Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
كتاب الدعاء

Kitab Al Dua

by Tibrani

2,251 Hadith318 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ ذِكْرِ مَنْ لَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 2114

2114 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ طَلِيقِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَلْعُونٌ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الْوَالِدَةِ وَوَلَدِهَا»

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:لعنتی ہے وہ شخص جس نے والدہ اور اس کی اولاد میں تفریق کی۔یعنی:بچے او راس کی والدہ کے درمیان جدائی ڈالی

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← طَلِيقِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2114

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ ذِكْرِ مَنْ لَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 2115

2115 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ، عَنْ طَلِيقِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الْوَالِدِ وَوَلَدِهِ وَبَيْنَ الْأَخِ وَأَخِيهِ»

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی اس شخص پر جس شخص نے والد اور اس کی اولاد اورایک بھائی کو اس کے دوسرے بھائیوں سے الگ کیا ۔یعنی:بچے او راس کی والدہ کے درمیان جدائی ڈالی

«لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الْوَالِدِ وَوَلَدِهِ وَبَيْنَ الْأَخِ وَأَخِيهِ» ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← طَلِيقِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، ← إبْرَاهِيمُ بْنُ إسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2115

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ ذِكْرِ مَنْ لَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 2116

2116 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ عَلِيِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ: " إِنَّ الْأُمَرَاءَ مِنْ قُرَيْشٍ - ثَلَاثَ مِرَارٍ - مَا أَقَامُوا ثَلَاثًا: مَا حَكَمُوا فَعَدَلُوا، وَمَا عَاهَدُوا فَوَفَوْا، وَمَا اسْتُرْحِمُوا فَرَحِمُوا فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ "

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن لوگوں کو خطبہ دیا آپ نے فرمایا:بلا شبہ امراء قریش میں سے ہوں گے، بلا شبہ امراء قریش میںسے ہوں گے اوربلا شبہ امراء قریش میںسے ہوں گے جب تک وہ درستگی پر قائم رہیں گے،جب تک وہ درستگی پر قائم رہیں گے اورجب تک وہ درستگی پر قائم رہیں گے ۔جب وہ فیصلہ کریں گے تو عدل و انصاف سے کام لیں گے ،جب وہ وعدہ کریں گے تو ایفائے عہد کریں گے اورجب ان سے رحم کی اپیل کی جائے گی تو وہ شفقت سے کام لیںگے ۔ ان میں سے جس شخص نے ایسا نہ کیا اس پر اللہ کی لعنت ہے، فرشتوں کی لعنت ہے اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← جَدِّي، ← أَبِي ← حَفْصُ بْنُ خَالِدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2116

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ ذِكْرِ مَنْ لَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 2117

2117 - حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْمُلْكَ فِي قُرَيْشٍ وَلَكُمْ عَلَيْهِمْ حَقٌّ، وَلَهُمْ مِثْلُهُ مَا حَكَمُوا فَعَدَلُوا، وَاسْتُرْحِمُوا فَرَحِمُوا، وَعَاهَدُوا فَوَفَوْا فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ»

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :بلا شبہ حکمرانیقریش میں رہے گی ،جبکہ ان کے ذمے تمہارے حقوق اورتم پر ان کی طرف سے کچھ ذمہ داریاں ہوںگی ۔جب تک وہ فیصلہ کرنے میں عدل و انصاف سے کام لیتے رہیں گے، جب ان سے رحم کی اپیل کی جائے گی تو وہ شفقت سے کام لیتے رہیں گے اور جب وہ وعدہ کریں گے تووعدے کو وفا کریں گے۔ان میں سے جس شخص نے ایسا نہ کیا تو اس پر اللہ کی لعنت ہے ،فرشتوں کی لعنت ہے اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِیدِ بْنِ بَشِیرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارِ بْنِ بِلَالٍ ← أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2117

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ ذِكْرِ مَنْ لَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 2118

2118 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَرُّوخَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي بَيْتٍ وَكُلُّ إِنْسَانٍ مِنَّا تَأَخَّرَ عَنْ مَجْلِسِهِ لِيَجْلِسَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ عَلَى الْبَابِ فَقَالَ: " الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ، وَلِي عَلَيْكُمْ حَقٌّ، وَلَهُمْ حَقٌّ مَا فَعَلُوا ثَلَاثًا: إِنْ حَكَمُوا عَدَلُوا، وَإِنْ عَاهَدُوا وَفَوْا، وَإِنِ اسْتُرْحِمُوا رَحِمُوا، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " [ص:583]

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ہمارے ہاں تشریف فرما ہوئے ،ہم گھر میں بیٹھے ہوئے تھے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر ہم میں سے ہر شخص اپنی اپنی جگہ سے پیچھے ہٹ گیاتاکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجلس کے درمیان تشریف فرما ہو جائیں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم دروازے پر کھڑے ہوئے ، آپ نے وہاں پر کھڑے ہوکر فرمایا: امراء قریش میں سے ہوں گے ،جبکہ میرے لیے ان کے ذمے بہت بڑاحق ہے اور ان کے لیے بھی اسی طرح کی حقوق ہیں ۔ جب تک وہ فیصلہ کرنے میں عدل و انصاف سے کام لیتے رہیں گے، جب ان سے رحم کی اپیل کی جائے گی تو وہ شفقت سے کام لیتے رہیں گے اور جب وہ وعدہ کریں گے تووعدے کو وفا کریں گے۔ان میں سے جس شخص نے ایسا نہ کیا تو اس پر اللہ کی لعنت ہے ،فرشتوں کی لعنت ہے اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ۔

مَجْلِسِهِ لِيَجْلِسَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ فَقَامَ عَلَى الْبَابِ ← دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ وَنَحْنُ فِي بَيْتٍ وَكُلُّ إِنْسَانٍ مِنَّا تَأَخَّرَ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَرُّوخٍ، ← يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2118

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ ذِكْرِ مَنْ لَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 2119

2119 - حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، ثنا يَحْيَى بْنُ عِيسَى الرَّمْلِيُّ، عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ مُعَتِّبٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کرتے ہیں ۔

النَّبِیِّ مِثْلَہُ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← عُبَيْدَةُ بْنُ مُعَتِّبٍ ← يَحْيَى بْنُ عِيسَى الرَّمْلِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2119

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ ذِكْرِ مَنْ لَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 2120

2120 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيِّ، عَنْ بُكَيْرٍ الْجَزَرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا فِي بَيْتٍ، نَفَرٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَنَفَرٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا يُوَسِّعُ إِلَى جَنْبِهِ رَجَاءَ أَنْ يَجْلِسَ إِلَيْهِ حَتَّى قَامَ عَلَى الْبَابِ فَأَخَذَ بِعَضَادَتِهِ فَقَالَ: " الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ، وَلِي عَلَيْهِمْ حَقٌّ عَظِيمٌ، وَلَهُمْ مِثْلُ ذَلِكَ مَا فَعَلُوا ثَلَاثًا: إِذَا اسْتُرْحِمُوا رَحِمُوا، وَإِذَا حَكَمُوا عَدَلُوا، وَإِذَا عَاهَدُوا وَفَوْا فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ "

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں :ہم کچھ انصار اور کچھ مہاجرین کی جماعت گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف فرما ہوئے ،،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر ہم میں سے ہر شخص اپنی اپنی جگہ سے پیچھے ہٹا تاکہ مجلس میں کشادگی پیدا کی جاسکے اوراللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجلس کے درمیان تشریف فرما ہو جائیں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم دروازے پر کھڑے ہوئے اور آپ نے دروازے کی چوکھٹ کو پکڑ ا اور فرمایا: امراء قریش میں سے ہوں گے ،جبکہ میرے لیے ان کے ذمے بہت بڑاحق ہے اور ان کے لیے بھی اسی طرح کی حقوق ہیں ۔ جب تک وہ فیصلہ کرنے میں عدل و انصاف سے کام لیتے رہیں گے، جب ان سے رحم کی اپیل کی جائے گی تو وہ شفقت سے کام لیتے رہیں گے اور جب وہ وعدہ کریں گے تووعدے کو وفا کریں گے۔ان میں سے جس شخص نے ایسا نہ کیا تو اس پر اللہ کی لعنت ہے ،فرشتوں کی لعنت ہے اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← بُكَيْرٍ الْجَزَرِيِّ، ← أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2120

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ ذِكْرِ مَنْ لَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 2121

2121 - حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ثنا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنْ سَهْلٍ أَبِي الْأَسَدِ، عَنْ بُكَيْرٍ الْجَزَرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ، وَلَكُمْ عَلَيْهِمْ حَقٌّ، وَلَهُمْ عَلَيْكُمْ حَقٌّ مَا فَعَلُوا ثَلَاثًا: إِذَا حَكَمُوا عَدَلُوا، وَإِذَا اسْتُرْحِمُوا رَحِمُوا، وَإِذَا عَاهَدُوا وَفَوْا فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ "

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امراء قریش میں سے ہوں گے ،جبکہ میرے لیے ان کے دمے بہت بڑاحق ہے اور ان کے لیے بھی اسی طرح کی حقوق ہیں ۔ جب تک وہ فیصلہ کرنے میں عدل و انصاف سے کام لیتے رہیں گے، جب ان سے رحم کی اپیل کی جائے گی تو وہ شفقت سے کام لیتے رہیں گے اور جب وہ وعدہ کریں گے تووعدے کو وفا کریں گے۔ان میں سے جس شخص نے ایسا نہ کیا تو اس پر اللہ کی لعنت ہے ،فرشتوں کی لعنت ہے اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← بُكَيْرٍ الْجَزَرِيِّ، ← سَهْلٍ أَبِي الأَسْدِ ← مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ← الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2121

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ ذِكْرِ مَنْ لَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 2122

2122 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي أَسَدٍ - وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا - عَنْ بُكَيْرِ بْنِ وَهْبِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ لِي أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا مَا حَدَّثْتُ بِهِ أَحَدًا، أَتَى عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي بَيْتٍ فَأَخَذَ بِعِضَادَتَيِ الْبَابِ فَقَالَ: «الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ، وَلَهُمْ عَلَيْكُمْ حَقٌّ، وَلَكُمْ عَلَيْهِمْ مِثْلُ ذَلِكَ، مَا إِنِ اسْتُرْحِمُوا رَحِمُوا، وَإِنْ وَعَدُوا وَفَوْا، وَإِنْ قَسَمُوا عَدَلُوا وَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ»

بکیر بن وہب جزری رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا:کیا میں تمہیں ایسی حدیث نہ بیان کروں جو میں نے کسی کو بیان نہیں کی پھر انہوں بیان کیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف فرما ہوئے اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امراء قریش میں سے ہوں گے ،جبکہ میرے لیے ان کے ذمے بہت بڑاحق ہے اور ان کے لیے بھی اسی طرح کی حقوق ہیں ۔ جب تک وہ فیصلہ کرنے میں عدل و انصاف سے کام لیتے رہیں گے، جب ان سے رحم کی اپیل کی جائے گی تو وہ شفقت سے کام لیتے رہیں گے اور جب وہ وعدہ کریں گے تووعدے کو وفا کریں گے۔ان میں سے جس شخص نے ایسا نہ کیا تو اس پر اللہ کی لعنت ہے ،فرشتوں کی لعنت ہے اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ۔

بِهِ أَحَدًا، أَتَى عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ وَنَحْنُ فِي بَيْتٍ فَأَخَذَ بِعِضَادَتَيِ الْبَابِ ← لِي أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا مَا ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← بُكَيْرُ بْنُ وَهْبٍ الْجَزَرِيُّ ← أَبِي أَسَدٍ وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا ← شُعْبَةُ، ← جَدِّي، ← أَبِي ← الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2122

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ ذِكْرِ مَنْ لَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 2123

2123 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِي عَلَى قُرَيْشٍ حَقًّا، وَإِنَّ لِقُرَيْشٍ عَلَيْكُمْ حَقًّا مَا حَكَمُوا فَعَدَلُوا، وَأْتُمِنُوا فَأَدَّوْا وَاسْتُرْحِمُوا فَرَحِمُوا فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ»

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امراء قریش میں سے ہوں گے ،جبکہ میرے لیے ان کے ذمے بہت بڑاحق ہے اور ان کے لیے بھی اسی طرح کی حقوق ہیں ۔ جب تک وہ فیصلہ کرنے میں عدل و انصاف سے کام لیتے رہیں گے، جب ان سے رحم کی اپیل کی جائے گی تو وہ شفقت سے کام لیتے رہیں گے اور جب وہ وعدہ کریں گے تووعدے کو وفا کریں گے۔ان میں سے جس شخص نے ایسا نہ کیا تو اس پر اللہ کی لعنت ہے ،فرشتوں کی لعنت ہے اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2123

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ ذِكْرِ مَنْ لَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 2124

2124 - حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا مُعَاذُ بْنُ عَوْذِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا عَوْفٌ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَابِ بَيْتٍ فِيهِ نَفَرٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالَ: «هَلْ فِي الْبَيْتِ إِلَّا قُرَشِيٌّ؟» قَالُوا: لَا إِلَّا ابْنَ أُخْتٍ لَنَا قَالَ: «ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ» ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ لَا يَزَالُ فِي قُرَيْشٍ أَبَدًا مَا إِذَا اسْتُرْحِمُوا رَحِمُوا، وَإِذَا حَكَمُوا عَدَلُوا، وَإِذَا قَسَمُوا أَقْسَطُوا، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ»

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک دروازمیں کھڑے ہوئے ،وہاں پر کچھ قریشی موجود تھے ،آپ نے فرمایا:کیا یہاں پر صرف قریشی ہی ہیں ؟انہوں نے کہا:نہیں ،یہاں پر ہماری ایک بہن کا بیٹا ہے یعنی بھانجا ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کسی قوم کی بہن کا بیٹاانہی میں سے ہی ہوتا ہے ، پھر آپ نے فرمایا:یہ معاملہ (حکمرانی )ہمیشہ قریش میں ہی رہے گا ، جب تک کہ ان میں یہ اوصاف رہیں :جب ان سے رحمل کی اپیل کی جائے تو وہ مہربانی کریں ، جب فیصلہ کریں تو عدل و انصاف سے کریں اورجب تقسیم کریں تو انصاف کے مطابق کریں ۔جس نے ایسا نہ کیا تو اس پر اللہ کی لعنت ہے ، فرشتوں کی لعنت ہے اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ، ان کی کوئی فرضی اور نفلی عبادت قبول نہیں کی جائے گی ۔

ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ، ثُمَّ ← لَا إِلَّا ابْنُ أُخْتٍ لَنَا ← هَلْ فِي الْبَيْتِ إِلَّا قُرَشِيٌّ؟ ← قَامَ رَسُولُ اللَّهِ عَلَى بَابِ بَيْتٍ فِيهِ نَفَرٌ مِنْ قُرَيْشٍ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، ← عَوْفٌ، ← مُعَاذُ بْنُ عَوْذِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2124

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ ذِكْرِ مَنْ لَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 2125

2125 - حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا رَجُلٍ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ وَالِدَيْهِ أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ الَّذِينَ أَعْتَقُوهُ فَإِنَّ عَلَيْهِ لَعْنَةَ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَلَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ»

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس شخص نے اپنے حقیقی والدین کی بجائے کسی دوسرے کی طرف نسبت کی یا کسی غلام نے اپنے حقیقی موالی کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف نسبت کی توبلاشبہ اس پرقیامت تک اللہ کی لعنت ہے اورفرشتوں کی لعنت ہے۔اس کی کوئی فرضی اور نفلی عبادت قبول نہیں کی جائے گی ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 2125

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter
307. Chapter
308. Chapter
309. Chapter
310. Chapter
311. Chapter
312. Chapter
313. Chapter
314. Chapter
315. Chapter
316. Chapter
317. Chapter