Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
كتاب الدعاء

Kitab Al Dua

by Tibrani

2,251 Hadith318 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الدُّخُولِ عَلَى السُّلْطَانِ · حديث 1062

1062 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، قَالَ: " لَمَّا رَأَى يُوسُفُ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَزِيزَ مِصْرَ قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِخَيْرِكَ مِنْ خَيْرِهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ غَيْرِهِ "

زید عمی کہتے ہیں کہ جب یوسف علیہ السلام نے عزیز مصر کو دیکھا تو یہ دعا کی :اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْاَلُکَ بِخَیْرِکَ مِنْ خَیْرِہِ، وَاَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّہِ وَشَرِّ غَیْرِہِ ،اے اللہ !میں تیری خیر کے ساتھ اس کی خیر کا سوال کرتا ہوں اور میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس کے شر سے اور اس کے غیر کے شر سے ۔

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِخَيْرِكَ مِنْ خَيْرِهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ غَيْرِهِ ← لَمَّا رَأَى يُوسُفُ عَزِيزَ مِصْرَ ← زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1062

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الدُّخُولِ عَلَى السُّلْطَانِ · حديث 1063

1063 - حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّهُ مَنْ دَخَلَ عَلَى ذِي سُلْطَانٍ فَقَالَ: بِسْمِ اللَّهِ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، وَقَاهُ اللَّهُ شَرَّهُ وَسُدِّدَ فِي مَنْطِقِهِ

عبد الرحمن بن زیاد کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی کہ جو شخص کسی حاکم کے پاس جاتا ہے اور یہ کلمات پڑھ لیتاہے :بِسْمِ اللَّہِ رَبِّی لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللَّہ،اللہ کے نام کے ساتھ جو میرا رب ہے ، اس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ، نیکی کرنے ہمت اور گناہ سے بچنے کی طاقت اللہ کی توفیق کے بغیر ممکن نہیں ۔تو اللہ تعالیٰ اس بندے کو اس کے شر سے بچالیتا ہے اور اسے بات کرنے کی مکمل سہولت میسر رہتی ہے ۔

بَلَغَنِي أَنَّهُ مَنْ دَخَلَ عَلَى ذِي سُلْطَانٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1063

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الدُّخُولِ عَلَى السُّلْطَانِ · حديث 1064

1064 - حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: " مَنْ دَخَلَ عَلَى ذِي سُلْطَانٍ غَاشِمٍ سَفِيهٍ فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَعِينُكَ عَلَيْهِ، وَأَدْفَعُ بِكَ فِي نَحْرِهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ، صَنَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ ذَلِكَ "

عبد الرحمن بن زیاد کہتے ہیں :جو شخص کسی ظالم اور بے وقوف بادشاہ کے پاس جاتا ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ شخص یہ دعا پڑھے :اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْتَعِینُکَ عَلَیْہِ، وَاَدْفَعُ بِکَ فِی نَحْرِہِ، وَاَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّہ،اے اللہ !میں تجھ سے اس پر مدد چاہتا ہوں ، اس کی مکاریوں کو میں تیری مدد سے دور کرتا ہوں اور میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس کے شر سے ۔اللہ عزوجل اس کی مدد فرماتا ہے ۔

مَنْ دَخَلَ عَلَى ذِي سُلْطَانٍ غَاشِمٍ سَفِيهٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1064

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الدُّخُولِ عَلَى السُّلْطَانِ · حديث 1065

1065 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَهْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: " كُنَّا عِنْدَ زِيَادٍ فَأُتِيَ بِرَجُلٍ وَمَا يَشُكُّ النَّاسُ فِي قَتْلِهِ، قَالَ: فَرَأَيْتُهُ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ بِشَيْءٍ فَخُلِّيَ سَبِيلُهُ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ: جِيءَ بِكَ وَمَا يَشُكُّ النَّاسُ فِي قَتْلِكَ فَرَأَيْتُكَ حَرَّكْتَ شَفَتَيْكَ بِشَيْءٍ فَخُلِّيَ سَبِيلُكَ، قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُمَّ رَبَّ إِبْرَاهِيمَ، وَرَبَّ إِسْحَاقَ، وَرَبَّ جِبْرِيلَ، وَرَبَّ مِيكَائِيلَ، وَرَبَّ إِسْرَافِيلَ، مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ الْعَظِيمِ ادْرَأْ عَنِّي شَرَّ زِيَادٍ فَدَرَأَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ شَرَّهُ "

امام شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں :ہم زیاد کے پاس موجود تھے، وہاں ایک آدمی کو لایاگیا ،اس کے قتل کے بارے میں لوگوں کو کوئی شک نہیں تھا ۔امام شعبی کہتے ہیں میں نے دیکھا کہ اس کے ہونٹ کچھ پڑھنے کی وجہ سے حرکت کررہے تھے ۔ اس کو اس کی حالت پر چھوڑ دیا گیا ۔ ایک آدمی اس کی طرف بڑھا ، اس نے کہا :تجھے یہاں لایاگیا ہے ، تیرے قتل کے بارے میں لوگ کسی شک میں مبتلا نہیں ہے ۔میں تجھے دیکھ رہا ہوں کہ تو کچھ پڑھنے میں مصروف ہے اس وجہ سے تیرے ہونٹ حرکت بھی کررہے ہیں ، اس لیے اب تجھی تیری حالت پر چھوڑ دیا گیا ہے ۔ اس نے کہا:میں یہ دعا پڑھ رہا ہوں :اللَّہُمَّ رَبَّ إِبْرَاہِیمَ، وَرَبَّ إِسْحَاقَ، وَرَبَّ جِبْرِیلَ، وَرَبَّ مِیکَائِیلَ، وَرَبَّ إِسْرَافِیلَ، مُنْزِلَ التَّوْرَاۃِ وَالْإِنْجِیلِ وَالْقُرْآنِ الْعَظِیمِ ادْرَاْ عَنِّی شَرَّ زِیَادٍ فَدَرَاَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ شَرَّہُ،اے اللہ !اے ابراہیم کے رب !اسحاق کے رب ، جبریل کے رب، میکائیل کے رب اور اسرافیل کے رب !توریت ،انجیل اورقرآن عظیم کو نازل کرنے والے ،مجھ سے زیاد کے شر کو دور کردے تو اللہ تعالیٰ نے زیاد کے شر کو مجھ سے دور کردیا ۔

الشَّعْبِيِّ، ← حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ← سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَهْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَسْكَرِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1065

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الدُّخُولِ عَلَى السُّلْطَانِ · حديث 1066

1066 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُسْتَمْلِي، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَائِشَةَ التَّيْمِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ بِلَالٍ السَّعْدِيُّ، قَالَا: ثَنَا صَالِحٌ الْمُرِّيُّ عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَهُوَ مَرِيضٌ فَلَمْ نَبْرَحْ حَتَّى قَضَى، فَبَسَطْنَا عَلَيْهِ ثَوْبًا وَأُمٌّ لَهُ عَجُوزٌ كَبِيرَةٌ عِنْدَ رَأْسِهِ فَقُلْنَا لَهَا: يَا هَذِهِ احْتَسِبِي مُصِيبَتَكِ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَتْ: «وَمَاتَ ابْنِي؟» قَالَ: قُلْنَا نَعَمْ، قَالَتْ: «حَقًّا تَقُولُونَ؟» قُلْنَا، نَعَمْ، قَالَ: فَمَدَّتْ يَدَيْهَا، فَقَالَتِ: «اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي أَسْلَمْتُ لَكَ وَهَاجَرْتُ إِلَى رَسُولِكَ رَجَاءَ أَنْ يُغِيثَنِي عِنْدَ كُلِّ شَدِيدَةٍ وَرَخَاءٍ، فَلَا تَحْمِلْ عَلَيَّ هَذِهِ الْمُصِيبَةَ الْيَوْمَ، فَكَشَفَ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ ثُمَّ مَا بَرِحْنَا حَتَّى طَعِمْنَا مَعَهُ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک انصاری صحابی کے گھر گئے، وہ بیمار تھا، ہم اس کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوراناس کی وفات ہوگئی ،ہم نے اس کے اوپر اس کی چادر کو ڈادیا،اس کی بوڑھی ماں اس کے سر کے قریب بیٹھی ہوئی تھی، ہم نے اس کی والدہ سے کہا: ماں جی ! اللہ تعالٰی کی طرف سے اس آنے والی مصیبت پرآپ ثواب کی امید رکھیں، وہ کہتی ہے کہ میرا بیٹا فوت ہوگیا ؟ہم نے کہا: جی ہاں ایسا ہی ہے ،اس نے کہا:کیا تم ٹھیک کہہ رہے ہو؟ میں نے کہا:بالکل ایسا ہی ہے ، تو اس نے اپنے ہاتھوں کو دعا کے انداز میں پھیلادیااور اس نے ان الفاظ میں دعا کی :اللَّہُمَّ إِنَّکَ تَعْلَمُ اَنِّی اَسْلَمْتُ لَکَ وَہَاجَرْتُ إِلَی رَسُولِکَ رَجَاء َ اَنْ یُغِیثَنِی عِنْدَ کُلِّ شَدِیدَۃٍ وَرَخَاء ٍ، فَلَا تَحْمِلْ عَلَیَّ ہَذِہِ الْمُصِیبَۃَ الْیَوْمَ،اے اللہ !شک تو جانتا ہے میں نے اپنے آپ کو تیرے لیے مطیع کیا ، تیری خاطر میں نے تیرے رسول کی طرف ہجرت کی ،اس امید پر کہ تو ہر مصیبت اور ہر آسانی میں میرا ساتھ دے گا اور میرا مددگار رہے گا، اس لئے اے اللہ !آج مجھے اس مصیبت سے دوچار نہ کرنااس نے اپنے بیٹے کے چہرے سے کپڑا ہٹایا تو وہ بالکل ٹھیک تھا ،یہاں تک کہ ہم نے اس کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← صالح المري ← دَاوُدُ بْنُ بِلَالٍ السَّعْدِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَائِشَةَ التَّيْمِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُسْتَمْلِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1066

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الدُّخُولِ عَلَى السُّلْطَانِ · حديث 1067

1067 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْحِنَّائِيُّ، ثنا الْمُعَلَّى بْنُ جُزَيِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مُهَاجِرٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ بْنُ التُّومِ الرَّقَاشِيُّ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ أَخَافَ رَجُلًا فَطَلَبَهُ لِيَقْتُلَهُ فَهَرَبَ الرَّجُلُ مِنْ عِنْدِهِ فَجَعَلَتْ رُسُلُهُ تَخْتَلِفُ إِلَى مَنْزِلِ ذَلِكَ الرَّجُلِ يَطْلُبُونَهُ وَفِي جِيرَانِهِ فَلَمْ يَظْفَرْ بِهِ، فَهَرَبَ الرَّجُلُ فَجَعَلَ لَا يَأْتِي بَلْدَةً إِلَّا قِيلَ لَهُ قَدْ كُنْتَ تُطْلَبُ هَاهُنَا، فَلَمَّا طَالَ عَلَيْهِ الْأَمْرُ وَخَشِيَ أَنْ لَا يُفْلِتَ مِنْهُ قَالَ: مَا أَجِدُ شَيْئًا خَيْرًا مِنْ أَنْ أَذْهَبَ إِلَى بِلَادٍ لَيْسَ لَهُ فِيهَا مَمْلَكَتُهُ، فَعَزَمَ عَلَى ذَلِكَ، فَأَقْبَلَ قَاصِدًا إِلَى أَهْلِهِ حَتَّى طَرَقَهُمْ لَيْلًا، فَدَقَّ الْبَابَ فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: مَنْ [ص:326] هَذَا؟ فَقَالَ: افْتَحِي أَنَا فُلَانٌ، فَقَالَتْ: وَيْحَكَ وَمَا الَّذِي جَاءَ بِكَ فَوَاللَّهِ مَا نَأْمَنُ وَلَا يَأْمَنُ جِيرَانُنَا، وَلَكِنْ أَرَى وَاللَّهِ الْحَيْنَ جَاءَ بِكَ، فَفَتَحَتْ لَهُ وَأَسْرَجَتْ لَهُ سِرَاجًا وَنَبَّهَتْ لَهُ عِيَالَهُ وَجَاءَتْهُ بِعَشَاءٍ فَتَعَشَّى، وَإِنَّهُ أَرَادَهَا عَلَى نَفْسِهَا فَلَمْ تَمْتَنِعْ عَلَيْهِ فَوَقَعَ بِهَا، وَقَالَتْ: يَا جَارِيَةُ ضَعِي لِمَوْلَاكِ فِي الْمُتَوَضَّأِ سِرَاجًا، وَضَعِي لَهُ مَاءً وَاذْهَبِي إِلَى فُلَانٍ وَفُلَانٍ أَرْبَعَةٌ مِنْ جِيرَانَهَا، وَلَا يَعْلَمُ الرَّجُلُ، فَأَتَتْ أَبْوَابَهُمْ فَدَقَّتْ عَلَيْهِمْ، فَقَالَتْ لَهَا: وَيْلَكِ مَا لُكُمْ، أَطَرَقَكُمُ اللَّيْلَةَ أَحَدٌ؟ قَالَتْ: لَا، قَالُوا فَلِأَيِّ شَيْءٍ بَعَثَتْكِ؟ قَالَتْ: مَا لِي بِهِ عِلْمٌ، قَالَ: فَدَقَّ هَذَا عَلَى هَذَا وَقَالُوا تَعَالَوْا إِلَى هَذِهِ الْبَائِسَةِ فَقَدِ اسْتَغَاثَتْ بِكُمْ، فَأْتَوْهَا فَفَتَحَتْ لَهُمُ الْبَابَ وَقَالَتِ: ادْخُلُوا الْبَيْتَ فَدَخَلُوا الْبَيْتَ فَقَامَ إِلَيْهِمْ فَاعْتَنَقَهُمْ، فَقَالُوا: مَا الَّذِي جَاءَ بِكَ فَوَاللَّهِ مَا نَأْمَنُ فِي مَنَازِلِنَا وَلَكِنَّا نَرَى الْحَيْنَ وَاللَّهِ جَاءَ بِكَ، فَقَالَ: يَا قَوْمُ إِنِّي لَمْ آتِ بَلْدَةً إِلَّا وَجَدْتُنِي أُطْلَبُ فِيهَا، فَلَمْ أَرَ شَيْئًا خَيْرًا مِنْ أَنْ أَدْخُلَ بَلْدَةً لَيْسَ عَلَيْهَا مَمْلَكَتُهُ وَهَذَا وَجْهِي، وَإِنَّمَا جِئْتُ لِأُوصِيَ هَذِهِ الْمَرْأَةَ وَصِيَّةَ الْمَوْتِ؛ لِأَنِّي إِنَّ دَخَلْتُ بِلَادًا غَيْرَ بِلَادِ الْإِسْلَامِ لَمْ أَقْدِرْ أَنْ أَخْرُجَ مِنْهَا، فَأَوْصَيْتُ إِلَيْهَا وَأُشْهِدُهُمْ عَلَى ذَلِكَ، ثُمَّ وَدَّعَهُمْ وَقَامُوا يَخْرُجُونَ، قَالُوا: أَيَّتُهَا الْمَرْأَةُ لِأَيِّ شَيْءٍ بَعَثْتِ إِلَيْنَا؟ فَقَالَتْ: أَلَيْسَ تَعْرِفُونَ الرَّجُلَ إِنَّهُ زَوْجِي؟ قَالُوا: بَلَى قَالَتْ: فَإِنَّهُ قَدْ كَانَ مِنْهُ اللَّيْلَةَ مَا يَكُونُ مِنَ الرَّجُلِ إِلَى أَهْلِهِ فَاشْهَدُوا عَلَى هَذِهِ اللَّيْلَةِ فَإِنِّي لَا أَدْرِي مَا يَكُونُ هَاهُنَا - وَأَوْمَأَتْ إِلَى بَطْنِهَا - فَيَقُولُ النَّاسُ مِنْ أَيْنَ جَاءَتْ بِهَذَا وَزَوْجُهَا غَائِبٌ، قَالَ: فَخَرَجَ الْقَوْمُ وَهُمْ يَقُولُونَ: مَا رَأَيْنَا كَالْيَوْمِ امْرَأَةً قَطُّ أَحْسَنَ عَقْلًا وَلَا أَقْرَبَ مَذْهَبًا، قَالَ: وَوَدَّعُوهُ وَخَرَجَ الرَّجُلُ تَرْفَعُهُ أَرْضٌ وَتَضَعُهُ أُخْرَى، حَتَّى ظَنَّ أَنَّهُ قَدْ خَرَجَ مِنْ مَمْلَكَتِهِ، قَالَ: فَبَيْنَا هُوَ فِي صَحْرَاءَ لَيْسَ فِيهَا شَجَرٌ وَلَا مَاءٌ إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ يُصَلِّي، قَالَ: فَخِفْتُهُ وَقُلْتُ: هَذَا يَطْلُبُنِي، قَالَ: ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى نَفْسِي، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ مَا مَعَهُ رَاحِلَةٌ وَلَا دَابَّةٌ وَلَا قِرْبَةٌ، قَالَ: فَكَأَنِّي آنَسْتُ فَقَصَدْتُ نَحْوَهُ، فَلَمَّا صِرْتُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ رَكَعَ ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ وَأَنَا قَائِمٌ، فَقَالَ: «لَعَلَّ هَذَا الطَّاغِي أَخَافَكَ» ، قُلْتُ: أَجَلْ، يَرْحَمُكَ اللَّهُ، قَالَ: «فَمَا يَمْنَعُكَ مِنَ السَّبْعِ» ، قُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ وَمَا السَّبْعُ؟ فَقَالَ: " قُلْ سُبْحَانَ الْوَاحِدِ الَّذِي لَيْسَ غَيْرُهُ إِلَهٌ، سُبْحَانَ الْقَدِيمِ الَّذِي لَا بَادِيَ لَهُ، سُبْحَانَ الدَّائِمِ الَّذِي لَا نَفَادَ لَهُ، سُبْحَانَ الَّذِي كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ، سُبْحَانَ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ، سُبْحَانَ الَّذِي خَلَقَ مَا يُرَى وَمَا لَا يُرَى، سُبْحَانَ الَّذِي عَلِمَ كُلَّ شَيْءٍ بِغَيْرِ تَعْلِيمٍ، ثُمَّ قَالَ: قُلْهَا، قَالَ: فَقُلْتُهَا وَحَفِظْتُهَا، قَالَ: فَأَلْقَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي قَلْبِي الْأَمْنَ وَرَجَعْتُ رَاجِعًا مِنْ طَرِيقِي الَّذِي جِئْتُ بِهِ، فَالْتَفَتُّ فَلَمْ أَرَ الرَّجُلَ، وَقَصَدْتُ قَاصِدًا أُرِيدُ أَهْلِي فَقُلْتُ: لَآتِيَنَّ بَابَ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ فَأَتَيْتُ بَابَهُ فَإِذَا هُوَ يَوْمَ إِذْنِهِ وَهُوَ يَأْذَنُ لِلنَّاسِ، فَدَخَلْتُ وَإِنَّهُ لَعَلَى فَرْشِهِ فَمَا غَدَا أَنْ رَآنِيَ فَاسْتَوَى عَلَى فَرْشِهِ ثُمَّ أَوْمَأَ إِلَيَّ فَمَا زَالَ يُدْنِينِي حَتَّى قَعَدْتُ مَعَهُ عَلَى الْفِرَاشِ، ثُمَّ قَالَ: سَحَرْتَنِي وَسَاحِرٌ أَيْضًا مَعَ مَا بَلَغَنِي عَنْكَ، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا أَنَا بِسَاحِرٍ وَلَا [ص:327] أَعْرِفُ السَّحَرَةَ وَلَا سَحَرْتُكَ، قَالَ: فَكَيْفَ، فَمَا ظَنَنْتُ أَنَّهُ يَتِمُّ مُلْكِي إِلَّا بِقَتْلِكَ، فَلَمَّا رَأَيْتُكَ لَمْ أَسْتَقِرَّ حَتَّى دَعَوْتُكَ فَأَقْعَدْتُكَ مَعِي عَلَى فِرَاشِي، وَهُوَ يَضْرِبُ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ ثُمَّ قَالَ اصْدُقْنِي أَمْرَكَ، فَأَخْبَرَهُ بِقِصَّتِهِ وَخَوْفِهِ وَأَمْرِهِ كُلِّهِ وَمَا كَانَ فِيهِ، قَالَ: يَقُولُ لَهُ سُلَيْمَانُ: الْخَضِرُ وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلَّمَكَهَا، اكْتُبُوا لَهُ أَمَانَةً وَأَحْسِنُوا جَائِزَتَهُ وَاحْمِلُوهُ إِلَى أَهْلِهِ

ابو عبید اللہ تؤم رقاشی کہتے ہیں کہ سلیمان بن عبدالملک کا ایک آدمی سے الجھائو ہوگیا ،اس نے اس کو ڈرایا کیا اور اس کے پیچھے لوگوں کو بھیجا تاکہ اس کوپکڑ کر قتل کر سکے کے،وہ آدمی ڈر گیا اور وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا،سلیمان نے اس کے پیچھے بہت سے لوگوں کو مختلف علاقوں اس کی تلاش میں پھیلادیا،اسی طرح کچھ کچھ لوگوں کو اس کے گھر اور اس کے ہمسایوں کے گھر پر مامور کیا تاکہ اس کی آمد پر اطلاع کرسکیں ،لیکن سلیمان کو کامیابی نہ ہوسکیں ،دوسری طرف وہ بھاگا ہوا شخص جس شہر یاعلاقے میں جاتا وہاںاسے بتایا جاتا ہے کہ یہاں پر تمہاری تلاش جاری ہے جب اس کا معاملہ طویل ہوا ،اس کو ڈر لاحق ہوا کہ وہ سلیمان سے بچ نہیں سکے گا تو اس نے کہا:اب میرے لیے اس کے علاوہ کوئی بھی خیر اور بھلائی نہیں والی جگہ نہیں ہے کہ میں ایسی جگہ جلاجائوں جہاں پر سلیمان کی بادشہات نہ ہو ،اس پر اس نے پختہ ارادہ کرلیا ، وہاں سے اپنے گھر کی طرف روانہ ہوا ،رات کے وقت اپنے گھر پہنچا ،اس نے اپنے گھر کا دروازہ بجایا ،اس کی بیوی نے کہا کون ہے؟ اس نے کہا :میں فلاں ہوں دروازہ کھولو، اس کی بیوی نے کہا تیرے لئے ھلاکت ہو تمہیں کونسی چیز یہاں پر لے آئی ہے۔ اللہ کی قسم !یہاں نہ ہم محفوظ ہیں اور نہ ہمارے ہمسائے محفوظ ہیں۔ لیکن میرا خیال ہے اللہ کی قسم !ہلاکت تمہیںیہاں پر لے کر آئی ہے۔ عورت نے اس کے لئے دروازہ کھول دیا، چراغ روشن کیا اور اس عورت نے اپنے اہل و عیال کو اس کے بارے میں مطلع کیا۔ اس کے لئے رات کا کھانا لے کر آئی، اس نے رات کا کھانا کھایا ،آرام کرنے کے کچھ وقت کے بعد اس نے اپنی بیوی کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کا ارادہ کیا، اس نے رکاوٹ نہ پیدا کی اس نے اپنی بیوی سے تعلقات قائم کئے، پھر اس نے اپنی لونڈی سے کہا: اپنے مالک کے لیے لئے وضو خانے میں چراغ جلائو اور پانی کا اہتمام کرو۔ اور اس کے بعدتم فلاں ، فلاں اور فلاںکے پاس چلی جاؤ، اس نے اپنے ہمسایوں میں سے چار لوگوں کے نام لئے۔کسی کو اس کی آمد کا علم نہ ہو، وہ ان کے دروازوںپرآئی، اس نے ان کے دروازے بجائے ،اس نے کہا : تمہارے لئے ہلاکت ہو تمہیں کیا ہوا ہے ؟کیا تمہارے پاس رات کے وقت کوئی آیا ہے ؟اس نے کہا: نہیں آیا، لوگوں نے کہا: پھر اس وقت انہوں نے تمہیں کیوں بھیجا ہے ؟اس نے کہا: مجھے اس کا کوئی کوئی علم نہیں ہے ۔اس نے ایک ایک کر کے دروازے بجائے۔اس طرح ان سب نے کہا:اس عورت کے ساتھ چلو یہ تم سے کوئی مدد طلب کر رہی ہے ۔وہ تمام لوگ وہاں آئے ۔انہوں نے آکر دروازہ بجایا ان کے لیے دروازہ کھول دیا گیا ، اس عورت نے کہا:گھر میں داخل ہوجائو ،ووہ سب لوگ گھر میں داخل ہوگئے ، اب بھاگا ہوا شحص اس کے سامنے آکھڑا ہوا ،اس نے اپنا آپ ان کے سپرد کردیا ان تمام لوگوں نے اسے کہا: تمہیں کون سی چیز یہاں لے کر آئی ہے۔ اللہ کی قسم! یہاں پر ہم اپنے گھروں میں محفوظ نہیں ہیں ۔ اللہ کی قسم! ہمارا خیال ہے کہ تمہیں تمہاری موت یہاں پر لے کر آئی ہے۔ اس نے کہا: میرے دوستو! میں یہاں اس لیے نہیں آیا کہ یہاں اپنے گھر میں رہ سکوں ، بات یہ ہے کہ میں جہاں بھی گیا ہوں وہاں پر مجھے پتا چلاہرجگہ میری تلاش کی جارہی ہے۔ اس لیے میں نے اپنے لیے خیر اور بھلائی اسی میں محسوس کی کہ میں کسی ایسے علاقے اور ایسے وطن میں چلا جاوئں جہاں پر سلیمان کی بادشاہت نہ ہو ۔یہی میرایہاں پر آنے کا مقصد ہے۔تاکہ میں اپنی بیوی کو موت کی وصیت کر سکوں ۔اس لیے کہ میں جہاں جائوں گا وہاں پر غیر مسلم لوگوں کی حکومت ہوگی ،وہاں سے واپس آنا میرے لیے ممکن نہیں ہوگا ،اس لیے میں نے اس کو وصیت کردی ہے ۔اور ان تمام لوگوں کو اس پر گواہ بنایا ہے۔ پھر اس نے ان تمام لوگوں کو الوداع کہا اور وہ سب کے سب وہاں سے جانے کے لیے کھڑے ہوگئے ،اب انہوں نے عورت کی طرف متوجہ ہوکر کہا :اے عورت ! تو نے ہمیں اس وقت یہاں کیوں بلا یا؟اس عورت نے کہا: تم نہیں جانتے کہ یہ آدمی میرا خاوند ہے۔ انہوں نے کہا: کیوں نہیں ہمیں اس بات کا علم ہے کہیہ تمہارا خاوند ہے،تب وہ کہتی ہے :یہ رات کے وقت آیا ہے، خاوند اور بیوی کی جو بھی معاملات ہوتے ہیں ہم نے وہکیے ہیں، اس وجہ سے میرے ساتھ بعد میں کیا ہونے والا ہے ، اس کے ساتھ ہی اس نے اپنے پیٹ کی طرف اشارہ کیا ۔ میں نے تمہیں یہاں پر اس لیے بلایا ہے کہ بعد میں لوگ کہیں گے اس کا خاوند تو گھر پر موجود نہیں تھا تویہ عورت بچہ کہاں سے لے آئی ہے ۔اس کے بعد وہاں سے یہ باتیں کہتے ہوئے روانہ ہوئے کہ ہم اس قدر سمجھدار معاملہ فہم اور دین دار عورت نہیں دیکھی ،وہ آدمی بھی وہاں سے رخصت ہوکر چلا گیا ،راستے میں کہیں ٹیلے اوربلندی والی زمین آ جاتی ہیں اور کہیںکوئی گہرائی والی زمین آ جاتی،جب اس کو یقین ہو گیا کہ وہ سلیمان کی بادشاہت سے نکل چکا ہے ،اسی طرح صحرا میں چلتے چلتے اس کا گزر ایسے علاقے سے ہوا جہاں پر کوئی درخت نہیں ہے اور نہ پانی ہے،اس نے وہاں پرایک بندے کو نماز پڑھتے دیکھا، اسے اس سے ڈر لاحق ہوا کہ یہ میری تلاش میں یہاں پر پہنچا ہے پھر اس نے اپنے آپ یہ کہتے ہوئے کو تسلی دی کہ اللہ کی قسم! اس کے پاس نہ کوئی سواری ہے ، نہ کوئی جانور ہے اور نہ مشکیزہ ۔اس کے بعد گویا میں اس سے مانوس ہوگیا اور اس کی طرف میرے قدم بڑھنے لگے ، میں میں اس کے قریب پہنچا ، تب وہ رکوع میں چلاگیا، اس کے بعد اس نے سجدہ کیا ،نماز سے فارغ ہوکر وہ میری طرف متوجہ ہوا ، میںاس کے سر پر کھڑا ہوا تھا ، اس نے کہا:شاید یہ کوئی مجرم ہے جو مجھ سے ڈر رہا ہے ؟میں نے کہا :ہاں!اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم فرمائے ، اس نے کہا:تمہیں درندوں سے کس نے محفوظ رکھا ؟ میں نے کہا:اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم فرمائے۔درندے کیا ہیں ؟اس نے کہا تم یہ دعا پڑھو : سُبْحَانَ الْوَاحِدِ الَّذِی لَیْسَ غَیْرُہُ إِلَہٌ، سُبْحَانَ الْقَدِیمِ الَّذِی لَا بَادِیَ لَہُ، سُبْحَانَ الدَّائِمِ الَّذِی لَا نَفَادَ لَہُ، سُبْحَانَ الَّذِی کُلَّ یَوْمٍ ہُوَ فِی شَاْنٍ، سُبْحَانَ الَّذِی یُحْیِی وَیُمِیتُ، سُبْحَانَ الَّذِی خَلَقَ مَا یُرَی وَمَا لَا یُرَی، سُبْحَانَ الَّذِی عَلِمَ کُلَّ شَیْء ٍ بِغَیْرِ تَعْلِیمٍ،پاک ہے وہ ذات جو واحد ہے اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں پاک ہے ،پاک ہے وہ قدیم ذات جسے کوئی ظاہر کرنے والا نہیں، پاک ہے وہ ذات ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہنے والی ہے ، جس سے کوئی بچ نہیں سکتا ،پاک ہے وہ ذات کہ روزانہ جس کی نئی آن ،بان اور شان ہے، پاک ہے وہ ذات جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے ،پاک ہے وہ ذات جس نے اس مخلوق کو پیدا کیا جو دکھائی دیتی ہے اور اس مخلوق کو پیدا کیا جو دکھائی نہیں دیتی ،وہ ذات جس نے بغیر تعلیم کے جو جو بغیر تعلیم کے ہر چیز کو جاننے والا ہے، اس نے کہا: یہ کلمات کہو :میں نے کہا :میں نے ان کو یاد کر لیا ،اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں امن پیدا کر دیا، میرا دل مطمئن ہو گیا،میں واپس اسی راستے پلٹ گیا،جس راستے سے میں آیا تھا ،میں نے واپس مڑ کر دیکھا تو وہ شخص مجھے دکھائی نہیں دیا ، میں نے اپنے گھر لوٹ جانے کا ارادہ کیا ، میں نے کہا : میں سلیمان بن عبدالملک کے پاس ضرورجاؤں گا،جب میںاس کے دروازے پر پہنچا، تب وہ کھلی کچہری میں لوگوں کے سامنے بیٹھا ہوا تھا،میں اس کے پاس چلا گیا۔میں اس کے پاس چلاگیا ، وہ اپنے تخت پر بیٹھا ہوا تھا ، جب اس نے مجھے دیکھا تو وہ سیدھا ہوکر بیٹھ گیا اور اس نے مجھے اپنے قریب ہوکر بیٹھنے کا اشارہ کیا ، وہ مسلسل مجھے اپنے قریب کرتا رہا یہاں تک کہ میں اس کے پاس تخت پر جابیٹھا ، اس نے کہا:تم نے مجھ پر جادو کردیا ہے اوراسی طرح اس جادو گر کے کے بارے میڈ مجھے علم ہوا جو تمہارے ساتھ ہے ۔ میں نے کہا:اللہ کی قسم !اے امیر المؤمنین !نہ میں جادوگر ہوں ، نہ میں نے آپ پر کوئی جادو کیا ہے اور نہ میں کسی قسم کے جادو کو جانتا ہوں ۔ اس نے کہا:پھر یہ کیسے ہوگیا ؟ میں نے تیرے بارے میں فیصلہ کررکھا تھا کہ تو میری بادشاہت میں جہاں بھی پایا گیا تجھے قتل کردیا جائے گا ۔ اب جب تم میرے سامنے آئے ہو تو میں نے تمہیں بلا کر اپنے قریب کر کے اپنے تخت برابر بٹھا لیا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے ہاتھوں کو اپنی رانوں پر مارے جارہا تھا ۔ اس کے بعد اس نے کہا:تمہارا اصل معاملہ کیا ہے ؟میرے سامنے تمام تفصیل سچائی کے ساتھ بیان کرو ۔ میں نے اس کے سامنے اپنا تمام قصہ ، اس کا ڈر ، خوف اور دیگر تمام معاملات بیان کیے ۔اس پر سلیما ن نے کہا:اللہ کی قسم !خضر ہیں ۔قسم ہے اس ذات کی جس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ، بات بالکل ایسے ہی ہے جس طرح تم نے بیان کی ہے اور تمہیں سکھلائی گئی ہے ۔۔ اس نے کہا:اس کے لیے امان لکھ دو ۔ اس کا مناسب وظیفہ مقرر کردو اور اس کو اس کے گھر تک پہنچاکر آئو ۔

أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ بْنُ التُّومِ الرَّقَاشِيُّ، ← الْمُعَلَّى بْنُ جُزَيِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مُهَاجِرٍ الْبَصْرِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْحِنَّائِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1067

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الدُّخُولِ عَلَى السُّلْطَانِ · حديث 1068

1069 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ كِتَابِ رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَعْمَرٍ حِينَ سَارَ إِلَى الْحَرُورِيَّةِ يُخْبِرُهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ الَّتِي لَقِيَ فِيهَا الْعَدُوَّ انْتَظَرَ حَتَّى إِذَا مَالَتِ الشَّمْسُ قَامَ فِيهِمْ فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، وَسَلُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ الْعَافِيَةَ، فَإِنْ لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلِّ السُّيُوفِ» ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، وَمُجْرِيَ السَّحَابِ، وَهَازِمَ الْأَحْزَابِ، اهْزِمْهُمْ وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ» وَذَكَرَ أَيْضًا أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا فِي مِثْلِ ذَلِكَ فَقَالَ «اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّهُمْ نَحْنُ عِبَادُكَ وَهُمْ عِبَادُكَ وَنَوَاصِينَا وَنَوَاصِيهِمْ بِيَدِكَ اهْزِمْهُمْ وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ»

ابو نضر صحابہ کرام میں سے حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عمر بن عبید اللہ یعنی ابن معمر کوجب وہ حروریہ کی طرف روانہ ہورہے تھے تب ان کو لکھا اس بات سے آگاہ کرنے کے لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لڑائی میں،جس میں دشمن سے سامنا تھا، سورج ڈھلنے کا انتظار کیا۔ پھر ان کے بیچ کھڑے ہوکر فرمایا:لوگو!دشمنوں سے مقابلہ کی تمنا نہ کرو اور اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو۔ لیکن جب ان سے مقابلہ ہو جائے، تو صبر سے کام لو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔ پھرآپ نے یہ دعا کی:اللَّہُمَّ مُنْزِلَ الْکِتَابِ، وَمُجْرِیَ السَّحَابِ، وَہَازِمَ الْاَحْزَابِ، اہْزِمْہُمْ وَانْصُرْنَا عَلَیْہِمْ ،اے اللہ!کتابوں کے نازل فرمانے والے،بادلوں کو چلانے والے اور جتھوں کو شکست دینے والے!انھیں شکست سے دوچار کردے اور ہمیں ان پر غلبہ عطا فرما۔

أَبِي النَّضْرِ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1068

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter
307. Chapter
308. Chapter
309. Chapter
310. Chapter
311. Chapter
312. Chapter
313. Chapter
314. Chapter
315. Chapter
316. Chapter
317. Chapter