كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ فَضْلِ مَجَالِسِ الذِّكْرِ · حديث 1900
1900 - حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا قَعَدَ قَوْمٌ يَذْكُرُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا حَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَتَنَزَّلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ، وَتَغَشَّتْهُمُ الرَّحْمَةُ، وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ»
ابو مسلم اغر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں حضرت ابوہریرہ اور حضرت حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ دونوں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں لوگوں کا کوئی گروہ اکٹھا نہیں ہوتا، وہ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور اس کا درس و تدریس کرتے ہیں مگر ان پر سکینت (اطمینان و سکون قلب) کا نزول ہوتا ہے اور (اللہ کی) رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے اور فرشتے ان کو اپنے گھیرے میں لے لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے مقربین میں جو اس کے پاس ہوتے ہیں ان کا ذکر کرتا ہے ۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ← الْأَغَرِّ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ
Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1900
