Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
كتاب الدعاء

Kitab Al Dua

by Tibrani

2,251 Hadith318 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ فَضْلِ مَجَالِسِ الذِّكْرِ · حديث 1888

1888 - حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: «سَيَعْلَمُ أَهْلُ الْجَمْعِ الْيَوْمَ مَنْ أَوْلَى بِالْكَرَمِ» قِيلَ: وَمَنْ أَهْلُ الْكَرْمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: أَهْلُ الذِّكْرِ فِي الْمَجَالِسِ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ عزوجل قیامت کے دن فرمائے گا :آج اہل محشر کوعلم ہوجائے گا کہ ان میں سے سب سے زیادہ عزوت کرم والا کون ہے ؟آپ سے سوال کیا گیا کہ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! سب سے زیادہ عزوت کرم والا کون ہوگا ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مجالس میں بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرنے والے ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← دَرَّاجٍ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1888

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ فَضْلِ مَجَالِسِ الذِّكْرِ · حديث 1889

1889 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، قَالَا: ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: سَيَعْلَمُ أَهْلُ الْجَمْعِ الْيَوْمَ مَنْ أَوْلَى بِالْكَرَمِ " فَقِيلَ: وَمَنْ أَهْلُ الْكَرْمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «أَهْلُ مَجَالِسِ الذِّكْرِ وَالْمَسَاجِدِ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ عزوجل قیامت کے دن فرمائے گا :آج اہل محشر کوعلم ہوجائے گا کہ ان میں سے سب سے زیادہ عزوت کرم والا کون ہے ؟آپ سے سوال کیا گیا کہ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! سب سے زیادہ عزوت کرم والا کون ہوگا ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مجالس میں اور مساجد میں بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرنے والے ۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← دَرَّاجٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، ← وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1889

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ فَضْلِ مَجَالِسِ الذِّكْرِ · حديث 1890

1890 - حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا زَائِدَةُ بْنُ أَبِي الرُّقَادِ، عَنْ زِيَادٍ النُّمَيْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا مَرَرْتُمْ بِرِيَاضِ الْجَنَّةِ فَارْتَعُوا» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَيْنَ رِيَاضُ الْجَنَّةِ فِي الدُّنْيَا؟ قَالَ: «حِلَقُ الذِّكْرِ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم جنت کے باغ میں سے گزرو تو کچھ چر چگ لیا کرو ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا دنیا میں جنت کے باغ کہاں ہیں ؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ذکر کی مجالس ۔

«إِذَا مَرَرْتُمْ بِرِيَاضِ الْجَنَّةِ فَارْتَعُوا» ← النَّبِيِّ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← زِيَادٍ النُّمَيْرِيِّ ← زَائِدَةُ بْنُ أَبِي الرُّقَادِ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← يُوسُفُ الْقَاضِي

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1890

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ فَضْلِ مَجَالِسِ الذِّكْرِ · حديث 1891

1891 - حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، قَالَا: ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، مَوْلَى غُفْرَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ خَالِدِ بْنِ صَفْوَانَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ سَرَايَا مِنَ الْمَلَائِكَةِ تَحِلُّ وَتَقِفُ عَلَى مَجَالِسِ الذِّكْرِ فِي الْأَرْضِ فَاغْدُوا وَرُوحُوا فِي ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَاذْكُرُوا اللَّهَ بِأَنْفُسِكُمْ، مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَعْلَمَ مَنْزِلَتَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلْيَنْظُرْ كَيْفَ مَنْزِلَةُ اللَّهِ تَعَالَى عِنْدَهُ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُنْزِلُ الْعَبْدَ مِنْهُ حَيْثُ أَنْزَلَهُ مِنْ نَفْسِهِ» أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ الْإِمَامُ الْعَالِمُ الْحَافِظُ شَمْسٌ الدِّينِ بْنُ الْحَجَّاجِ يُوسُفُ بْنُ خَلِيلِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الدِّمَشْقِيُّ بِقِرَاءَتِي عَلَيْهِ وَهُوَ يَسْمَعُ فِي الْخَامِسَ عَشَرَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ مِنْ سَنَةِ سَبْعٍ وَثَلَاثِينَ وَسِتِّمِائَةٍ بِجَامِعِ حَلَب قُلْتُ لَهُ: أَخْبَرَكُمُ الشَّيْخَانِ أَبُو طَاهِرٍ عَلِيُّ بْنُ أَبِي سَعْدِ سَعِيدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ فَاذَشَاهْ، وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي زَيْدِ بْنِ حَمَدِ بْنِ أَبِي نَصْرٍ الْكُرَانِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِمَا بِأَصْبَهَانَ قَالَا: ثَنَا أَبُو مَنْصٌورٍ مَحْمُودُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَنَحْنُ نَسْمَعُ أَنْبَأَ أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ فَاذَشَاهْ فِي ذِي الْحِجَّةِ مِنْ سَنَةِ ثَلَاثِينَ وَأَرْبَعِمِائَةٍ، أَنْبَأَ أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَيُّوبَ الطَّبَرَانِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلاشبہ اللہ عزوجل کی طرف سے بھیجے ہوئے فرشتے مختلف جگہوں پر اترتے ہیں اور وہ زمین پر مجالس ذکر میں بیٹھتے ہیں ،صبح کے وقت بھی اورشام کے وقت بھی،اللہ کے ذکر کی مجالس کو تلاش کرکے ان میں بیٹھتے ہیں ، آپ نے فرمایا :کہ تم کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کرو، جو شخص یہ بات پسند کرتا ہے کہ وہ اللہ کے ہاں اپنی منزلت اور مقام کو جان لے اس کو چاہیے کہ وہ خود دیکھ لے کے وہ خود اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لحاظ سے کس مقام پر فائز ہے ۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو اسی انداز میں اپنے ہاں مقام پر فائز کرتا ہے جس طرح بندہ اللہ کو اپنے دل میں اپنی زبان پر یاد رکھتا ہے اور اللہ کا ذکر کرتاہے ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَيُّوبَ بْنِ خَالِدِ بْنِ صَفْوَانَ الْأَنْصَارِيِّ، ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللهِ مَوْلَی غُفْرَةَ ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← اَبُوْ عُمَرَ الضَّرِیْرُ ← وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ← مُسَدَّدٌ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1891

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ فَضْلِ مَجَالِسِ الذِّكْرِ · حديث 1892

1892 - حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالُوا: ثنا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعَطَّارُ، ثنا أَبُو نَعَامَةَ السَّعْدِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجَ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى نَاسٍ وَهُمْ جُلُوسٌ فَقَالَ: مَا أَجْلَسَكُمْ؟ قَالُوا: جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ: اللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ؟ قَالُوا: اللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَلِكَ، قَالَ: أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ وَمَا أَحَدٌ بِمَنْزِلَتِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَلَّ حَدِيثًا عَنْهُ مِنِّي، وَلَكِنْ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَلْقَةٍ وَهُمْ جُلُوسٌ فَقَالَ: «مَا أَجْلَسَكُمْ؟» قَالُوا: جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَنُمَجِّدُهُ عَلَى مَا هَدَانَا لِلْإِسْلَامِ وَمَنَّ عَلَيْنَا بِكَ، قَالَ: «اللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ؟» قَالُوا: وَاللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَلِكَ، قَالَ: «أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ وَلَكِنْ أَخْبَرَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبَاهِي بِكُمُ الْمَلَائِكَةَ»

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ لوگوں کے سامنے آئے، لوگ بیٹھے ہوئے تھے ۔آپ نے ان سے پوچھا: تمہیں یہاں پر کس چیز نے بٹھارکھا ہے؟ انہوں نے کہا: ہم یہاں پر بیٹھے اللہ کا ذکر کر رہے ہیں، انہوں نے کہا:اللہ کی قسم !کیا واقعتاتمہیں صرف اللہ کے ذکرنے یہاں پر بٹھا رکھا ہے؟ انہوں نے کہا:ہاں !اللہ کی قسم !ہم یہاں پر صرف اور صرف اللہ کے ذکر کے لیے بیٹھے ہوئے ہیں، انہوں نے کہا:میں تمہارے سامنے کوئی اپنی طرف سے گھڑی ہوبات بیان نہیں کررہا ، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں میرے مقام اور مزلت پر تم میں کوئی بھی فائز نہیں ہے ، میں آپ سے سب سے کم حدیثیں بیان کرتے والا ہوں لیکن بات یہ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نکلے آپ نے دیکھا کہ لوگوں کی ایک مجلس ہے یا حلقہ لگا ہوا ہے ،لوگ بیٹھے ہوئے ہیں، آپ نے ان سے پوچھا تو تہمیں یہاں پر کس چیز نے بٹھا رکھا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم یہاں پر بیٹھے اللہ عزوجل کا ذکر کر رہے ہیں، اللہ کی بزرگی کو بیان کر رہے ہیں،اللہ کا شکر ادا کر رہے ہیں کہ اللہ نے ہمیں اسلام قبول کرنے کی توفیق بخشی اور اللہ نے آپ کی وجہ سے ہمارے اوپر احسان فرمایا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم!کیااسی چیز نے تمہیں یہاں پر بٹھا رکھا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم یہاں پر صرف اسی مقصد کے لیے بیٹھے ہوئے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میں تمہارے سامنے کوئی اپنی طرف سے گھڑی ہوبات بیان نہیں کررہا لیکن مجھے جبریل امین علیہ السلام نے خبر دی ہے کہ اللہ عزوجل ایسے بندوں کی وجہ سے فرشتوں کے اوپر فخر کرتا ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← أَبُو نَعَامَةَ السَّعْدِيُّ، ← مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعَطَّارُ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← يُوسُفُ الْقَاضِي ← مُسَدَّدٌ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1892

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ فَضْلِ مَجَالِسِ الذِّكْرِ · حديث 1893

1893 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ الْبَجَلِيُّ، ثنا الْمُعَافَى بْنُ عِمْرَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ نَفَرًا كَانُوا فِي عَهْدِ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَشْهَدُونَ الْفَجْرَ وَيَجْلِسُونَ عِنْدَ قَاصِّ الْجَمَاعَةِ، فَإِذَا سَلَّمَ تَنَحَّوْا إِلَى نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ وَيَذْكُرُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ حَتَّى يَتَعَالَى النَّهَارُ، فَأُخْبِرَ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِهِمْ فَجَاءَ يُهَرْوِلُ أَوْ يَسْعَى فِي مِشْيَتِهِ حَتَّى وَقَفَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: جِئْتُ أُبَشِّرُكُمْ بِبُشْرَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِيمَا رَزَقَكُمْ أَنَّ نَفَرًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَبُهُ قَالَ: كَانُوا يَصْنَعُونَ نَحْوًا مِمَّا تَصْنَعُونَ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنِّي أَحْكِيهِ فِي مِشْيَتِهِ حَتَّى وَقَفَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ: «أَبْشِرُوا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لِيُبَاهِي بِكُمُ الْمَلَائِكَةَ»

محمد بن کعب بیان کرتے ہیں کہ لوگوں کی ایک جماعت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں نماز فجر کو ادا کرنے کے لیے مسجد میں آیا کرتی تھی اور وہ نماز سے فارغ ہو جانے کے بعد جماعت کے قصہ بیان کرنے والے کے سامنے بیٹھ جاتے ،جب وہ سلام پھیرتاتو وہ گھوم کر ان کی منہ کر کے مسجد کے ایک کونے میں بیٹھ جاتے ،وہ بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے، اللہ تعالیٰ کی کتاب کی تلاوت کرتے، اس وقت تک ان کے ذکر کی یہ ذکر مجلس جاری رہتی جب تک دن بلند نہیں ہوجاتاتھا ،معاویہ رضی اللہ عنہ کو ان کے بارے میں خبر دی گئی،حضرت معاویہ دوڑتے ہوئے آئے ،یہاں تک کہ وہ ان کی اس مجلس کے اوپر آکر کھڑے ہو گئے اور ان سے فرمایا میں تمہارے پاس تمہارے اس عمل کی وجہ سے تمہیں بشارت دینے کے لئے آیا ہوں ،وہ بشارت جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ،جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا فرمائی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دورمیں بھی اسی طرح ذکر کے لیے بیٹھ جاتے تھے ۔وہ اسی طرح کیا کرتے تھے جس طرح تم کرتے ہو ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہوئے،بالکل اسی طرح جس طرح میں تمہارے اوپر کھڑے ہو کرمیں تمہیں یہ بشارت دے رہا ہوں۔ آپ ان کے سامنے کھڑے ہوئے تھے، آپ نے فرمایا:تم خوش ہوجائو، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے !شک اللہ عزوجل تمہارے اس عمل کی وجہ سے فرشتوں کے سامنے تمہارے اوپر فخر کرتا ہے۔

موسى بن عبيدة ← الْمُعَافِیُّ بْنُ عِمْرَانَ ← الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ الْبَجَلِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1893

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ فَضْلِ مَجَالِسِ الذِّكْرِ · حديث 1894

1894 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَوْ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا شَكَّ الْأَعْمَشُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ فِي الْأَرْضِ فَضْلًا عَنْ كِتَابِ النَّاسِ إِذَا وَجَدُوا قَوْمًا يَذْكُرُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ تَنَادَوْا هَلُمُّوا إِلَى بُغْيَتِكُمْ فَيَحُفُّونَ بِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: «أَيُّ شَيْءٍ تَرَكْتُمْ عِبَادِي يَصْنَعُونَ؟» فَيَقُولُونَ: تَرَكْنَاهُمْ يَحْمَدُونَكَ وَيُمَجِّدُونَكَ وَيَذْكُرُونَكَ، فَيَقُولُ: «هَلْ رَأَوْنِي؟» فَيَقُولُونَ: لَا، فَيَقُولُ: «كَيْفَ لَوْ رَأَوْنِي» ، فَيَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْكَ كَانُوا أَشَدَّ تَحْمِيدًا وَتَمْجِيدًا وَذِكْرًا، فَيَقُولُ: «مَا يَسْأَلُونِي؟» فَيَقُولُونَ: يَسْأَلُونَكَ الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ: «وَهَلْ رَأَوْهَا؟» فَيَقُولُونَ: لَا، فَيَقُولُ: «فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا» ، فَيَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْهَا لَكَانُوا أَشَدَّ لَهَا طَلَبًا وَأَشَدَّ عَلَيْهَا حِرْصًا، فَيَقُولُ: «فَمِنْ أَيِّ شَيْءٍ يَتَعَوَّذُونَ؟» فَيَقُولُونَ: مِنَ النَّارِ، فَيَقُولُ: «وَهَلْ رَأَوْهَا؟» فَيَقُولُونَ: لَا، فَيَقُولُ: «فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا» ، فَيَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْهَا لَكَانُوا أَشَدَّ مِنْهَا هَرَبًا وَأَشَدَّ مِنْهَا تَعَوُّذًا وَخَوْفًا، فَيَقُولُ: «فَإِنَّى أُشْهِدُكُمْ أَنِّي غَفَرْتُ لَهُمْ» ، فَيَقُولُونَ: فَإِنَّ فِيهِمْ فُلَانًا الْخَطَّاءَ لَمْ يُرِدْهُمْ إِنَّمَا جَاءَ لِحَاجَةٍ، فَيَقُولُ: «هُمُ الْقَوْمُ لَا يَشْقَى بِهِمْ جَلِيسُهُمْ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو راستوں میں پھرتے رہتے ہیں اور اللہ کی یاد کرنے والوں کو تلاش کرتے رہتے ہیں ۔ پھر جہاں وہ کچھ ایسے لوگوں کو پالیتے ہیں کہ جو اللہ کا ذکر کرتے ہوتے ہیں تو ایک دوسرے کو آواز دیتے ہیںکہ آؤ ہمارا مطلب حاصل ہوگیا ۔ پھر وہ پہلے آسمان تک اپنے پروں سے ان پر امنڈتے رہتے ہیں ۔ پھر ختم پر اپنے رب کی طرف چلے جاتے ہیں ۔ پھر ان کا رب ان سے پوچھتا ہے.حالانکہ وہ اپنے بندوں کے متعلق خوب جانتا ہے....کہ میرے بندے کیا کہتے تھے؟ وہ جواب دیتے ہیںکہ وہ تیری تسبیح پڑھتے تھے، تیری کبریائی بیان کرتے تھے، تیری حمد کرتے تھے اور تیری بڑائی کرتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے ؟ کہا کہ وہ جواب دیتے ہیں نہیں، واللہ ! انہوں نے تجھے نہیں دیکھا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ، پھر ان کا اس وقت کیا حال ہوتا جب وہ مجھے دیکھے ہوئے ہوتے ؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ اگر وہ تیرا دیدار کرلیتے تو تیری عبادت اور بھی بہت زیادہ کرتے، تیری بڑائی سب سے زیادہ بیان کرتے، تیری تسبیح سب سے زیادہ کرتے۔ پھر اللہ تعالیٰ دریافت کرتاہے، پھر وہ مجھ سے کیا مانگتے ہیں؟ فرشتے کہتے ہیں کہ وہ جنت مانگتے ہیں۔ بیان کیاکہ اللہ تعالیٰ دریافت کرتاہے ان کا اس وقت کیا عالم ہوتا اگر انہوں نے جنت کو دیکھا ہوتا؟ فرشتے جواب دیتے ہیں کہ اگر انہوں نے جنت کو دیکھا ہوتا تو وہ اس سے اور بھی زیادہ خواہشمند ہوتے ، سب سے بڑھ کر اس کے طلب گار ہوتے ۔ پھر اللہ تعالیٰ پوچھتاہے کہ وہ کس چیز سے پناہ مانگتے ہیں ؟ فرشتے جواب دیتے ہیں ، دوزخ سے ۔ اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے کیا انہوں نے جہنم دیکھا ہے؟ وہ جواب دیتے ہیں نہیں، واللہ ، انہوں نے جہنم کو دیکھا نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، پھر اگر انہوں نے اسے دیکھا ہوتا تو ان کا کیا حال ہوتا ؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ اگر انہوں نے اسے دیکھا ہوتا تو اس سے بچنے میں وہ سب سے آگے ہوتے اور سب سے زیادہ اس سے خوف کھاتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان کی مغفرت کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر ان میں سے ایک فرشتے نے کہا کہ ان میں فلاں بھی تھا جو ان ذاکرین میں سے نہیں تھا، بلکہ وہ کسی ضرورت سے آگیا تھا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے کہ یہ ( ذاکرین ) وہ لوگ ہیں جن کی مجلس میں بیٹھنے والا بھی نامراد نہیں رہتا ۔

أَبِي سَعِيدٍ شَکَّ الْأَعْمَشُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ أَوْ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1894

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ فَضْلِ مَجَالِسِ الذِّكْرِ · حديث 1895

1895 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَلَائِكَةً فَضْلًا عَنْ كُتَّابِ النَّاسِ يَطُوفُونَ فِي الطُّرُقِ وَيَلْتَمِسُونَ أَهْلَ الذِّكْرِ فَإِذَا وَجَدُوا قَوْمًا يَذْكُرُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ تَنَادَوْا هَلُمُّوا إِلَى حَاجَتِكُمْ فَتَحُفُّهُمْ بِأَجْنِحَتِهَا إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ: مَا يَقُولُ عِبَادِي؟ فَيَقُولُونَ: يُكَبِّرُونَكَ وَيُسَبِّحُونَكَ وَيَحْمَدُونَكَ وَيُمَجِّدُونَكَ، قَالَ: فَهَلْ رَأَوْنِي؟ فَيَقُولُونَ: لَا، وَاللَّهِ يَا رَبِّ مَا رَأَوْكَ، فَيَقُولُ: فَكَيْفَ لَوْ أَنَّهُمْ رَأَوْنِي، فَيَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْكَ كَانُوا أَشَدَّ لَكَ عِبَادَةً وَأَشَدَّ تَحْمِيدًا وَأَكْثَرَ تَسْبِيحًا، قَالَ: فَيَقُولُ: مَا يَسْأَلُونِي؟ قَالَ: فَيُقَالُ: يَسْأَلُونَكَ الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ: فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا، فَيَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْهَا كَانُوا أَشَدَّ حِرْصًا وَأَشَدَّ لَهَا طَلَبًا وَأَعْظَمَ فِيهَا رَغْبَةً، فَيَقُولُ: وَمِمَّا يَتَعَوَّذُونَ؟ فَيَقُولُونَ: مِنَ النَّارِ، فَيَقُولُ: هَلْ رَأَوْهَا؟ فَيَقُولُونَ: مَا رَأَوْهَا، فَيَقُولُ: كَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا، فَيَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْهَا كَانُوا أَشَدَّ مِنْهَا فِرَارًا وَأَشَدَّ لَهَا مَخَافَةً، فَيَقُولُ: فَإِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ، فَيَقُولُ مَلَكٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ: فِيهِمْ فُلَانٌ لَيْسَ مِنْهُمْ إِنَّمَا جَاءَ لِحَاجَةٍ، قَالَ: إِنَّهُمُ الْجُلَسَاءُ لَا يَشْقَى بِهِمْ جَلِيسُهُمْ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو راستوں میں پھرتے رہتے ہیں اور اللہ کی یاد کرنے والوں کو تلاش کرتے رہتے ہیں ۔ پھر جہاں وہ کچھ ایسے لوگوں کو پالیتے ہیں کہ جو اللہ کا ذکر کرتے ہوتے ہیں تو ایک دوسرے کو آواز دیتے ہیںکہ آؤ ہمارا مطلب حاصل ہوگیا ۔ پھر وہ پہلے آسمان تک اپنے پروں سے ان پر امنڈتے رہتے ہیں ۔ پھر ختم پر اپنے رب کی طرف چلے جاتے ہیں ۔ پھر ان کا رب ان سے پوچھتا ہے.حالانکہ وہ اپنے بندوں کے متعلق خوب جانتا ہے....کہ میرے بندے کیا کہتے تھے؟ وہ جواب دیتے ہیںکہ وہ تیری تسبیح پڑھتے تھے، تیری کبریائی بیان کرتے تھے، تیری حمد کرتے تھے اور تیری بڑائی کرتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے ؟ کہا کہ وہ جواب دیتے ہیں نہیں، واللہ ! انہوں نے تجھے نہیں دیکھا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ، پھر ان کا اس وقت کیا حال ہوتا جب وہ مجھے دیکھے ہوئے ہوتے ؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ اگر وہ تیرا دیدار کرلیتے تو تیری عبادت اور بھی بہت زیادہ کرتے، تیری بڑائی سب سے زیادہ بیان کرتے، تیری تسبیح سب سے زیادہ کرتے۔ پھر اللہ تعالیٰ دریافت کرتاہے، پھر وہ مجھ سے کیا مانگتے ہیں؟ فرشتے کہتے ہیں کہ وہ جنت مانگتے ہیں۔ بیان کیاکہ اللہ تعالیٰ دریافت کرتاہے ان کا اس وقت کیا عالم ہوتا اگر انہوں نے جنت کو دیکھا ہوتا؟ فرشتے جواب دیتے ہیں کہ اگر انہوں نے جنت کو دیکھا ہوتا تو وہ اس سے اور بھی زیادہ خواہشمند ہوتے ، سب سے بڑھ کر اس کے طلب گار ہوتے ۔ پھر اللہ تعالیٰ پوچھتاہے کہ وہ کس چیز سے پناہ مانگتے ہیں ؟ فرشتے جواب دیتے ہیں ، دوزخ سے ۔ اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے کیا انہوں نے جہنم دیکھا ہے؟ وہ جواب دیتے ہیں نہیں، واللہ ، انہوں نے جہنم کو دیکھا نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، پھر اگر انہوں نے اسے دیکھا ہوتا تو ان کا کیا حال ہوتا ؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ اگر انہوں نے اسے دیکھا ہوتا تو اس سے بچنے میں وہ سب سے آگے ہوتے اور سب سے زیادہ اس سے خوف کھاتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان کی مغفرت کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر ان میں سے ایک فرشتے نے کہا کہ ان میں فلاں بھی تھا جو ان ذاکرین میں سے نہیں تھا، بلکہ وہ کسی ضرورت سے آگیا تھا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے کہ یہ ( ذاکرین ) وہ لوگ ہیں جن کی مجلس میں بیٹھنے والا بھی نامراد نہیں رہتا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1895

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ فَضْلِ مَجَالِسِ الذِّكْرِ · حديث 1896

1896 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ الشَّافِعِيُّ، ثنا عَمِّي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ،

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح بیان کرتے ہیں ۔

النَّبِیِّ مِثْلَہُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← عَمِّي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ الشَّافِعِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1896

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ فَضْلِ مَجَالِسِ الذِّكْرِ · حديث 1897

1897 - حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح بیان کرتے ہیں ۔

النَّبِیِّ مِثْلَہُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ← سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1897

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ فَضْلِ مَجَالِسِ الذِّكْرِ · حديث 1898

1898 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ يَذْكُرُونَ اللَّهَ تَعَالَى إِلَّا حَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَتَغَشَّتْهُمُ الرَّحْمَةُ، وَنَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ، وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيمَنْ عِنْدَهُ»

ابو مسلم اغر رضی اللہ عنہ حضرت ابوہریرہ اور حضرت حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں لوگوں کا کوئی گروہ اکٹھا نہیں ہوتا، وہ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور اس کا درس و تدریس کرتے ہیں مگر ان پر سکینت (اطمینان و سکون قلب)کا نزول ہوتا ہے اور (اللہ کی) رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے اور فرشتے ان کو اپنے گھیرے میں لے لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے مقربین میں جو اس کے پاس ہوتے ہیں ان کا ذکر کرتا ہے ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ، ← الْأَغَرِّ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ الدَّبْرِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1898

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ فَضْلِ مَجَالِسِ الذِّكْرِ · حديث 1899

1899 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَغَرِّ، قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لِأَهْلِ ذِكْرِ اللَّهِ أَرْبَعٌ: تَنْزِلُ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ، وَتَحُفُّ بِهِمُ الْمَلَائِكَةُ، وَتَغْشَاهُمُ الرَّحْمَةُ، وَيَذْكُرُهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي مَلَأٍ عِنْدَهُ "

حضرت ابو مسلم اغر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں حضرت ابوہریرہ اور حضرت حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ دونوں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ کا ذکر کرنے والوں کے لیے چار خصال (انعامات )ہیں : ان پر سکینت (اطمینان و سکون قلب)کا نزول ہوتا ہے اور (اللہ کی) رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے اور فرشتے ان کو اپنے گھیرے میں لے لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے مقربین میں جو اس کے پاس ہوتے ہیں ان کا ذکر کرتا ہے ۔

لِأَهْلِ ← أَشْهَدُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← الْأَغَرِّ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1899

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter