كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ ذِكْرِ مَنْ لَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 2162
2162 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ امْرَأَةً، مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا أَنْكَحْنَا جُوَيْرِيَةً لَنَا وَكَانَتْ مَرِيضَةً فَتَمَزَّقَ شَعْرُ رَأْسِهَا أَفَنَصِلُهَا؟ فَقَالَ: «لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ»
حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ انصار کی ایک عورت اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ، اس نے عرض کیا :اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہم نے اپنی ایک جوان سال بچی کی شادی کی ، وہ بیمار ہوگئی اوربیماری کی وجہ سے اس کے سر کے تمام بال گر گئے ،کیا ہم اس کے سر پر مصنوعی بال لگواسکتے ہیں ؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصنوعی بال لگانے والیوں پر اور مصنوعی بال لگوانے والیوں پرلعنت کی ۔
أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ امْرَأَةً، مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَتِ النَّبِيَّ فَقَالَتْ: ← فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ،
Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2162
