Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
كتاب الدعاء

Kitab Al Dua

by Tibrani

2,251 Hadith318 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ فَضْلِ التَّسْبِيحِ وَالتَّحْمِيدِ · حديث 1699

1699 - حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ وَنَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ: «أَلَا إِنَّ سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ هُنَّ الْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ»

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء کے بعد ہمارے پاس تشریف فرما ہوئے ، تب ہم مسجد میں ہی موجود تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:بلاشبہ ،سُبْحَانَ اللَّہِ، وَالْحَمْدُ لِلَّہِ، وَلَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ، وَاللَّہُ اَکْبَرُ، یہ کلمات باقی رہنے والے اور صالح کلمات ہیں ۔

خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ بَعْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ وَنَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ ← النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ ← الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← يُوسُفُ الْقَاضِي

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1699

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ فَضْلِ التَّسْبِيحِ وَالتَّحْمِيدِ · حديث 1700

1700 - حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا أَغْلَبُ بْنُ تَمِيمٍ، ثنا مَخْلَدٌ أَبُو الْهُذَيْلِ الْعَبْدِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَفْسِيرِ {لَهُ مَقَالِيدُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ} فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ، تَفْسِيرُهَا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ، وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْأَوَّلُ وَالْآخَرُ، وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، يَا عُثْمَانُ مَنْ قَالَهَا إِذَا أَصْبَحَ عَشْرَ مِرَارٍ أَعْطَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ سِتَّ خِصَالٍ: أَمَّا أَوَّلُ خَصْلَةٍ فَيُحْرَسُ مِنْ إِبْلِيسَ وَجُنُودِهِ، وَأَمَّا الثَّانِيَةُ فَيُعْطَى قِنْطَارًا فِي الْجَنَّةِ، وَأَمَّا الثَّالِثَةُ فَيُرْفَعُ لَهُ دَرَجَةٌ فِي الْجَنَّةِ، وَأَمَّا الرَّابِعَةُ فَيُزَوِّجُهُ اللَّهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ، وَأَمَّا الْخَامِسَةُ فَيُعْطَى مِنَ الْأَجْرِ كَمَنْ حَجَّ وَاعْتَمَرَ فَقُبِلَ حَجُّهُ وَتُقُبِّلَتْ عُمْرَتُهُ فَإِنْ مَاتَ مِنْ يَوْمِهِ خُتِمَ لَهُ بِطَابَعِ الشُّهَدَاءِ "

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمان ابن عفان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر کے بارے میں پوچھا:{آسمان و زمین کی چابیاں اللہ کے پاس ہیں۔}رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم سے پہلے اس کی تفسیر کے بارے میں مجھ سے کسی نے سوال نہیں کیا۔ آپ نے فرمایا:اس کی تفسیر یہ ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے،اللہ تعالی سب سے بڑا ہے ,اللہ تعالی پاک ہے اپنی حمد کے ساتھ ,اللہ سے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرتا ہوں اور اللہ کی توفیق کے بغیر یہ ممکن نہیں ہے۔ اللہ ہی سب سے پہلے ہے وہی سب سے آخر میں ہے ،وہی ظاہر ہے، وہی باطن ہے۔ ہر قسم کی بھلائی اسی کے ہاتھ میں ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اے عثمان !جو شخص صبح کے وقت دس مرتبہ یہ کلمات کہہ لیتا ہے اللہ تعالی اس کو چھ خصال سے نوازتا ہے۔پہلی خصلت: اللہ تعالی اس بندے کو ابلیس اور اس کے لشکر کے شر سے محفوظ فرما دیتاہے۔ دوسری خصلت: اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں خزانہ عطا فرما دیتا ہے ۔تیسری خصلت: اللہ تعالی اس کے لیے جنت میں اس کے درجات کو بلند فرما دیتا ہے۔ چوتھی خصلت : اللہ تعالی موٹی آنکھوں والی حور سے اس کی شادی فرمادیتا ہے۔ پانچویں خصلت :اس کو اتنا اجرو ثواب دیا جاتا ہے جو حج کرنے والے کو اور عمرہ کرنے والے کو اجر عطا کیا جاتا ہے اور اس کا حج اور عمرہ قبول کر لیا گیاہو ۔ چھٹی خصلت:اگر وہ شخص اسی دن فوت ہو جاتا ہے تو اس کے لئے تابعین میں مہر لگا دی جاتی ہے ۔

تَفْسِيرِ {لَهُ مَقَالِيدُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ} ← ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ ← عَبْدُ الرَّحِيمِ ← مَخْلَدٌ أَبُو الْهُذَيْلِ الْعَبْدِيُّ، ← أَغْلَبُ بْنُ تَمِيمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← يُوسُفُ الْقَاضِي

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1700

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ فَضْلِ التَّسْبِيحِ وَالتَّحْمِيدِ · حديث 1701

1701 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْأَحْمَرِ النَّاقِدُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَفْرِيقِيِّ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ نَافِعٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سُئِلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ {مَقَالِيدُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ} فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ مَقَالِيدُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ»

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالی کے اس فرمان کے بارے میں پوچھا گیا:{ مَقَالِیدُ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِ}آسمان و زمین کی چابیاں اللہ ہی کے پاس ہیں۔ انہوں نے کہا :میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا کہ سبحان اللہ، والحمدللہ، ولاالہ الااللہ ،واللہ اکبر، یہ ہیں آسمان اور زمین کی چابیاں۔

رَسُولِ اللَّهِ ← {مَقَالِيدُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ} ← سئل عثمان بن عفان ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← حكيم بن نافع ← حفص بن عبد الله الافريقي ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَاقِدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الْاَزْدِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْأَحْمَرِ النَّاقِدُ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1701

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ فَضْلِ التَّسْبِيحِ وَالتَّحْمِيدِ · حديث 1702

1702 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْمُنْذِرِ الْقَزَّازُ الْبَصْرِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنْبَأَ شُعْبَةُ، عَنْ مُوسَى الْجُهَنِيِّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكْسِبَ فِي الْيَوْمِ أَلْفَ حَسَنَةٍ؟» قَالُوا: وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ؟ قَالَ: «يُسَبِّحُ مِائَةَ تَسْبِيحَةٍ وَيُكْتَبُ لَهُ أَلْفُ حَسَنَةٍ وَيُحَطُّ عَنْهُ أَلْفُ خَطِيئَةٍ»

حضرت مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا تم میں سے کوئی شخص روزانہ ایکہزار نیکی کرنے سے عاجز اور بے بس ہے ؟ صحابہ کرام نے کہا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !اس کی طاقت اور ہمت کون رکھتا ہے؟ آپ نے فرمایا: روزانہ ایک سو مرتبہ سبحان اللہ اس کے لیے ایک ہزار نیکیاں لکھ دی جائے گی اور اس کے ایک ہزار گناہوں کو مٹا دیا جائے گا۔

أَبِيهِ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← مُوسَى الْجُهَنِيَّ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنْبَأَ شُعْبَةُ، ← وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ← أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيِّ، ← شُعْبَةُ، ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْمُنْذِرِ الْقَزَّازُ الْبَصْرِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1702

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ فَضْلِ التَّسْبِيحِ وَالتَّحْمِيدِ · حديث 1703

1703 - حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُوسَى الْجُهَنِيِّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكْسِبَ فِي الْيَوْمِ أَلْفَ حَسَنَةٍ؟» قَالُوا: وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ؟ قَالَ: «يُسَبِّحُ مِائَةً، وَيُكَبِّرُ مِائَةً فَهِيَ أَلْفُ حَسَنَةٍ»

حضرت مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات سے عاجز اور بے بس ہے کہ روزانہ ایک ہزار نیکی کمائے؟صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا:اس کی طاقت کون رکھتا ہے ؟آپ نے فرمایا:سو دفعہ سبحان اللہ کہے اور ایک سو مرتبہ اللہ اکبر کہے تو اس کی یہ ایک ہزار نیکی شمار کی جائے گی۔

أَبِيهِ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← مُوسَى الْجُهَنِيَّ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ الْحُمَيْدِيُّ ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1703

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ فَضْلِ التَّسْبِيحِ وَالتَّحْمِيدِ · حديث 1704

1704 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ شَاهِينَ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ مُوسَى الْجُهَنِيِّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يُكْتَبَ لَهُ كُلَّ يَوْمٍ أَلْفُ حَسَنَةٍ؟» قَالُوا: وَكَيْفَ ذَلِكَ؟ قَالَ: «يُسَبِّحُ مِائَةَ تَسْبِيحَةٍ يُكْتَبُ لَهُ أَلْفُ حَسَنَةٍ، وَيُمْحَى عَنْهُ أَلْفُ خَطِيئَةٍ»

حضرت مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ ہم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی اس بات سے عاجز اور بے بس ہے کہ وہ روزانہ ایک ہزار نیکی کمائے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا:اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !روزانہ ایک ہزار نیکی کیسے کما سکتا ہے ؟آپ نے فرمایا:روزانہ ایک سو مرتبہ سبحان اللہ کہہ لے اس کی وجہ سے اس کے لئے ایک ہزار نیکیاں لکھ دی جائے گی اور اس کے ایک ہزار گناہ کو مٹا دیا جائے گا۔

أَبِيهِ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← مُوسَى الْجُهَنِيَّ، ← مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ شَاهِينَ الْبَصْرِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1704

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ فَضْلِ التَّسْبِيحِ وَالتَّحْمِيدِ · حديث 1705

1705 - حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا مُوسَى الْجُهَنِيُّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكْسِبَ كُلَّ يَوْمٍ أَلْفَ حَسَنَةٍ؟» فَسَأَلَ سَائِلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ: كَيْفَ يَكْسِبُ فِي كُلِّ يَوْمٍ أَلْفَ حَسَنَةٍ؟ قَالَ: «يُسَبِّحُ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ تَسْبِيحَةٍ يُكْتَبُ لَهُ أَلْفُ حَسَنَةٍ، أَوْ يُحَطُّ عَنْهُ أَلْفُ خَطِيئَةٍ» [ص:486]

حضرت مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ ہم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی اس بات سے عاجز اور بے بس ہے کہ وہ روزانہ ایک ہزار نیکی کمائے؟ آپ کے پاس موجود لوگوں میں سے کسی سوال کرنے والے نے سوال کیا:اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !روزانہ ایک ہزار نیکی کیسے کما سکتا ہے ؟آپ نے فرمایا:روزانہ ایک سو مرتبہ سبحان اللہ کہہ لے اس کی وجہ سے اس کے لئے ایک ہزار نیکیاں لکھ دی جائے گی اور اس کے ایک ہزار گناہ کو مٹا دیا جائے گا۔

كنا مع النبي ← أَبِيهِ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← مُوسَى الْجُهَنِيَّ، ← عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← يُوسُفُ الْقَاضِي

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1705

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ فَضْلِ التَّسْبِيحِ وَالتَّحْمِيدِ · حديث 1706

1706 - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، وَمَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، وَالْمُحَارِبِيُّ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ مُوسَى الْجُهَنِيِّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ

حضرت مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ ہم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ۔باقی حدیث انہوں نے اسی طرح بیان فرمائی۔

مِثْلَہُ ← كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← مُوسَى الْجُهَنِيَّ، ← الْمُحَارِبِيُّ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ زِيَادٍ، ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، ← يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1706

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ فَضْلِ التَّسْبِيحِ وَالتَّحْمِيدِ · حديث 1707

1707 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ، سَجَّادَةُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي قَالَ: أَنْبَأَ أَبُو حَمْزَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ الْكَلَامِ أَرْبَعَةٌ، لَا يَضُرُّكُ بِأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ "

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے فرمایا: چار قسم کے کلمات بہترین کلام شمار کیے جاتے ہیں، ان میں سے جس کے ذریعے شروع کر دو اس میں کوئی مضائقے والی بات نہیں ہے۔ وہ کلمات سبحان اللہ ،الحمدللہ ،لاالہ الا اللہ ، اللہ اکبر۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَنْبَأَ أَبُو حَمْزَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ، سَجَّادَةُ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1707

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ فَضْلِ التَّسْبِيحِ وَالتَّحْمِيدِ · حديث 1708

1708 - حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَدَنِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ بَشِيرٍ، مَوْلَى الْعُمَرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ قُدَامَةَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُمْ: " أَنَّ عَبْدًا مِنْ عِبَادِ اللَّهِ قَالَ: يَا رَبِّ لَكَ الْحَمْدُ كَمَا يَنْبَغِي لِجَلَالِ وَجْهِكَ وَلِعَظِيمِ سُلْطَانِكَ فَأَعْضَلَتْ عَلَى الْمَلَكَيْنِ، فَلَمْ يَدْرِيَا كَيْفَ يَكْتُبَانِهَا، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: اكْتُبَاهَا لِعَبْدِي كَمَا قَالَ حَتَّى يَلْقَانِي "

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یہ بات بیان فرمائی : اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے نے یہ کلمات کہے: یَا رَبِّ لَکَ الْحَمْدُ کَمَا یَنْبَغِی لِجَلَالِ وَجْہِکَ وَلِعَظِیمِ سُلْطَانِکَ،اے میرے رب !تمام قسم کی تعریفات تیرے لئے ہیں جس طرح تیری جلالت اور تیرے چہرے کے لئے شایان شان ہیں اور تیری عظیم سلطنت کے لائق ہیں،اس کے یہ کلمات دونوں فرشتوں کے لیے بھاری ہوگئے ، ان کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ ان کو کیسے لکھا جائے ،اللہ عزوجل نے فرمایا:: میرے اس بندے کے لیییہ کلمات لکھتے جائو ،یہاں تک کہ وہ قیامت کے دن میرے سامنے آئے اور مجھ سے ملاقات کرے ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← قُدَامَةَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ، ← صَدَقَةُ بْنُ بَشِيرٍ، مَوْلَى الْعُمَرِيِّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَدَنِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1708

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ فَضْلِ التَّسْبِيحِ وَالتَّحْمِيدِ · حديث 1709

1709 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ حَمْزَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَبْقَى مَعَ الْحُلَتَّيْنِ شَيْءٌ مِنَ الْخَطَايَا إِلَّا تَحَاتَّ عَنْ صَاحِبِهِ كَتَحَاتِّ وَرِقِ الشَّجَرِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:دو حلوں کی موجودگی میں انسان کا کوئی گناہ باقی نہیں بچتا ، وہ بالکل اسی طرح صاف ہوجاتا ہے جس طرح موسم خزاں میں درخت سے پتوں کو گرا دیا جاتا ہے ۔وہ حلے (کلمات):َا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ، وَسُبْحَانَ اللَّہِ

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، ← كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، ← سُفْيَانُ بْنُ حَمْزَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ، ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1709

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ فَضْلِ التَّسْبِيحِ وَالتَّحْمِيدِ · حديث 1710

1710 - حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، ح [ص:487] وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا الْمُحَارِبِيُّ، كُلُّهُمْ عَنْ مُوسَى الْجُهَنِيُّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيُّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ عَلِّمْنِي عَمَلًا أَقُولُهُ قَالَ: " قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ، لَا شَرِيكَ لَهُ، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ " قَالَ هَؤُلَاءِ لِرَبِّي، فَمَا لِي؟ قَالَ: " قُلِ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَاهْدِنِي، وَارْزُقْنِي، وَعَافِنِي " وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ يَحْيَى الْقَطَّانِ وَالْآخَرُونَ نَحْوَهُ

حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا،اس نے عرض کیا:آپ مجھے کچھ کلمات سکھلادیں جو کلمات میں آسانی سے کہہ سکوں ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم یہ کلمات کہا کرو:لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ وَحْدَہُ، لَا شَرِیکَ لَہُ، اللَّہُ اَکْبَرُ کَبِیرًا، سُبْحَانَ اللَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللَّہِ الْعَزِیزِ الْحَکِیمِ، اس نے عرض کیا : یہ تومیرے رب کے لئے ہیں، میں اپنے لیے کیا کہوں ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :تم یہ کہو :اے اللہ !مجھے بخش دے ،میرے اوپر رحم فرما دے ،مجھے عافیت عطا فرما دے ،مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق عطا فرما ۔

أَبِيهِ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← مُوسَى الْجُهَنِيَّ، ← الْمُحَارِبِيُّ، كُلُّهُمْ ← سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ ← عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← يُوسُفُ الْقَاضِي ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُسَدَّدٌ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1710

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter
307. Chapter
308. Chapter
309. Chapter
310. Chapter
311. Chapter
312. Chapter
313. Chapter
314. Chapter
315. Chapter
316. Chapter
317. Chapter