كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ ذِكْرِ مَنْ لَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 2149
2149 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا خَلَفُ بْنُ مُوسَى بْنِ خَلَفٍ الْعَمِّيُّ، ثنا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ الْأَجْدَعِ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ زَعْرَاءُ أَيَصْلُحُ أَنْ أَصِلَ فِي شَعْرِي؟ قَالَ: لَا، قَالَتْ: أَشَيْئًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ تَجِدُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ؟ قَالَ: بَلْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَجِدُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَتْ: فَوَاللَّهِ لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ دَفَّتَيِ الْمُصْحَفِ فَمَا وَجَدْتُهُ، قَالَ: فَمَا تَجِدِينَ فِيهِ {مَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا} [الحشر: 7] قَالَتْ: بَلَى، فَقَالَتْ: وَاللَّهِ إِنِّي أَرَى أَنَّ الَّتِيَ فِي بَيْتِكَ تَفْعَلُهُ، فَقَالَ: مَا حَفِظَتْ وَصِيَّةَ شُعَيْبٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِذًا، أَقْسَمْتُ عَلَيْكِ لَمَا دَخَلْتِ إِلَيْهَا فَنَظَرْتِ إِلَى شَعْرِهَا، فَدَخَلَتْ فَنَظَرَتْ إِلَى امْرَأَةٍ قَرْعَاءَ وَلَمْ تَرَ فِي شَعْرِهَا شَيْئًا، فَخَرَجَتْ فَقَالَتْ: مَا رَأَيْتُ شَيْئًا
مسروق بن اجدع رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک عورت حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئی ، اس نے کہا:میں زعراء نامی عورت ہوں ، کیا میرے لیے یہ بات جائز ہے کہ میں میں اپنے بالوں کے ساتھ مصنوعی بال لگالوں ؟حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا:نہیں یہ جائز نہیں ہے ۔اس عورت نے کہا:کیا یہ حکم آپ نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے یا اللہ کی کتاب میں ہے ؟انہوں نے کہا:میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اور میں نے اس کو اللہ کی کتاب میں بھی پایا ہے ۔وہ عورت کہتی ہے :اللہ کی قسم!میں نے شروع سے لے کر آخر تک تمام مصحف پڑھا ہے ، مجھے یہ حکم قرآن میں نہیں ملا ۔سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تو نے پڑھا ہے تو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان تجھے ضرور ملا ہو گا کہ{مَا آتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوا} جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں بتلائے اس کو تھامے رہو اور جس سے منع کرے اس سے باز رہو (الحشر: 7)وہ عورت بولی کہ ان باتوں میں سے تو بعضی باتیں تمہاری عورت بھی کرتی ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جا دیکھ۔ وہ ان کی عورت کے پاس گئی تو کچھ نہ پایا۔ پھر لوٹ کر آئی اور کہنے لگی کہ ان میں سے کوئی بات میں نے نہیں دیکھی۔
مَسْرُوقِ بْنِ الْأَجْدَعِ، ← يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، ← الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ← عَزْرَۃَ ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← خلف بن موسى بن خلف العمي ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ
Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2149
