Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
كتاب الدعاء

Kitab Al Dua

by Tibrani

2,251 Hadith318 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 1186

1186 - حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَبِي الْجُلَاسِ عُقْبَةَ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ شَمَّاخٍ، قَالَ: شَهِدْتُ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ يَسْأَلُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْجَنَازَةِ، فَقَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبُّهَا، وَأَنْتَ خَلَقْتَهَا، وَأَنْتَ هَدَيْتَهَا، وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِسِرِّهَا وَعَلَانِيَتِهَا، جِئْنَا شُفَعَاءَ فَاغْفِرْ لَهَا»

علی بن شماس کہتے ہیں کہ میں مروان کے ساتھ تھا ،حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا:کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز جنازہ کی کوئی دعا سنی ہے ؟انہوں نے کہا:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کونماز جنازہ میں یہ دعا پڑھتے ہوتے سنا ہے :اللَّہُمَّ اَنْتَ رَبُّہَا، وَاَنْتَ خَلَقْتَہَا، وَاَنْتَ ہَدَیْتَہَا، وَاَنْتَ اَعْلَمُ بِسِرِّہَا وَعَلَانِیَتِہَا، جِئْنَا شُفَعَاء َ فَاغْفِرْ لَہَا،اے اللہ !تونے ہی اس کو پیدا کیا ، تو نے ہی اس کو اسلام پر چلنے کی ہدایت دی ، تونے ہی اس کی رو ح کو قبض کیا ہے ، تو اس کے پوشیدہ کو بھی جانتا ہے اور ظاہر کو بھی جانتا ہے ، ہم اس کے سفارشی بن کر آئے ہیں ، اس کو بخش دے ۔

عَلِيُّ بْنُ شَمَّاخٍ، ← أَبِي الْجُلَاسِ عُقْبَةَ بْنِ سِنَانٍ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← مُسَدَّدٌ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1186

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 1187

1187 - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو عُبَيْدَةَ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا سَيْفُ بْنُ مِسْكِينٍ الْأُسْوَارِيُّ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى جَنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ أَنْتَ خَلَقْتَهَا، وَأَنْتَ هَدَيْتَهَا، وَأَنْتَ قَبَضْتَ رُوحَهَا، تَعْلَمَ سِرَّهَا وَعَلَانِيَتَهَا، جِئْنَا شُفَعَاءَ فَاغْفِرْ لَهَا» ثُمَّ قَالَ: " أَدْخِلُوهُ قَبْرَهُ وَأَنِيمُوهُ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ، وَلَا تَكُبُّوهُ لِوَجْهِهِ، وَلَا تَبْطَحُوهُ لِظَهْرِهِ، وَقُولُوا: اللَّهُمَّ قِهِ عَذَابَ الْقَبْرِ "

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری شخص کا نماز جنازہ پڑھا تو میں نے آپ کویہ دعا پڑھتے ہوئے سنا :اللَّہُمَّ اَنْتَ خَلَقْتَہَا، وَاَنْتَ ہَدَیْتَہَا، وَاَنْتَ قَبَضْتَ رُوحَہَا، تَعْلَمَ سِرَّہَا وَعَلَانِیَتَہَا، جِئْنَا شُفَعَاء َ فَاغْفِرْ لَہَا،اے اللہ !تونے ہی اس کو پیدا کیا ، تو نے ہی اس کو اسلام پر چلنے کی ہدایت دی ، تونے ہی اس کی رو ح کو قبض کیا ہے ، تو اس کے پوشیدہ کو بھی جانتا ہے اور ظاہر کو بھی جانتا ہے ، ہم اس کے سفارشی بن کر آئے ہیں ، اس کو بخش دے ۔اس کے بعد آپ نے فرمایا:اس کو اس کی قبر میں داخل کرو ، اس کے چہرے کا دائیں کروٹ کردو ، اس کو اس کے چہر ے کے بل نہ لٹانا اور نہ ہی اس کو اس کی کمر کے بل گرانا ۔اس کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو :اے اللہ ! اس کو قبر کے عذاب سے بچالے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← العلاء بن زياد ← سَيْفُ بْنُ مِسْكِينٍ الْأُسْوَارِيُّ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو عُبَيْدَةَ الْعَسْكَرِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1187

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 1188

1188 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الرَّقَاشِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ هِلَالٍ الْبَارِقِيُّ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَصَلِّ عَلَيْهِ، وَأَوْرِدْهُ حَوْضَ رَسُولِكَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز جنازہ میں میت پر یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا :اللَّہُمَّ اغْفِرْ لَہُ وَصَلِّ عَلَیْہِ، وَاَوْرِدْہُ حَوْضَ رَسُولِکَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ،اے اللہ !اس کو بخش دے ، اس پر اپنی رحمت نازل فرما اور اس کو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حوض پر وارد کرنا ۔

فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَصَلِّ عَلَيْهِ، وَأَوْرِدْهُ حَوْضَ رَسُولِكَ ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَيُّوبَ، ← عَاصِمُ بْنُ هِلَالٍ الْبَارِقِيُّ، ← زكريا بن يحيى الرقاشي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1188

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 1189

1189 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ جَرِيرٍ الصُّورِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ جَنَاحٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنَّ فُلَانَ ابْنَ فُلَانٍ فِي ذِمَّتِكَ، وَحَبْلِ جِوَارِكَ، فَقِهِ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ النَّارِ، وَأَنْتَ أَهْلُ الْوَفَاءِ وَالْحَقِّ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ، إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ»

واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں میں سے ایک شخص کی نماز جنازہ پڑھاتے ہوئے یہ دعا کی :اللَّہُمَّ إِنَّ فُلَانَ ابْنَ فُلَانٍ فِی ذِمَّتِکَ، وَحَبْلِ جِوَارِکَ، فَقِہِ مِنْ فِتْنَۃِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ النَّارِ، وَاَنْتَ اَہْلُ الْوَفَاء ِ وَالْحَقِّ، اللَّہُمَّ اغْفِرْ لَہُ وَارْحَمْہُ، إِنَّکَ اَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِیم،اے اللہ !فلاں بن فلاں تیرے حوالے ہے ، تیری رحمت کے سائے میں ہے ، تو اس کو قبر کے فتنے سے اور آگے کے عذاب سے بچا ۔ اے اللہ !توہی وفا اور حق والا ہے ۔ اے اللہ !اس کو بخش دے اور اس پر رحم فرمادے ، بلاشبہ تو خوب معاف کرنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے ۔

صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ← وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، ← يُونُسُ بْنُ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ، ← مَرْوَانُ بْنُ جُنَاحٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ جَرِيرٍ الصُّورِيُّ، ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمِ الدِّمَشْقِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1189

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 1190

1190 - حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا عُمَرُ بْنُ زُرَارَةَ الْحَدَثِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُثْمَانَ الْبَلَوِيُّ الْمَدَنِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ وَحْوَحٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى قَبْرَ طَلْحَةَ بْنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَصَفَّ وَصَفَفْنَا خَلْفَهُ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ الْقَ طَلْحَةَ تَضْحَكُ إِلَيْهِ، وَيَضْحَكُ إِلَيْكَ»

حضرت حصین بن وحوح رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت طلحہ بن براء رضی اللہ عنہ کی قبر پر آئے ، آپ وہاں کھڑے ہوئے اور ہم نے آپ کے پیچھے صف بنائی ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی :اللَّہُمَّ الْقَ طَلْحَۃَ تَضْحَکُ إِلَیْہِ، وَیَضْحَکُ إِلَیْکَ،اے اللہ !طلحہ سے ہنستے ہوئے ملنا اور وہ بھی ہنستے ہوئے تیری طرف آئے ۔

حُصَيْنِ بْنِ وَحْوَحٍ، ← أَبِيهِ ← عُرْوَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيِّ، ← سَعِيدِ بْنِ عُثْمَانَ الْبَلَوِيُّ الْمَدَنِيُّ، ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← عُمَرُ بْنُ زُرَارَةَ الْحَدَثِيُّ، ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1190

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 1191

1191 - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، ثنا سُلَيْمُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ عَمَّارٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْمُغِيرَةِ النَّوْفَلِيُّ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ سَبْرَةَ أَبُو عُبَادَةَ الزُّرَقِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أُتِيَ بِجِنَازَةٍ سَهْلِ بْنِ عَتِيكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ صُلِّيَ عَلَيْهِ فِي مَوْضِعِ الْجَنَائِزِ فَتَقَدَّمَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى وَكَبَّرَ، فَقَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَجَهَرَ بِهَا، ثُمَّ كَبَّرَ الثَّانِيَةَ وَصَلَّى عَلَى نَفْسِهِ وَعَلَى الْمُرْسَلِينَ، ثُمَّ كَبَّرَ الثَّالِثَةَ فَدَعَا لِلْمَيِّتِ، فَقَالَ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ، وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ، وَأَعْظِمْ أَجْرَهُ، وَأَتْمِمْ نُورَهُ، وَأَفْسِحْ لَهُ فِي قَبْرِهِ، وَأَلْحِقْهُ بِنَبِيِّهِ» ثُمَّ كَبَّرَ الرَّابِعَةَ فَدَعَا لِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ سَلَّمَ

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سہل بن عتیک کا جنازہ لایا گیا ۔ یہ وہ شخص ہے کہ جناز گاہ میں سب سے پہلی نماز جنازہ اسی کی ادا کی گئی ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے، آپ نے اس کی نماز جنازہ ادا کی ۔آپ نے تکبیر کہی ،بلند آواز میں سورہ فاتحہ پڑھی ، پھر دوسری تکبیر کہی، اس کے بعد آپ نے اپنے آپ کے لیے اور انبیاء کے لیے درود پڑھا ۔ پھر آپ نے تیسری تکبیر کہی،اس کے بعد میت کے لیے ان الفاظ میں دعا کی :اللَّہُمَّ اغْفِرْ لَہُ وَارْحَمْہُ، وَارْفَعْ دَرَجَتَہُ، وَاَعْظِمْ اَجْرَہُ، وَاَتْمِمْ نُورَہُ، وَاَفْسِحْ لَہُ فِی قَبْرِہِ، وَاَلْحِقْہُ بِنَبِیِّہِ،اے اللہ !اس کو بخش دے ، اس پر رحم فرما ، اس کے درجات کو بلند فرما ، اس کے اجر کو بڑھا دے ، اس کے نور کو مکمل کردے ،اس کے لیے اس کی قبر میں کشادگی کردے اور اس کو اس کے نبی کی رفاقت عطاء کر ۔ پھر آپ نے چوتھی تکبیر کہی ، اس کے بعد آپ نے مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کے لیے دعا کی اور سلام پھیرا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← عِيسَى بْنُ سَبْرَةَ أَبُو عُبَادَةَ الزُّرَقِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْمُغِيرَةِ النَّوْفَلِيُّ، ← سليم بن منصور بن عمار، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1191

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 1192

1192 - حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ فَقَالَ: إِنَّا نَقُولُ: «اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبُّنَا وَرَبُّهُ، خَلَقْتَهُ وَرَزَقْتَهُ، أَحْيَيْتَهُ وَكَفَيْتَهُ، فَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُ، وَلَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَهُ»

ابو صدیق ناجی کہتے ہیں میں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے نماز جنازہ کی دعائوں کے بارے میں سوال کیا انہوں نے کہا:ہم یہ دعا پڑھتے ہیں :اللَّہُمَّ اَنْتَ رَبُّنَا وَرَبُّہُ، خَلَقْتَہُ وَرَزَقْتَہُ، اَحْیَیْتَہُ وَکَفَیْتَہُ، فَاغْفِرْ لَنَا وَلَہُ، وَلَا تَحْرِمْنَا اَجْرَہُ وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَہُ،اے اللہ !تو ہمارا رب ہے اور اس کا رب ہے ، تو نے اس کو پیدا کیا اور اس کو رزق عطاء کیا ، اس کو زندگی دی ، کی ضروریات پوری کیں ، ہمیں معاف کردے اور اس کو بخش دے ،ہمیں اس کے اجر سے محروم نہ کرنا اورہمیں اس کے بعد گمراہ نہ کرنا ۔

الصَّلاَةِ عَلَى الْجِنَازَةِ ← سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ← أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، ← زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ← شُعْبَةُ، ← غُنْدَرٌ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1192

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 1193

1193 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ عَلَى الْجَنَائِزِ: " اللَّهُمَّ أَصْبَحَ عَبْدَكَ، إِنْ كَانَ صَبَاحًا، وَإِنْ كَانَ مَسَاءً قَالَ: اللَّهُمَّ أَمْسَى عَبْدُكَ قَدْ تَخَلَّى مِنَ الدُّنْيَا وَتَرْكَهَا لِأَهْلِهَا، وَافْتَقَرَ إِلَيْكَ وَاسْتَغْنَيْتَ عَنْهُ، وَكَانَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، فَاغْفِرْ لَهُ وَتَجَاوَزْ عَنْهُ "

سعید بن مسیب رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نماز جنازہ میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے :شام کا وقت کا ہوتا تو کہتے :اے اللہ !تیرے بندے نے اس حال میں شام کی ۔۔اور اگر صبح کا وقت ہوتا تو کہتے :اللَّہُمَّ اَمْسَی عَبْدُکَ قَدْ تَخَلَّی مِنَ الدُّنْیَا وَتَرْکَہَا لِاَہْلِہَا، وَافْتَقَرَ إِلَیْکَ وَاسْتَغْنَیْتَ عَنْہُ، وَکَانَ یَشْہَدُ اَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اَنْتَ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ، فَاغْفِرْ لَہُ وَتَجَاوَزْ عَنْہ،اے اللہ !تیرے بندے نے اس حال میں صبح کی ہے کہ وہ دنیا سے الگ ہوچکا ہے اور وہ دنیا کودنیا والوں کے لیے چھوڑ گیا ہے ، تیرا محتاج ہوچکا ہے اور اس سے بے نیاز ہے ۔یہ گواہی دیتا تھا کہ تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ، یہ گواہی دیتا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیر ے رسول ہیں ۔اس کو بخش دے اور اس سے درگزر فرما ۔

عَلَى الْجَنَائِزِ: اللَّهُمَّ أَصْبَحَ عَبْدَكَ، إِنْ كَانَ صَبَاحًا، وَإِنْ كَانَ مَسَاءً ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَانَ ← طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1193

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 1194

1194 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ثنا طَارِقُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَجَلِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ عَنِ الدُّعَاءِ، فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ، فَقَالَ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ أَصْبَحَ عَبْدُكَ قَدْ تَخَلَّى مِنَ الدُّنْيَا وَتَرْكَهَا لِأَهْلِهَا وَافْتَقَرَ إِلَيْكَ، وَاسْتَغْنَيْتَ عَنْهُ، كَانَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ فَاغْفِرْ لَهُ وَتَجَاوَزْ عَنْهُ، وَإِنْ كَانَ مَسَاءً قَالَ: أَمْسَى عَبْدُكَ، وَإِنْ كَانَتِ امْرَأَةً قَالَ: أَمَتُكَ "

طارق بن عبد الرحمن بجلی رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے سعید بن مسیب سے نماز جنازہ کے بارے میں سوال کیا :سعید بن مسیب رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نماز جنازہ میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے :شام کا وقت کا ہوتا تو کہتے :اے اللہ !تیرے بندے نے اس حال میں شام کی ۔۔اور اگر صبح کا وقت ہوتا تو کہتے :اللَّہُمَّ اَصْبَحَ عَبْدُکَ قَدْ تَخَلَّی مِنَ الدُّنْیَا وَتَرْکَہَا لِاَہْلِہَا وَافْتَقَرَ إِلَیْکَ، وَاسْتَغْنَیْتَ عَنْہُ، کَانَ یَشْہَدُ اَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اَنْتَ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ فَاغْفِرْ لَہُ وَتَجَاوَزْ عَنْہُ،اے اللہ !تیرے فلاں بندے نے اس حال میں صبح کی ہے کہ وہ دنیا سے الگ ہوچکا ہے اور وہ دنیا کودنیا والوں کے لیے چھوڑ گیا ہے ، تیرا محتاج ہوچکا ہے اور اس سے بے نیاز ہے ۔یہ گواہی دیتا تھا کہ تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ، یہ گواہی دیتا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیر ے رسول ہیں ۔اس کو بخش دے اور اس سے درگزر فرما ۔اگر عورت کا جنازہ ہوتا تو کہتے :تیری فلاں بندی نے صبح کی ۔

كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ← الدُّعَاءِ، فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ، ← سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ← طارق بن عبد الرحمن البجلي ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1194

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 1195

1195 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخُزَاعِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ عَنِ الصَّلَاةِ، عَلَى الْمَيِّتِ فَقَالَ: إِنْ شِئْتَ أَخْبَرْتُكَ كَلِمَاتٍ كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُهَا؟ قُلْتُ: أَجَلْ، فَذَكَرَ: «اللَّهُمَّ أَصْبَحَ عَبْدُكَ فُلَانٌ قَدْ تَخَلَّى مِنَ الدُّنْيَا وَتَرْكَهَا لِأَهْلِهَا، وَافْتَقَرَ إِلَيْكَ وَاسْتَغْنَيْتَ عَنْهُ، وَلَا نَعْلَمُ إِلَّا خَيْرًا، وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ، وَكَانَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، فَاغْفِرْ لَهُ وَتَجَاوَزْ عَنْهُ»

طارق بن عبد الرحمن بجلی رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے سعید بن مسیب سے نماز جنازہ کے بارے میں سوال کیا :سعید بن مسیب رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ اگر تم چاہتے ہوتو میں تمہیں اس دعا کے بارے میں بتادیتا ہو ں ، میں نے کہا :ہاں آپ بتادیں ۔ اس کے بعد انہوں نے بتایا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نماز جنازہ میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے :شام کا وقت کا ہوتا تو کہتے :اللَّہُمَّ اَصْبَحَ عَبْدُکَ فُلَانٌ قَدْ تَخَلَّی مِنَ الدُّنْیَا وَتَرْکَہَا لِاَہْلِہَا، وَافْتَقَرَ إِلَیْکَ وَاسْتَغْنَیْتَ عَنْہُ، وَلَا نَعْلَمُ إِلَّا خَیْرًا، وَاَنْتَ اَعْلَمُ بِہِ، وَکَانَ یَشْہَدُ اَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اَنْتَ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ، فَاغْفِرْ لَہُ وَتَجَاوَزْ عَنْہُ،اے اللہ !تیرے بندے نے اس حال میں شام کی ۔۔اور اگر صبح کا وقت ہوتا تو کہتے :اے اللہ !تیرے فلاں بندے نے اس حال میں صبح کی ہے کہ وہ دنیا سے الگ ہوچکا ہے اور وہ دنیا کودنیا والوں کے لیے چھوڑ گیا ہے ، تیرا محتاج ہوچکا ہے اور اس سے بے نیاز ہے ۔یہ گواہی دیتا تھا کہ تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ، یہ گواہی دیتا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیر ے رسول ہیں ۔اس کو بخش دے اور اس سے درگزر فرما ۔

إِنْ شِئْتَ أَخْبَرْتُكَ كَلِمَاتٍ كَانَ عُمَرُ يَقُولُهَا؟ قُلْتُ: أَجَلْ، ← الصَّلاَةِ عَلَى الْمَيِّتِ ← سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ← طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← شُعْبَةُ، ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخُزَاعِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1195

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 1196

1196 - حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ، ثنا يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ إِنْ كَانَ صَبَاحًا قَالَ: " اللَّهُمَّ أَصْبَحَ عَبْدُكَ فُلَانٌ، وَإِنْ كَانَ مَسَاءً قَالَ: اللَّهُمَّ أَمْسَى عَبْدُكَ فُلَانٌ "

طارق بن عبد الرحمن بجلی رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے سعید بن مسیب سے نماز جنازہ کے بارے میں سوال کیا :سعید بن مسیب رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نماز جنازہ میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے :شام کا وقت کا ہوتا تو کہتے :اے اللہ !تیرے بندے نے اس حال میں شام کی ۔۔اور اگر صبح کا وقت ہوتا تو کہتے :اے اللہ !تیرے فلاں بندے نے اس حال میں صبح کی ہے ۔

اللَّهُمَّ أَمْسَى عَبْدُكَ فُلَانٌ ← اللَّهُمَّ أَصْبَحَ عَبْدُكَ فُلَانٌ، وَإِنْ كَانَ مَسَاءً ← فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ إِنْ كَانَ صَبَاحًا ← کَانَ عُمَرُ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1196

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 1197

1198 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ عَلَى الْمَيِّتِ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَحْيَائِنَا وَأَمْوَاتِنَا، وَأَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِنَا، وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا، وَاجْعَلْ قُلُوبَنَا عَلَى قُلُوبِ أَخْيَارِنَا، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، اللَّهُمَّ أَرْجِعْهُ إِلَى خَيْرٍ مِمَّا كَانَ فِيهِ، اللَّهُمَّ عَفْوَكَ، اللَّهُمَّ عَفْوَكَ»

عَلِيٍّ أَنَّهُ كَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَی ← مَنْصُورٌ، ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1197

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter
307. Chapter
308. Chapter
309. Chapter
310. Chapter
311. Chapter
312. Chapter
313. Chapter
314. Chapter
315. Chapter
316. Chapter
317. Chapter