كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الِاسْتِغْفَارِ · حديث 1786
1786 - حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عُمَرُ بْنُ يَزِيدَ السَّيَّارِيُّ، ثنا مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ تَمَامِ بْنِ نَجِيحٍ، ثنا كَعْبُ بْنُ ذُهْلٍ الْإِيَادِيُّ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ حَاجَةً وَأَرَادَ الرُّجُوعَ خَلَّفَ بَعْضَ مَا يَكُونُ مَعَهُ فَخَلَّفَ ذَاتَ يَوْمٍ نَعْلَيْهِ ثُمَّ مَضَى فِي حَاجَتِهِ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَتَبِعْتُهُ فَاسْتَقْبَلَنِي قَبْلَ أَنْ يَقْضِيَ حَاجَتَهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَمْ تَكُنْ لَكُمْ حَاجَةٌ؟ قَالَ: " أَتَانِي آتٍ مِنْ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ إِنَّهُ {مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَحِيمًا} [النساء: 110] ، وَقَدْ كَانَتْ نَزَلَتْ آيَةٌ قَبْلَهَا أَشْفَقْتُ عَلَيْكُمْ مِنْهَا {مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ} [النساء: 123] فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنْ زَنَا وَإِنْ سَرَقَ؟ قَالَ: «وَإِنْ زَنَا وَإِنْ سَرَقَ، ثُمَّ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ، رَغِمَ أَنْفُ أَبِي الدَّرْدَاءِ لَا يَزَالُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَغْفِرُ لِعَبْدِهِ مَا اسْتَغْفَرَهُ حَتَّى يَكُونَ الْعَبْدُ هُوَ يُصِرُّ فَلَا يَتُوبُ»
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مجلس میں تشریف فرما ہوتے اور آپ کسی ضرورت کے لئے وہاں سے اٹھ کر جانا چاہتے ،آپ کا وہاں واپس آنے کا ارادہ ہوتا تو آپ صلی اللہ وسلم اپنی جگہ پر اپنی کوئی نشانی چھوڑ کر جایا کرتے تھے۔ ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جوتے مبارک کو اپنی نشانی کے طورپر اپنی جگہ پر چھوڑا پھر آپ اپنی حاجت کے لیے چلے گئے۔حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں آپ کے پیچھے پیچھے چلنے لگا آپ صلی اللہ وسلم اپنی حاجت کو پورا کرنے سے پہلے میری طرف واپس پلٹ آئے ،میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ تو قضاء حاجت کے لیے یہاں پر آئے تھے،آپ اس سے پہلے ہی واپس آرہے ہیں؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؎ میرے پاس میرے رب میرے رب عزوجل کی طرف سے ایک آنے والا آیا، اس نے مجھے یہ بات کہی :{مَنْ یَعْمَلْ سُوء ًا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَہُ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللَّہَ یَجِدِ اللَّہَ غَفُورًا رَحِیمًا}جو شخص کوئی برائی کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے استغفار کرے تو وہ اللہ کو بخشنے والا، مہربانی کرنے والاپائے گا۔ (النساء:110)اور بلاشبہ اس آیت کے نازل ہونے سیپہلے مجھ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی تھی کہ جس کی وجہ سے میں تمہارے بارے میں در گیا تھا ،{جس شخص نے برا عمل کیا ، اس کو اس کا بدلہ دیا جائے گا ۔}(نساء:123) حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں:میں نے عرض کیا :اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اگرچہ اس نے زنا کیا ہوا ،اگرچہ اس نے چوری کی ہو ؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو،اگرچہ اس نے چوری کی ہو پھر وہ توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرما لیتا ہے ،چاہے ابودرداء رضی اللہ عنہ کا ناک خاک آلود ہو جائے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ سے چل اپنے بندے کو معاف کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے رب سے استغفار کرتا رہتا ہے۔ اگر ایسی صورتحال پیدا ہوجائے کہ بندہ گناہ کرتا ہے پھر گناہ کرتا ہے اور وہ توبہ نہیں کرتا تو پھر اللہ تعالی اس کی توبہ کو قبول نہیں کرتا۔
أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← كَعْبُ بْنُ ذُهْلٍ الْإِيَادِيُّ ← تمام بن نجيح ← مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← عُمَرُ بْنُ يَزِيدَ السَّيَّارِيُّ، ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ
Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1786
