كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ تَفْسِيرِ الرَّعْدِ · حديث 986
986 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعِجْلِيُّ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَقْبَلَتِ الْيَهُودُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا أَبَا الْقَاسِمِ أَخْبِرْنَا عَنِ الرَّعْدِ مَا هُوَ؟ قَالَ: مَلَكٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مُوَكَّلٌ بِالسَّحَابِ مَعَهُ مَخَارِيقُ مِنْ نَارٍ، يَسُوقُ بِهَا السَّحَابَ إِذَا زَجَرَهُ حَتَّى يَنْتَهِيَ حَيْثُ أُمِرَ
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، انہوں نے کہا:اے ابو القاسم !آپ ہمیں رعد کے بارے میں بتائیں کہ یہ کیا ہے ؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:یہ فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے ، جسے بادلوں کی ذمہ داری سونپی گئی ہے ، اس کے ساتھ آگ کو پھاڑنے والا ہے وہ اپنی ڈانٹ کے ساتھ بادلوں کو چلاتا ہے ،اور بادل اس کے حکم کے مطابق مطلوبہ جگہ پر پہنچ جاتے ہیں ۔
الرَّعْدِ مَا هُوَ؟ ← يَا أَبَا الْقَاسِمِ ← أَقْبَلَتِ الْيَهُودُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← بُكَيْرِ بْنِ شِهَابٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعِجْلِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ
Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 986
