كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ ذِكْرِ مَنْ لَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 2150
2150 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيٍّ الْجَارُودِيُّ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ أَتَتْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَتْ: إِنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّكَ «لَعَنْتَ الْوَاصِلَةَ وَالْوَاشِمَةَ وَالنَّامِصَةَ وَالْمُتَنَمِّصَةَ» ، قَالَ: أَجَلْ قَالَتْ: أَشَيْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ شَيْءٌ تَجِدُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى؟ فَقَالَ: سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَجِدُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى قَالَتْ: لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ دَفَّتَيِ الْمُصْحَفِ فَلَمْ أَجِدْ ذَلِكَ فِيهِ، قَالَ: أَوَجَدْتِ فِيهِ {مَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا} [الحشر: 7] ؟ قَالَتْ: إِنِّي أَرَى امْرَأَتَكَ تَفْعَلُ ذَلِكَ، قَالَ: إِنْ فَعَلَتْ ذَلِكَ فَمَا حَفِظَتْ وَصِيَّةَ شُعَيْبٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَادْخُلِي فَانْظُرِي، فَانْطَلَقَتْ فَلَمْ تَجِدْ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا
مسروق بن اجدع رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک عورت حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئی ، اس نے کہا:مجھے پتا چلا ہے کہ آپ نے لعنت کی گودنے والیوں اور گدوانے والیوں پر اور دانتوں کو خوبصورتی کے لئے کشادہ کرنے والیوں پر (تاکہ خوبصورت و کمسن معلوم ہوں) اور اللہ تعالیٰ کی خلقت (پیدائش) بدلنے والیوں پر۔حضروت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :مجھے کیا ہے کہ میں ان پر لعنت نہ کرو ں جن پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے اور یہ اللہ کی کتاب میں لعنتی ہیں ۔اس عورت نے کہا:کیا یہ حکم آپ نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے یا اللہ کی کتاب میں ہے ؟انہوں نے کہا:میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اور میں نے اس کو اللہ کی کتاب میں بھی پایا ہے ۔وہ عورت کہتی ہے :اللہ کی قسم!میں نے شروع سے لے کر آخر تک تمام مصحف پڑھا ہے ، مجھے یہ حکم قرآن میں نہیں ملا ۔سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تو نے پڑھا ہے تو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان تجھے ضرور ملا ہو گا کہ { مَا آتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوا}جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں بتلائے اس کو تھامے رہو اور جس سے منع کرے اس سے باز رہو (الحشر: 7) وہ عورت بولی کہ ان باتوں میں سے تو بعضی باتیں تمہاری عورت بھی کرتی ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جا دیکھ۔ وہ ان کی عورت کے پاس گئی تو کچھ نہ پایا۔ پھر لوٹ کر آئی اور کہنے لگی کہ ان میں سے کوئی بات میں نے نہیں دیکھی۔
إِنِّي أَرَى امْرَأَتَكَ تَفْعَلُ ذَلِكَ، ← أَوَجَدْتِ فِيهِ {مَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا} [الحشر: ← مَا بَيْنَ دَفَّتَيِ الْمُصْحَفِ فَلَمْ أَجِدْ ذَلِكَ فِيهِ، ← لَقَدْ ← مِنْ رَسُولِ اللَّهِ وَأَجِدُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى ← مِنْ رَسُولِ اللَّهِ أَوْ شَيْءٌ تَجِدُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى؟ ← أَشَيْءٌ ← أَجَلْ ← إِنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّكَ «لَعَنْتَ الْوَاصِلَةَ وَالْوَاشِمَةَ وَالنَّامِصَةَ وَالْمُتَنَمِّصَةَ» ← مَسْرُوقٍ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ أَتَتْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ← يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، ← الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ← عَزْرَۃَ ← قَتَادَةَ ← الْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيٍّ الْجَارُودِيُّ النَّيْسَابُورِيُّ
Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2150
