Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
كتاب الدعاء

Kitab Al Dua

by Tibrani

2,251 Hadith318 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ فِي سَائِرِ نَهَارِهِ · حديث 1413

1413 - حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْخَطَّابِ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ مَجْزَأَةَ بْنِ زَاهِرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَتِي، وَآمِنْ رَوْعَتِي، وَاقْضِ دَيْنِي»

ابراہیم بن بلال اپنے والد رضی اللہ عنہ سے جو کہ صحابی رسول ہیں ان سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے :اللَّہُمَّ اسْتُرْ عَوْرَتِی، وَآمِنْ رَوْعَتِی، وَاقْضِ دَیْنِی،اے اللہ !میرے عیبوں کو چھپادے ، مجھے میرے دشمنوں کی طرف سے امن عطاء کردے اور مجھے میرے قرض سے خلاصی دلادے ۔

«اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَتِي، وَآمِنْ رَوْعَتِي، وَاقْضِ دَيْنِي» ← كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ ← أَبِيهِ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ بِلَالٍ، ← مَجْزَأَةَ بْنِ زَاهِرٍ ← قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْخَطَّابِ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1413

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ فِي سَائِرِ نَهَارِهِ · حديث 1414

1414 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ خَلَفٍ الْعَمِّيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ جَدِّهِ مَمْطُورٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّكْسَكِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: احْتَبَسَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ حَتَّى كَادَتْ تَطْلُعُ الشَّمْسُ، فَلَمَّا صَلَّى بِنَا الْغَدَاةَ قَالَ: إِنِّي صَلَّيْتُ اللَّيْلَةَ مَا قُضِيَ لِي، وَوَضَعْتُ جَنْبِي فِي الْمَسْجِدِ، فَأَتَانِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ فَقَالَ: «يَا مُحَمَّدُ، هَلْ تَدْرِي فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟» فَقُلْتُ: لَا يَا رَبِّ، قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قُلْتُ: بَلَى يَا رَبِّ، فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ فَوَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَنْدُوَتَيَّ فَتَجَلَّى لِي كُلُّ شَيْءٍ وَعَرَفْتُهُ فَقُلْتُ فِي: الدَّرَجَاتِ وَالْكَفَّارَاتِ قَالَ: «فَمَا الدَّرَجَاتُ؟» قُلْتُ: إِطْعَامُ الطَّعَامِ، وَإِفْشَاءُ السَّلَامِ، وَالصَّلَاةُ وَالنَّاسُ نِيَامٌ، قَالَ: «صَدَقْتَ» ، قَالَ: «فَمَا الْكَفَّارَاتُ؟» قُلْتُ: إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ فِي السَّبْرَاتِ، وَانْتِظَارِ الصَّلَوَاتِ بَعْدَ الصَّلَوَاتِ، وَنَقْلُ الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ، قَالَ: «سَلْ يَا مُحَمَّدُ» ، قُلْتُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ بَيْنَ عِبَادِكَ فِتْنَةً فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ وَأَنَا غَيْرُ مَفْتُونٍ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُبَّكَ، وَحُبَّ مَنْ أَحَبَّكَ، وَحُبَّ عَمَلٍ يُقَرِّبُنِي إِلَى حُبِّكَ "، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَعَلَّمُوهُنَّ وَادْرُسُوهُنَّ فَإِنَّهُنَّ حَقٌّ

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ہمیں فجر کی نماز پڑھانے کے لئے انتظار کروایا، آتاخیر سے تشریف فرما ہوئے، جبکہ سورج طلوع ہونے کے قریب تھا ،آپ نے ہمیں نماز پڑھائی، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے ، آپ نے فرمایا : میں نے رات کے وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے نصیب میں لکھی ہوئی نماز کو ادا کیا۔ اس کے بعد میںمسجد میں لیٹ گیا ،اسی دوران اللہ رب العزت بہت ہی احسن صورت میں میرے پاس آئے ، اللہ تعالیٰ نے مجھ سے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! کیا تمہیں علم ہے کہ بڑے فرشتے کس کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں ،اے میرے رب !اللہ تعالیٰ نے یہ بات تین بار ارشاد فرمائی ،میں نے کہا:کیوں نہیں اے میرے رب !اللہ تعالیٰ میں نے میرے کندھوں کے درمیان اپنا دست مبارک رکھا ، میں ان کی ٹھنڈک کو محسوس کیا ، میرے لیے ہر چیز کو منور کر دیااور مجھے اس کا علم ہوگیا ۔ تو میں نے کہا : درجات کے بارے میں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:درجات کیا ہیں ؟میں نے کہا :کھانا کھلانا،سلام کو عام کرنا ، رات کے وقت جب لوگ سوئے ہوں تب نماز پڑھنا ،اللہ تعالیٰ نے فرمایا:درست کہا ،اللہ تعالیٰ نے فرمایا:کفارات (گناہوں کو مٹانے والے اعمال )کیاہیں؟میں نے کہا:ناپسندیدگی کے وقت میںمکمل اہتمام کے ساتھ وضو کرنا،ایک نماز کے بعد دوسری نماز کے انتظار میں بیٹھے رہنا اورپیدل چل کر جماعت میں شریک ہونے کے لیے مسجد کی طرف جانا۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !مانگو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں نے یہ دعا کی:اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْاَلُکَ فِعْلَ الْخَیْرَاتِ، وَتَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاکِینِ، وَاَنْ تَغْفِرَ لِی وَتَرْحَمَنِی، وَإِذَا اَرَدْتَ بَیْنَ عِبَادِکَ فِتْنَۃً فَاقْبِضْنِی إِلَیْکَ وَاَنَا غَیْرُ مَفْتُونٍ، اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْاَلُکَ حُبَّکَ، وَحُبَّ مَنْ اَحَبَّکَ، وَحُبَّ عَمَلٍ یُقَرِّبُنِی إِلَی حُبِّکَ، اے اللہ! میں تجھ سے اچھے کام کرنے کی توفیق کا سوال کرتا ہوں ، برے کاموں کو چھوڑنے کی دعا کرتا ہوں ،مسکینوں سے محبت کرنے کی دعا کرتا ہوں ،تو مجھ پر رحم کردے اور مجھے بخش دے ۔ جب تو اپنے بندوں کے درمیان کسی آزمائش اور فتنے کو ڈالنا چاہے تو مجھے اس سے پہلے بغیر کسی فتنے میں مبتلا کییبلا لینا ،اے اللہ!میں تجھ سے تیری محبت کا سوال کرتا ہوں اور میں تجھ سے ان کی محبت کا سوال کرتا ہوںجو تجھ سے محبت کرنے والا ہواور اس عمل کی محبت کا سوا ل کرتا ہوں جوعمل مجھے تیری محبت کے قریب کردے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس کو سیکھ لو اور دوسروں کو سکھلائو ۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ، ← أبي عبد الرحمن السكسكي ← جَدِّهِ مَمْطُورٍ، ← زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مُوسَی بْنُ خَلَفٍ الْعَمِّیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1414

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ فِي سَائِرِ نَهَارِهِ · حديث 1415

1415 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ، ثنا أَبِي، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمِنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَبْطَأَ عَنَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْفَجْرِ حَتَّى كَادَتْ أَنْ تُدْرِكَنَا الشَّمْسُ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى بِنَا فَخَفَّفَ فِي صَلَاتِهِ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ: " عَلَى مَكَانِكُمْ أُخْبِرُكُمْ مَا أَبْطَأَنِي عَنْكُمْ فِي هَذِهِ الصَّلَاةِ، إِنِّي صَلَّيْتُ فِي لَيْلَتِي هَذِهِ مَا شَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ مَلَكَتْنِي عَيْنِي فَنِمْتُ فَرَأَيْتُ رَبِّيَ عَزَّ وَجَلَّ فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ وَأَجْمَلِهَا، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَبِّ، قَالَ: فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟ قُلْتُ: لَا أَدْرِي، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَبِّ، قَالَ: فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟ قُلْتُ: لَا أَدْرِي يَا رَبِّ، فَوَضَعَ كَفَّهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ فَوَجَدْتُ بَرْدَ أَنَامِلِهِ بَيْنَ ثَدْيَيَّ فَعَلِمْتُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ وَبَصُرْتُهُ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ، قَالَ: فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟ قُلْتُ: فِي الْكَفَّارَاتِ، قَالَ: وَمَا هُنَّ؟ قُلْتُ: الْمَشْي عَلَى الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ، وَإِسْبَاغِ الْوُضُوءِ فِي السَّبْرَاتِ، قَالَ: وَمَا الدَّرَجَاتُ؟ قُلْتُ: إِطْعَامُ الطَّعَامِ، وَلِينُ الْكَلَامِ، وَالصَّلَاةُ بِاللَّيْلِ [ص:419] وَالنَّاسُ نِيَامٌ، قَالَ: سَلْ، قُلْتُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةً بَيْنَ خَلْقِكَ فَنَجِّنِي إِلَيْكَ غَيْرَ مَفْتُونٍ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ أَحَبَّكَ، وَحُبَّ عَمَلٍ يُقَرِّبُنِي إِلَى حُبِّكَ»

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فجر کی نماز پڑھانے کے لئے ہمارے پاس مسجد میں آنے میں تاخیر کی ،جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا ئے تو سورج طلوع ہونے کے قریب تھا ،آپ نے ہمیں نماز پڑھائی مختصر نماز پڑھائی ،پھر آپ نماز سے فارغ ہوئے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف اپنے چہرے کے ساتھ متوجہ ہوئے ، آپ نے فرمایا :اپنی جگہوں پر بیٹھے رہو ،تمہارے پاس نماز کے لیے آنے سے مجھے اس بات نے تاخیر کی کہ میں نے رات کے وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے نصیب میں لکھی ہوئی نماز کو ادا کیا۔ اس کے بعد میں لیٹ گیا،میری آنکھیں مجھ پر غالب آگئیں،میں سوگیا ،اس دوران میں نے اپنے رب عزوجل کو بہت ہی احسن اور اجمل صورت میں دیکھا ،اللہ نے کہا:اے محمد !میں نے کہا:لبیک یارب !اللہ نے تعالیٰ نے فرمایا:بڑے فرشتے کس چیز کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں؟ میں نے کہا: مجھے علم نہیں اے میرے رب!اللہ تعالیٰ میں نے میرے کندھوں کے درمیان اپنا دست مبارک رکھا ، میں نے انگلیوں کے پوروں کی ٹھنڈک کو اپنی چاتیوں کے درمیان محسوس کیا ، میںنے ہر چیز کوجان لیا اور دیکھ لیا ،پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !میں نے کہا:لبیک یارب !اللہ نے تعالیٰ نے فرمایا:بڑے فرشتے کس چیز کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں؟ میں نے کہا : کفارات (گناہوں کو مٹانے والے اعمال )اللہ تعالیٰ نے فرمایا:وہ کیاہیں؟میں نے کہا:پیدل چل کر جماعت میں شریک ہونے کے لیے مسجد کی طرف جانااورناپسندیدگی کے وقت میںمکمل اہتمام کے ساتھ وضو کرنا،اللہ تعالیٰ نے فرمایا:درجات کیا ہیں ؟میں نے کہا :کھانا کھلانا،نرم کلام کرنا،رات کے وقت جب لوگ سوئے ہوں تب نماز پڑھنا ،اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !مانگو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں نے یہ دعا کی:اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْاَلُکَ فِعْلَ الْخَیْرَاتِ، وَتَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاکِینِ، وَاَنْ تَغْفِرَ لِی وَتَرْحَمَنِی، وَإِذَا اَرَدْتَ فِتْنَۃً بَیْنَ خَلْقِکَ فَنَجِّنِی إِلَیْکَ غَیْرَ مَفْتُونٍ، اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْاَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ اَحَبَّکَ، وَحُبَّ عَمَلٍ یُقَرِّبُنِی إِلَی حُبِّکَ، اے اللہ! میں تجھ سے اچھے کام کرنے کی توفیق کا سوال کرتا ہوں ، برے کاموں کو چھوڑنے کی دعا کرتا ہوں ،مسکینوں سے محبت کرنے کی دعا کرتا ہوں ،تو مجھ پر رحم کردے اور مجھے بخش دے ۔ جب تو اپنے بندوں کے درمیان کسی آزمائش اور فتنے کو ڈالنا چاہے تو مجھے اس سے پہلے بغیر کسی فتنے میں مبتلا کییبلا لینا ،اے اللہ!میں تجھ سے تیری محبت کا سوال کرتا ہوں اور میں تجھ سے ان کی محبت کا سوال کرتا ہوںجو تجھ سے محبت کرنے والا ہواور اس عمل کی محبت کا سوا ل کرتا ہوں جوعمل مجھے تیری محبت کے قریب کردے ۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1415

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ فِي سَائِرِ نَهَارِهِ · حديث 1416

1416 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُبَارَكِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ دَلِيلٍ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، أَوْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطِ قَالَ حَمَّادُ بْنُ دَلِيلٍ: وَحَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ صَالِحِ بْنِ حَيٍّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " رَأَيْتُ رَبِّيَ عَزَّ وَجَلَّ فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ فَقَالَ: فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟ فَقُلْتُ: لَا أَدْرِي، فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ أَنَامِلِهِ، ثُمَّ قَالَ: فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟ قُلْتُ: فِي الْكَفَّارَاتِ وَالدَّرَجَاتِ، قَالَ: وَمَا الْكَفَّارَاتُ؟ قُلْتُ: إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ فِي السَّبْرَاتِ، وَنَقْلُ الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، قَالَ: فَمَا الدَّرَجَاتُ؟ قُلْتُ: إِطْعَامُ الطَّعَامِ، وَإِفْشَاءُ السَّلَامِ، وَصَلَاةٌ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ، قَالَ: قُلْ، قَالَ: قُلْتُ: مَا أَقُولُ؟ قَالَ: قُلِ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عَمَلًا بِالْحَسَنَاتِ، وَتَرًكَا لِلْمُنْكَرَاتِ، وَإِذَا أَرَدْتَ فِي قَوْمٍ فِتْنَةً وَأَنَا فِيهِمْ فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ غَيْرَ مَفْتُونٍ»

حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے رب عزوجل کو نہایت احسن صورت میں دیکھا۔ اللہ نے مجھے فرمایا:بڑے فرشتے کس چیز کے بارے میں جھگڑ رہے ہیں؟ میں نے کہا:مجھے علم نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے کندھوں کے درمیان میں رکھا یہاں تک کہ میں نے پوروں کی ٹھنڈک کو اپنے سینے پر محسوس کیا اور اللہ نے فرمایا:بڑے فرشتے کس چیز کے بارے میں جھگڑ رہے ہیں؟ میں نے کہا: کفارات کے بارے میں اور درجات کے بارے میں، اللہ نے کہا کفارات کیا ہیں ؟میں نے کہا: ناپسندیدگی کے وقت مکمل اہتمام کے ساتھ وضو کرنا،نماز با جماعت کی ادائیگی کے لیے پیدل چل کر مسجد کی طرف جانا اورایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ۔ اللہ نے کہا:درجات کیا ہیں؟میں نے کہا :کھانا کھلانا ، سلام کو عام کرنا ،رات کے وقت جب لوگ سوئے ہوں تب نماز پڑھنا۔ اللہ نے کہا :اے نبی کہو کیا کہنا چاہتے ہو، میں نے کہا میں کیا کہوں ؟اللہ نے فرمایا: یہ دعا کرو: اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْاَلُکَ عَمَلًا بِالْحَسَنَاتِ، وَتَرًکَا لِلْمُنْکَرَاتِ، وَإِذَا اَرَدْتَ فِی قَوْمٍ فِتْنَۃً وَاَنَا فِیہِمْ فَاقْبِضْنِی إِلَیْکَ غَیْرَ مَفْتُون،اے اللہ !میں تجھ سے ایسے اعمال کا سوال کرتا ہوں جو اچھائی والے ہوں میں تتجھ سیبرائی کو چھوڑنے کی درخواست کرتا ہوں ،اے اللہ! جب توکسی قوم کو کسی فتنے میں اور آزمائش میں مبتلا کرنا چاہے تو مجھے اس سے پہلے کسی فتنے میں مبتلا کیے بغیر اٹھا لینا۔

طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، أَوْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطِ ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ، ← حَمَّادِ بْنِ دَلِيلٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُبَارَكِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1416

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ فِي سَائِرِ نَهَارِهِ · حديث 1417

1417 - حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى سُلَيْمٍ يَعْنِي ابْنَ عَامِرٍ عَنْ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ الْأَسْوَدِ، عَنْ ثَوْبَانَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ فَقَالَ: إِنَّ رَبِّي تَعَالَى أَتَانِي اللَّيْلَةَ فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ فَقَالَ لِي: «يَا مُحَمَّدُ، هَلْ تَدْرِي فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟» قُلْتُ: لَا أَعْلَمُ يَا رَبِّ، فَوَضَعَ كَفَّهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ أَنَامِلِهِ فِي صَدْرِي، فَتَجَلَّى لِي مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَبِّ يَخْتَصِمُونَ فِي الْكَفَّارَاتِ وَالدَّرَجَاتِ قَالَ: «فَأَمَّا الدَّرَجَاتُ فَإِطْعَامُ الطَّعَامِ، وَبَذْلُ السَّلَامِ، وَقِيَامٌ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ، وَأَمَّا الْكَفَّارَاتُ فَمَشْيٌ عَلَى الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ، وَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ فِي الْكَرَاهِيَّاتِ، وَجُلُوسٌ فِي الْمَسَاجِدِ خَلْفَ الصَّلَوَاتِ» ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ لِي: «يَا مُحَمَّدُ، قُلْ نَسْمَعْ وَسَلْ تُعْطَهْ» ، قَالَ: قُلِ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِي قَوْمٍ فِتْنَةً فَتَوَفَّنِي إِلَيْكَ وَأَنَا غَيْرُ مَفْتُونٍ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُبَّكَ، وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ، وَحُبَّ عَمَلٍ يُبَلِّغُنِي حُبَّكَ»

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر کے بعد ہماری طرف تشریف لائے، آپ نے فرمایا :بے شک اللہ عزوجل میرے پاس آئے بہت ہی احسن صورت میں آئے ، اللہ نے مجھے فرمایا:اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !کیا آپ جانتے ہیں کہ بڑے فرشتے کس چیز کے بارے میں جھگڑ رہے ہیں ؟میں نے کہا: اے میرے رب! مجھے اس کا علم نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے کندھوں کے درمیان رکھا ،یہاں تک کہ میں نے اللہ کے پوروں کی ٹھنڈک کو اپنے سینے پر محسوس کیا ۔اللہ تعالیٰ نے میرے لئے آسمان و زمین کے درمیان کو ظاہر کر دیا۔ پھر میں نے کہا: بڑے فرشتے کفا رات کے بارے میں اور درجات کے بارے میں جھگڑ رہے ہیں۔ اللہ نے کہا: جو درجات ہیں وہ کھانا کھلانا ،سلام کو عام کرنا اور رات کے وقت جب لوگ سوئے ہوں تب نماز پڑھنا اور کفارات پیدل چل کر جماعت کی طرف نماز ادا کرنے کے لیے مسجد میں جانا ،نہ پسندیدگی کے وقت مکمل اہتمام کے ساتھ وضو کرنااور مسجد میں ایک نماز کے بعد دوسری نماز کے لیے بیٹھے رہنا ۔پھر اللہ نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! آپ دعا کریں، آپ کی دعا قبول کی جائے گی اور آپ سوال کریں ہم آپ کو عطا کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:یہ دعا کرو :اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْاَلُکَ فِعْلَ الْخَیْرَاتِ، وَتَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاکِینِ، وَاَنْ تَغْفِرَ لِی وَتَرْحَمَنِی، وَإِذَا اَرَدْتَ فِی قَوْمٍ فِتْنَۃً فَتَوَفَّنِی إِلَیْکَ وَاَنَا غَیْرُ مَفْتُونٍ، اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْاَلُکَ حُبَّکَ، وَحُبَّ مَنْ یُحِبُّکَ، وَحُبَّ عَمَلٍ یُبَلِّغُنِی حُبَّکَ،اے اللہ! میں تجھ سے اچھے کام کرنے کی کا سوال کرتا ہوں، برے کام کو چھوڑنے کی توفیق مانگتا ہوں، مسکینوں سے محبت کی دعا کرتا ہوں، تو مجھے معاف کر دے ،میرے اوپر رحم فرما دے اورجب توکسی قوم کو فتنہ اور آزمائش میں ڈالنے کا ارادہ کرے تو مجھے بغیر کسی فتنے میں مبتلا کیے فوت کرلینا ۔اے اللہ !میںتیری محبت کا سوال کرتا ہوں اور اس کی محبت کاسوال کرتا ہوں جوتجھ سے محبت کرنے والا ہے اور میں اس عمل کی محبت کا سوال کرتا ہوں جو مجھے تیری محبت تک پہنچادے ۔

ثَوْبَانَ، ← أبي سلام الأسود ← أَبِي يَزِيدَ، ← أَبِي يَحْيَى سُلَيْمٍ يَعْنِي ابْنَ عَامِرٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1417

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ فِي سَائِرِ نَهَارِهِ · حديث 1418

1418 - حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ مَرْثَدٍ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ اللَّجْلَاجِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمِنْ بْنَ عَائِشٍ الْحَضْرَمِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " رَأَيْتُ رَبِّيَ عَزَّ وَجَلَّ فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ فَقَالَ لِي: يَا مُحَمَّدُ فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟ مَرَّتَيْنِ، قُلْتُ: أَنْتَ أَعْلَمُ يَا رَبِّ، فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ فَوَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَدْيَيَّ فَعَلِمْتُ مَا فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، قَالَ: فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى يَا مُحَمَّدُ؟ قُلْتُ: فِي الْكَفَّارَاتِ، قَالَ: وَمَا هِيَ؟ قُلْتُ: مَشْي عَلَى الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ، وَالْجُلُوسُ فِي الْمَسَاجِدِ خِلَافَ الصَّلَوَاتِ، وَإِبْلَاغُ الْوُضُوءِ أَمَاكِنَهُ فِي الْمَكَارِهِ، قَالَ: مَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَعِشْ بِخَيْرٍ، وَيَمُوتُ بِخَيْرٍ، وَيَكُونُ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ، وَمِنَ الدَّرَجَاتِ إِطْعَامُ الطَّعَامِ، وَبَذْلُ السَّلَامِ، وَأَنْ يَقُومَ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ، سَلْ تُعْطَهْ، قُلْتُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الطَّيِّبَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَتُوبَ عَلَيَّ، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةً فِي قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ «، فَتَعَلَّمُوهُنَّ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُنَّ لَحَقٌّ»

عبدالرحمان بن عائش حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا آپ نے فرمایاکہ میں نے اپنے رب عزوجل کو نہایت ہی احسن ترین صورت میں دیکھا ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !بڑے فرشتے کس چیز کے بارے میں جھگڑا کر رہے ہیں؟ دو مرتبہ اللہ نے یہ بات فرمائی ،میں نے کہا :اے اللہ !تواس بات کو زیادہ بہتر جانتا ہے ،اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے کندھوں کے درمیان میں رکھا، میں نے اس کی ٹھنڈک کو اپنی چھاتی پر محسوس کیا، مجھے آسمان و زمین کے درمیان ہر چیز کا علم ہوگیا ،پھر اللہ نے کہا: اے محمد صلی اللہ وسلم!بڑے فرشتے کس چیز کے بارے میں جھگڑ رہے ہیں؟ میں نے کہا :کفارات کے بارے میں، اللہ نے فرمایا:کفارات کیاہیں؟ میں نے کہا:پیدل چل کے نماز باجماعت کی طرف جانا اور اسی طرح نمازوں کے بعد مسجد کے اندر بیٹھے رہنا،ناپسندیدگی کے وقت مکمل اہتمام کے ساتھ وضو کرنا۔ اللہ نے کہا کہ جو بھی یہ کرے گا وہ خیر و بھلائی ساتھ زندگی بسر کرے گا ،اس کو موت خیر اور بھلائی پر آئے گی اور وہ اپنے گناہوں سے اس طرح نکل جائے گا جس طرح وہ اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا ۔ درجات ہیں: کھانا کھلانا ،سلام کو عام کرنا، رات کے وقت جب لوگ سوئے ہوں تب قیام کرنا۔ اللہ نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! سوال کریں آپ کو عطا کیا جائے گا ،میں نے یہ دعا کی :اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْاَلُکَ الطَّیِّبَاتِ، وَتَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاکِینِ، وَاَنْ تَتُوبَ عَلَیَّ، وَإِذَا اَرَدْتَ فِتْنَۃً فِی قَوْمٍ فَتَوَفَّنِی غَیْرَ مَفْتُونٍ،اے اللہ !میں تجھ سے پاکیزگی کا سوال کرتا ہوں، اچھائی کرنے کا سوال کرتا ہوں، برائیوں کو ترک کرنے کا سوال کرتا ہوں اس مساکین کی محبت کا سوال کرتا ہوں ،تو میری توبہ کو قبول فرمالے اور جب توکسی قوم کو فتنے میں مبتلا کرنا چاہے تو بغیر کسی فتنے میں مبتلا کیے مجھے فوت کر لینا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کو سیکھ لو قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے ۔یہ سارے کلمات برحق ہے

عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَائِشٍ الْحَضْرَمِيَّ، ← خَالِدِ بْنِ اللَّجْلَاجِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، ← هَاشِمُ بْنُ مَرْثَدٍ الطَّبَرَانِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1418

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ فِي سَائِرِ نَهَارِهِ · حديث 1419

1419 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدوسِ بْنِ كَامِلٍ السَّرَّاجُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارٍ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا الْمُعَافَى بْنُ عِمْرَانَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ خَالِدَ بْنَ اللَّجْلَاجِ، يُحَدِّثُ مَكْحُولًا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشٍ الْحَضْرَمِيِّ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاةٍ فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ: مَا رَأَيْنَاكَ أَسْفَرَ وَجْهًا مِنْكَ الْغَدَاةَ، فَقَالَ: " وَمَا لِي وَقَدْ تَبَدَّى لِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ فَقَالَ: فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟ " فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ الْوَلِيدِ عَنِ ابْنِ جَابِرٍ

حضرت عبدالرحمن بن عائش حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی ،کہنے والے نے کہا :اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !آپ نے اس سے پہلے کبھی نماز ک اس قدر روشن نہیں کیا ۔ آپ نے فرمایا: دراصل اللہ رب العزت نے اپنے آپ کومیرے سامنے ظاہر کیا تھا نہایت ہی احسن ترین صورت میں ۔اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پوچھا : بڑے فرشتے کس چیز کے بارے میں جھگڑ رہے ہیں؟ باقی حدیث اسی طرح بیان فرمائی۔

ابْنِ جَابِرٍ ← مِثْلَ حَدِيثِ الْوَلِيدِ ← فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟ ← وَمَا لِي وَقَدْ تَبَدَّى لِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ ← لَهُ قَائِلٌ: مَا رَأَيْنَاكَ أَسْفَرَ وَجْهًا مِنْكَ الْغَدَاةَ، ← صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ ذَاتَ غَدَاةٍ ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَائِشٍ الْحَضْرَمِيَّ، ← مَكْحُولاً ← خَالِدِ بْنِ اللَّجْلَاجِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ أَنَّهُ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْمُعَافِیُّ بْنُ عِمْرَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارٍ الْمُوصِلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدوسِ بْنِ كَامِلٍ السَّرَّاجُ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1419

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ فِي سَائِرِ نَهَارِهِ · حديث 1420

1420 - حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ اللَّجْلَاجِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح بیان کرتے ہیں ۔

النَّبِيِّ بِنَحْوِهِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← خَالِدِ بْنِ اللَّجْلَاجِ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← يُوسُفُ الْقَاضِي

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1420

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ فِي سَائِرِ نَهَارِهِ · حديث 1421

1421 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «رَأَيْتُ رَبِّيَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ» فَذَكَرَ مِثْلَهُ

حضرت ابوہریر ہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ نے فرمایا:میں نے اپنے رب تبار ک وتعالیٰ کو نہایت ہی احسن ترین صورت میں دیکھا ۔باقی حدیث اسی طرح بیان کی ۔

مِثْلَہُ ← «رَأَيْتُ رَبِّيَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ» ← خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيِّ، ← عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1421

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ فِي سَائِرِ نَهَارِهِ · حديث 1422

1422 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَدْعُو يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ الْمَسْأَلَةِ، وَخَيْرَ الدُّعَاءِ، وَخَيْرَ النَّجَاةِ، وَخَيْرَ الْعَمَلِ، وَخَيْرَ الثَّوَابِ، وَخَيْرَ الْحَيَاةِ، وَخَيْرَ الْمَمَاتِ، وَثَبِّتْنِي وَثَقِّلْ مَوَازِينِي، وَأَحِقَّ إِيمَانِي، وَارْفَعْ دَرَجَتِي، وَتَقَبَّلْ صَلَاتِي، وَاغْفِرْ خَطِيئَتِي، وَأَسْأَلُكَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَى مِنَ الْجَنَّةِ، آمِينَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فَوَاتِحَ الْخَيْرِ وَخَوَاتِمَهُ، وَجَوَامِعَهُ، وَأَوَّلَهُ وَآخِرَهُ، وَظَاهِرَهُ وَبَاطِنَهُ، وَالدَّرَجَاتِ الْعُلَى مِنَ الْجَنَّةِ، آمِينَ، اللَّهُمَّ نَجِّنِي مِنَ النَّارِ، وَمَغْفِرَةً بِاللَّيْلِ وَمَغْفِرَةً بِالنَّهَارِ، وَالْمَنْزِلَ الصَّالِحَ مِنَ الْجَنَّةِ، آمِينَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَلَاصًا مِنَ النَّارِ سَالِمًا، وَأَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ آمِنًا، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ أَنْ تُبَارِكَ لِي فِي نَفْسِي، وَفِي سَمْعِي، وَفِي بَصَرِي، وَفِي رُوحِي، وَفِي خَلْقِي، وَفِي خِلْقَتِي، وَفِي أَهْلِي، وَفِي حَيَاتِي وَمَمَاتِي، وَفِي عِلْمِي، اللَّهُمَّ وَتَقَبَّلْ حَسَنَاتِي وَأَسْأَلُكَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَى مِنَ الْجَنَّةِ آمِينَ»

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے :اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْاَلُکَ خَیْرَ الْمَسْاَلَۃِ، وَخَیْرَ الدُّعَاء ِ، وَخَیْرَ النَّجَاۃِ، وَخَیْرَ الْعَمَلِ، وَخَیْرَ الثَّوَابِ، وَخَیْرَ الْحَیَاۃِ، وَخَیْرَ الْمَمَاتِ، وَثَبِّتْنِی وَثَقِّلْ مَوَازِینِی، وَاَحِقَّ إِیمَانِی، وَارْفَعْ دَرَجَتِی، وَتَقَبَّلْ صَلَاتِی، وَاغْفِرْ خَطِیئَتِی، وَاَسْاَلُکَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَی مِنَ الْجَنَّۃِ، آمِینَ، اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْاَلُکَ فَوَاتِحَ الْخَیْرِ وَخَوَاتِمَہُ، وَجَوَامِعَہُ، وَاَوَّلَہُ وَآخِرَہُ، وَظَاہِرَہُ وَبَاطِنَہُ، وَالدَّرَجَاتِ الْعُلَی مِنَ الْجَنَّۃِ، آمِینَ، اللَّہُمَّ نَجِّنِی مِنَ النَّارِ، وَمَغْفِرَۃً بِاللَّیْلِ وَمَغْفِرَۃً بِالنَّہَارِ، وَالْمَنْزِلَ الصَّالِحَ مِنَ الْجَنَّۃِ، آمِینَ، اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْاَلُکَ خَلَاصًا مِنَ النَّارِ سَالِمًا، وَاَدْخِلْنِی الْجَنَّۃَ آمِنًا، اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْاَلُکَ اَنْ تُبَارِکَ لِی فِی نَفْسِی، وَفِی سَمْعِی، وَفِی بَصَرِی، وَفِی رُوحِی، وَفِی خَلْقِی، وَفِی خِلْقَتِی، وَفِی اَہْلِی، وَفِی حَیَاتِی وَمَمَاتِی، وَفِی عِلْمِی، اللَّہُمَّ وَتَقَبَّلْ حَسَنَاتِی وَاَسْاَلُکَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَی مِنَ الْجَنَّۃِ آمِین،اے اللہ !میں تجھ سے اچھی دعا کا سوال کرتا ہوں اچھا ئی کا سوال کرتا ہوں، اچھی نجات کا سوال کرتا ہوں، اچھے عمل کا سوال کرتا ہوں، اچھے ثواب کا سوال کرتا ہوں، اچھی زندگی کا سوال کرتا ہوں ، اچھی موت کا سوال کرتا ہوں، مجھے ثابت قدمی عطا فرما، میرے ایمان کو مضبوط فرما، میرے درجات کو بلند فرما میری نماز کو قبول فرما، میرے گناہوں کو بخش دے، میں تجھ سے جنت میں بلند درجات کا سوال کرتا ہوں ۔آمین!اے اللہ !میں تجھ سے خیر کے آغاز کااورخیر کے خاتمے کا سوال کرتا ہوں، خیر کے جوامع کا سوال کرتا ہوں ،خیر کے اول کا سوال کرتا ہوں اس کے آخر کا سوال کرتا ہوں، خیر کے ظاہر اور خیر کے باطن کا سوال کرتا ہوں ،میں تجھ سے جنت میں بلند درجات کا سوال کرتا ہوں۔ اللہ قبول فرما۔ اے اللہ !مجھے آگ سے نجات عطا فرما ،رات کے گناہوں کو بخش دے ، میرے دن کے گناہوں کو بخش دے ، آمین !اے اللہ ! میں تجھ سے جہنم کی آگ سے صحیح سلامت خلاصی چاہتا ہوں،اے اللہ !مجھے امن کے ساتھ جنت میں داخل فرما، اے اللہ !میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تم میرے نفس میں برکت عطا فرما ،میرے کانوں میں برکت عطا فرما، میری آنکھوں میں برکت عطا فرما، میری روح میں برکت عطا فرما، میرے جسم میں برکت عطا فرما، میرے اخلاق میں برکت عطا فرما ،میرے اہل و عیال میں برکت عطا فرما ،میری زندگی میں برکت عطا فرما ،میری موت میں برکت عطا فرما ،میرے علم میں برکت عطا فرما۔ اے اللہ! ہمیں نیکیوں کو قبول فرما۔ میں تجھ سے جنت کے اندر بلندی درجات کا استعمال کرتا ہوں۔ آمین!

رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ كَانَ يَدْعُو ← أُمِّ سَلَمَةَ ← عَاصِمِ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1422

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ فِي سَائِرِ نَهَارِهِ · حديث 1423

1423 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ثنا أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، أَنَّ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ، كَانَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الرِّضَا بَعْدَ الْقَضَاءِ، وَبَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَلَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ، وَالشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ، مِنْ غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ، وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ» ، وَزَعَمَ أَنَّهَا دَعَوَاتٌ كَانَ يَدْعُو بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ام درداء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں :حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے :اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْاَلُکَ الرِّضَا بَعْدَ الْقَضَاء ِ، وَبَرْدَ الْعَیْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَلَذَّۃَ النَّظَرِ إِلَی وَجْہِکَ، وَالشَّوْقَ إِلَی لِقَائِکَ، مِنْ غَیْرِ ضَرَّاء َ مُضِرَّۃٍ، وَلَا فِتْنَۃٍ مُضِلَّۃٍ،اے اللہ !میں تجھ سے قضا کے بعد رضا کا سوال کرتا ہوں، موت کے بعد اچھی زندگی کا سوال کرتا ہوں، تیرے چہرے کے دیدار کیلذت کا سوال کرتا ہوں، تیری میری ملاقات کے شوق کا سوال کرتا ہوں، بغیر کسی تکلیف اور دکھ کے ،بغیرکسی گمراہ کرنے والے فتنے کے ۔ انہوں نے یہ گمان کیا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے۔

أُمِّ الدَّرْدَاءِ، أَنَّ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ، كَانَ ← يُونُسُ بْنُ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ، ← أَبِي ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1423

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ فِي سَائِرِ نَهَارِهِ · حديث 1424

1424 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْأَحْمَرُ النَّاقِدُ الْبَصْرِيُّ، وَعَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَا: ثنا عَمَّارُ بْنُ طَالُوتَ بْنِ عَبَّادٍ، ثنا سَهْلُ بْنُ حَسَّانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خُثَيْمِ بْنِ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يُكْثِرُ أَنْ يَدْعُوَ بِهَذَا الدُّعَاءِ لَا يَكَادُ يُفَارِقُهُ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي أَخْشَاكَ كَأَنِّي أَرَاكَ أَبَدًا حَتَّى أَلْقَاكَ، وَأَسْعِدْنِي بِتَقْوَاكَ، وَلَا تُشْقِنِي بِمَعْصِيَتِكَ، وَخِرْ لِي فِي قَضَائِكَ، وَبَارِكْ لِي فِي قَدَرِكَ حَتَّى لَا أُحِبُّ تَعْجِيلَ مَا أَخَّرْتَ، وَلَا تَأْخِيرَ مَا عَجَّلْتَ، وَاجْعَلْ غِنَايَ فِي نَفْسِي، وَأَمْتِعْنِي بِسَمْعِي وَبَصَرِي، وَاجْعَلْهُمَا الْوَارِثَ مِنِّي، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ ظَلَمَنِي، وَأَرِنِي فِيهِ ثَأْرِي تُقِرَّ بِذَلِكَ عَيْنِي»

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے اور ایسا ممکن ہی نہیں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دعا کو چھوڑ دیتے آپ یہ دعا کرتے تھے :اللَّہُمَّ اجْعَلْنِی اَخْشَاکَ کَاَنِّی اَرَاکَ اَبَدًا حَتَّی اَلْقَاکَ، وَاَسْعِدْنِی بِتَقْوَاکَ، وَلَا تُشْقِنِی بِمَعْصِیَتِکَ، وَخِرْ لِی فِی قَضَائِکَ، وَبَارِکْ لِی فِی قَدَرِکَ حَتَّی لَا اُحِبُّ تَعْجِیلَ مَا اَخَّرْتَ، وَلَا تَاْخِیرَ مَا عَجَّلْتَ، وَاجْعَلْ غِنَایَ فِی نَفْسِی، وَاَمْتِعْنِی بِسَمْعِی وَبَصَرِی، وَاجْعَلْہُمَا الْوَارِثَ مِنِّی، وَانْصُرْنِی عَلَی مَنْ ظَلَمَنِی، وَاَرِنِی فِیہِ ثَاْرِی تُقِرَّ بِذَلِکَ عَیْنِی،اے اللہ! مجھے ایسا بنا دے کہ میں تجھ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں گویا کہ میں تجھے دیکھ رہا ہوں یہاں تک کہ میں تیرے سامنے پیش ہو جاؤ ں،مجھے اپنی پرہیز گاری اور تقوی کے ساتھ خوش بخت بنادے ،مجھے اپنی معصیت کے ساتھ بد بخت نہ بنانا،مجھے راضی رہنے والا بنا دے اپنی تقدیر اور فیصلے کے ساتھ ،میرے لئے برکت عطا فرما دے جو کچھ تو نے میرے مقدر میں کردیا ہے، یہاں تک کہ میں اس چیز کی جلدی کو پسند نہ کرو جس کو تو نے مؤخر کیا ہو ،میں اس چیز کی تاخیر کو پسند نہ کرو جس کو تو نے جلدی کیا ہو ۔اے اللہ !میرے دل کو غنی کر دے ،میرے نفس کوغنی کردے ، مجھے میری آنکھوں سے فائدہ عطا کردے ،اے اللہ! مجھے میرے کانوں سے او رمیری آنکھوں سے فائدہ عطاء کردے ۔ان دونوں کا میرا وارث بنا دے ۔ میرے اوپر ظلم کرے کرنے کے خلاف میری مددفرما۔اس پرمیرا غلبہ مجھے دکھا دے تاکہ میں اس سے اپنی آنکھوں ٹھنڈی کرسکوں ۔

النَّبِيِّ أَنَّهُ كَانَ يُكْثِرُ أَنْ يَدْعُوَ بِهَذَا الدُّعَاءِ لَا يَكَادُ يُفَارِقُهُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← جَدِّي، ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ خُثَيْمِ بْنِ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، ← سَهْلُ بْنُ حَسَّانَ، ← عَمَّارُ بْنُ طَالُوتَ بْنِ عَبَّادٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْأَحْمَرُ النَّاقِدُ الْبَصْرِيُّ، وَعَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1424

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter
307. Chapter
308. Chapter
309. Chapter
310. Chapter
311. Chapter
312. Chapter
313. Chapter
314. Chapter
315. Chapter
316. Chapter
317. Chapter