Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
كتاب الدعاء

Kitab Al Dua

by Tibrani

2,251 Hadith318 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ عِنْدَ الْكَرْبِ وَالشَّدَائِدِ · حديث 1035

1035 - حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ الْجُهَنِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَصَابَ مُسْلِمًا قَطُّ هَمٌّ أَوْ حَزَنٌ فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ [ص:315] نَاصِيَتِي بِيَدِكَ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ، سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي، وَنُورَ بَصَرِي، وَجِلَاءَ حُزْنِي، وَذَهَابَ هَمِّي، إِلَّا أَذْهَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَمَّهُ وَأَبْدَلَهُ مَكَانَ حُزْنِهِ فَرَحًا " قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نَتَعَلَّمُ هَذِهِ الْكَلِمَاتِ؟ قَالَ: «بَلَى، يَنْبَغِي لِمَنْ سَمِعَهُنَّ أَنْ يَتَعَلَّمَهُنَّ»

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کسی مسلمان جب بھی کوئی غم اور رپریشانی لاحق ہو تو وہ یہ دعا پڑھے ’’:اللَّہمَّ إنِّی عَبدُک ، وابنُ عبدِک ، وابنُ أمتِک ، ناصِیَتی بیدِکَ ، ماضٍ فیَّ حکمُکَ ، عدْلٌ فیَّ قضاؤکَ ، أسألُکَ بکلِّ اسمٍ ہوَ لکَ سمَّیتَ بہِ نفسَک ، أو أنزلْتَہ فی کتابِکَ ، أو علَّمتَہ أحدًا من خلقِک ، أو استأثرتَ بہِ فی علمِ الغیبِ عندَک ، أن تجعلَ القُرآنَ ربیعَ قلبی ، ونورَ صَدری ، وجَلاء َ حَزَنی ، وذَہابَ ہَمِّی ،اے میرے اللہ !میں تیرا بندہ ، تیرے بندے کا بیٹا ، تیری بندی کا بیٹا ، میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے ،تیرا حکم مجھ پر جاری و ساری ہے ، میرے متعلق تیرا فیصلہ عدل و انصاف پر مبنی ہے۔ میں تجھ سے تیرے سب اسماء ِ حسنیٰ (کے وسیلے)سے سوال کرتا ہوں جو تو نے اپنی ذات کے لئے رکھے ، یا کسی کتاب میں نازل کئے ، یا کسی مخلوق کو سکھائے یا اپنے پاس ہی رکھنے پسند کئے ، تو قرآن کو میرے دل کی بہار اور سینے کا نور بنا دے اور اسے میرے غم و اندوہ کا مداوا بنا دے۔‘‘اس دعا کی برکت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس سے اس کے غم اور پریشانی کو دور کردیتا ہے ، اس کی پریشانی کی جگہ پر اس کو خوشی عطاء کرتا ہے ۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !کیا ہم یہ کلمات سیکھ نہ لیں؟آپ نے فرمایا:کیوں نہیں !جو بھی ان کلمات کو سنتا ہے اس کو چاہیے کہ وہ انہیں سیکھ لے ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← أَبُو سَلَمَةَ الْجُهَنِيُّ، ← فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1035

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ عِنْدَ الْكَرْبِ وَالشَّدَائِدِ · حديث 1036

1036 - حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ اللَّيْثِ أَبُو صَالِحٍ الرَّسْعَنِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، ثنا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو طَالِبٍ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الطَّائِفِ مَاشِيًا عَلَى قَدَمَيْهِ، فَدَعَاهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَلَمْ يُجِيبُوهُ، فَانْصَرَفَ فَأَتَى ظِلَّ شَجَرَةٍ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ إِلَيْكَ أَشْكُو ضَعْفَ قُوَّتِي، وَقِلَّةَ حِيلَتِي، وَهَوَانِي عَلَى النَّاسِ، أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ، أَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ، إِلَى مَنْ تَكِلُنِي، إِلَى عَدُوٍّ يَتَجَهَّمُنِي أَوْ إِلَى قَرِيبٍ مَلَّكْتَهُ أَمْرِي، إِنْ لَمْ تَكُنْ غَضْبَانَ عَلَيَّ فَلَا أُبَالِي، غَيْرَ أَنَّ عَافِيَتَكَ أَوْسَعُ لِي، أَعُوذُ بِنُورِ وَجْهِكَ الَّذِي أَشْرَقَتْ لَهُ الظُّلُمَاتُ، وَصَلَحَ عَلَيْهِ أَمْرُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، أَنْ تُنْزِلَ بِي غَضَبَكَ أَوْ تُحِلَّ عَلَيَّ سَخَطَكَ، لَكَ الْعُتْبَى حَتَّى تَرْضَى، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ»

حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ابو طالب کی وفات ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طائف کی طرف گئے ، ان کو اسلام کی دعوت دی ، انہوں نے آپ کی دعوت کو قبول نہ کیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سایہ دار درخت کے نیچے آئے ، آپ نے دو رکعت نماز پڑھی اور پھر یہ دعا کی :’’اللَّہُمَّ إِلَیْکَ اَشْکُو ضَعْفَ قُوَّتِی، وَقِلَّۃَ حِیلَتِی، وَہَوَانِی عَلَی النَّاسِ، اَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ، اَنْتَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ، إِلَی مَنْ تَکِلُنِی، إِلَی عَدُوٍّ یَتَجَہَّمُنِی اَوْ إِلَی قَرِیبٍ مَلَّکْتَہُ اَمْرِی، إِنْ لَمْ تَکُنْ غَضْبَانَ عَلَیَّ فَلَا اُبَالِی، غَیْرَ اَنَّ عَافِیَتَکَ اَوْسَعُ لِی، اَعُوذُ بِنُورِ وَجْہِکَ الَّذِی اَشْرَقَتْ لَہُ الظُّلُمَاتُ، وَصَلَحَ عَلَیْہِ اَمْرُ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، اَنْ تُنْزِلَ بِی غَضَبَکَ اَوْ تُحِلَّ عَلَیَّ سَخَطَکَ، لَکَ الْعُتْبَی حَتَّی تَرْضَی، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِکَ ، بار الٰہا!میں اپنی کمزوری و بے بسی اور لوگوں کے نزدیک اپنی بے قدری کا شکوہ تجھی سے کرتا ہوں، یا ارحم الراحمین! تو کمزوروں کا رب ہے اور تو ہی میرا بھی رب ہے۔ تومجھے کس کے حوالے کر رہا ہے؟ کسی بیگانے کے جو تندی سے میرے ساتھ پیش آئے؟ یا کسی دشمن کے جس کو تو نے میرے معاملے کا مالک بنا دیا ہے؟ اگر مجھ پر تو ناراض نہیں ہے تو مجھے کسی کی ذرا پروا نہیں، لیکن تیری عافیت میرے لیے زیادہ کشادہ ہے۔ میں تیرے چہرے کے اس نور کی پناہ چاہتاہوں جس سے اندھیرے روشن ہو جاتے ہیں اور دنیا و آخرت کے معاملات کا سدھار اسی پر ہے، کہ مجھ پر تیرا غضب نازل ہو یا تیرا عتاب مجھ پر وارد ہو، تیری ہی رضا مطلوب ہے یہاں تک کہ تو خوش ہو جائے اور تیرے بغیرکوئی زور اور طاقت نہیں۔‘‘

عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، ← الْقَاسِمُ بْنُ اللَّيْثِ أَبُو صَالِحٍ الرَّسْعَنِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1036

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ عِنْدَ الْكَرْبِ وَالشَّدَائِدِ · حديث 1037

1037 - حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا أَبُو يَزِيدَ حُبَيْشٌ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ حَنَشٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنَّهُ قَالَ لِبَنِيهِ: " يَا بَنِيَّ إِذَا أَهَمَّكُمْ أَمْرٌ أَوْ كَرَبَكُمْ أَمْرٌ فَلَا يَبِيتَنَّ أَحَدُكُمْ إِلَّا وَهُوَ طَاهِرٌ فِي لِحَافٍ طَاهِرٍ، وَأَظُنُّهُ قَالَ: عَلَى فِرَاشٍ طَاهِرٍ، وَلَا يَبِيتَنَّ مَعَهُ امْرَأَةٌ، ثُمَّ لَيَقْرَأَ وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا تِسْعًا وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى سَبْعًا ثُمَّ لِيَقُلِ: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ لِي مِنْ أَمْرِي هَذَا فَرَجًا» ، فَإِنَّهُ يَأْتِيهِ آتٍ فِي أَوَّلِ لَيْلَةٍ أَوْ فِي الثَّالِثَةِ أَوْ فِي الْخَامِسَةِ - وَأَظُنُّهُ قَالَ أَوْ فِي السَّابِعَةِ - فَيَقُولُ: الْمَخْرَجُ مِنْهُ كَذَا وَكَذَا، قَالَ أَبُو يَزِيدَ: فَأَصَابَنِي وَجَعٌ شَدِيدٌ فَلَمْ أَدْرِ كَيْفَ أُدَاوِيهِ فَبِتُّ عَلَى هَذِهِ الْحَالِ، فَأَتَانِي آتِيَانِ فِي أَوَّلِ لَيْلَةٍ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: جِسَّهُ، فَجَعَلَ يَلْتَمِسُ جَسَدِي، فَلَمَّا بَلَغَ مَوْضِعًا مِنْ رَأْسِي قَالَ: احْجِمْ هَاهُنَا، وَلَا تَحْلِقْهُ وَلَكِنْ بِغِرَاءَ ثُمَّ قَالَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا: كَيْفَ وَلَوْ ضَمَمْتَ إِلَيْهِمَا وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ سَأَلْتُ: قُلْتُ أَيُّ شَيْءٍ الْغِرَاءُ؟ فَقَالُوا: الْحِطْمَى أَوْ شَيْءٌ تَسْتَمْسِكُ بِهِ الْمِحْجَمَةُ فاحْتَجَمْتُ فَبَرَأْتُ، فَأَنَا الْيَوْمَ لَيْسَ أُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ أَحَدًا فَيَتَعَالَجُ بِهِ إِلَّا وَجَدَ شِفَاءً بِإِذْنِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

رو ح بن حارث بن حنش اپنے والد سے اور اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا: اے میرے بیٹے! جب تمہیں کوئی مشکل پیش آئے ،کوئی تکلیف لاحق ہو یا تمہیں کسی غم کا سامنا ہو تو تم اس حال میں رات گزاروکہ باوضوء ہوکر اپنے صاف اور پاک بستر پر آئو اور اس حال میں تمہارے ساتھ میری بیوی نہیں ہونی چاہیے، اس کے بعد تم ’’سورہ و الشمس ‘‘کو نو بار پڑھواور ’’سورہ و اللیل ‘‘سات دفعہ پڑھو، اس کے بعد یہ دعا پڑھو: اے اللہ !میرے لئے میرے اس معاملے کو آسانی والا بنا دے ۔ یقینا اسی رات کے پہلے حصے میں ،یا تیسرے حصے میں ،یا پانچویں حصے میں ،راوی کہتا ہے میرا خیال ہے کہ انہوں نییہ بھی کہا کہ یا ساتویں حصے میںایک آنے والا آئے گا اور اس کو بتائے گا کہ تمہاری اس پریشانی سے نجات کا طریقہ اس طرح سے ہے ۔ابو زید کہتے ہیں : میں کسی تکلیف اور بیماری کا شکار ہوگیا ،مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں اس کا علاج کیسے کروں ؟تب یہ طریقہ مجھے یاد آیا تو میں نے اسی انداز سے رات گزاری۔ رات کے پہلے حصہ میںمیرے پاس دو آنے والے آئے ۔ ان دونوں میں سے ایک نے دوسرے ساتھی سے کہا :اس کو ہاتھ لگاؤ،دوسرا میرے جسم پر ہاتھ لگانے لگا جب وہ ہاتھ لگاتے ہوئے میرے سر پر پہنچا تو اس نے کہا یہاں پر اس کو سنگھی لگاؤ، لیکن سر کے بالوں کو صاف نہیں کرنا اس کے بغیرسنگھی لگانی ہے ۔لیکن غراء کے ساتھ بھی اس کا علاج ممکن ہے ۔ان دونوں نے کہایاان میں سے ایک نے کہا:کیسے ہوگا ، اس نے خود ہی کہا :اگریہ اس کے ساتھ سورت ’’والتین والزیتون ‘‘پڑھ لے۔صبح کے وقت میں نے پوچھا :غراء کیا ہے ؟انہوں نے کہا : یہ ایک بوٹی ہے جس کے ساتھ تم سنگھی لگاؤ گے۔ میں نے سنگھی لگوائی تو میں ٹھیک ہوگیا ۔ اس کے بعد سے آج کے دن تک میں نے جس شخص کو بھی یہ طریقہ علاج بتایا ہے ، اللہ عزوجل نے اس کو اسی طرح سے شفاء بخشی ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← رَوْحِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ حَنَشٍ، ← أَبُو يَزِيدَ حُبَيْشٌ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1037

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ عِنْدَ الْكَرْبِ وَالشَّدَائِدِ · حديث 1038

1038 - حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ حَذْلَمِ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا مُدْرِكُ بْنُ أَبِي سَعْدٍ الْفَزَارِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ: حَسْبِيَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَأَكْفِيَنَّ عَبْدِي صَادِقًا كَانَ أَوْ كَاذِبًا "

یونس بن میسرہ بن حلبس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس شخص نے یہ کلمات کہے :حَسْبِیَ اللَّہُ لَا إِلَہَ إِلَّا ہُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَہُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ،میرے لیے اللہ ہی کافی ہے ، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ،اسی پر میں نے توکل کیا ہے اوروہی عظیم عرش کا رب ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کے جواب میں فرماتے ہیں :اب اپنے بندے کے ضرور کافی ہوجائوں گا ۔ چاہے وہ سچاہے یا جھوٹا ۔

يُونُسُ بْنُ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ، ← مُدْرِكُ بْنُ أَبِي سَعْدٍ الْفَزَارِيُّ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ حَذْلَمٍ الدِّمَشْقِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1038

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ عِنْدَ الْكَرْبِ وَالشَّدَائِدِ · حديث 1039

1039 - حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَرْجَرَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: كَانَ أَبِي إِذَا حَزَّ بِهِ أَمْرٌ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ فِي دُبُرِ صَلَاتِهِ: اللَّهُمَّ أَنْتَ ثِقَتِي فِي كُلِّ كَرْبٍ وَأَنْتَ رَجَائِي فِي كُلِّ شِدَّةٍ وَأَنْتَ لِي فِي كُلِّ أَمْرٍ نَزَلَ بِي ثِقَةٌ وَعُدَّةٌ، فَكَمْ مِنْ كَرْبٍ قَدْ يَضْعُفُ عَنْهُ الْفُؤَادُ، وَتَقِلُّ فِيهِ الْحِيلَةُ، وَيَرْغَبُ عَنْهُ الصَّدِيقُ، وَيَشْمَتُ بِهِ الْعَدُوُّ، أَنْزَلْتُهُ بِكَ وَشَكَوْتُهُ إِلَيْكَ فَفَرَّجْتَهُ وَكَشَفْتَهُ وَكَفَيْتَنِيهِ، فَأَنْتَ صَاحِبُ كُلِّ حَاجَةٍ، وَوَلِيُّ كُلِّ نِعْمَةٍ، وَأَنْتَ الَّذِي حَفِظْتَ الْغُلَامَ بِصَلَاحِ أَبَوَيْهِ، فَاحْفَظْنِي بِمَا حَفِظْتُهُ بِهِ، وَلَا تَجْعَلْنِي فِتْنَةً لِلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ، اللَّهُمَّ وَأَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ سَمَّيْتَهُ فِي كِتَابِكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ، وَأَسْأَلُكَ بِالِاسْمِ الْأَعْظَمِ الْأَعْظَمِ الْأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا سُئِلَتْ بِهِ كَانَ حَقًّا عَلَيْكَ أَنْ تُجِيبَ، أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، وَأَنْ تَقْضِيَ حَاجَتِي، وَيَسْأَلُ حَاجَتَهُ

محمد بن جعفر بن محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب میرے والد کو کوئی پریشانی ہوتی تو وہ ضوء کرتے ، دو رکعت نماز ادا کرتے ، نماز کے بعد یہ دعا کرتے :اللَّہُمَّ اَنْتَ ثِقَتِی فِی کُلِّ کَرْبٍ وَاَنْتَ رَجَائِی فِی کُلِّ شِدَّۃٍ وَاَنْتَ لِی فِی کُلِّ اَمْرٍ نَزَلَ بِی ثِقَۃٌ وَعُدَّۃٌ، فَکَمْ مِنْ کَرْبٍ قَدْ یَضْعُفُ عَنْہُ الْفُوَادُ، وَتَقِلُّ فِیہِ الْحِیلَۃُ، وَیَرْغَبُ عَنْہُ الصَّدِیقُ، وَیَشْمَتُ بِہِ الْعَدُوُّ، اَنْزَلْتُہُ بِکَ وَشَکَوْتُہُ إِلَیْکَ فَفَرَّجْتَہُ وَکَشَفْتَہُ وَکَفَیْتَنِیہِ، فَاَنْتَ صَاحِبُ کُلِّ حَاجَۃٍ، وَوَلِیُّ کُلِّ نِعْمَۃٍ، وَاَنْتَ الَّذِی حَفِظْتَ الْغُلَامَ بِصَلَاحِ اَبَوَیْہِ، فَاحْفَظْنِی بِمَا حَفِظْتُہُ بِہِ، وَلَا تَجْعَلْنِی فِتْنَۃً لِلْقَوْمِ الظَّالِمِینَ، اللَّہُمَّ وَاَسْاَلُکَ بِکُلِّ اسْمٍ ہُوَ لَکَ سَمَّیْتَہُ فِی کِتَابِکَ، اَوْ عَلَّمْتَہُ اَحَدًا مِنْ خَلْقِکَ اَوِ اسْتَاْثَرْتَ بِہِ فِی عِلْمِ الْغَیْبِ عِنْدَکَ، وَاَسْاَلُکَ بِالِاسْمِ الْاَعْظَمِ الْاَعْظَمِ الْاَعْظَمِ الَّذِی إِذَا سُئِلَتْ بِہِ کَانَ حَقًّا عَلَیْکَ اَنْ تُجِیبَ، اَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ، وَاَنْ تَقْضِیَ حَاجَتِی،اے اللہ !ہر کرب و آفت میں میرا معتمد تو ہی ہے ، ور دُکھ میں میر ی اُمیدوں کا مرکز و محور تو ہی ہے ، ہر آنے والی مصیبت اور پریشانی میں میرا رجوع تیری طرف اور اعتماد تجھ پر ہے ، کتنی ہی ایسی پریشانیاں ہیں کہ جو دل کو کمزور کردینے والی ہیں ، ان سے نکلنے کے ذرائع محدود ہوجاتے ہیں ،مشکل کھڑی میں دوست احباب منہ موڑ جاتے ہیں ،آنے والی مصیبت پر دشمن خوشی کا اظہار کرتے ہیں ،اے اللہ !میں تیری طرف ہی رجوع کرتا ہوں ،تیرے سامنے اس دکھ کا اظہار کررہا ہوں ،تو ہی اس سے نجات دلانے والا ہے ،اے اللہ !تو ہی اس کو دور کرنے والا ہے اور تو ہی اس میں کفایت کرنے والا ہے ،ہر حاجت اور ضرورت میں تو ہی میراساتھی ہے اور ہر نعمت کا والی بھی تو ہی ہے ،اے اللہ !تو ہی ہے جو والدین کی خیر خواہی کے ذریعے بچوں کی کی حفاظت کرتا ہے ،اے اللہ !تو میری حفاظت فرما، جس طرح تو بچے کی حفاظت کرتا ہے اورمجھے ظالم قوم کے لیے فتنہ اور آزمائش نہ بنانا ۔اے میرے اللہ !میں تجھ سے تیرے سب اسماء ِ حسنیٰ (کے وسیلے)سے سوال کرتا ہوں جو تو نے اپنی ذات کے لئے رکھے ، یا کسی کتاب میں نازل کئے ، یا کسی مخلوق کو سکھائے یا اپنے پاس ہی رکھنے پسند کئے ،اے اللہ !میں تجھ سے تیرے سب سے بڑے اسم اعظم کے واسطے سے سوال کرتا ہوں کہ جس کے واسطے سے تجھ سے جب سوال کیا جاتا ہے تو تو اپنے اس دعا کی قبولیت کو لازم کرلیتا ہے ۔تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمد پر رحمتیں نازل فرما اور میری حاجات کو پورا فرما ، اس کے بعد وہ اپنی حاجات کا سوال کرے ۔

كَانَ أَبِي إِذَا حَزَّ بِهِ أَمْرٌ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ ← مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَرْجَرَانِيُّ، ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِي

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1039

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ عِنْدَ الْكَرْبِ وَالشَّدَائِدِ · حديث 1040

1040 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُسْتَمْلِي، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَائِشَةَ التَّيْمِيُّ، ثنا صَالِحٌ الْمُرِّيُّ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَهُوَ مَرِيضٌ فَلَمْ نَبْرَحْ حَتَّى قَضَى، فَبَسَطْنَا عَلَيْهِ ثَوْبًا وَأُمٌّ لَهُ عَجُوزٌ كَبِيرَةٌ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَقُلْنَا لَهَا: يَا هَذِهِ احْتَسِبِي مُصِيبَتَكِ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَتْ: «وَمَاتَ ابْنِي؟» قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَتْ: «حَقًّا تَقُولُونَ؟» قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: فَمَدَّتْ يَدَيْهَا فَقَالَتِ: " اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي أَسْلَمْتُ لَكَ وَهَاجَرْتُ إِلَى رَسُولِكَ رَجَاءَ أَنْ يُغِيثَنِي عِنْدَ كُلِّ شِدَّةٍ وَرَخَاءٍ، فَلَا تَحْمِلْ عَلَيَّ هَذِهِ الْمُصِيبَةَ الْيَوْمَ، فَكَشَفَ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ ثُمَّ مَا بَرِحْنَا حَتَّى طَعِمْنَا مَعَهُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک انصاری صحابی کے گھر گئے، وہ بیمار تھا، ہم اس کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوراناس کی وفات ہوگئی ،ہم نے اس کے اوپر اس کی چادر کو ڈادیا،اس کی بوڑھی ماں اس کے سر کے قریب بیٹھی ہوئی تھی، ہم نے اس کی والدہ سے کہا: ماں جی ! اللہ تعالٰی کی طرف سے اس آنے والی مصیبت پرآپ ثواب کی امید رکھیں، وہ کہتی ہے کہ میرا بیٹا فوت ہوگیا ؟ہم نے کہا: جی ہاں ایسا ہی ہے ،اس نے کہا:کیا تم ٹھیک کہہ رہے ہو؟ میں نے کہا:بالکل ایسا ہی ہے ، تو اس نے اپنے ہاتھوں کو دعا کے انداز میں پھیلادیااور اس نے ان الفاظ میں دعا کی :اللَّہُمَّ إِنَّکَ تَعْلَمُ اَنِّی اَسْلَمْتُ لَکَ وَہَاجَرْتُ إِلَی رَسُولِکَ رَجَاء َ اَنْ یُغِیثَنِی عِنْدَ کُلِّ شِدَّۃٍ وَرَخَاء ٍ، فَلَا تَحْمِلْ عَلَیَّ ہَذِہِ الْمُصِیبَۃَ الْیَوْمَ،اے اللہ !شک تو جانتا ہے میں نے اپنے آپ کو تیرے لیے مطیع کیا ، تیری خاطر میں نے تیرے رسول کی طرف ہجرت کی ،اس امید پر کہ تو ہر مصیبت اور ہر آسانی میں میرا ساتھ دے گا اور میرا مددگار رہے گا، اس لئے اے اللہ !آج مجھے اس مصیبت سے دوچار نہ کرنااس نے اپنے بیٹے کے چہرے سے کپڑا ہٹایا تو وہ بالکل ٹھیک تھا ،یہاں تک کہ ہم نے اس کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← صالح المري ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَائِشَةَ التَّيْمِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُسْتَمْلِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1040

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter
307. Chapter
308. Chapter
309. Chapter
310. Chapter
311. Chapter
312. Chapter
313. Chapter
314. Chapter
315. Chapter
316. Chapter
317. Chapter