Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
كتاب الدعاء

Kitab Al Dua

by Tibrani

2,251 Hadith318 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ فِي سَائِرِ نَهَارِهِ · حديث 1405

1405 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُزَيْقِ بْنِ جَامِعٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ مُوسَى، حَدَّثَهُ عَنْ مَكْحُولٍ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَذْكُرُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو: «اللَّهُمَّ انْفَعْنِي بِمَا عَلَّمْتَنِي، وَعَلِّمْنِي مَا يَنْفَعُنِي، وَارْزُقْنِي عِلْمًا تَنْفَعُنِي بِهِ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اکثر یہ دعا کرتے ہوئے سنا :اللَّہُمَّ انْفَعْنِی بِمَا عَلَّمْتَنِی، وَعَلِّمْنِی مَا یَنْفَعُنِی، وَارْزُقْنِی عِلْمًا تَنْفَعُنِی بِہِ،اے اللہ !تو مجھے نفع عطا فرما اس کے ذریعہ سے جو تو نے مجھے سکھلایا ہے اور مجھے وہ علم عطا فرماجو میرے لیے مفید و فائدہ مند ہو اور مجھے ایسا علم عطاء کر جس کے ساتھ تو مجھے فائدہ دے ۔

فَسَمِعْتُهُ يَذْكُرُ: ← مَكْحُولٍ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ← أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ مُوسَى ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ رُزَيْقِ بْنِ جَامِعٍ الْمِصْرِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1405

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ فِي سَائِرِ نَهَارِهِ · حديث 1406

1406 - حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الصِّحَّةَ وَالْعِفَّةَ، وَالْأَمَانَةَ وَحُسْنَ الْخُلُقِ، وَالرِّضَا بِالْقَدَرِ»

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا فرمایا کرتے تھے:اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْاَلُکَ الصِّحَّۃَ وَالْعِفَّۃَ، وَالْاَمَانَۃَ وَحُسْنَ الْخُلُقِ، وَالرِّضَا بِالْقَدَرِ،اے اللہ ! میں تو تجھ سے صحت کا سوال کرتا ہوں ،عفت کا سوال کرتا ہوں،امانت داری کا سوال کرتا ہوں، اچھے اخلاق کا سوال کرتا ہوں اور تقدیر پر راضی رہنے کا سوال کرتا ہوں ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1406

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ فِي سَائِرِ نَهَارِهِ · حديث 1407

1407 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ الْعَمِّيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عَوْسَجَةَ بْنِ الرَّمَّاحِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ كَمَا حَسَّنْتَ خَلْقِي فَأَحْسِنْ خُلُقِي»

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اکثر و بیشتر یہ دعا فرمایا کرتے تھے:اللَّہُمَّ کَمَا حَسَّنْتَ خَلْقِی فَاَحْسِنْ خُلُقِی، اے اللہ !جس طرح تو نے میری تخلیق احسن انداز سے فرمائی ہے اسی طرح میرا اخلاق بھی اچھا فرما دے۔

«اللَّهُمَّ كَمَا حَسَّنْتَ خَلْقِي فَأَحْسِنْ خُلُقِي» ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ، ← عَوْسَجَةَ بْنِ الرَّمَّاحِ، ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ← مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ الْعَمِّيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1407

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ فِي سَائِرِ نَهَارِهِ · حديث 1408

1408 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ح وَحَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّيْرَفِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْرُوقٍ الْكِنْدِيُّ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مَعْنٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يوسُفَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، كُلُّهُمْ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ مِنْ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعِفَّةَ وَالْغِنَى» وَقَالَ شُعْبَةُ: وَالْعَفَافُ

حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائوں میں سے ایک دعا یہ تھی :اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْاَلُکَ الْہُدَی وَالتُّقَی وَالْعِفَّۃَ وَالْغِنَی ،اے اللہ !میں تجھ سے ہدایت کا سوال کرتا ہوں ، تقوی کا سوا ل کرتا ہوں ، عفت کا سوال کرتا ہوں ، غنی ہونے کا سوال کرتا ہوں ۔۔شعبہ کہتے ہیں:پاکدامنی کا سوال کرتا ہوں ۔

شُعْبَةُ: وَالْعَفَافُ ← كَانَ مِنْ دُعَاءِ النَّبِيِّ «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعِفَّةَ وَالْغِنَى» ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبِيه، كُلُّهُمْ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ ← الْاَعْمَشِ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← أَبِي ← يحيى بن إبراهيم بن محمد بن أبي عبيدة بن معن ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ ← زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَسْرُوقٍ الْكِنْدِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّيْرَفِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← مُسَدَّدٌ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1408

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ فِي سَائِرِ نَهَارِهِ · حديث 1409

1409 - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا سَيْفُ بْنُ مِسْكِينٍ الْأُسْوَارِيُّ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ مِنْ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى، وَالتُّقَى، وَالْعَفَافَ، وَالْغِنَى وَالْعَمَلَ لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضَى»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائوں میں سے ایک دعا یہ تھی :اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْاَلُکَ الْہُدَی، وَالتُّقَی، وَالْعَفَافَ، وَالْغِنَی وَالْعَمَلَ لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضَی،اے اللہ !میں تجھ سے ہدایت کا سوال کرتا ہوں ، تقوی کا سوا ل کرتا ہوں ، پاکدامنی کا سوال کرتا ہوں ، غنی ہونے کا سوال کرتا ہوں اور ایسے اعمال کرنے کی توفیق کا سوال کرتا ہوں جن کو تو پسند کرتا ہو اور ان پر ت وراضی ہوجائے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← العلاء بن زياد ← سَيْفُ بْنُ مِسْكِينٍ الْأُسْوَارِيُّ، ← عبد الوارث بن إبراهيم العسكري

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1409

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ فِي سَائِرِ نَهَارِهِ · حديث 1410

1410 - حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو يَقُولُ: " اللَّهُمَّ مَتِّعْنِي بِسَمْعِي وَبَصَرِي حَتَّى تَجْعَلَهُ الْوَارِثَ مِنِّي، وَعَافِنِي فِي دِينِي، وَاحْشُرْنِي عَلَى مَا أَحْيَيْتَنِي، وَانْصُرْنِي عَلَى مِنْ ظَلَمَنِي حَتَّى تُرِيَنِي مِنْهُ ثَأْرِي

جناب حسن بن محمد بن علی بن ابو طالب اپنے باپ سے اور اپنے دادارضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے :اللَّہُمَّ مَتِّعْنِی بِسَمْعِی وَبَصَرِی حَتَّی تَجْعَلَہُ الْوَارِثَ مِنِّی، وَعَافِنِی فِی دِینِی، وَاحْشُرْنِی عَلَی مَا اَحْیَیْتَنِی، وَانْصُرْنِی عَلَی مِنْ ظَلَمَنِی حَتَّی تُرِیَنِی مِنْہُ ثَاْرِی،اے اللہ !میرے کانوں سے مجھ فائدہ پہنچا دے ، میری آنکھوں سے مجھے فائدہ عطاء کردے یہاں تک کہ تو میرا وارث بن جائے ، مجھے میرے دین میں عافیت عطا کردے ، جس پر میں زندہ رہوں اسی پر مجھے قیامت کے دن اٹھانا ، مجھ پر ظلم کرنے والے پر میری مدد فرما یہاں تک کہ تو ان پر میرا غلبہ واضح کردے ۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَدْعُو ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ← مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1410

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ فِي سَائِرِ نَهَارِهِ · حديث 1411

1411 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ طَلِيقِ بْنِ قَيْسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِدَعَوَاتٍ: «رَبِّ أَعِنِّي وَلَا تُعِنْ عَلَيَّ وَانْصُرْنِي وَلَا تَنْصُرْ عَلَيَّ، وَامْكُرْ لِي وَلَا تَمْكُرْ عَلَيَّ، وَاهْدِنِي وَيَسِّرْ هُدَاكَ إِلَيَّ، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ بَغَى عَلَيَّ، رَبِّ اجْعَلْنِي لَكَ شَاكِرًا ذَاكِرًا لَكَ رَاهِبًا مِطْوَاعًا إِلَيْكَ مُخْبِتًا أَوَّاهًا مُنِيبًا، رَبِّ اقْبَلْ تَوْبَتِي وَاغْسِلْ حَوْبَتِي وَأَجِبْ دَعْوَتِي، وَثَبِّتْ حُجَّتِي، وَاهْدِ قَلْبِي، وَسَدِّدْ لِسَانِي، وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ قَلْبِي»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے: رَبِّ اَعِنِّی وَلَا تُعِنْ عَلَیَّ وَانْصُرْنِی وَلَا تَنْصُرْ عَلَیَّ، وَامْکُرْ لِی وَلَا تَمْکُرْ عَلَیَّ، وَاہْدِنِی وَیَسِّرْ ہُدَاکَ إِلَیَّ، وَانْصُرْنِی عَلَی مَنْ بَغَی عَلَیَّ، رَبِّ اجْعَلْنِی لَکَ شَاکِرًا ذَاکِرًا لَکَ رَاہِبًا مِطْوَاعًا إِلَیْکَ مُخْبِتًا اَوَّاہًا مُنِیبًا، رَبِّ اقْبَلْ تَوْبَتِی وَاغْسِلْ حَوْبَتِی وَاَجِبْ دَعْوَتِی، وَثَبِّتْ حُجَّتِی، وَاہْدِ قَلْبِی، وَسَدِّدْ لِسَانِی، وَاسْلُلْ سَخِیمَۃَ قَلْبِی،اے میرے رب !میرا تعاون فرما ،میرے خلاف کسی کا تعاون نہ کرنا ،میری مدد فرما میرے خلاف کسی کی مدد نہ کرنا،میرے لیے تدبیر کرنا میرے خلاف کسی کے لیے تدبیر نہ کرنا ،میری مدد فرما ان لوگوں کے خلاف جو مجھ پر ظلم کرنے والے ہیں ۔اے میرے رب !مجھے اپنا شکر گزار بنا دے ،اے میرے رب مجھے اپنا ذکر کرنے والا بنا دے ،اے میرے رب مجھے اپنے سے ڈرنے والا بنادے ،اپنی طرف رغبت رکھنے والا بنا دے ،اپنے سامنے عاجزی اختیار کرنے والا بنا دے ،اپنی طرف پلٹنے والا بنا دے ،اپنی طرف رجوع کرنے والا بنا دے۔اے میرے !رب میری توبہ کو قبول فرما ،میرے گناہوں کو دھو دے ،میری دعاؤں کو قبول فرما لے، میری دلیل کو ثابت کردے،،میرے دل کو ہدایت عطا فرما دے ،میری زبان کو سیدھا فرمادے اور میرے دل کو دل کی بیماریوں سے پاک کردے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طليق بن قيس ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ الْبَصْرِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1411

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ فِي سَائِرِ نَهَارِهِ · حديث 1412

1412 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ أَبَانَ الْقُرَشِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ طَلِيقِ بْنِ قَيْسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِدَعَوَاتٍ: «رَبِّ أَعِنِّي وَلَا تُعِنْ عَلَيَّ، وَانْصُرْنِي وَلَا تَنْصُرْ عَلَيَّ، وَامْكُرْ لِي وَلَا تَمْكُرْ عَلَيَّ، وَاهْدِنِي وَيَسِّرِ الْهُدَى إِلَيَّ، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ بَغَى عَلَيَّ، رَبِّ اجْعَلْنِي لَكَ شَكَّارًا ذَكَّارًا، لَكَ رَهَّابًا، لَكَ مِطْوَاعًا، إِلَيْكَ مُخْبِتًا مُنِيبًا، رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِي، وَاغْسِلْ حَوْبَتِي، وَأَجِبْ دَعْوَتِي، وَثَبِّتْ حُجَّتِي، وَاهْدِ قَلْبِي، وَسَدِّدْ لِسَانِي، وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ قَلْبِي»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے: رَبِّ اَعِنِّی وَلَا تُعِنْ عَلَیَّ، وَانْصُرْنِی وَلَا تَنْصُرْ عَلَیَّ، وَامْکُرْ لِی وَلَا تَمْکُرْ عَلَیَّ، وَاہْدِنِی وَیَسِّرِ الْہُدَی إِلَیَّ، وَانْصُرْنِی عَلَی مَنْ بَغَی عَلَیَّ، رَبِّ اجْعَلْنِی لَکَ شَکَّارًا ذَکَّارًا، لَکَ رَہَّابًا، لَکَ مِطْوَاعًا، إِلَیْکَ مُخْبِتًا مُنِیبًا، رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِی، وَاغْسِلْ حَوْبَتِی، وَاَجِبْ دَعْوَتِی، وَثَبِّتْ حُجَّتِی، وَاہْدِ قَلْبِی، وَسَدِّدْ لِسَانِی، وَاسْلُلْ سَخِیمَۃَ قَلْبِی،اے میرے رب !میرا تعاون فرما ،میرے خلاف کسی کا تعاون نہ کرنا ،میری مدد فرما میرے خلاف کسی کی مدد نہ کرنا،میرے لیے تدبیر کرنا میرے خلاف کسی کے لیے تدبیر نہ کرنا ،میری مدد فرما ان لوگوں کے خلاف جو مجھ پر ظلم کرنے والے ہیں ۔اے میرے رب !مجھے اپنا شکر گزار بنا دے ،اے میرے رب مجھے اپنا ذکر کرنے والا بنا دے ،اے میرے رب مجھے اپنے سے ڈرنے والا بنادے ،اپنی طرف رغبت رکھنے والا بنا دے ،اپنے سامنے عاجزی اختیار کرنے والا بنا دے ،اپنی طرف پلٹنے والا بنا دے ،اپنی طرف رجوع کرنے والا بنا دے۔اے میرے !رب میری توبہ کو قبول فرما ،میرے گناہوں کو دھو دے ،میری دعاؤں کو قبول فرما لے، میری دلیل کو ثابت کردے،،میرے دل کو ہدایت عطا فرما دے ،میری زبان کو سیدھا فرمادے اور میرے دل کو دل کی بیماریوں سے پاک کردے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طليق بن قيس ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← مِسْعَرٍ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبَانَ الْقُرَشِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّارُ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1412

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ فِي سَائِرِ نَهَارِهِ · حديث 1413

1413 - حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْخَطَّابِ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ مَجْزَأَةَ بْنِ زَاهِرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَتِي، وَآمِنْ رَوْعَتِي، وَاقْضِ دَيْنِي»

ابراہیم بن بلال اپنے والد رضی اللہ عنہ سے جو کہ صحابی رسول ہیں ان سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے :اللَّہُمَّ اسْتُرْ عَوْرَتِی، وَآمِنْ رَوْعَتِی، وَاقْضِ دَیْنِی،اے اللہ !میرے عیبوں کو چھپادے ، مجھے میرے دشمنوں کی طرف سے امن عطاء کردے اور مجھے میرے قرض سے خلاصی دلادے ۔

«اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَتِي، وَآمِنْ رَوْعَتِي، وَاقْضِ دَيْنِي» ← كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ ← أَبِيهِ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ بِلَالٍ، ← مَجْزَأَةَ بْنِ زَاهِرٍ ← قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْخَطَّابِ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1413

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ فِي سَائِرِ نَهَارِهِ · حديث 1414

1414 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ خَلَفٍ الْعَمِّيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ جَدِّهِ مَمْطُورٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّكْسَكِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: احْتَبَسَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ حَتَّى كَادَتْ تَطْلُعُ الشَّمْسُ، فَلَمَّا صَلَّى بِنَا الْغَدَاةَ قَالَ: إِنِّي صَلَّيْتُ اللَّيْلَةَ مَا قُضِيَ لِي، وَوَضَعْتُ جَنْبِي فِي الْمَسْجِدِ، فَأَتَانِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ فَقَالَ: «يَا مُحَمَّدُ، هَلْ تَدْرِي فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟» فَقُلْتُ: لَا يَا رَبِّ، قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قُلْتُ: بَلَى يَا رَبِّ، فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ فَوَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَنْدُوَتَيَّ فَتَجَلَّى لِي كُلُّ شَيْءٍ وَعَرَفْتُهُ فَقُلْتُ فِي: الدَّرَجَاتِ وَالْكَفَّارَاتِ قَالَ: «فَمَا الدَّرَجَاتُ؟» قُلْتُ: إِطْعَامُ الطَّعَامِ، وَإِفْشَاءُ السَّلَامِ، وَالصَّلَاةُ وَالنَّاسُ نِيَامٌ، قَالَ: «صَدَقْتَ» ، قَالَ: «فَمَا الْكَفَّارَاتُ؟» قُلْتُ: إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ فِي السَّبْرَاتِ، وَانْتِظَارِ الصَّلَوَاتِ بَعْدَ الصَّلَوَاتِ، وَنَقْلُ الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ، قَالَ: «سَلْ يَا مُحَمَّدُ» ، قُلْتُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ بَيْنَ عِبَادِكَ فِتْنَةً فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ وَأَنَا غَيْرُ مَفْتُونٍ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُبَّكَ، وَحُبَّ مَنْ أَحَبَّكَ، وَحُبَّ عَمَلٍ يُقَرِّبُنِي إِلَى حُبِّكَ "، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَعَلَّمُوهُنَّ وَادْرُسُوهُنَّ فَإِنَّهُنَّ حَقٌّ

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ہمیں فجر کی نماز پڑھانے کے لئے انتظار کروایا، آتاخیر سے تشریف فرما ہوئے، جبکہ سورج طلوع ہونے کے قریب تھا ،آپ نے ہمیں نماز پڑھائی، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے ، آپ نے فرمایا : میں نے رات کے وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے نصیب میں لکھی ہوئی نماز کو ادا کیا۔ اس کے بعد میںمسجد میں لیٹ گیا ،اسی دوران اللہ رب العزت بہت ہی احسن صورت میں میرے پاس آئے ، اللہ تعالیٰ نے مجھ سے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! کیا تمہیں علم ہے کہ بڑے فرشتے کس کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں ،اے میرے رب !اللہ تعالیٰ نے یہ بات تین بار ارشاد فرمائی ،میں نے کہا:کیوں نہیں اے میرے رب !اللہ تعالیٰ میں نے میرے کندھوں کے درمیان اپنا دست مبارک رکھا ، میں ان کی ٹھنڈک کو محسوس کیا ، میرے لیے ہر چیز کو منور کر دیااور مجھے اس کا علم ہوگیا ۔ تو میں نے کہا : درجات کے بارے میں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:درجات کیا ہیں ؟میں نے کہا :کھانا کھلانا،سلام کو عام کرنا ، رات کے وقت جب لوگ سوئے ہوں تب نماز پڑھنا ،اللہ تعالیٰ نے فرمایا:درست کہا ،اللہ تعالیٰ نے فرمایا:کفارات (گناہوں کو مٹانے والے اعمال )کیاہیں؟میں نے کہا:ناپسندیدگی کے وقت میںمکمل اہتمام کے ساتھ وضو کرنا،ایک نماز کے بعد دوسری نماز کے انتظار میں بیٹھے رہنا اورپیدل چل کر جماعت میں شریک ہونے کے لیے مسجد کی طرف جانا۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !مانگو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں نے یہ دعا کی:اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْاَلُکَ فِعْلَ الْخَیْرَاتِ، وَتَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاکِینِ، وَاَنْ تَغْفِرَ لِی وَتَرْحَمَنِی، وَإِذَا اَرَدْتَ بَیْنَ عِبَادِکَ فِتْنَۃً فَاقْبِضْنِی إِلَیْکَ وَاَنَا غَیْرُ مَفْتُونٍ، اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْاَلُکَ حُبَّکَ، وَحُبَّ مَنْ اَحَبَّکَ، وَحُبَّ عَمَلٍ یُقَرِّبُنِی إِلَی حُبِّکَ، اے اللہ! میں تجھ سے اچھے کام کرنے کی توفیق کا سوال کرتا ہوں ، برے کاموں کو چھوڑنے کی دعا کرتا ہوں ،مسکینوں سے محبت کرنے کی دعا کرتا ہوں ،تو مجھ پر رحم کردے اور مجھے بخش دے ۔ جب تو اپنے بندوں کے درمیان کسی آزمائش اور فتنے کو ڈالنا چاہے تو مجھے اس سے پہلے بغیر کسی فتنے میں مبتلا کییبلا لینا ،اے اللہ!میں تجھ سے تیری محبت کا سوال کرتا ہوں اور میں تجھ سے ان کی محبت کا سوال کرتا ہوںجو تجھ سے محبت کرنے والا ہواور اس عمل کی محبت کا سوا ل کرتا ہوں جوعمل مجھے تیری محبت کے قریب کردے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس کو سیکھ لو اور دوسروں کو سکھلائو ۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ، ← أبي عبد الرحمن السكسكي ← جَدِّهِ مَمْطُورٍ، ← زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مُوسَی بْنُ خَلَفٍ الْعَمِّیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1414

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ فِي سَائِرِ نَهَارِهِ · حديث 1415

1415 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ، ثنا أَبِي، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمِنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَبْطَأَ عَنَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْفَجْرِ حَتَّى كَادَتْ أَنْ تُدْرِكَنَا الشَّمْسُ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى بِنَا فَخَفَّفَ فِي صَلَاتِهِ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ: " عَلَى مَكَانِكُمْ أُخْبِرُكُمْ مَا أَبْطَأَنِي عَنْكُمْ فِي هَذِهِ الصَّلَاةِ، إِنِّي صَلَّيْتُ فِي لَيْلَتِي هَذِهِ مَا شَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ مَلَكَتْنِي عَيْنِي فَنِمْتُ فَرَأَيْتُ رَبِّيَ عَزَّ وَجَلَّ فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ وَأَجْمَلِهَا، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَبِّ، قَالَ: فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟ قُلْتُ: لَا أَدْرِي، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَبِّ، قَالَ: فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟ قُلْتُ: لَا أَدْرِي يَا رَبِّ، فَوَضَعَ كَفَّهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ فَوَجَدْتُ بَرْدَ أَنَامِلِهِ بَيْنَ ثَدْيَيَّ فَعَلِمْتُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ وَبَصُرْتُهُ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ، قَالَ: فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟ قُلْتُ: فِي الْكَفَّارَاتِ، قَالَ: وَمَا هُنَّ؟ قُلْتُ: الْمَشْي عَلَى الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ، وَإِسْبَاغِ الْوُضُوءِ فِي السَّبْرَاتِ، قَالَ: وَمَا الدَّرَجَاتُ؟ قُلْتُ: إِطْعَامُ الطَّعَامِ، وَلِينُ الْكَلَامِ، وَالصَّلَاةُ بِاللَّيْلِ [ص:419] وَالنَّاسُ نِيَامٌ، قَالَ: سَلْ، قُلْتُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةً بَيْنَ خَلْقِكَ فَنَجِّنِي إِلَيْكَ غَيْرَ مَفْتُونٍ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ أَحَبَّكَ، وَحُبَّ عَمَلٍ يُقَرِّبُنِي إِلَى حُبِّكَ»

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فجر کی نماز پڑھانے کے لئے ہمارے پاس مسجد میں آنے میں تاخیر کی ،جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا ئے تو سورج طلوع ہونے کے قریب تھا ،آپ نے ہمیں نماز پڑھائی مختصر نماز پڑھائی ،پھر آپ نماز سے فارغ ہوئے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف اپنے چہرے کے ساتھ متوجہ ہوئے ، آپ نے فرمایا :اپنی جگہوں پر بیٹھے رہو ،تمہارے پاس نماز کے لیے آنے سے مجھے اس بات نے تاخیر کی کہ میں نے رات کے وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے نصیب میں لکھی ہوئی نماز کو ادا کیا۔ اس کے بعد میں لیٹ گیا،میری آنکھیں مجھ پر غالب آگئیں،میں سوگیا ،اس دوران میں نے اپنے رب عزوجل کو بہت ہی احسن اور اجمل صورت میں دیکھا ،اللہ نے کہا:اے محمد !میں نے کہا:لبیک یارب !اللہ نے تعالیٰ نے فرمایا:بڑے فرشتے کس چیز کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں؟ میں نے کہا: مجھے علم نہیں اے میرے رب!اللہ تعالیٰ میں نے میرے کندھوں کے درمیان اپنا دست مبارک رکھا ، میں نے انگلیوں کے پوروں کی ٹھنڈک کو اپنی چاتیوں کے درمیان محسوس کیا ، میںنے ہر چیز کوجان لیا اور دیکھ لیا ،پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !میں نے کہا:لبیک یارب !اللہ نے تعالیٰ نے فرمایا:بڑے فرشتے کس چیز کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں؟ میں نے کہا : کفارات (گناہوں کو مٹانے والے اعمال )اللہ تعالیٰ نے فرمایا:وہ کیاہیں؟میں نے کہا:پیدل چل کر جماعت میں شریک ہونے کے لیے مسجد کی طرف جانااورناپسندیدگی کے وقت میںمکمل اہتمام کے ساتھ وضو کرنا،اللہ تعالیٰ نے فرمایا:درجات کیا ہیں ؟میں نے کہا :کھانا کھلانا،نرم کلام کرنا،رات کے وقت جب لوگ سوئے ہوں تب نماز پڑھنا ،اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !مانگو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں نے یہ دعا کی:اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْاَلُکَ فِعْلَ الْخَیْرَاتِ، وَتَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاکِینِ، وَاَنْ تَغْفِرَ لِی وَتَرْحَمَنِی، وَإِذَا اَرَدْتَ فِتْنَۃً بَیْنَ خَلْقِکَ فَنَجِّنِی إِلَیْکَ غَیْرَ مَفْتُونٍ، اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْاَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ اَحَبَّکَ، وَحُبَّ عَمَلٍ یُقَرِّبُنِی إِلَی حُبِّکَ، اے اللہ! میں تجھ سے اچھے کام کرنے کی توفیق کا سوال کرتا ہوں ، برے کاموں کو چھوڑنے کی دعا کرتا ہوں ،مسکینوں سے محبت کرنے کی دعا کرتا ہوں ،تو مجھ پر رحم کردے اور مجھے بخش دے ۔ جب تو اپنے بندوں کے درمیان کسی آزمائش اور فتنے کو ڈالنا چاہے تو مجھے اس سے پہلے بغیر کسی فتنے میں مبتلا کییبلا لینا ،اے اللہ!میں تجھ سے تیری محبت کا سوال کرتا ہوں اور میں تجھ سے ان کی محبت کا سوال کرتا ہوںجو تجھ سے محبت کرنے والا ہواور اس عمل کی محبت کا سوا ل کرتا ہوں جوعمل مجھے تیری محبت کے قریب کردے ۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1415

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ فِي سَائِرِ نَهَارِهِ · حديث 1416

1416 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُبَارَكِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ دَلِيلٍ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، أَوْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطِ قَالَ حَمَّادُ بْنُ دَلِيلٍ: وَحَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ صَالِحِ بْنِ حَيٍّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " رَأَيْتُ رَبِّيَ عَزَّ وَجَلَّ فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ فَقَالَ: فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟ فَقُلْتُ: لَا أَدْرِي، فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ أَنَامِلِهِ، ثُمَّ قَالَ: فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟ قُلْتُ: فِي الْكَفَّارَاتِ وَالدَّرَجَاتِ، قَالَ: وَمَا الْكَفَّارَاتُ؟ قُلْتُ: إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ فِي السَّبْرَاتِ، وَنَقْلُ الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، قَالَ: فَمَا الدَّرَجَاتُ؟ قُلْتُ: إِطْعَامُ الطَّعَامِ، وَإِفْشَاءُ السَّلَامِ، وَصَلَاةٌ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ، قَالَ: قُلْ، قَالَ: قُلْتُ: مَا أَقُولُ؟ قَالَ: قُلِ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عَمَلًا بِالْحَسَنَاتِ، وَتَرًكَا لِلْمُنْكَرَاتِ، وَإِذَا أَرَدْتَ فِي قَوْمٍ فِتْنَةً وَأَنَا فِيهِمْ فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ غَيْرَ مَفْتُونٍ»

حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے رب عزوجل کو نہایت احسن صورت میں دیکھا۔ اللہ نے مجھے فرمایا:بڑے فرشتے کس چیز کے بارے میں جھگڑ رہے ہیں؟ میں نے کہا:مجھے علم نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے کندھوں کے درمیان میں رکھا یہاں تک کہ میں نے پوروں کی ٹھنڈک کو اپنے سینے پر محسوس کیا اور اللہ نے فرمایا:بڑے فرشتے کس چیز کے بارے میں جھگڑ رہے ہیں؟ میں نے کہا: کفارات کے بارے میں اور درجات کے بارے میں، اللہ نے کہا کفارات کیا ہیں ؟میں نے کہا: ناپسندیدگی کے وقت مکمل اہتمام کے ساتھ وضو کرنا،نماز با جماعت کی ادائیگی کے لیے پیدل چل کر مسجد کی طرف جانا اورایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ۔ اللہ نے کہا:درجات کیا ہیں؟میں نے کہا :کھانا کھلانا ، سلام کو عام کرنا ،رات کے وقت جب لوگ سوئے ہوں تب نماز پڑھنا۔ اللہ نے کہا :اے نبی کہو کیا کہنا چاہتے ہو، میں نے کہا میں کیا کہوں ؟اللہ نے فرمایا: یہ دعا کرو: اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْاَلُکَ عَمَلًا بِالْحَسَنَاتِ، وَتَرًکَا لِلْمُنْکَرَاتِ، وَإِذَا اَرَدْتَ فِی قَوْمٍ فِتْنَۃً وَاَنَا فِیہِمْ فَاقْبِضْنِی إِلَیْکَ غَیْرَ مَفْتُون،اے اللہ !میں تجھ سے ایسے اعمال کا سوال کرتا ہوں جو اچھائی والے ہوں میں تتجھ سیبرائی کو چھوڑنے کی درخواست کرتا ہوں ،اے اللہ! جب توکسی قوم کو کسی فتنے میں اور آزمائش میں مبتلا کرنا چاہے تو مجھے اس سے پہلے کسی فتنے میں مبتلا کیے بغیر اٹھا لینا۔

طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، أَوْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطِ ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ، ← حَمَّادِ بْنِ دَلِيلٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُبَارَكِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1416

chevron_left Previous
1…117118119…188
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter
307. Chapter
308. Chapter
309. Chapter
310. Chapter
311. Chapter
312. Chapter
313. Chapter
314. Chapter
315. Chapter
316. Chapter
317. Chapter