كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ عِنْدَ الْكَرْبِ وَالشَّدَائِدِ · حديث 1035
1035 - حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ الْجُهَنِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَصَابَ مُسْلِمًا قَطُّ هَمٌّ أَوْ حَزَنٌ فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ [ص:315] نَاصِيَتِي بِيَدِكَ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ، سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي، وَنُورَ بَصَرِي، وَجِلَاءَ حُزْنِي، وَذَهَابَ هَمِّي، إِلَّا أَذْهَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَمَّهُ وَأَبْدَلَهُ مَكَانَ حُزْنِهِ فَرَحًا " قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نَتَعَلَّمُ هَذِهِ الْكَلِمَاتِ؟ قَالَ: «بَلَى، يَنْبَغِي لِمَنْ سَمِعَهُنَّ أَنْ يَتَعَلَّمَهُنَّ»
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کسی مسلمان جب بھی کوئی غم اور رپریشانی لاحق ہو تو وہ یہ دعا پڑھے ’’:اللَّہمَّ إنِّی عَبدُک ، وابنُ عبدِک ، وابنُ أمتِک ، ناصِیَتی بیدِکَ ، ماضٍ فیَّ حکمُکَ ، عدْلٌ فیَّ قضاؤکَ ، أسألُکَ بکلِّ اسمٍ ہوَ لکَ سمَّیتَ بہِ نفسَک ، أو أنزلْتَہ فی کتابِکَ ، أو علَّمتَہ أحدًا من خلقِک ، أو استأثرتَ بہِ فی علمِ الغیبِ عندَک ، أن تجعلَ القُرآنَ ربیعَ قلبی ، ونورَ صَدری ، وجَلاء َ حَزَنی ، وذَہابَ ہَمِّی ،اے میرے اللہ !میں تیرا بندہ ، تیرے بندے کا بیٹا ، تیری بندی کا بیٹا ، میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے ،تیرا حکم مجھ پر جاری و ساری ہے ، میرے متعلق تیرا فیصلہ عدل و انصاف پر مبنی ہے۔ میں تجھ سے تیرے سب اسماء ِ حسنیٰ (کے وسیلے)سے سوال کرتا ہوں جو تو نے اپنی ذات کے لئے رکھے ، یا کسی کتاب میں نازل کئے ، یا کسی مخلوق کو سکھائے یا اپنے پاس ہی رکھنے پسند کئے ، تو قرآن کو میرے دل کی بہار اور سینے کا نور بنا دے اور اسے میرے غم و اندوہ کا مداوا بنا دے۔‘‘اس دعا کی برکت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس سے اس کے غم اور پریشانی کو دور کردیتا ہے ، اس کی پریشانی کی جگہ پر اس کو خوشی عطاء کرتا ہے ۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !کیا ہم یہ کلمات سیکھ نہ لیں؟آپ نے فرمایا:کیوں نہیں !جو بھی ان کلمات کو سنتا ہے اس کو چاہیے کہ وہ انہیں سیکھ لے ۔
عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← أَبُو سَلَمَةَ الْجُهَنِيُّ، ← فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ
Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1035
