Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
كتاب الدعاء

Kitab Al Dua

by Tibrani

2,251 Hadith318 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ ذِكْرِ مَنْ لَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 2138

2138 - حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، وَيُوسُفُ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ» ، فَذَكَرْتُهُ لِأَبِي بَكْرَةَ فَقَالَ: سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّىاللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس شخص نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنی ابوت کا دعوی غیر باپ کی طرف کیاتو اس شخص کے لیے جنت حرام ہے ۔کہتے ہیں :میں نے یہ بات حضرت ابو بکر ہ رضی اللہ عنہ کے سامنے بیان کی ، انہوں نے کہا:محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کو میرے کانوں نے سنا اورمیرے دل نے سمجھا ۔

سَعْدِ بْنِ مَالِکٍ ← أَبِي عُثْمَانَ ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ، وَيُوسُفُ الْقَاضِي،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2138

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ ذِكْرِ مَنْ لَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 2139

2139 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ، وَأَبِي بَكْرَةَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ: «مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ»

حضرت سعد بن مالک اورحضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہماسے روایت وہ دونوں کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس شخص نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنی ابوت کا دعوی غیر باپ کی طرف کیایااپنی ابوت کی نسبت اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف کی جبکہ وہ جانتا ہے کہ اس کا کو ئی اور ہے تو اس شخص کے لیے جنت حرام ہے ۔

سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ، وَأَبِي بَكْرَةَ ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2139

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ ذِكْرِ مَنْ لَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 2140

2140 - حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَا: ثنا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ، وَأَبَا بَكْرَةَ قَالَا: سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: «مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ»

حضرت سعد بن مالک اورحضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہماسے روایت وہ دونوں کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس شخص نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنی ابوت کا دعوی غیر باپ کی طرف کیایااپنی ابوت کی نسبت اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف کی جبکہ وہ جانتا ہے کہ اس کا کو ئی اور ہے تو اس شخص کے لیے جنت حرام ہے ۔

رَسُولَ اللهِ وَهُوَ ← سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ، وَأَبَا بَكْرَةَ ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ← فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← الْمُقَدَّمِيُّ، ← يُوسُفُ الْقَاضِي

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2140

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ ذِكْرِ مَنْ لَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 2141

2141 - حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثْتُ أَبَا بَكْرَةَ، قُلْتُ: سَمِعْتُ سَعْدًا، يَقُولُ: سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ، وَوَعَاهُ، قَلْبِي مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّىاللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ فِي الْإِسْلَامِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ»

ابو عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کو بیان کیا ، میں نے کہا:میں نے سعد رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتے ہیں کہ میرے کانوں نے سنا اورمیرے دل نے اس کو سمجھا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس شخص نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنی ابوت کی نسبت اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف کی جبکہ اس کو علم ہے کہ یہ اس کا باپ نہیں ہے تو اس شخص کے لیے جنت حرام ہے ۔

أُذُنَايَ، وَوَعَاهُ، قَلْبِي مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّىاللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ← سَعْدًا، ← أَبَا بَكْرَةَ، قُلْتُ: ← أَبِي عُثْمَانَ ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← الْمُقَدَّمِيُّ، ← يُوسُفُ الْقَاضِي

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2141

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ ذِكْرِ مَنْ لَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 2142

2142 - حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا عِيسَى بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَوَلَّى غَيْرَ وَلِيِّ نِعْمَتِهِ فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ» صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس شخص نے کسی نعمت کے والی کی نسبت کسی دوسرے کی طرف کی تو اس نے یقینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والے دین کے ساتھ کفر کیا ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عِيسَى بْنُ مَيْمُونَ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2142

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ ذِكْرِ مَنْ لَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 2143

2143 - حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عُمَرُ بْنُ مُوسَى الْحَادِي، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَأَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَخْبَرَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُفْرٌ بِاللَّهِ تَبَرُّؤٌ مِنْ نَسَبٍ وَإِنَّ دَقَّ، وَادِّعَاءُ نَسَبٍ لَا يُعْرَفُ»

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اپنے نسب سے برأت کرنا چاہے ہلکے سے انداز میں کیوں نہ ہو اور کسی دوسرے نسب کی طرف نسبت کرنا اللہ کے ساتھ کفرکرنا ہے ۔

أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ: ← أَبِي مَعْمَرٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَخْبَرَةَ، ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← الْاَعْمَشِ ← الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عُمَرُ بْنُ مُوسَى الْحَادِي، ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2143

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ ذِكْرِ مَنْ لَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 2144

2144 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «لَعَنَ اللَّهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ» ، قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ يُقَالُ لَهَا أُمُّ يَعْقُوبَ فَقَالَتْ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ بَلَغَنِي أَنَّكَ لَعَنْتَ كَيْتَ وَكَيْتَ، فَقَالَ: مَا لِي لَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مَلْعُونٌ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَتْ: إِنِّي لَأَقْرَأُ مَا بَيْنَ اللَّوْحَيْنِ وَمَا وَجَدْتُ، قَالَ: إِنْ كُنْتِ قَارِئَةً لَقَدْ وَجَدْتِيهِ أَمَا قَرَأْتِ {وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا} [الحشر: 7] قَالَتْ: بَلَى، قَالَ: فَإِنَّهُ قَدْ نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: إِنِّي لَأَظُنُّ بَعْضَ أَهْلِكَ يَفْعَلُونَ ذَلِكَ قَالَ: فَاذْهَبِي فَانْظُرِي فَذَهَبَتْ فَلَمْ تَرَ مِنْ حَاجَتِهَا شَيْئًا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَوْ كَانَتْ كَذَلِكَ لَمْ تُجَا مِعْنَا

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی،کہا: اللہ تعالیٰ نے لعنت کی گودنے والیوں اور گدوانے والیوں پر اور چہرے کے بال اکھیڑنے والیوں پر اور اکھڑوانے والیوں پر اور دانتوں کو خوبصورتی کے لئے کشادہ کرنے والیوں پر (تاکہ خوبصورت و کمسن معلوم ہوں) اور اللہ تعالیٰ کی خلقت (پیدائش) بدلنے والیوں پر۔ پھر یہ خبر بنی اسد کی ایک عورت کو پہنچی جسے ام یعقوب کہا جاتا تھا اور وہ قرآن کی قاریہ تھی، تو وہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور بولی کہ مجھے کیا خبر پہنچی ہے کہ تم نے گودنے والیوں اور گدوانے والیوں پر اور منہ کے بال اکھاڑنے والیوں پر اور اکھڑوانے والیوں، اور دانتوں کو کشادہ کرنے والیوں پر اور اللہ تعالیٰ کی خلقت کو بدلنے والیوں پر لعنت کی ہے؟ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اس پر لعنت کیوں نہ کروں جس پر اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی اور یہ تو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں موجود ہے؟ وہ عورت بولی کہ میں تو دو جلدوں میں جس قدر قرآن تھا، پڑھ ڈالا لیکن مجھے نہیں ملا، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تو نے پڑھا ہے تو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان تجھے ضرور ملا ہو گا کہ {جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں بتلائے اس کو تھامے رہو اور جس سے منع کرے اس سے باز رہو }(الحشر:07) وہ عورت بولی کہ ان باتوں میں سے تو بعضی باتیں تمہاری عورت بھی کرتی ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جا دیکھ۔ وہ ان کی عورت کے پاس گئی تو کچھ نہ پایا۔ پھر لوٹ کر آئی اور کہنے لگی کہ ان میں سے کوئی بات میں نے نہیں دیکھا۔حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا:اگر ان میں ایسا کچھ ہوتا تو ہم ان کے ساتھ مجامعت ہی نہ کرتے ۔

يَا أَبَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، بَلَغَنِي أَنَّكَ لَعَنْتَ كَيْتَ وَكَيْتَ، ← فَبَلَغَ ذَلِكَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ يُقَالُ لَهَا أُمُّ يَعْقُوبَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ «لَعَنَ اللَّهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ» ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2144

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ ذِكْرِ مَنْ لَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 2145

2145 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ»

حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی گودنے والیوں اور گدوانے والیوں پر اور دانتوں کو خوبصورتی کے لئے کشادہ کرنے والیوں پر (تاکہ خوبصورت و کمسن معلوم ہوں) اور اللہ تعالیٰ کی خلقت (پیدائش) بدلنے والیوں پر۔

«لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ» ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2145

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ ذِكْرِ مَنْ لَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 2146

2146 - حَدَّثَنَا الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ»

حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی گودنے والیوں اور گدوانے والیوں پر اور دانتوں کو خوبصورتی کے لئے کشادہ کرنے والیوں پر (تاکہ خوبصورت و کمسن معلوم ہوں) اور اللہ تعالیٰ کی خلقت (پیدائش) بدلنے والیوں پر۔

«لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ» ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← زَائِدَۃَ، ← حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، ← الْحَضْرَمِيِّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2146

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ ذِكْرِ مَنْ لَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 2147

2147 - حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «لَعَنَ اللَّهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ» ، قَالَ: فَقَالَتِ امْرَأَةٌ يُقَالُ لَهَا أُمُّ يَعْقُوبَ مِنْ بَنِي أَسَدٍ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ: بَلَغَنِي أَنَّكَ لَعَنْتَ الْمُتَوَشِّمَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَمَا لِي لَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مَلْعُونٌ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی گودنے والیوں اور گدوانے والیوں پر اور دانتوں کو خوبصورتی کے لئے کشادہ کرنے والیوں پر (تاکہ خوبصورت و کمسن معلوم ہوں) اور اللہ تعالیٰ کی خلقت (پیدائش) بدلنے والیوں پر۔کہتے ہیں کہ بنو اسد قبیلہ کی ام یعقوب نامی ایک عورت جو کہ قاریہ تھی اس نے کہا:مجھے پتا چلا ہے کہ آپ نے لعنت کی گودنے والیوں اور گدوانے والیوں پر اور دانتوں کو خوبصورتی کے لئے کشادہ کرنے والیوں پر (تاکہ خوبصورت و کمسن معلوم ہوں) اور اللہ تعالیٰ کی خلقت (پیدائش) بدلنے والیوں پر۔حضروت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :مجھے کیا ہے کہ میں ان پر لعنت نہ کرو ں جن پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے اور یہ اللہ کی کتاب میں لعنتی ہیں ۔

عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← يُوسُفُ الْقَاضِي

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2147

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ ذِكْرِ مَنْ لَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 2148

2148 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «لُعِنَ الْمُتَنَمِّصَاتُ وَالْمُتَفَلِّجَاتُ وَالْمُتَوَشِّمَاتُ» أَلَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ: إِنِّي لَأَظُنُّ فِي أَهْلِكَ، فَقَالَ: اذْهَبِي فَانْظُرِي، فَذَهَبَتْ ثُمَّ جَاءَتْ فَقَالَتْ: مَا رَأَيْتُ فِيهِمْ شَيْئًا وَمَا رَأَيْتُهُ فِي الْمُصْحَفِ، فَقَالَ لَهَا عَبْدُ اللَّهِ: بَلَى قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ لعنت کی گئی ہے چہرے کے بال اکھیڑنے والیوں پر،دانتوں کو خوبصورتی کے لئے کشادہ کرنے والیوں پراورجسم گودنے والیوںپر۔کیا میں ان پر لعنت نہ کروں جن پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے ۔پھر یہ خبر بنی اسد کی ایک عورت کو پہنچی جسے ام یعقوب کہا جاتا تھا اور وہ قرآن کی قاریہ تھی، تو وہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور بولی کہ میرا یہ خیال ہے کہ یہ بات آپ کے اہل کے لیے ہے ۔ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے اسے کہا :جائو جاکر غور کرو، وہ عورت گئی ، کچھ وقت کے بعد پھر آگئی ، کہتی ہے :میں نے ان کے بارے میں کچھ بھی نہیں پایا اور نہ ہی مجھے قرآن میں یہ حکم ملاہے ۔حضرت عبد اللہ نے اسے کہا:یہ بات اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے ۔

لَهَا عَبْدُ اللَّهِ: بَلَى قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ ← مَا رَأَيْتُ فِيهِمْ شَيْئًا وَمَا رَأَيْتُهُ فِي الْمُصْحَفِ، ← اذْهَبِي فَانْظُرِي، فَذَهَبَتْ ثُمَّ جَاءَتْ ← امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ: إِنِّي لَأَظُنُّ فِي أَهْلِكَ، ← «لُعِنَ الْمُتَنَمِّصَاتُ وَالْمُتَفَلِّجَاتُ وَالْمُتَوَشِّمَاتُ» أَلَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2148

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ ذِكْرِ مَنْ لَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 2149

2149 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا خَلَفُ بْنُ مُوسَى بْنِ خَلَفٍ الْعَمِّيُّ، ثنا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ الْأَجْدَعِ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ زَعْرَاءُ أَيَصْلُحُ أَنْ أَصِلَ فِي شَعْرِي؟ قَالَ: لَا، قَالَتْ: أَشَيْئًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ تَجِدُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ؟ قَالَ: بَلْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَجِدُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَتْ: فَوَاللَّهِ لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ دَفَّتَيِ الْمُصْحَفِ فَمَا وَجَدْتُهُ، قَالَ: فَمَا تَجِدِينَ فِيهِ {مَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا} [الحشر: 7] قَالَتْ: بَلَى، فَقَالَتْ: وَاللَّهِ إِنِّي أَرَى أَنَّ الَّتِيَ فِي بَيْتِكَ تَفْعَلُهُ، فَقَالَ: مَا حَفِظَتْ وَصِيَّةَ شُعَيْبٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِذًا، أَقْسَمْتُ عَلَيْكِ لَمَا دَخَلْتِ إِلَيْهَا فَنَظَرْتِ إِلَى شَعْرِهَا، فَدَخَلَتْ فَنَظَرَتْ إِلَى امْرَأَةٍ قَرْعَاءَ وَلَمْ تَرَ فِي شَعْرِهَا شَيْئًا، فَخَرَجَتْ فَقَالَتْ: مَا رَأَيْتُ شَيْئًا

مسروق بن اجدع رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک عورت حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئی ، اس نے کہا:میں زعراء نامی عورت ہوں ، کیا میرے لیے یہ بات جائز ہے کہ میں میں اپنے بالوں کے ساتھ مصنوعی بال لگالوں ؟حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا:نہیں یہ جائز نہیں ہے ۔اس عورت نے کہا:کیا یہ حکم آپ نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے یا اللہ کی کتاب میں ہے ؟انہوں نے کہا:میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اور میں نے اس کو اللہ کی کتاب میں بھی پایا ہے ۔وہ عورت کہتی ہے :اللہ کی قسم!میں نے شروع سے لے کر آخر تک تمام مصحف پڑھا ہے ، مجھے یہ حکم قرآن میں نہیں ملا ۔سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تو نے پڑھا ہے تو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان تجھے ضرور ملا ہو گا کہ{مَا آتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوا} جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں بتلائے اس کو تھامے رہو اور جس سے منع کرے اس سے باز رہو (الحشر: 7)وہ عورت بولی کہ ان باتوں میں سے تو بعضی باتیں تمہاری عورت بھی کرتی ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جا دیکھ۔ وہ ان کی عورت کے پاس گئی تو کچھ نہ پایا۔ پھر لوٹ کر آئی اور کہنے لگی کہ ان میں سے کوئی بات میں نے نہیں دیکھی۔

مَسْرُوقِ بْنِ الْأَجْدَعِ، ← يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، ← الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ← عَزْرَۃَ ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← خلف بن موسى بن خلف العمي ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2149

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter
307. Chapter
308. Chapter
309. Chapter
310. Chapter
311. Chapter
312. Chapter
313. Chapter
314. Chapter
315. Chapter
316. Chapter
317. Chapter