كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ لِلْمَرِيضِ عِنْدَ عِيَادَتِهِ · حديث 1123
1123 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ لَا يَتَقَارُّ عَلَى فِرَاشِهِ مِنْ شِدَّةِ الْحُمَّى، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَلِيُّ إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ بَلْوَى فِي الدُّنْيَا النَّبِيُّونَ وَالَّذِينَ يَلُونَهُمْ، فَأَبْشِرْ فَإِنَّهَا حَظُّكَ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، مَعَ مَا لَكَ فِيهَا مِنَ الثَّوَابِ، أَتُحِبُّ أَنْ يَكْشِفَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا بِكَ؟» قَالَ عَلِيٌّ: نَعَمْ، قَالَ: " قُلِ: اللَّهُمَّ ارْحَمْ عَظْمِي الدَّقِيقَ وَجِلْدِي الرَّقِيقَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فَوْرَةِ الْحَرِيقِ، يَا أُمَّ مِلْدَمٍ، إِنْ كُنْتِ آمَنْتِ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا تَأْكُلِي اللَّحْمَ وَلَا تَشْرَبِي الدَّمَ، وَلَا تُقَوِّرِي عَلَى الْفَمِ، وَانْتَقِلِي إِلَى مَنْ يَزْعُمُ أَنَّ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ فَإِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ، لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَقُلْتُهَا فَعُوفِيتُ مِنْ سَاعَتِي، قَالَ جَعْفَرٌ: نَحْنُ أَهْلَ الْبَيْتِ يُعَلِّمُ بَعْضُنَا بَعْضًا هَذَا الدُّعَاءَ حَتَّى النِّسَاءَ وَالصِّبْيَانَ، فَمَا يَقُولُهَا أَحَدٌ إِلَّا عُوفِيَ إِنْ كَانَ فِي أَجَلِهِ تَأْخِيرٌ
جعفر بن محمد اپنے والد سے اور اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے تو وہ بخار کی شدت کی وجہ سیبستر پر بے چینی اور الجھن کا شکار تھے ، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے علی! دنیا میں سب سے زیادہ آزمائش اور تکلیفوں کا سامنا نبیوں کو کرنا پڑتا ہے، ان کے ان لوگوں کو آزمائشوں کا سامنا ہوتا جو انبیاء کرام علیہم السلام کے قریب ترین ہوا کرتے ہیں ، تمہارے لیے بشارت ہے کہ بلاشبہ اللہ عزوجل کے عذاب میں سے یہی تمہارا حصہ ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ اجرو ثواب الگ سے ہے ۔کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ اللہ تعالی تمہاری اس تکلیف کو تم سے دور کردے ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں ! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے علی!پھر تم یہ دعا کرو:اللَّہُمَّ ارْحَمْ عَظْمِی الدَّقِیقَ وَجِلْدِی الرَّقِیقَ، وَاَعُوذُ بِکَ مِنْ فَوْرَۃِ الْحَرِیقِ، یَا اُمَّ مِلْدَمٍ، إِنْ کُنْتِ آمَنْتِ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلَا تَاْکُلِی اللَّحْمَ وَلَا تَشْرَبِی الدَّمَ، وَلَا تُقَوِّرِی عَلَی الْفَمِ، وَانْتَقِلِی إِلَی مَنْ یَزْعُمُ اَنَّ مَعَ اللَّہِ إِلَہًا آخَرَ فَإِنِّی اَشْہَدُ اَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ وَحْدَہُ، لَا شَرِیکَ لَہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ، میری کمزور ہدیوں پر رحم کر ، میری نر م جلد پر مہربانی فرما ۔میں تیری پناہ میں آتا ہوں ہوں اس سے جلا دینے والے، جوش والے بخار سے ۔ اے ام ملدم! اگر تو اللہپر اورآخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے تو پھر تو گوشت نہ کھانا نا اور نہ ہی خون پینا ۔ نہ ہی منہ پرجوش مارنا۔ بلکہ تو اس شخص کی طرف منتقل ہو جا جو یہ سمجھتا ہے کہ اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی شریک ہے ۔بلاشبہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے وہ اکیلا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور بلاشبہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے یہ کلمات کہے :تو مجھے اسی لمحے عافیت عطا کر دی گئی،میں صحت یاب ہوگیا۔ جعفر کہتے ہیں:ہم اہل بیت میں سے ہیں، ہم ایک دوسرے کو یہ دعا سکھلاتے رہتے تھے یہاں تک کہ ہم نے یہ دعا بچوں کو سکھائی اور عورتوں سکھلائی ۔جس نے بھی یہ دعا پڑھی ہے اس کو بغیرتاخیر کے اسی وقت اللہ کی طرف سے شفا عطا کی گئی ہے
جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← الْوَلِيدُ بْنُ سَلَمَةَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ،
Hadith 1123
