا میں تمہیں ایسے عمل کے بارے میں بتا دوں جو تمہارے لئے خادم سے بہتر ہو؟میں نے کہا تھا کیوں نہیں انہوں نے ان کو حکم دیا تھا کہ سومرتبہ یہ تسبیحات پڑھی جائیںعشاء کے بعد جب سونے کے لئے اپنے بستر پر لیٹو۔

عَبْدُ اللهِ بْنُ حَسَّانَ الْعَنْبَرِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَوَّارٍ الْعَنْبَرِيُّ ← أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَوَّارٍ الْعَنْبَرِيُّ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 236

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ أَخْذِ الْمَضَاجِعِ · حديث 237

237 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا أَبُو الْجَوَّابِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، وَأَبِي مَيْسَرَةَ عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ عِنْدَ مَضْجَعِهِ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِوَجْهِكَ الْكَرِيمِ وَكَلِمَاتِكَ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، إِنَّكَ تَكَشِفُ الْمَغْرَمَ وَالْمَأْثَمَ، اللَّهُمَّ لَا يُهْزَمُ جُنْدُكَ، وَلَا يُخْلَفُ وَعْدُكَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدِّ، سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ»

حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کے لیے اپنے بستر پر آتے تو یہ دعا پڑھا کرتے :اَعُوذُ بِوَجْہِ اللَّہِ الْکَرِیمِ، وَبِکَلِمَاتِہِ التَّامَّۃِ مِنْ شَرِّ مَا اَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِیَتِہِ، اللَّہُمَّ اَنْتَ تَکَشِفُ الْمَغْرَمَ وَالْمَاْثَمَ، اللَّہُمَّ لَا یُہْزَمُ جُنْدُکَ، وَلَا یُخْلَفُ وَعْدُکَ، وَلَا یَنْفَعُ ذَا الْجَدَّ مِنْکَ الْجَدِّ، سُبْحَانَکَ وَبِحَمْدِکَ ،میں اللہ کریم کی پناہ میں آتاہوں اور اس کے کامل کلمات کی پناہ میںآتا ہوں اس شر سے کہ جس کی پیشانی کو تو پکڑے ہوئے ہے ۔اے اللہ !مقروض کو قرض سے تو ہی خلاصی عطا کرتا ہے اور گناہ گاہ کو گناہ سے تو ہی بچاتا ہے ۔اے اللہ !تیرے لشکروں کو شکست نہیں دی جاسکتی ، تیرے وعدوں کی خلاف ورزی نہیں کی جاسکتی اور تیرے مقابلے میں کسی بزرگی والے کو اس کی بزرگی فائدہ نہیں دے سکتی ۔اے اللہ !تو پاک ہے اپنی حمد کے ساتھ ۔

رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ كَانَ ← عَلِيٍّ، ← الْحَارِثِ، وَأَبِي مَيْسَرَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ← أَبُو الْجَوَّابِ ← الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 237

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ أَخْذِ الْمَضَاجِعِ · حديث 238

238 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ أَبِي حَسَّانَ الْأَنْمَاطِيُّ، قَالُوا: ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكَلْبِيُّ الْكُوفِيُّ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَتَبَ إِلَيَّ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ كِتَابًا وَقَالَ: أَمَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ فَقُلْ: أَعُوذُ بِوَجْهِ اللَّهِ الْكَرِيمِ، وَبِكَلِمَاتِهِ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ مَا أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، اللَّهُمَّ أَنْتَ تَكَشِفُ الْمَغْرَمَ وَالْمَأْثَمَ، اللَّهُمَّ لَا يُهْزَمُ جُنْدُكَ، وَلَا يُخْلَفُ وَعْدُكَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدَّ مِنْكَ الْجَدِّ، سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ "

ابو اسحاق ہمدانی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ نے انہیں ایک خط لکھا او راس میں انہوں نے ذکر کیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کا حکم دیا تھا کہ جب تم سونے کے لیے اپنے بستر پر آئو تو یہ دعا پڑھو :اَعُوذُ بِوَجْہِ اللَّہِ الْکَرِیمِ، وَبِکَلِمَاتِہِ التَّامَّۃِ مِنْ شَرِّ مَا اَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِیَتِہِ، اللَّہُمَّ اَنْتَ تَکَشِفُ الْمَغْرَمَ وَالْمَاْثَمَ، اللَّہُمَّ لَا یُہْزَمُ جُنْدُکَ، وَلَا یُخْلَفُ وَعْدُکَ، وَلَا یَنْفَعُ ذَا الْجَدَّ مِنْکَ الْجَدِّ، سُبْحَانَکَ وَبِحَمْدِکَ ،میں اللہ کریم کی پناہ میں آتاہوں اور اس کے کامل کلمات کی پناہ میںآتا ہوں اس شر سے کہ جس کی پیشانی کو تو پکڑے ہوئے ہے ۔اے اللہ !مقروض کو قرض سے تو ہی خلاصی عطا کرتا ہے اور گناہ گاہ کو گناہ سے تو ہی بچاتا ہے ۔اے اللہ !تیرے لشکروں کو شکست نہیں دی جاسکتی ، تیرے وعدوں کی خلاف ورزی نہیں کی جاسکتی اور تیرے مقابلے میں کسی بزرگی والے کو اس کی بزرگی فائدہ نہیں دے سکتی ۔اے اللہ !تو پاک ہے اپنی حمد کے ساتھ ۔

أَمَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ ← إِلَيَّ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ كِتَابًا ← أَبِيهِ ← أَبُو إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ← حَمَّادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكَلْبِيُّ الْكُوفِيُّ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي حَسَّانَ الْأَنْمَاطِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 238

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ أَخْذِ الْمَضَاجِعِ · حديث 239

239 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَابِسٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ قَالَ: «اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ، وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ»

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اپنے بستر پر لیٹتے تو یہ دعا پڑھا کرتے:اللَّہُمَّ اَسْلَمْتُ نَفْسِی إِلَیْکَ، وَوَجَّہْتُ وَجْہِی إِلَیْکَ، وَفَوَّضْتُ اَمْرِی إِلَیْکَ، وَاَلْجَاْتُ ظَہْرِی إِلَیْکَ، رَغْبَۃً وَرَہْبَۃً إِلَیْکَ، لَا مَنْجَا مِنْکَ إِلَّا إِلَیْکَ، آمَنْتُ بِکِتَابِکَ الَّذِی اَنْزَلْتَ وَنَبِیِّکَ الَّذِی اَرْسَلْتَ،اے اللہ!میں نے اپنے آپ کو تیر ی اطاعت میں دے دیا ۔ اپنا سب کچھ تیرے سپرد کردیا۔ اپنے معاملات تیرے حوالے کر دئیے ۔ خوف کی وجہ سے اور تیری ( رحمت وثواب کی ) امید میں کوئی پناہ گا ہ کوئی مخلص تیرے سوا نہیں میں تیری کتاب پر ایمان لایا جو تو نے نازل کی ہے اور تیرے نبی پر جن کو تو نے بھیجاہے ۔

كَانَ النَّبِيُّ إذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ ← عَلِيٍّ، ← عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← علي بن عابس ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ اَبَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 239

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ أَخْذِ الْمَضَاجِعِ · حديث 240

240 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، وَسَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا بَرَاءُ كَيْفَ تَقُولُ إِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ؟» قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ طَاهِرًا فَتَوَسَّدْ يَمِينَكَ وَقُلِ: اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ " فَقُلْتُ كَمَا عَلَّمَنِي غَيْرَ أَنِّي قُلْتُ: وَبِرَسُولِكَ، فَقَالَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي: «وَنَبِيِّكَ» قَالَ: «فَمَنْ قَالَهَا فِي لَيْلَةٍ ثُمَّ مَاتَ مَاتَ عَلَى الْفِطْرَةِ»

حضرت براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اے براء !جب تم رات کے وقت سونے کے لیے اپنے بستر پر لیٹتے ہو توکیا پڑھتے ہو؟میں نے کہا:اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم اپنے بستر آئو تو باوضوء حالت میں آئو ، دائیں ہاتھ کو رخسار کے نیچے رکھو اوریہ دعا پڑھا کرو:اللَّہُمَّ وَجَّہْتُ وَجْہِی إِلَیْکَ، وَاَسْلَمْتُ نَفْسِی إِلَیْکَ، وَفَوَّضْتُ اَمْرِی إِلَیْکَ، وَاَلْجَاْتُ ظَہْرِی إِلَیْکَ، رَغْبَۃً وَرَہْبَۃً إِلَیْکَ، لَا مَلْجَاَ وَلَا مَنْجَا مِنْکَ إِلَّا إِلَیْکَ، آمَنْتُ بِکِتَابِکَ الَّذِی اَنْزَلْتَ وَنَبِیِّکَ الَّذِی اَرْسَلْتَ ،اے اللہ!میں نے اپنے آپ کو تیر ی اطاعت میں دے دیا ۔ اپنا سب کچھ تیرے سپرد کردیا۔ اپنے معاملات تیرے حوالے کر دئیے ۔ خوف کی وجہ سے اور تیری ( رحمت وثواب کی ) امید میں کوئی پناہ گا ہ کوئی مخلص تیرے سوا نہیں میں تیری کتاب پر ایمان لایا جو تو نے نازل کی ہے اور تیرے نبی پر جن کو تو نے بھیجاہے ۔میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس دعا کو مکمل طور پر اسی طر ح دُہرایا جس طرح آپ نے مجھے دعا سکھلائی تھی ، سوائے ایک لفظ کے ، میں نے بنیک الذی کی جگہ پر برسولک الذی کہا ، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر مارا اور فرمایا:ونبیک الذی کہو ۔جس شخص نے رات سوتے وقت یہ کلمات کہے اور اس رات اس کی موت ہوگئی تو اس کی موت فطرت اسلام پر ہوگی ۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ، وَسَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، ← فِطْرِ بن خليفة ← أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُکَيْنٍ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 240

chevron_left Previous
1…192021…188
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter