Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
كتاب الدعاء

Kitab Al Dua

by Tibrani

2,251 Hadith318 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ بِالْعَافِيَةِ · حديث 1297

1297 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْخَشَّابُ الرَّقِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي وَمَالِي»

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے : اے اللہ!میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں ہر طرح کے آرام اور راحت کا سوال کرتا ہوں ۔اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْاَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْاَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فِی دِینِی وَدُنْیَایَ وَاَہْلِی وَمَالِی، اے اللہ!میں تجھ سے معافی اور عافیت کا طلب گار ہوں اپنے دین و دنیا میں اور اپنے اہل و مال میں ۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ← يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْخَشَّابُ الرَّقِّيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1297

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ بِالْعَافِيَةِ · حديث 1298

1298 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَمُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ قَالُوا: ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ؟ فَقَالَ: «سَلْ رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» ثُمَّ أَتَى الْغَدَ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ؟ فَقَالَ: «سَلِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» ثُمَّ أَتَاهُ الْيَوْمَ الثَّالِثَ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ؟ فَقَالَ: سَلِ اللَّهَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، فَإِذَا أُعْطِيتَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْعَفْوَ فِي الْآخِرَةِ فَقَدْ أَفْلَحْتَ "

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ :ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کون سی دعا افضل ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے رب سے دنیا وآخرت میں عفو اور عافیت کا سوال کرو، پھر دوسرے روز بھی یہی سوال وجواب ہوا، پھر تیسرے دن یہ شخص حاضر ہوا اور کہنے لگا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم!کون سی دعا افضل ہے؟ توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے رب سے دنیا وآخرت میں عفو اور عافیت کا سوال کرو، جب تمہیں دنیا وآخرت میں عفو اور عافیت مل جائے تو تحقیق تم کامیاب ہوگئے۔

أَتَى النَّبِيَّ رَجُلٌ فقَالَ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← سَلَمَۃُ بْنُ وَرْدَانَ ← الْقَعْنَبِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَمُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1298

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ بِالْعَافِيَةِ · حديث 1299

1299 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ صَالِحٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِمُجَذَّمِينَ فَقَالَ: «مَا كَانَ هَؤُلَاءِ يَسْأَلُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ الْعَافِيَةَ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجذوم لوگوں کے پاس سے گزرے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال نہیں کیا کرتے تھے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ صَالِحٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1299

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ بِالْعَافِيَةِ · حديث 1300

1300 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْحِنَّائِيُّ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، ثنا نَافِعٌ أَبُو هُرْمُزَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَوْمٍ مُجَذَّمِينَ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَشَدَّ بَلَاءِ هَؤُلَاءِ، فَقَالَ: " إِنَّهُمْ كَانُوا فِي أَصْلَابِ أُنَاسٍ لَمْ يَسْأَلُوا اللَّهَ تَعَالَى الْعَافِيَةَ، وَلَوْ أَنَّهُمْ تَكَلَّمُوا بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ مَا أَصَابَهُمْ هَذَا: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ "

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کچھ مجذوم لوگوں کے پاس سے گزرے ،ہم نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !یہ لوگ کس قد ر سخت آزمائش میں مبتلا ہیں ، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال نہیں کیا کرتے تھے ، اگر یہ لوگ ان کلمات کو اپنی زبانوں پر جاری رکھتے تو ان کو اس مصیبت کا سامنا نہ کرنا پڑتا ۔و ہ کلمات :سُبْحَانَ اللَّہِ وَبِحَمْدِہِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللَّہِ ،اللہ تعالیٰ پاک ہے اپنی حمد کے ساتھ ،نیکی کرنے اور برائی سے بچنے کی ہمت صرف اللہ کی توفیق کے ساتھ ہے ۔

مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ عَلَى قَوْمٍ مُجَذَّمِينَ فَقُلْنَا: ← عَائِشَةَ ← عَطَاءٍ، ← نَافِعٌ أَبُو هُرْمُزَ، ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْحِنَّائِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1300

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الِاسْتِخَارَةِ · حديث 1301

1301 - حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي لَيْلَى، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا اسْتَخَارَ فِي الْأَمْرِ يُرِيدُ أَنْ يَصْنَعَهُ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا خَيْرًا لِي فِي دِينِي، وَخَيْرًا لِي فِي مَعِيشَتِي، وَخَيْرًا لِي فِيمَا أَبْتَغِي بِهِ الْخَيْرَ، فَخِرْ لِي فِي عَافِيَةٍ وَيَسِّرْهُ لِي، ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ خَيْرًا فَاقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ»

حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کام کے لیے استخارہ کرتے تویہ دعا پڑھتے :اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْتَخِیرُکَ بِعِلْمِکَ، وَاَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ، وَاَسْاَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ، فَإِنَّکَ تَقْدِرُ وَلَا اَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا اَعْلَمُ، وَاَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوبِ، اللَّہُمَّ إِنْ کَانَ ہَذَا خَیْرًا لِی فِی دِینِی، وَخَیْرًا لِی فِی مَعِیشَتِی، وَخَیْرًا لِی فِیمَا اَبْتَغِی بِہِ الْخَیْرَ، فَخِرْ لِی فِی عَافِیَۃٍ وَیَسِّرْہُ لِی، ثُمَّ بَارِکْ لِی فِیہِ، وَإِنْ کَانَ غَیْرَ ذَلِکَ خَیْرًا فَاقْدُرْ لِیَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ،اے اللہ !میں تیرے علم کا واسطہ دے کر تجھ سے خیر طلب کرتا ہوں، اورتیری قدرت کا واسطہ دے کر میں تجھ سے اچھائی پر قدرت طلب کرتا ہوں، تو غیبوں کو خوب جاننے والاہے، اے اللہ !تو علم رکھتا ہے، میں علم نہیں رکھتا۔ یعنی یہ معاملہ حق میں بہتر ہے یا نہیں، اس کا علم تجھے ہے مجھے نہیں، اور تو قدرت رکھتاہے اور میرے اندر قدرت نہیں، یا اللہ!اگر تیرے علم میں ہے کہ یہ معاملہ (اس موقع پر اس معاملہ کا تصور دل میں لائے، جس کے لئے استخارہ کررہا ہے)میرے حق میں بہتر ہے، میرے دین کے لئے بھی بہتر ہے، میری معاش اور دنیا کے اعتبار سے بھی بہتر ہے، تو اس کو میرے لئے مقدر فرمادیجئے اور اس کو میرے لئے آسان فرمادیجئے اور اس میں میرے لئے برکت پیدا فرمادیجئے، اور اگرتیرے علم میں یہ بات ہے کہ یہ معاملہ میرے حق میں بُرا ہے، میرے دین کے حق میں بُرا ہے یا میری دنیا اور معاش کے حق میں بُرا ہے یا میرے انجام کار کے اعتبار سے بُرا ہے، تو اس کام کو مجھ سے پھیردیجئے اور مجھے اس سے پھیر دیجئے، اور میرے لئے خیر مقدر فرمادیجئے جہاں بھی ہو۔ (یعنی اگریہ معاملہ میرے لئے بہتر نہیں ہے تو اس کو تو چھوڑ دیجئے اور اس کے بدلے جوکام میرے لئے بہتر ہو،اس کو مقدر فرمادیجئے،) پھر مجھے اس پر راضی بھی کردیجئے۔

النَّبِيِّ أَنَّهُ كَانَ إِذَا اسْتَخَارَ فِي الْأَمْرِ يُرِيدُ أَنْ يَصْنَعَهُ ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي لَيْلَى، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1301

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الِاسْتِخَارَةِ · حديث 1302

1302 - حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيِّ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْأَنْطَاكِيُّ، ثنا صَالِحُ بْنُ مُوسَى الطَّلْحِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الِاسْتِخَارَةَ فَقَالَ: " إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَمْرًا فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ، فَإِنَّكَ تَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَتَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، فَإِنْ كَانَ هَذَا الَّذِي أُرِيدُ خَيْرًا لِي فِي دِينِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَيَسِّرْ لِي، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ خَيْرًا لِي فَاقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ، يَقُولُ ذَلِكَ ثُمَّ يَعْزِمُ "

حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں استخار کرنا سکھلایا اور فرمایا:جب تم میں سے کسی کو کوئی کام لاحق ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ یہ دعا پڑھے:اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْتَخِیرُکَ بِعِلْمِکَ، وَاَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ، وَاَسْاَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ، فَإِنَّکَ تَعْلَمُ وَلَا اَعْلَمُ، وَتَقْدِرُ وَلَا اَقْدِرُ، وَاَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوبِ، فَإِنْ کَانَ ہَذَا الَّذِی اُرِیدُ خَیْرًا لِی فِی دِینِی وَعَاقِبَۃِ اَمْرِی فَیَسِّرْ لِی، وَإِنْ کَانَ غَیْرَ ذَلِکَ خَیْرًا لِی فَاقْدُرْ لِیَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ،اے اللہ !میں تیرے علم کا واسطہ دے کر تجھ سے خیر طلب کرتا ہوں، اورتیری قدرت کا واسطہ دے کر میں تجھ سے اچھائی پر قدرت طلب کرتا ہوں، تو غیبوں کو خوب جاننے والاہے، اے اللہ !تو علم رکھتا ہے، میں علم نہیں رکھتا۔ یعنی یہ معاملہ حق میں بہتر ہے یا نہیں، اس کا علم تجھے ہے مجھے نہیں، اور تو قدرت رکھتاہے اور میرے اندر قدرت نہیں، یا اللہ!اگر تیرے علم میں ہے کہ یہ معاملہ (اس موقع پر اس معاملہ کا تصور دل میں لائے، جس کے لئے استخارہ کررہا ہے)میرے حق میں بہتر ہے، میرے دین کے لئے بھی بہتر ہے، میری معاش اور دنیا کے اعتبار سے بھی بہتر ہے، تو اس کو میرے لئے مقدر فرمادیجئے اور اس کو میرے لئے آسان فرمادیجئے اور اس میں میرے لئے برکت پیدا فرمادیجئے، اور اگرتیرے علم میں یہ بات ہے کہ یہ معاملہ میرے حق میں بُرا ہے، میرے دین کے حق میں بُرا ہے یا میری دنیا اور معاش کے حق میں بُرا ہے یا میرے انجام کار کے اعتبار سے بُرا ہے، تو اس کام کو مجھ سے پھیردیجئے اور مجھے اس سے پھیر دیجئے، اور میرے لئے خیر مقدر فرمادیجئے جہاں بھی ہو۔ (یعنی اگریہ معاملہ میرے لئے بہتر نہیں ہے تو اس کو تو چھوڑ دیجئے اور اس کے بدلے جوکام میرے لئے بہتر ہو،اس کو مقدر فرمادیجئے،) پھر مجھے اس پر راضی بھی کردیجئے۔یہ دعا پڑھتے اس کے بعد پختہ ارادہ کرلیتے ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← صالح بن موسى الطلحي ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْأَنْطَاكِيُّ، ← على إبراهيم بن سعيد الجوهري ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1302

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الِاسْتِخَارَةِ · حديث 1303

1303 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُقَاتِلٍ خَالُ الْقَعْنَبِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالُوا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمُوَالِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَةَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ يَقُولُ: " إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالْأَمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي [ص:389] أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ، فَإِنَّكَ تَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَتَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ هَذَا الْأَمْرَ خَيْرًا لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي، أَوْ فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي، وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ هَذَا الْأَمْرَ شَرًّا لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي أَوْ فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ، وَاقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ وَرَضِّنِي بِهِ وَيُسَمِّي حَاجَتَهُ بِاسْمِهَا "

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں استخار اس طرح سکھلاتے جس طرح قرآن مجید کی کوئی سورت سکھلایا کرتے تھے ،آپ نے فرمایا:جب تم میں سے کوئی کسی کام کا ارادہ کرے تو اس کو چاہیے کہ وہ شخص فرائض کے علاوہ دو رکعت نفل نماز ادا کرے پھر یہ دعا پڑھے :اللَّہُمَّ إِنِّی (ص:389) اَسْتَخِیرُکَ بِعِلْمِکَ، وَاَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ، وَاَسْاَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ، فَإِنَّکَ تَعْلَمُ وَلَا اَعْلَمُ، وَتَقْدِرُ وَلَا اَقْدِرُ، وَاَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوبِ، اللَّہُمَّ إِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ ہَذَا الْاَمْرَ خَیْرًا لِی فِی دِینِی وَمَعَاشِی وَعَاقِبَۃِ اَمْرِی، اَوْ فِی عَاجِلِ اَمْرِی وَآجِلِہِ فَاقْدُرْہُ لِی وَیَسِّرْہُ لِی، وَإِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ ہَذَا الْاَمْرَ شَرًّا لِی فِی دِینِی وَمَعَاشِی وَعَاقِبَۃِ اَمْرِی اَوْ فِی عَاجِلِ اَمْرِی وَآجِلِہِ فَاصْرِفْہُ عَنِّی وَاصْرِفْنِی عَنْہُ، وَاقْدُرْ لِیَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ وَرَضِّنِی بِہِ،اے اللہ !میں تیرے علم کا واسطہ دے کر تجھ سے خیر طلب کرتا ہوں، اورتیری قدرت کا واسطہ دے کر میں تجھ سے اچھائی پر قدرت طلب کرتا ہوں، تو غیبوں کو خوب جاننے والاہے، اے اللہ !تو علم رکھتا ہے، میں علم نہیں رکھتا۔ یعنی یہ معاملہ حق میں بہتر ہے یا نہیں، اس کا علم تجھے ہے مجھے نہیں، اور تو قدرت رکھتاہے اور میرے اندر قدرت نہیں، یا اللہ!اگر تیرے علم میں ہے کہ یہ معاملہ (اس موقع پر اس معاملہ کا تصور دل میں لائے، جس کے لئے استخارہ کررہا ہے)میرے حق میں بہتر ہے، میرے دین کے لئے بھی بہتر ہے، میری معاش اور دنیا کے اعتبار سے بھی بہتر ہے، تو اس کو میرے لئے مقدر فرمادیجئے اور اس کو میرے لئے آسان فرمادیجئے اور اس میں میرے لئے برکت پیدا فرمادیجئے، اور اگرتیرے علم میں یہ بات ہے کہ یہ معاملہ میرے حق میں بُرا ہے، میرے دین کے حق میں بُرا ہے یا میری دنیا اور معاش کے حق میں بُرا ہے یا میرے انجام کار کے اعتبار سے بُرا ہے، تو اس کام کو مجھ سے پھیردیجئے اور مجھے اس سے پھیر دیجئے، اور میرے لئے خیر مقدر فرمادیجئے جہاں بھی ہو۔ (یعنی اگریہ معاملہ میرے لئے بہتر نہیں ہے تو اس کو تو چھوڑ دیجئے اور اس کے بدلے جوکام میرے لئے بہتر ہو،اس کو مقدر فرمادیجئے،) پھر مجھے اس پر راضی بھی کردیجئے۔اور اپنے کام کا نام لے ۔

إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالْأَمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ، ثُمَّ ← «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَهْ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ» ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُقَاتِلٍ خَالُ الْقَعْنَبِيِّ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1303

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الِاسْتِخَارَةِ · حديث 1304

1304 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، قَالَا: ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكِ الدَّارِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَمْرًا فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ كَذَا وَكَذَا لِلْأَمْرِ الَّذِي تُرِيدُ خَيْرًا لِي فِي دِينِي وَمَعِيشَتِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي، فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي وَأَعَنِّي عَلَيْهِ، وَإِنْ كَانَ كَذَا وَكَذَا لِلَّذِي يُرِيدُ شَرًّا لِي فِي دِينِي وَمَعِيشَتِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ أَيْنَمَا كَانَ، وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ "

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سناکہ جب تم میں سے کسی کو کوئی کام ہوتو اس کو چاہیے کہ وہ شخص یہ دعا پڑھے :اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْتَخِیرُکَ بِعِلْمِکَ، وَاَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ، وَاَسْاَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ، فَإِنَّکَ تَقْدِرُ وَلَا اَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا اَعْلَمُ، وَاَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوبِ، اللَّہُمَّ إِنْ کَانَ کَذَا وَکَذَا لِلْاَمْرِ الَّذِی تُرِیدُ خَیْرًا لِی فِی دِینِی وَمَعِیشَتِی وَعَاقِبَۃِ اَمْرِی، فَاقْدُرْہُ لِی وَیَسِّرْہُ لِی وَاَعَنِّی عَلَیْہِ، وَإِنْ کَانَ کَذَا وَکَذَا لِلَّذِی یُرِیدُ شَرًّا لِی فِی دِینِی وَمَعِیشَتِی وَعَاقِبَۃِ اَمْرِی فَاصْرِفْہُ عَنِّی وَاقْدُرْ لِیَ الْخَیْرَ اَیْنَمَا کَانَ، وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللَّہِ،اے اللہ !میں تیرے علم کا واسطہ دے کر تجھ سے خیر طلب کرتا ہوں، اورتیری قدرت کا واسطہ دے کر میں تجھ سے اچھائی پر قدرت طلب کرتا ہوں، تو غیبوں کو خوب جاننے والاہے، اے اللہ !تو علم رکھتا ہے، میں علم نہیں رکھتا۔ یعنی یہ معاملہ حق میں بہتر ہے یا نہیں، اس کا علم تجھے ہے مجھے نہیں، اور تو قدرت رکھتاہے اور میرے اندر قدرت نہیں، یا اللہ!اگر تیرے علم میں ہے کہ یہ معاملہ (اس موقع پر اس معاملہ کا تصور دل میں لائے، جس کے لئے استخارہ کررہا ہے)میرے حق میں بہتر ہے، میرے دین کے لئے بھی بہتر ہے، میری معاش اور دنیا کے اعتبار سے بھی بہتر ہے، تو اس کو میرے لئے مقدر فرمادیجئے اور اس کو میرے لئے آسان فرمادیجئے اور اس میں میرے لئے برکت پیدا فرمادیجئے، اور اگرتیرے علم میں یہ بات ہے کہ یہ معاملہ میرے حق میں بُرا ہے، میرے دین کے حق میں بُرا ہے یا میری دنیا اور معاش کے حق میں بُرا ہے یا میرے انجام کار کے اعتبار سے بُرا ہے، تو اس کام کو مجھ سے پھیردیجئے اور مجھے اس سے پھیر دیجئے، اور میرے لئے خیر مقدر فرمادیجئے جہاں بھی ہو۔ (یعنی اگریہ معاملہ میرے لئے بہتر نہیں ہے تو اس کو تو چھوڑ دیجئے اور اس کے بدلے جوکام میرے لئے بہتر ہو،اس کو مقدر فرمادیجئے،)پھر مجھے اس پر راضی بھی کردیجئے۔۔اے اللہ !تیری توفیق کے بغیر ممکن نہیں ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ← عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكِ الدَّارِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← أَبُو خَلِيفَةَ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1304

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الِاسْتِخَارَةِ · حديث 1305

1305 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، وَسَلَامَةُ بْنُ نَاهِضٍ الْمَقْدِسِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ الْعَسْقَلَانِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَانِئِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ، ثنا أَبِي، ثنا عَمِّي إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَا: كُنَّا نَتَعَلَّمُ الِاسْتِخَارَةَ كَمَا يَتَعَلَّمُ أَحَدُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ مَا قَضَيْتَ عَلَيَّ مِنْ قَضَاءٍ فَاجْعَلْ عَاقِبَتَهُ إِلَى خَيْرٍ»

حضرت عبد اللہ بن عمر اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ استخارہ اس طرح سیکھا کرتے تھے جس طرح ہم قرآن کی سورتیں سیکھا کرتے ،استخارہ کی دعا : اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْتَخِیرُکَ بِعِلْمِکَ، وَاَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ، فَإِنَّکَ تَقْدِرُ وَلَا اَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا اَعْلَمُ، وَاَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوبِ، اللَّہُمَّ مَا قَضَیْتَ عَلَیَّ مِنْ قَضَاء ٍ فَاجْعَلْ عَاقِبَتَہُ إِلَی خَیْرٍ،اے اللہ !میں آپ کے علم کا واسطہ دے کر آپ سے خیر طلب کرتا ہوں، اور آپ کی قدرت کا واسطہ دے کر میں اچھائی پر قدرت طلب کرتا ہوں، تو غیبوں کو جاننے والا ہے ۔ اے اللہ !تونے میرے بارے میں جو بھی فیصلہ کیا ہے اس کا انجام اور انتہاء خیر اور بھلائی والی بنادے ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← عَمِّي، إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَانِئِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ الْعَسْقَلَانِيُّ، ← سَلَامَةُ بْنُ نَاهِضٍ الْمَقْدِسِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1305

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الِاسْتِخَارَةِ · حديث 1306

1306 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ بُرْدٍ الْأَنْطَاكِيُّ، قَالَا: ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ شِبْلِ بْنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَمْرًا فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ كَذَا وَكَذَا خَيْرًا لِي فِي مَعِيشَتِي وَخَيْرًا لِي فِي عَاقِبَةِ أَمْرِي فَاقْدُرْهُ لِي وَبَارِكْ لِي فِيهِ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ فَاقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ وَرَضِّنِي بِقُدْرَتِكَ " حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَافِعٍ الطَّحَّانُ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ، أَنَّ أَيُّوبَ بْنَ خَالِدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ، أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي أَيُّوبَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: " اكْتُمُ الْخِطْبَةَ ثُمَّ تَوَضَّأْ فَأَحْسِنْ وضُوءَكَ، ثُمَّ صَلِّ مَا كَتَبَ اللَّهُ لَكَ، ثُمَّ احْمَدْ رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ جَدُّهُ، ثُمَّ قُلِ: اللَّهُمَّ أَنْتَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ لِي فِي فُلَانَةَ خَيْرٌ وَسَمِّهَا بِاسْمِهَا فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَآخِرَتِي فَاقْدِرْهَا لِي، وَإِنْ كَانَ غَيْرَهَا خَيْرًا لِي فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَآخِرَتِي فَاقْضِ لِي بِهَا وَقَدِّرْهَا لِي "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم میں سے کسی کو کوئی کام ہوتو اس کو چاہیے کہ وہ شخص یہ دعا پڑھے :اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْتَخِیرُکَ بِعِلْمِکَ، وَاَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ، وَاَسْاَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ، فَإِنَّکَ تَقْدِرُ وَلَا اَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا اَعْلَمُ، وَاَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوبِ، اللَّہُمَّ إِنْ کَانَ کَذَا وَکَذَا خَیْرًا لِی فِی مَعِیشَتِی وَخَیْرًا لِی فِی عَاقِبَۃِ اَمْرِی فَاقْدُرْہُ لِی وَبَارِکْ لِی فِیہِ، وَإِنْ کَانَ غَیْرَ ذَلِکَ فَاقْدُرْ لِیَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ وَرَضِّنِی بِقُدْرَتِکَ،اے اللہ !میں تیرے علم کا واسطہ دے کر تجھ سے خیر طلب کرتا ہوں، اورتیری قدرت کا واسطہ دے کر میں تجھ سے اچھائی پر قدرت طلب کرتا ہوں، تو غیبوں کو خوب جاننے والاہے، اے اللہ !تو علم رکھتا ہے، میں علم نہیں رکھتا۔ یعنی یہ معاملہ حق میں بہتر ہے یا نہیں، اس کا علم تجھے ہے مجھے نہیں، اور تو قدرت رکھتاہے اور میرے اندر قدرت نہیں، یا اللہ!اگر تیرے علم میں ہے کہ یہ معاملہ (اس موقع پر اس معاملہ کا تصور دل میں لائے، جس کے لئے استخارہ کررہا ہے)میرے حق میں بہتر ہے، میرے دین کے لئے بھی بہتر ہے، میری معاش اور دنیا کے اعتبار سے بھی بہتر ہے، تو اس کو میرے لئے مقدر فرمادیجئے اور اس کو میرے لئے آسان فرمادیجئے اور اس میں میرے لئے برکت پیدا فرمادیجئے، اور اگرتیرے علم میں یہ بات ہے کہ یہ معاملہ میرے حق میں بُرا ہے، میرے دین کے حق میں بُرا ہے یا میری دنیا اور معاش کے حق میں بُرا ہے یا میرے انجام کار کے اعتبار سے بُرا ہے، تو اس کام کو مجھ سے پھیردیجئے اور مجھے اس سے پھیر دیجئے، اور میرے لئے خیر مقدر فرمادیجئے جہاں بھی ہو۔ (یعنی اگریہ معاملہ میرے لئے بہتر نہیں ہے تو اس کو تو چھوڑ دیجئے اور اس کے بدلے جوکام میرے لئے بہتر ہو،اس کو مقدر فرمادیجئے،) پھر مجھے اس پر راضی بھی کردیجئے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← شِبْلُ بْنُ الْعَلَاءِ، ← ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ بُرْدٍ الْأَنْطَاكِيُّ، ← وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ الْعَسْكَرِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1306

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الِاسْتِخَارَةِ · حديث 1307

1307 - بَابُ مَا يَقُولُ مَنِ اشْتَرَى دَابَّةً أَوْ عَبْدًا

حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:پیغام نکاح کو چھپا لو ، اس کے بعد نہایت احسن انداز میں وضوء کرو ،پھر نماز پڑھو جتنی اللہ تعالیٰ نے تمہارے مقدر میں لکھی ہو ، اس کے بعد اپنے رب عزوجل کی حمد کو بیان کرو ، پھر یہ دعا پڑھو :اللَّہُمَّ اَنْتَ تَقْدِرُ وَلَا اَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا اَعْلَمُ، وَاَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوبِ، اللَّہُمَّ إِنْ کَانَ لِی فِی فُلَانَۃَ خَیْرٌ وَسَمِّہَا بِاسْمِہَا فِی دِینِی وَدُنْیَایَ وَآخِرَتِی فَاقْدِرْہَا لِی، وَإِنْ کَانَ غَیْرَہَا خَیْرًا لِی فِی دِینِی وَدُنْیَایَ وَآخِرَتِی فَاقْضِ لِی بِہَا وَقَدِّرْہَا لِی،اے اللہ !تو قدرت رکھتا ہے ، میں قدرت نہیں رکھتا ۔تو علم رکھتا ہے ، میرے پاس اس کا علم نہیں ہے ۔ تو غیبوں کو جاننے والا ہے، اے اللہ !اگر مییرے لیے فلاں عورت خیر و برکت کا باعث ہے (اس کا نام لیے کر دعا کرے ) میرے دین کے لئے بھی بہتر ہے، میری معاش اور دنیا کے اعتبار سے بھی بہتر ہے، تو اس کو میرے لئے مقدر فرمادے اور اگر اس کے علاوہ کسی اور میں میرے لیے خیر ہے میرے دین کے لئے بھی بہتر ہے، میری معاش اور دنیا کے اعتبار سے بھی بہتر ہے، تو اس کو میرے لئے مقدر فرمادے ۔

مَنِ اشْتَرَى دَابَّةً أَوْ عَبْدًا ← بَابُ مَا

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1307

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الِاسْتِخَارَةِ · حديث 1308

1308 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، قَالَا: ثنا حَبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اشْتَرَى أَحَدُكُمْ خَادِمًا فَلْيَأْخُذْ بِنَاصِيَتِهَا وَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهَا وَخَيْرِ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ، وَإِذَا اشْتَرَى دَابَّةً فَلْيَأْخُذْ بِنَاصِيَتِهَا وَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهَا وَخَيْرِ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ، وَإِذَا اشْتَرَى بَعِيرًا فَلْيَأْخُذْ بِذِرْوَةِ سَنَامِهِ وَلْيَقُلْ مِثْلَ ذَلِكَ "

حضرت ابو ہریرہ رضٗی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم غلام خریدو تو اس کی پیشانی کو پکڑ و اور یہ دعا کرو :اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْاَلُکَ مِنْ خَیْرِہَا وَخَیْرِ مَا جَبَلْتَہَا عَلَیْہِ، وَإِذَا اشْتَرَی دَابَّۃً فَلْیَاْخُذْ بِنَاصِیَتِہَا وَلْیَقُلِ: اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْاَلُکَ مِنْ خَیْرِہَا وَخَیْرِ مَا جَبَلْتَہَا عَلَیْہِ،اے اللہ !میں تجھ سے اس کی خیر کا سوال کرتا ہوں اور اس خیر کا طلبگار ہوں جس پر اس کو پیدا کیا گیا ہے ، اور جب کوئی جانور خریدو تو اس کی پیشانی کو پکڑ کر یہ دعا کرو :اے اللہ !میں تجھ سے اس کی خیر کا سوال کرتا ہوں اور اس خیر کا طلبگار ہوں جس پر اس کو پیدا کیا گیا ہے ، اور جب اونٹ خریدو تواس کی کوہان کو پکڑ کر یہ دعا کرو :اے اللہ !میں تجھ سے اس کی خیر کا سوال کرتا ہوں اور اس خیر کا طلبگار ہوں جس پر اس کو پیدا کیا گیا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← حبان بن علي ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ← دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1308

chevron_left Previous
1…108109110…188
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter