Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
كتاب الدعاء

Kitab Al Dua

by Tibrani

2,251 Hadith318 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ فِي سَائِرِ نَهَارِهِ · حديث 1449

1449 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيلٍ الْعَنَزِيُّ، وَعَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَا: ثنا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى الْأَرُزِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْمَدَنِيُّ، ثنا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى دِينِي بِدُنْيَا، وَعَلَى آخِرَتِي بِتَقْوَى، اللَّهُمَّ أَوْسِعْ عَلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا، وَأَزْهِدْنِي فِيهَا، وَلَا تَزْوِهَا عَنِّي فَتُرَغِّبَنِي فِيهَا، اللَّهُمَّ إِنَّكَ سَأَلْتَنِي مِنْ نَفْسِي مَا لَا أَمْلِكُهُ إِلَّا بِكَ، فَأَعْطِنِي مِنْهَا مَا يُرْضِيكَ مِنْهَا، اللَّهُمَّ أَنْتَ ثِقَتِي حِينَ يَنْقَطِعُ أَمَلِي مِنْ عَمَلِي، وَأَنْتَ رَجَائِي حِينَ يَسُوءُ ظَنِّي بِنَفْسِي، اللَّهُمَّ لَا تُخَيِّبْ طَمَعِي، وَلَا تَحَقُّقِ حَذَرِي، اللَّهُمَّ إِنَّكَ أَخَذْتَ بِقَلْبِي وَنَاصِيَتِي فَلَمْ تُمَلِّكْنِي شَيْئًا مِنْهُمَا، فَكَمَا فَعَلْتَ ذَلِكَ بِهِمَا فَاهْدِنِي إِلَى سَوَاءِ السَّبِيلِ، اللَّهُمَّ إِنَّ عَزِيمَتَكَ عَزِيمَةٌ لَا تُرَدُّ، وَقَوْلُكَ قَوْلٌ لَا يَكْذِبُ، فَأْمُرْ طَاعَتَكَ فَلْتَحِلَّ فِي كُلِّ شَيْءٍ مِنِّي أَبَدًا مَا بَقِيَتُ، اللَّهُمَّ إِنَّ عَزِيمَتَكَ عَزِيمَةٌ لَا تُرَدُّ، وَقَوْلُكَ قَوْلٌ لَا يَكْذِبُ، فَأْمُرْ مَعَاصِيكَ فَلْتَخْرُجْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مِنِّي، ثُمَّ حَرِّمْ عَلَيْهَا الدُّخُولَ فِي كُلِّ شَيْءٍ مِنِّي أَبَدًا مَا أَبْقَيْتَنِي يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ»

حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اللَّہُمَّ اَعِنِّی عَلَی دِینِی بِدُنْیَا، وَعَلَی آخِرَتِی بِتَقْوَی، اللَّہُمَّ اَوْسِعْ عَلَیَّ مِنَ الدُّنْیَا، وَاَزْہِدْنِی فِیہَا، وَلَا تَزْوِہَا عَنِّی فَتُرَغِّبَنِی فِیہَا، اللَّہُمَّ إِنَّکَ سَاَلْتَنِی مِنْ نَفْسِی مَا لَا اَمْلِکُہُ إِلَّا بِکَ، فَاَعْطِنِی مِنْہَا مَا یُرْضِیکَ مِنْہَا، اللَّہُمَّ اَنْتَ ثِقَتِی حِینَ یَنْقَطِعُ اَمَلِی مِنْ عَمَلِی، وَاَنْتَ رَجَائِی حِینَ یَسُوء ُ ظَنِّی بِنَفْسِی، اللَّہُمَّ لَا تُخَیِّبْ طَمَعِی، وَلَا تَحَقُّقِ حَذَرِی، اللَّہُمَّ إِنَّکَ اَخَذْتَ بِقَلْبِی وَنَاصِیَتِی فَلَمْ تُمَلِّکْنِی شَیْئًا مِنْہُمَا، فَکَمَا فَعَلْتَ ذَلِکَ بِہِمَا فَاہْدِنِی إِلَی سَوَاء ِ السَّبِیلِ، اللَّہُمَّ إِنَّ عَزِیمَتَکَ عَزِیمَۃٌ لَا تُرَدُّ، وَقَوْلُکَ قَوْلٌ لَا یَکْذِبُ، فَاْمُرْ طَاعَتَکَ فَلْتَحِلَّ فِی کُلِّ شَیْء ٍ مِنِّی اَبَدًا مَا بَقِیَتُ، اللَّہُمَّ إِنَّ عَزِیمَتَکَ عَزِیمَۃٌ لَا تُرَدُّ، وَقَوْلُکَ قَوْلٌ لَا یَکْذِبُ، فَاْمُرْ مَعَاصِیکَ فَلْتَخْرُجْ مِنْ کُلِّ شَیْء ٍ مِنِّی، ثُمَّ حَرِّمْ عَلَیْہَا الدُّخُولَ فِی کُلِّ شَیْء ٍ مِنِّی اَبَدًا مَا اَبْقَیْتَنِی یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ،اے اللہ! دنیا کے ذریعے میرے دین کی مدد فرما،تقوی کے ذریعے میری آخرت کی مدد فرما ، اے اللہ!میرے لیے دنیا وسیع کردے اور مجھے اس سے بے رغبت فرما دے ،اے اللہ! تو اس کو میرے لئے مرغوب نہ بنا دے کہ میں اس کی طرف راغب ہوں ،اے اللہ !اگر تو نے مجھ سے میرے نفس کے بارے میں سوال کر لیا، جس پرتیری توفیق کے بغیر میرا کنٹرول نہیں ہے ، تو اس کے بارے میں وہ کچھ عطاء کردے جس کو تو ااس کے لیے پسند کرتا ہے۔ اے اللہ! مجھے مضبوط فرما دے جب میری امیدیں میرے اعمال سے ٹوٹنے لگیں، تو ہی میری امیدوں کا مرکز ہے ،جب میرا گمان خود میرے اپنے بارے میں برا ہو جائے،اے اللہ !میری طمع کو خاب و خاسر نہ کرنا ، میری مایوسی کو مجھ پر غالب نہ کرنا ۔ اے اللہ !میرا دل اور میری پیشانی تیرے قبضے میں ہے ، ان دونوں میں سے کسی کو میرے قابو میں نہ دینا ، تو ان دونوں کے ساتھ جو بھی کرے مجھے صراط مستقیم کی توفیق بخشنا ، اے اللہ !بلاشبہ تیرے مصمم اور پختہ فیصلوں کو ٹالا نہیں جاسکتا ہے ، تیری بات کو جھٹلایا نہیں جاسکتا ، اے اللہ !اپنی اطاعت کو حکم دے کہ و ہ میرے ہر معاملے میں اتر جائے ۔ جب تک میں زندہ ہوں میں تیری اطاعت پر رہوں ۔ اے اللہ !بلاشبہ تیرے مصمم اور پختہ فیصلوں کو ٹالا نہیں جاسکتا ہے ، تیری بات کو جھٹلایا نہیں جاسکتا ، اے اللہ !تواپنی نافرمانی کو حکم دے کہ و ہ میرے ہر معاملے سے دور ہوجائے ،پھر اس کا میرے پاس داخلہ حرا م کردیا جائے جب تک میں زندہ ہو ں ۔ اے سب سے بڑھ کر رحم کرنے والے ۔

جَابِرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْمَدَنِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى الْأَرُزِّيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيلٍ الْعَنَزِيُّ، وَعَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1449

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ فِي سَائِرِ نَهَارِهِ · حديث 1450

1450 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ الْعُقَيْلِيُّ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّمَيْرِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَرْوَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُغِيثٍ، عَنْ كَعْبٍ الْحَبْرِ، حَدَّثَنِي صُهَيْبٌ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو: «اللَّهُمَّ إِنَّكَ لَسْتَ بِإِلَهٍ اسْتَحْدَثْنَاهُ، وَلَا بِرَبٍّ ابْتَدَعْنَاهُ، وَلَا كَانَ لَنَا قَبْلَكَ مِنْ إِلَهٍ نَلْجَأُ إِلَيْهِ وَنَذَرُكَ، وَلَا أَعَانَكَ عَلَى خَلْقِنَا أَحَدٌ فَنُشْرِكَهُ فِيكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ» قَالَ كَعْبٌ: وَهَكَذَا كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ دَاوُدُ يَدْعُو

حضرت صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے:اللَّہُمَّ إِنَّکَ لَسْتَ بِإِلَہٍ اسْتَحْدَثْنَاہُ، وَلَا بِرَبٍّ ابْتَدَعْنَاہُ، وَلَا کَانَ لَنَا قَبْلَکَ مِنْ إِلَہٍ نَلْجَاُ إِلَیْہِ وَنَذَرُکَ، وَلَا اَعَانَکَ عَلَی خَلْقِنَا اَحَدٌ فَنُشْرِکَہُ فِیکَ تَبَارَکْتَ وَتَعَالَیْتَ،اے اللہ!تو کوئی ایسا معبود اور الہٰ نہیں ہے کہ جسے ہم نے خود اپنی طرف سے معبود بنایا ہو اور نہ ہی تو ایسا رب ہے کہ جس کو ہم نے پہلی مرتبہ معبود بنایا ہو۔نہ ہی تجھ سے پہلے ہمارا کوئی اور معبود تھا کہ جس کے پاس ہم پناہ حاصل کریں اور تجھے چھوڑ دیں ، نہ ہی مخلوقات کے پیدا کرنے میں کسی نے تیرا تعاون کیا ہے کہ ہم اس کو تیرا شریک بنالیں ،اے اللہ !تو بابرکت ہے اور تیری ذات بلند ہے ۔کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام اسی طرح دعا کیا کرتے تھے ۔

صُھَیْبٍ ← كَعْبٍ الْحَبْرِ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُغِيثٍ، ← عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَرْوَانَ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← فضيل بن سليمان النميري ← عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ الْعُقَيْلِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1450

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ فِي سَائِرِ نَهَارِهِ · حديث 1451

1451 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زِمَامٍ الْعَلَّافُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ، ثنا الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبَانَ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنِ الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَعْدَ الْعِشَاءِ فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ هَذِهِ السَّاعَةَ؟ قُلْتُ: إِنِّي أُحِبُّكَ، قَالَ: اللَّهِ إِنَّكَ تُحِبُّنِي، قُلْتُ: اللَّهِ إِنِّي أُحِبُّكَ، قَالَ: أَلَا أُعَلِّمُكَ دُعَاءً عَلَّمَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: قُلِ: «اللَّهُمَّ افْتَحْ مَسَامِعَ قَلْبِي لِذِكْرِكَ، وَارْزُقْنِي طَاعَتَكَ، وَطَاعَةَ رَسُولِكَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَمَلًا بِكِتَابِكَ»

حارث اعور کہتے ہیں کہ میں ایک دن عشاء کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے مجھے کہا: اس وقت تمہیں کون سی چیز میرے پاس لے کر آئی ہے ؟میں نے انہیں کہا: میں آپ سے محبت کرتا ہوں، انہوں نے کہا :اللہ کی قسم! کیا تم مجھ سے محبت کرتے ہو؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں آپ سے محبت کرتا ہوں، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا:کیا میں تمہیں کچھ ایسے کلمات نہ سکھلادوں؟ جو کلمات اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سکھلائے تھے،میں نے کہا:کیوں نہیں،انہوں نے یہ دعا سکھلائی : اللَّہُمَّ افْتَحْ مَسَامِعَ قَلْبِی لِذِکْرِکَ، وَارْزُقْنِی طَاعَتَکَ، وَطَاعَۃَ رَسُولِکَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَعَمَلًا بِکِتَابِکَ،اے اللہ !میرے دل کے بند دریچوں کو اپنے ذکر کے لئے کھول دے،مجھے اپنی اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرما اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے کی توفیق بخش دے اور اپنی کتاب پر عمل پیرا ہونے کی ہمت عطا فرما۔

أَلَا أُعَلِّمُكَ دُعَاءً عَلَّمَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ قُلْتُ: بَلَى، ← اللَّهِ إِنَّكَ تُحِبُّنِي، قُلْتُ: اللَّهِ إِنِّي أُحِبُّكَ، ← مَا جَاءَ بِكَ هَذِهِ السَّاعَةَ؟ قُلْتُ: إِنِّي أُحِبُّكَ، ← دَخَلْتُ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ بَعْدَ الْعِشَاءِ ← الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ ← أَبَانَ بْنِ الْقَاسِمِ، ← الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ ← وَهْبُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زِمَامٍ الْعَلَّافُ ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1451

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ فِي سَائِرِ نَهَارِهِ · حديث 1452

1452 - حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ جِبْرِيلَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُكَ أَنْ تَدْعُوَ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ فَإِنَّهُ مُعْطِيكَ إِحْدَاهُنَّ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ تَعْجِيلَ عَافِيَتِكَ، وَصَبْرًا عَلَى بَلِيَّتِكَ، وَخُرُوجًا مِنَ الدُّنْيَا إِلَى رَحْمَتِكَ

اُم المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبریل امین علیہ السلام آئے، انہوں نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ ان کلمات کے ذریعے سے دعا کریں، ان میں سے ایک چیز آپ کو ابھی دی جانے والی ہے:اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْاَلُکَ تَعْجِیلَ عَافِیَتِکَ، وَصَبْرًا عَلَی بَلِیَّتِکَ، وَخُرُوجًا مِنَ الدُّنْیَا إِلَی رَحْمَتِکَ، اے اللہ! میں تجھ سے تیری جلد آنے والی عافیت کا طلب گار ہوں، تیری طرف سے آنے والی آزمائش پر صبر کا طلب گار ہوں اور دنیا سے نکل کر کر تیری رحمتوں کے سائے اور آغوش میں آنا چاہتا ہوں۔

عَائِشَةَ، أَنَّ جِبْرِيلَ، أَتَى النَّبِيَّ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، ← أَبِي ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1452

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ فِي سَائِرِ نَهَارِهِ · حديث 1453

1453 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ مَتِّعْنِي بِسَمْعِي وَبَصَرِي، وَاجْعَلْهُمَا الْوَارِثَ مِنِّي، وَانْصُرْنِي عَلَى عَدُوِّي، وَأَرِنِي فِيهِ ثَأْرِي»

ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا فرمایا کرتے تھے: اللَّہُمَّ مَتِّعْنِی بِسَمْعِی وَبَصَرِی، وَاجْعَلْہُمَا الْوَارِثَ مِنِّی، وَانْصُرْنِی عَلَی عَدُوِّی، وَاَرِنِی فِیہِ ثَاْرِی،اے اللہ! مجھے میرے کانوں کے ذریعے سے فائدہ پہنچا دے، مجھے میری آنکھوں سے فائدہ پہنچا دے۔ اے اللہ! ان دونوں کو میرا وارث بنا دے ۔اے اللہ! جو مجھ پر ظلم کرے اس خلاف میری مدد فرما دے اور اس پر میرا غلبہ مجھے دکھا دے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1453

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ فِي سَائِرِ نَهَارِهِ · حديث 1454

1454 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا مُعْتَمِرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ حَذْلَمٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كَانَتْ دَعَوَاتٌ يُحِبُّهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ وَفِّقْنِي لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضَى مِنَ الْقَوْلِ وَالْعَمَلِ، وَالنِّيَّةِ وَالْهُدَى، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہماکہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا بہت زیادہ پسند تھی:اللَّہُمَّ وَفِّقْنِی لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضَی مِنَ الْقَوْلِ وَالْعَمَلِ، وَالنِّیَّۃِ وَالْہُدَی، إِنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیرٌ، اے اللہ! تو مجھے توفیق عطا فرما ان اعمال کو کرنے کی ،ان اقوال کو کہنے کی،خلوص نیت کی اور ایسے طریقے کو اختیار کرنے کی جن کو تو پسند کرتا ہے اور جن پر تو راضی ہو جاتا ہے۔بلا شبہ تو ہر چیز پر قادر ہے ۔

ابْنُ عُمَرَ كَانَتْ دَعَوَاتٌ يُحِبُّهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ ← سَالِمِ بْنِ حَذْلَمٍ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ خَالِدٍ، ← مُعْتَمِرٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1454

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ فِي سَائِرِ نَهَارِهِ · حديث 1455

1455 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدوسِ بْنِ كَامِلٍ السَّرَّاجُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ، ثنا أَبُو قَطَنٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ مُوسَى، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي الَّذِي هُوَ عِصْمَةُ أَمْرِي، وَأَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ الَّتِي فِيهَا مَعَاشِي، وَاجْعَلْ حَيَاتِي زِيَادَةً لِي فِي كُلِّ خَيْرٍ، وَاجْعَلِ الْمَوْتَ رَاحَةً لِي مِنْ كُلِّ شَرٍّ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے:’’اللَّہُمَّ أَصْلِحْ لِی دِینِی الَّذِی ہُوَ عِصْمَۃُ أَمْرِی وَأَصْلِحْ لِی دُنْیَایَ الَّتِی فِیہَا مَعَاشِی وَأَصْلِحْ لِی آخِرَتِی الَّتِی فِیہَا مَعَادِی وَاجْعَلْ الْحَیَاۃَ زِیَادَۃً لِی فِی کُلِّ خَیْرٍ وَاجْعَلْ الْمَوْتَ رَاحَۃً لِی مِنْ کُلِّ شَرٍّ، اے اللہ!میرے دین کو درست کردے جو میرے معاملہ کامحافظ ہے اور میرے دنیا کو درست کردے جس میں میری روزی ہے اور میری آخرت کو درست کردے جس میں میرا لوٹنا ہے اور میری زندگی کو ہر خیر میں زیادتی کا سبب بنادے اور موت کو میرے لیے ہر شر سے راحت بنادے۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← قدامة بن موسى ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، ← أَبُو قَطَنٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدوسِ بْنِ كَامِلٍ السَّرَّاجُ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1455

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ فِي سَائِرِ نَهَارِهِ · حديث 1456

1456 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدوسِ بْنِ كَامِلٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ الْأَعْرَجُ، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمِنِ الْمُقْرِئِ، قَالَ: أَخْرَجَ إِلَيَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَحِيفَةً صَغِيرَةً فَقَالَ: هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتُ أَمْلَاهُنَّ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: «فِيهِنَّ خَيْرٌ كَثِيرٌ» : «اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي سَيِّئَةً أَوْ أَجُرَّهَا إِلَى مُسْلِمٍ»

ابو عبد الرحمن مقرء کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے میرے سامنے ایک چھوٹا سا صیحفہ کھولا ، اس میں لکھے ہوئے کلمات کو پڑھا اور فرمایا:یہ وہ کلمات ہیں جو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے لکھوائے تھے اور آپ نے مجھے فرمایاتھا کہ ان کلمات میں بہت زیادہ خیر و برکت ہے ، وہ کلمات :اللَّہُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِ، عَالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ، رَبَّ کُلِّ شَیْء ٍ وَمَلِیکَہُ، اَشْہَدُ اَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اَنْتَ، وَحْدَکَ لَا شَرِیکَ لَکَ، وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ، اَعُوذُ بِکَ اَنْ اَقْتَرِفَ عَلَی نَفْسِی سَیِّئَۃً اَوْ اَجُرَّہَا إِلَی مُسْلِمٍ،اے اللہ!آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے غیب اور حاضر ہر چیز کو جاننے والے، تیرے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں، تو ہی ہر چیز کا پروردگار اور مالک ہے۔ میں اپنے نفس کے شر، شیطان کے شر اور اس کی شراکت داری سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اور اس بات سے بھی تیری پناہ چاہتا ہوں کہ میں اپنے آپ پر برائی ڈھاؤں یا کسی مسلمان تک برائی کو لے جاؤں۔

هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتُ أَمْلَاهُنَّ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ ← أَخْرَجَ إِلَيَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ صَحِيفَةً صَغِيرَةً ← أبي عبد الرحمن المقرئ ← عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ← شُعَيْبُ بْنُ رُزَيْقٍ، ← مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ الْأَعْرَجُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبْدُوسَ بْنِ كَامِلٍ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1456

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ فِي سَائِرِ نَهَارِهِ · حديث 1457

1457 - حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَرَجِ الرِّيَاشِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ صَالِحٍ أَبُو مَعْيُوفٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ الدَّوْسِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ مِنْ دُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي عَيْنَيْنِ هَطَّالَتَيْنِ تَشْفِيَانِ الْقَلْبَ بِذُرُوفِ الدَّمْعِ مِنْ خَشْيَتِكَ قَبْلَ أَنْ يَكُونَ الدَّمْعُ دَمًا وَالْأَضْرَاسُ جَمْرًا»

سالم بن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے :اللَّہُمَّ ارْزُقْنِی عَیْنَیْنِ ہَطَّالَتَیْنِ تَشْفِیَانِ الْقَلْبَ بِذُرُوفِ الدَّمْعِ مِنْ خَشْیَتِکَ قَبْلَ اَنْ یَکُونَ الدَّمْعُ دَمًا وَالْاَضْرَاسُ جَمْرًا،اے میرے پروردگار! مجھے رونے والی ایسی آنکھیں عطاء فرما جو آنسو بہاکر روئیں اور آپ کے خوف سے پاک کردیں پہلے اس کے کہ آنسو خون بن جائیں اور داڑھیں انگارے بن جائیں۔

أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← أَبِي سَلَمَةَ الدَّوْسِيِّ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← سَهْلُ بْنُ صَالِحٍ أَبُو مَعْيُوفٍ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَرَجِ الرِّيَاشِيُّ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1457

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ فِي سَائِرِ نَهَارِهِ · حديث 1458

1458 - حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعَمَ، حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ يَسَارٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَ: «يَا عُوَيْشُ، مَا لِي أَرَاكِ قَدْ أَشْرَقَ وَجْهُكِ» فَقَالَتْ: وَمَا لِيَ لَا أَفْعَلُ ذَلِكَ وَقَدْ دَعَوْتَ لِي فَقُلْتَ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعَائِشَةَ مَغْفِرَةً ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً لَا تُغَادِرُ لَهَا خَطِيئَةً» فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ يَوْمٍ وَلَا لَيْلَةٍ إِلَّا وَأَنَا أَدْعُو بِهَذِهِ الدَّعْوَةِ لِجَمِيعِ أُمَّتِي»

مسلم بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے یہ بات پہنچی کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے ہاں تشریف لائے، آپ نے حضرت عائشہ سے کہا:اے عویش !آپ بہت زیادہ خوش دکھائی دے رہی ہیں،اس کی کیا وجہ ہے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:میں اس بات پر خوشی کا اظہار کیوں نہ کروں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے لیے یہ دعا کی ہے :اے اللہ !حضرت عائشہ کی بخشش فرما، ایسی بخشش جو ظاہری ہو اور جو باطنی ہو اور ایسی بخشش فرما جو ان کے ایک بھی گناہ کو باقی نہ چھوڑے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :میری زندگی میں کوئی بھی دن گزرتا ہے یا رات گزرتی ہے تو میں ان کلمات کے ذریعے سے اپنی تمام امت کے لیے دعا کرتا ہوں۔

مُسْلِمُ بْنُ يَسَارٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1458

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ فِي سَائِرِ نَهَارِهِ · حديث 1459

1459 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ يَحْيَى، ثنا أَبُو شُجَاعٍ، عَنْ أَبِي طَيْبَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ جِبْرِيلَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَّمَهُ هَذَا الدُّعَاءَ: «يَا نُورَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَيَا جَبَّارَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَيَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، وَيَا صَرِيخَ الْمُسْتَصْرِخِينَ، وَيَا غَوْثَ الْمُسْتَغِيثِينَ، وَيَا مُنْتَهَى رَغْبَةِ الرَّاغِبِينَ، وَالْمُفَرِّجُ عَنِ الْمَكْرُوبِينَ، وَالْمَروِّحُ عَنِ الْمَغْمُومِينَ، وَمُجِيبَ دَعْوَةَ الْمُضْطَرِّينَ، وَكَاشِفَ السُّوءِ وَأَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ، وَإِلَهَ الْعَالَمِينَ نُنْزِلُ بِكَ كُلَّ حَاجَةٍ»

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جبریل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو یہ دعا سکھلائی :یَا نُورَ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِ، وَیَا جَبَّارَ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِ، وَیَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ، وَیَا صَرِیخَ الْمُسْتَصْرِخِینَ، وَیَا غَوْثَ الْمُسْتَغِیثِینَ، وَیَا مُنْتَہَی رَغْبَۃِ الرَّاغِبِینَ، وَالْمُفَرِّجُ عَنِ الْمَکْرُوبِینَ، وَالْمَروِّحُ عَنِ الْمَغْمُومِینَ، وَمُجِیبَ دَعْوَۃَ الْمُضْطَرِّینَ، وَکَاشِفَ السُّوء ِ وَاَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ، وَإِلَہَ الْعَالَمِینَ نُنْزِلُ بِکَ کُلَّ حَاجَۃٍ،اے آسمان و زمین کے نور ، اے آسمان و زمین کے کنٹر و ل کرنے والے !اے جلالت اور اکرام والے !اے مجبوری کی حالت میں پکارنے والوں کی پکار کو سننے والے ، اے لوگوں کی دادرسی کرنے والوں کی مدد کرنے والے!اے رغبت رکھنے والوں کی رغبت کے منتہی !اے مصیبت زدہ لوگوں کی مصیبتوں کو دور کرنے والے !اے غم زدہ لوگوں کو غموں سے نجات دلانے والے !اے لاچار بندوں کی دعا ئوں کو قبول کرنے والے !اے دکھوں کو دور کرنے والے!اے سب سے بڑھ کر رحم کرنے والے !اے تمام جہانوں کے الہ ومعبود !ہم تیرے سامنے اپنی تمام حاجات اور ضروریات کو بیان کرتے ہیں ۔

ابْنِ عُمَرَ ← أَبِي طَيْبَةَ، ← أبو شجاع ← السَّرِيِّ بْنِ يَحْيَی ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1459

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter
307. Chapter
308. Chapter
309. Chapter
310. Chapter
311. Chapter
312. Chapter
313. Chapter
314. Chapter
315. Chapter
316. Chapter
317. Chapter