Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
كتاب الدعاء

Kitab Al Dua

by Tibrani

2,251 Hadith318 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي السُّجُودِ · حديث 603

603 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ مُفَضَّلِ بْنِ مُهَلْهَلٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اغْفِرْ لِي» يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید کی تفسیر و تعمیل میں اپنے رکوع اور سجود میں اکثر یہ دعا پڑھا کرتے تھے :’’سُبْحَانَکَ اللَّہُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ، اغْفِرْ لِی ‘‘اے اللہ ،اے ہمارے رب !تو پاک ہے ،اپنی تعریف و تحمید کے ساتھ ،مجھے بخش دے ۔

فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اغْفِرْ لِي» يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُكْثِرُ أَنْ ← عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← أَبِي الضُّحَى، ← مَنْصُورٌ، ← مُفَضَّلُ بْنُ مُھَلْھِلٍ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ النَّيْسَابُورِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 603

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي السُّجُودِ · حديث 604

604 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا مُفَضَّلُ بْنُ مُهَلْهَلٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ نَزَلَتْ عَلَيْهِ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ يُصَلِّي صَلَاةً إِلَّا قَالَ فِيهَا: «سُبْحَانَ رَبِّي وَبِحَمْدِهِ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي»

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب سے سورہ نصر یعنی {جب اللہ تعالیٰ کی مدد کی مدد آئے گی ۔}نازل ہوئی اس کے بعد میں نے کبھی اس دعا کے بغیر نماز پڑھتے نہیں دیکھا ،آپ یہ دعا پڑھاکرتے تھے :’’سُبْحَانَ رَبِّی وَبِحَمْدِہِ، اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِی،میرا رب پاک ہے ، اسی کی تعریف ہے ،اے اللہ !!مجھے بخش دے ۔

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← مُّسْلِمٍ ← الْاَعْمَشِ ← مُفَضَّلُ بْنُ مُھَلْھِلٍ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ النَّيْسَابُورِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 604

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي السُّجُودِ · حديث 605

605 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ: افْتَقَدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ، فَتَحَسَّسْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ فَإِذَا هُوَ رَاكِعٌ أَوْ سَاجِدٌ يَقُولُ: «سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» فَقُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي إِنِّي لَفِي شَأْنٍ وَإِنَّكَ لَفِي آخَرَ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتسر سے گم پایا ،میں نے یہ گمان کیا کہ آپ کسی اور زوجہ مکرمہ کے پاس چلے گئے ہیں ،میں اپنے حجرے میں آپ کو تلاش کرنے لگی ، مجھے محسوس ہوا کہ آپ حالت نماز میں رکوع با سجدہ کی حالت میں ہیں او ر یہ دعا پڑ ھ رہے ہیں :’’سُبْحَانَکَ وَبِحَمْدِکَ، لَا إِلَہَ إِلَّا اَنْتَ ‘‘تو پاک ہے ، اپنی حمد کے ساتھ ،تیرے سواء کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں :میں نے کہا میرے ماں پاب آپ پر قربان ہوں ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس شان میں ہیں اور جبکہ میں کچھ اور سوچ لیے ہوئے ہوں ۔

عَائِشَةَ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ الدَّبْرِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 605

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي السُّجُودِ · حديث 606

606 - حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ هَاشِمٍ الْبَيْرُوتِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَتْ لَيْلَةُ النِّصْفِ [ص:195] مِنْ شَعْبَانَ لَيْلَتِي، فَبَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدِي فَلَمَّا كَانَ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ فَقَدْتَهُ فَأَخَذَنِي مَا يَأْخُذُ النِّسَاءَ مِنَ الْغَيْرَةِ فَتَلَفَّعْتُ بِمِرْطِي، أَمَا وَاللَّهِ مَا كَانَ مِرْطِي خَزًّا وَلَا قَزًّا وَلَا حَرِيرًا وَلَا دِيبَاجًا وَلَا قُطْنًا وَلَا كَتَّانًا، قِيلَ: وَمِمَّ كَانَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَتْ: كَانَ سَلَاوهُ شَعَرًا وَلُحْمَتُهُ مِنْ أَوْبَارِ الْإِبِلِ، قَالَتْ: فَطَلَبْتُهُ فِي حُجَرِ نِسَائِهِ فَلَمْ أَجِدْهُ، فَانْصَرَفْتُ إِلَى حُجْرَتِي فَإِذَا بِهِ كَالثَّوْبِ السَّاقِطِ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ سَاجِدًا وَهُوَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ: «سَجَدَ لَكَ سَوَادِي وَخَيَالِي وَآمَنَ بِكَ فُؤَادِي، هَذِهِ يَدِي وَمَا جَنَيْتُ بِهَا عَلَى نَفْسِي، يَا عَظِيمُ يُرْجَى لِكُلِّ عَظِيمٍ، اغْفِرِ الذَّنْبَ الْعَظِيمَ، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ» ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَعَادَ سَاجِدًا فَقَالَ: " أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ، أَقُولُ كَمَا قَالَ أَخِي دَاوُدُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: أُعَفِّرُ وَجْهِي فِي التُّرَابِ لِسَيِّدِي، فَحَقٌّ لَهُ إِنْ سَجَدَ " ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي قَلْبًا مِنَ الشَّرِّ نَقِيًّا لَا كَافِرًا وَلَا شَقِيًّا» قَالَتْ: ثُمَّ انْصَرَفَ فَدَخَلَ مَعِي فِي الْخَمِيلَةِ وَلِي نَفَسٌ عَالٍ فَقَالَ: «مَا هَذَا النَّفَسُ يَا حُمَيْرَاءُ؟» فَأَخْبَرْتُهُ فَطَفِقَ يَمْسَحُ بِيَدِهِ عَنْ رُكْبَتِي وَيَقُولُ: «وَبِئْسَ هَاتَيْنِ الرُّكْبَتَيْنِ مَاذَا لَقِيَتَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، يَنْزِلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَغْفِرُ لِعِبَادِهِ إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاحِنٍ» سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ فِي مَعْنَى حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَطَّلِعُ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ عَلَى عِبَادِهِ فَيَغْفِرُ لِأَهْلِ الْأَرْضِ إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاحِنٍ» قَالَ: الْمُشَاحِنُ: هُمْ أَهْلُ الْبِدَعِ الَّذِينَ يُشَاحِنُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ وَيُعَادُونَهُمْ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں :شعبان کی پندرہویں رات تھی ، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تھے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاں رات بسر کی ،جب آدھی رات ہوئی تو میں نے آپ کو بسترسے گم پایا ،اس حالت میں مجھے انہی خیالات نے گھیرلیا جس طرح کے خیالات ایسی حالت میں عورتوں کو آیا کرتے ہیں ،میں نے اپنے آپ کو چادرمیں لپیٹا ،اللہ کی قسم !میری چادروں میں کوئی اونی چادر،باریک ریشمی کی چادر،موٹے ریشم کی چادر یاکوئی نرم گرم چادر نہیں نہیں تھی ۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہاگیاکہ پھر آ پ کے پاس کون سی چادر ہوا کرتی تھی ؟حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں :وہ چادر بالوں کی اور اونٹ کی پشم کی تیاد کردہ تھی ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی ازواج کے حجرات میں تلاش کیا ،لیکن آپ مجھے وہاں نہیں ملے ،میں واپس اپنے حجرے میں آگئی ، میں نے دیکھا ،گرے ہوئے کپڑے کی طرح زمین پر سجدے میں گرے ہوئے تھے اور اپنے سجدے میں یہ دعا پڑھ رہے تھے :’’سَجَدَ لَکَ سَوَادِی وَخَیَالِی وَآمَنَ بِکَ فُوَادِی، ہَذِہِ یَدِی وَمَا جَنَیْتُ بِہَا عَلَی نَفْسِی، یَا عَظِیمُ یُرْجَی لِکُلِّ عَظِیمٍ، اغْفِرِ الذَّنْبَ الْعَظِیمَ، سَجَدَ وَجْہِی لِلَّذِی خَلَقَہُ وَشَقَّ سَمْعَہُ وَبَصَرَہُ‘‘اللہ !میرے سر نے تیرے لیے سجدہ کیا ، میرے خیالالت نے تیرے لیے سجدہ کیا ، میرا دل تجھ پر ایمان لایا ، یہ میرا ہاتھ ہے میں نے اس کے ذریعے اپنے آپ پر کوئی ظلم نہیں کیا ،اے عظیم ذات !ہر عظیم کا م کے لیے تجھ سے امیدیں وابستہ کی جاتی ہیں ،میرے بڑے گناہوں کو بخش دے ، میرے بڑے گناہوں کو بخش دے ، میرے چہرے نے اس ذات کے لیے سجدہ کیا جس نے اس کو پیدا کیا ،جس نے اس کے لیے کی سماعت کو پھاڑا ،جس نے اس کو بنائی جیسی نعمت سے نوازا ۔‘اس کے بعد آپ نے اپنا سر سجدے سے اٹھایا اور دوبارہ سجدے میں چلے گئے ،تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی :’’اَعُوذُ بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ، وَاَعُوذُ بِمُعَافَاتِکَ مِنْ عُقُوبَتِکَ، وَاَعُوذُ بِکَ مِنْکَ، اَنْتَ کَمَا اَثْنَیْتَ عَلَی نَفْسِکَ‘‘اے اللہ !میں تیری رضا کے واسطے سے تیرے غضب سے پناہ چاہتا ہوں ، تیری معافی کے واسطے سے تیرے عذابوں سے پناہ چاہتا ہوں ،تیری رحمت کے واسطے سے تیری پکڑ کی پناہ چاہتا ہوں ، اے اللہ !میں تیری حمد اس طرح سے بیان نہیں کرسکتا جس طرح تونے خود اپنی حمد بیان کی ہے ،میں وہی دعا کرتا ہوں جو دعا میرے بھائی دائود نے کی تھی :میں اپنا چہرہ گرد آلود کرتا ہوں اپنے مالک کی رضا کے لیے (میں اپنے مالک کے لیے عاجزی اور انکساری اختیار کرتا ہوں )اس کے لیے بہترین طریقہ یہی ہے اللہ کے لیے سجدہ کیا جائے ۔اس کے بعد آپ نے اپنا سر سجدے سے اٹھایا اور یہ دعا کی :اے اللہ !مجھے ایسا دل عطاء کر جو ہر طرح کے شر سے پاک ہو ،ایسا دل عطا نہ کرنا جو انکار ی اور بدبختی والا ہو ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مصلے سے اٹھے اور میرے ساتھ چادر میں لیٹ گئے ،تب میرا دل دھڑ ک رہا تھا ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا :اے عائشہ یہ کیا ہے ؟میں نے آپ کو ساری بات کی خبر دی ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ میرے گھٹنے پر پھیرنے لگے ،آپ نے فرمایا:یہ گھٹنے کتنے ہی برے ہیں ،ان کہ شعبان کی اس درمیانی شب میں کیا پیش آیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اللہ تعالیٰ آسمان ِدنیا پر تشریف فرماہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ اپنے تمام بندوں کومعاف کردیتا ہے سوائے مشرک اور مشاحن کے ۔میں نے عبد اللہ بن احمد بن حنبل رحمہما اللہ سے سنا وہ کہتے ہیں کہ میں نے والدسے سنا وہاسی معنی میں حدیث بیا ن کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ عزوجل شعبان کی پندرہویں رات کو آسمان دنیا پر تشریف فرماہوتا ہے ،اللہ تعالیٰ اپنے تمام بندوں کو معاف کردیتا ہے سوائے مشرک اور مشاحن کے ۔مشاحن ایسے اہل بدعت ہیں جو اہل اسلام سے عداوت رکھتے ہیں ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سليمان بن أبي كريمة ← عَمْرُو بْنُ هَاشِمٍ الْبَيْرُوتِيُّ ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 606

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي السُّجُودِ · حديث 607

607 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ، دِقَّهُ وَجِلَّهُ، وَعَلَانِيَتَهُ وَسِرَّهُ، وَأَوَّلَهُ وَآخِرَهُ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سجود میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے :’’اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِی ذَنْبِی کُلَّہُ، دِقَّہُ وَجِلَّہُ، وَعَلَانِیَتَہُ وَسِرَّہُ، وَاَوَّلَہُ وَآخِرَہُ‘‘اے اللہ !میرے تمام گناہوں کو معاف کردے ،چھوٹے اور بڑے تمام گناہوں کو ،علانیہ اور چھپے ہوئے گناہوں کو پہلے گناہوں کواور بعد والے گناہوں کو معاف کردے۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُمَيٍّ ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 607

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي السُّجُودِ · حديث 608

608 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: " مِنْ أَحَبِّ الْكَلَامِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَقُولَ الْعَبْدُ وَهُوَ سَاجِدٌ: رَبِّ ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي "

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ پسندیدہ کلام یہ ہے کہ بندہ سجدہ کی حالت میں یہ کلمات کہے :’’رَبِّ ظَلَمْتُ نَفْسِی فَاغْفِرْ لِی‘‘اے میرے رب!میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے ،تو مجھے بخش دے ۔

الْعَبْدُ وَهُوَ سَاجِدٌ: رَبِّ ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي ← مِنْ أَحَبِّ الْكَلَامِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ ← عَلِيٍّ، ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 608

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter
307. Chapter
308. Chapter
309. Chapter
310. Chapter
311. Chapter
312. Chapter
313. Chapter
314. Chapter
315. Chapter
316. Chapter
317. Chapter