Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
كتاب الدعاء

Kitab Al Dua

by Tibrani

2,251 Hadith318 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الصَّبَّاحِ وَالْمَسَاءِ · حديث 335

335 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْجَارُودِ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ السِّجِسْتَانِيُّ، ثنا أَبُو جَابِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ أَلْفَ مَرَّةٍ جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَوْقَ كُلِّ عَمَلٍ إِلَّا نَبِيُّ أَوْ رَجُلٌ زَادَ فِي التَّهْلِيلِ»

عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے اور اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس شخص نے ایک ہزار مرتبہ یہ کلمات کہے : لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ یُحْیِی وَیُمِیتُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیرٌ ،نہیں ہے کوئی عبادت کے لائق سوائے اللہ کے ،وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، ہر قسم کی بادشاہت اسی کے لیے ہے،تمام تعریفیں اسی کے لئے ہیں، ہر قسم کی بھلائی اسی کے ہاتھ میں ہے ، وہی زندہ کرتا اور وہی موت دیتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔وہ شخص قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے اعمال ہر کسی سے زیادہ ہوں گے ، سوائے نبیوں کے اور اس شخص کے کہ جس نے تہلیل (لا الہ الا اللہ )کے کلمات اس سے زیادہ مرتبہ کہے ہوں ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ← أَبُو جَابِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ← أَبُو حَاتِمٍ السِّجِسْتَانِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْجَارُودِ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 335

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الصَّبَّاحِ وَالْمَسَاءِ · حديث 336

336 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، كِلَاهُمَا عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ كَانَ لَهُ عَدْلُ عَشْرَ رِقَابٍ، وَكُتِبَتْ لَهُ مِائَةُ حَسَنَةٍ، وَمُحِيَتْ عَنْهُ مِائَةُ سَيِّئَةٍ، وَكَانَتْ لَهُ حِرْزًا يَوْمَهُ ذَلِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ حَتَّى يُمْسِيَ، وَلَمْ يَأْتِ أَحَدٌ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهِ إِلَّا أَحَدٌ عَمِلَ أَكْمَلَ مِنْ ذَلِكَ»

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس شخص نے ایک دن میں دو سو مرتبہ یہ کلمات کہے : لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیرٌ ،،نہیں ہے کوئی عبادت کے لائق سوائے اللہ کے ،وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، ہر قسم کی بادشاہت اسی کے لیے ہے،تمام تعریفیں اسی کے لئے ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔تو اس دن کوئی ایک شخص اس قدر افضل عمل کے ساتھ نہیں آئے گا ، سوائے اس شخص کے جس نے یہ کلمات اس سے زیادہ مرتبہ کہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُمَيٍّ ← مَالِكٍ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ← مالک بن أنس ← الْقَعْنَبِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، كِلَاهُمَا ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 336

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الصَّبَّاحِ وَالْمَسَاءِ · حديث 337

337 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، وَالْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي رُهْمٍ السَّمَاعِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ [ص:127] عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ كَتَبَ اللَّهُ تَعَالَى لَهُ بِكُلِّ وَاحِدَةٍ قَالَهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا عَشْرَ سَيِّئَاتٍ، وَرَفَعَهُ بِهَا عَشْرَ دَرَجَاتٍ، وَكُنَّ لَهُ كَعَدْلِ عَشْرِ رَقَبَاتٍ، وَكُنَّ لَهُ مَسْلَحَةً مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ إِلَى آخِرِهِ، وَلَمْ يَعْمَلْ يَوْمَئِذٍ عَمَلًا يَقْهَرُهُنَّ، وَإِنْ قَالَهُنَّ حِينَ يُمْسِي مِثْلُ ذَلِكَ»

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس شخص نے صبح کے وقت یہ کلمات کہے: لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیِی وَیُمِیتُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیرٌ ،نہیں ہے کوئی عبادت کے لائق سوائے اللہ کے ،وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، ہر قسم کی بادشاہت اسی کے لیے ہے،تمام تعریفیں اسی کے لئے ہیں،وہی زندہ کرتا اور وہی موت دیتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔اس شخص کے لئے ہر ایک مرتبہ کہنے کی وجہ سے دس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں، اس کے دس گناہ مٹا دیے جاتے ہیں،اس کے درجات کو بلند کر دیا جاتا ہے ، اس کے لیے دس غلاموں کو آزاد کرنے کا اجر لکھ دیا جاتا ہے اور یہ کلمات اس لیے اللہ عزوھل کی طرف سے شیطان کے شر سے بچنے کے لیے قلعہ بن جاتے ہیں ۔کسی اور شخص کا عمل اس کے عمل پر غالب نہیں آئے گا ۔ اگر وہ شخص شام کے وقت یہ کلمات کہہ لیتا ہے تو بھی اس کے لیے یہی اجر ہے ۔

مَنْ ← اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ← أَبِي رُهْمٍ السَّمَاعِيِّ ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، وَالْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 337

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الصَّبَّاحِ وَالْمَسَاءِ · حديث 338

338 - حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الْوَرْدِ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أُعَلِّمُكَ أَبَا أَيُّوبَ؟» قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: «تَقُولُ حِينَ تُصْبِحُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ عَشْرًا، فَمَا قَالَهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ عَشْرَ مَرَّاتٍ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بِهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ، وَإِلَّا حَطَّ عَنْهُ بِهَا عَشْرَ سَيِّئَاتٍ، وَإِلَّا كُنَّ أَفْضَلَ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ عَشَرَةً، وَلَا قَالَهَا حِينَ يُمْسِي إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ»

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا میں تمہیں کچھ کلمات نہ سکھلادوں ؟اے ابو ایوب !میں نے عرض کیا :کیوں نہیں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ نے فرمایا:صبح کے وقت دس مرتبہ یہ کلمات کہا کرو :لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ ،نہیں ہے کوئی عبادت کے لائق سوائے اللہ کے ،وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، جو بھی مسلمان شخص یہ دس مرتبہ یہ کلمات کہتا ہے تو اس کے لیے اللہ عزوجل کی طرف سے دس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں ، اس کے دس گناہ مٹا دیے جاتے ہیںاور قیامت کے دن یہ دس غلاموں کو آزاد کرنے سے زیادہ افضل ہوگا ، جو شخص شام کے وقت کہتا ہے تو اللہ عزوجل کی طرف سے اس کے لیے یہ سب کچھ لکھ دیا جاتا ہے ۔

أَبِي أَيُّوبَ، ← أَبِي مُحَمَّدٍ الْحَضْرَمِيُّ ← أَبِي الْوَرْدِ، ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← مُسَدَّدٌ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 338

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الصَّبَّاحِ وَالْمَسَاءِ · حديث 339

339 - حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْحَدَّادُ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ صُبَيْحٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْوَرْدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ غُلَامِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَنَزَلَ عَلَى أَبِي أَيُّوبَ فَقَالَ: " يَا أَبَا أَيُّوبَ، أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ إِذَا قُلْتَهُنَّ بِالْغَدَاةِ عَشْرَ مَرَّاتٍ أُعْطِيتَ بِهِنَّ عَشْرَ دَرَجَاتٍ، وَكُنَّ لَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَعَدْلِ عَشْرِ مُحَرَّرِينَ، تَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، لَا شَرِيكَ لَهُ "

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف فرماہوئے اور آپ ابو ایوب انصاری کے گھر میں قیام پذیر ہوئے اور آپ نے فرمایا:اے ابوابوب !کیا میں تمہیں کچھ کلمات نہ سکھلادوں کہ تم وہ کلمات صبح کے وقت دس مرتبہ اور شام کے وقت دس مرتبہ کہو ، ان کی وجہ سے تمہیں دس درجات عطا کیے جائیں گے اور قیامت کے دن عمل دس غلاموں کو آزاد کرنے کے برابر ہوگا ۔تم یہ کلمات کہا کرو :لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ، لَا شَرِیکَ لَہُ ،نہیں ہے کوئی عبادت کے لائق سوائے اللہ کے ،وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔

قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ الْمَدِينَةَ فَنَزَلَ عَلَى أَبِي أَيُّوبَ ← اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ← غُلَامِ أَبِي أَيُّوبَ، ← أَبِي الْوَرْدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، ← عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ رَبِيعَةَ، ← الرَّبِيعُ بْنُ صَبِيحٍ ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← إِدْرِيسُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْحَدَّادُ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 339

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الصَّبَّاحِ وَالْمَسَاءِ · حديث 340

340 - حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَهُوَ فِي أَرْضِ الرُّومِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَالَ غُدْوَةً لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ عَشْرَ مَرَّاتٍ كَتَبَ اللَّهُ تَعَالَى لَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ، وَمَحَا عَنْهُ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ، وَكُنَّ لَهُ كَعَدْلِ عَشْرِ رَقَبَاتٍ، وَأَجَارَهُ اللَّهُ تَعَالَى مِنَ الشَّيْطَانِ، وَمَنْ قَالَ عَشِيَّةً كَانَ لَهُ مِثْلُ ذَلِكَ»

حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں روم کی سر زمین میں تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس شخص نے صبح کے وقت دس مرتبہ یہ کلمات کہے: لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیرٌ ،نہیں ہے کوئی عبادت کے لائق سوائے اللہ کے ،وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، ہر قسم کی بادشاہت اسی کے لیے ہے،تمام تعریفیں اسی کے لئے ہیںاور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔اس شخص کے لئے دس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں،اس کے دس گناہ مٹا دیے جاتے ہیں،اس کے لیے دس غلاموں کو آزاد کرنے کا اجر لکھ دیا جاتا ہے اور اللہ عزوجل اس شخص کوشیطان کے شر سے محفوظ فرمادیتاہے ۔اگر وہ شخص شام کے وقت یہ کلمات کہہ لیتا ہے تو بھی اس کے لیے یہی اجر ہے ۔

وَهُوَ فِي أَرْضِ الرُّومِ ← اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ← الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 340

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الصَّبَّاحِ وَالْمَسَاءِ · حديث 341

341 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبُو عَقِيلٍ يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا أَمْسَى: «أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذِهِ اللَّيْلَةِ، وَخَيْرِ مَا قَبْلَهَا، وَخَيْرِ مَا بَعْدَهَا، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَعَذَابٍ فِي الدُّنْيَا وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ وَإِذَا أَصْبَحَ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ» قَالَ إِبْرَاهِيمُ: وَزَادَنِي فِيهِ زُبَيْدٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي آخِرِهِ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ»

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم شام کے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے :اَمْسَیْنَا وَاَمْسَی الْمُلْکُ لِلَّہِ وَالْحَمْدُ لِلَّہِ لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیرٌ، اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْاَلُکَ مِنْ خَیْرِ ہَذِہِ اللَّیْلَۃِ، وَخَیْرِ مَا قَبْلَہَا، وَخَیْرِ مَا بَعْدَہَا، اللَّہُمَّ إِنِّی اَعُوذُ بِکَ مِنَ الْکَسَلِ وَالْہَرَمِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَعَذَابٍ فِی الدُّنْیَا وَعَذَابٍ فِی الْقَبْرِ،ہم نے شام کی اور اللہ کی بادشاہت کو دوام حاصل رہا، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ اکیلا ہے، اُس کا کوئی شریک نہیں،بادشاہی اسی کی ہے اور ہر قسم کی حمد بھی اُسی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، اے میرے اللہ !میں تجھ سے اِس رات کی بھلائی چاہتا ہوں اوراس بھلائی کا سوال کرتا ہوں جو اس سے پہلے ہے اور اُس بھلائی کا بھی سوال کرتا ہوں جو اس کے بعد ہے۔ اے اللہ !میں سستی سے ،بڑھاپے سے ،بزدلی سے اور بخل سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اے اللہ !میں جہنم اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ اور جب صبح کرتے، تو بھی یہی دعا پڑھتے۔اور جب صبح کرتے تب یہی دعا پڑھا کرتے ۔ابراہیم کہتے ہیں :زبید نے عبد الرحمن سے اور وہ عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے کچھ مزید کلمات بیان کرتے ہیں :َا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیرٌ،نہیں ہے کوئی عبادت کے لائق سوائے اللہ کے ، وہ اکیلاہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، ہر قسم کی بادشاہت اسی کے پاس ہے ، تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 341

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الصَّبَّاحِ وَالْمَسَاءِ · حديث 342

342 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَشِيرٍ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، ثنا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِذَا أَمْسَى: «أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ، وَخَيْرِ مَا بَعْدَهَا، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهَا، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَسُوءِ الْكِبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ» وَكَانَ يَقُولُ ذَلِكَ إِذَا أَصْبَحَ

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب شام ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم شام کے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے :اَمْسَیْنَا وَاَمْسَی الْمُلْکُ لِلَّہِ وَالْحَمْدُ لِلَّہِ لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ، اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْاَلُکَ مِنْ خَیْرِ مَا فِی ہَذِہِ اللَّیْلَۃِ، وَخَیْرِ مَا بَعْدَہَا، اللَّہُمَّ إِنِّی اَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ ہَذِہِ اللَّیْلَۃِ وَشَرِّ مَا بَعْدَہَا، اللَّہُمَّ إِنِّی اَعُوذُ بِکَ مِنَ الْکَسَلِ وَسُوء ِ الْکِبْرِ، وَاَعُوذُ بِکَ مِنْ عَذَابٍ فِی النَّارِ وَعَذَابٍ فِی الْقَبْرِ ،ہم نے شام کی اور اللہ کی بادشاہت کو دوام حاصل رہا، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ اکیلا ہے، اُس کا کوئی شریک نہیں۔ اے میرے اللہ !میں تجھ سے اِس رات کی بھلائی چاہتا ہوں اوراس بھلائی کابھی سوال کرتا ہوں جو اس کے بعد ہے۔ اے میرے اللہ !میں تجھ سے اِس رات کی شر پناہ چاہتا ہوں اوراس شر سے پناہ چاہتاہوںجو اس کے بعد ہے۔ اے اللہ !میں سستی سے اوربڑھاپے کے شرسے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ اے اللہ !میں جہنم اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ اور جب صبح کرتے، تو بھی یہی دعا پڑھتے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ ← الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← زَائِدَۃَ، ← حُسَيْنٌ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ اَبَانَ ← أَحْمَدُ بْنُ بُشَيْرٍ الطَّيَالِسِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 342

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الصَّبَّاحِ وَالْمَسَاءِ · حديث 343

343 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا أَغْلَبُ بْنُ تَمِيمٍ الشَّعْوَذِيُّ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ فُرَافِصَةَ، عَنْ طَلْقٍ يَعْنِي ابْنَ حَبِيبٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ فَقَالَ: يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ احْتَرَقَ بَيْتُكَ، فَقَالَ: مَا احْتَرَقَ بَيْتِي، ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ: يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ احْتَرَقَ بَيْتُكَ، فَقَالَ: مَا احْتَرَقَ بَيْتِي، ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ: يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ، اتَّبَعْتُ النَّارَ فَلَمَّا انْتَهَتْ إِلَى بَيْتِكِ طُفِيَتْ، فَقَالَ: قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَكُنْ لِيَفْعَلَ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ مَا نَدْرِي أَيُّ كَلَامِكَ أَعْجَبُ؟ قَوْلُكَ مَا احْتَرَقَ، أَوْ قَوْلُكَ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَكُنْ لِيَفْعَلَ، قَالَ: ذَاكَ لِكَلِمَاتٍ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَنْ قَالَهُنَّ حِينَ [ص:129] يُصْبِحُ لَمْ تُصِبْهُ مُصِيبَةٌ حَتَّى يُمْسِيَ، وَمَنْ قَالَهُنَّ حِينَ يُمْسِي لَمْ تُصِبْهُ مُصِيبَةٌ حَتَّى يُصْبِحَ: اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ عَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَأَنْتَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ، مَا شَاءَ اللَّهُ كَانَ وَمَا لَمْ يَشَأْ لَمْ يَكُنْ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، أَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي وَمِنْ شَرِّ كُلِّ دَابَّةٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ "

طلق بن حبیب کہتے ہیں ایک آدمی حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اس نے کہا: اے ابو درداء رضی اللہ عنہ !آپ کا گھر جل کے بسم ہوگیا انہوں نے کہا کہ میرا گھر نہیں چلا، ایک اور بندہ آیا اس نے کہا: اے ابو درداء رضی اللہ عنہ! آپ کا گھر جل گیا،انہوں نے کہا کہ میرا گھر نہیں جلا اس کے بعد ایک اور شخص آیا اس نے کہا: اے ابو درداء رضی اللہ عنہ! آگ لگی ہوئی تھی آگ بڑھتی جا رہی تھی میں آپ کے پیچھے پیچھے چلتا رہا جب آگ آپ کے گھرکے قریب پہنچی تو آگ بجھا دیا گیا۔حضرت ابو درداء کہتے ہیں: یقینا مجھے علم تھا کہ اللہ عزوجل میرے ساتھ ایسا نہیں کرے گا،اس آدمی نے کہا: اے ابو دردا! ہمیں نہیں علم کے آپ کی کون سی بات زیادہ پسندیدہ ہے ،آپ کا یہ کہنا کہ میرا گھر نہیں جلا یا آپ کا یہ کہناکہ مجھے اس بات پر یقین ہے کہ اللہ عزوجل میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتا۔ کہتے ہیں:اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ وسلم سے کچھ کلمات سنے تھے، آپ نے فرمایا:جو شخص صبح کے وقت وقت وہ کلمات کہہ لیتا ہے شام ہو جانے تک اسے کوئی مصیبت نہیں پہنچ سکتی اور جو بندہ شام کے وقت وہ کلمات کہہ لیتا ہے تو صبح کے طلوع ہو جانے تک اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی وہ کلمات: اللَّہُمَّ اَنْتَ رَبِّی لَا إِلَہَ إِلَّا اَنْتَ عَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ، وَاَنْتَ رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیمِ، مَا شَاء َ اللَّہُ کَانَ وَمَا لَمْ یَشَاْ لَمْ یَکُنْ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللَّہِ، اَعْلَمُ اَنَّ اللَّہَ عَلَی کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیرٌ وَاَنَّ اللَّہَ قَدْ اَحَاطَ بِکُلِّ شَیْء ٍ عِلْمًا، اللَّہُمَّ إِنِّی اَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِی وَمِنْ شَرِّ کُلِّ دَابَّۃٍ اَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِیَتِہَا إِنَّ رَبِّی عَلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ ،اے اللہ! تو میرا رب ہے ،تیرے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے،میں نے تجھ پر ہی توکل کیا تو عرش کریم کا رب ہے ،جو اللہ چاہتا ہے وہ ہو جاتا ہے اور جو اللہ نہیں چاہتا وہ نہیں ہو سکتا ۔نہیں ہے نیکی کرنے کی ہمت اور گناہ سے بچنے کی طاقت مگر اللہ کی توفیق کے ساتھ میں ،جانتا ہوں بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے ، میں تیری پناہ میں آتا ہوں اپنے نفس کے شر سے اور ہر اس جانور کے شر سے کہ جس کی پیشانی کو تو پکڑے ہوئے ہے ، بے شک میرا رب سیدھی راہ پر ہے۔

يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ، اتَّبَعْتُ النَّارَ فَلَمَّا انْتَهَتْ إِلَى بَيْتِكِ طُفِيَتْ، ← مَا احْتَرَقَ بَيْتِي، ثُمَّ جَاءَ آخَرُ ← يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ، احْتَرَقَ بَيْتُكَ ← مَا احْتَرَقَ بَيْتِي، ثُمَّ جَاءَ آخَرُ ← يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ، احْتَرَقَ بَيْتُكَ ← جَاءَ رَجُلٌ إلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ ← طَلْقٍ يَعْنِى ابْنَ حَبِيبٍ ← الْحَجَّاجِ بْنِ فُرَافِصَةَ ← أَغْلَبُ بْنُ تَمِيمٍ الشَّعْوَذِيُّ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 343

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الصَّبَّاحِ وَالْمَسَاءِ · حديث 344

344 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرْكَانِيُّ، ثنا أَبُو شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ إِذَا أَمْسَى: أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، أَعُوذُ بِاللَّهِ الَّذِي يُمْسِكُ السَّمَاءَ أَنْ تَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَذَرَأَ وَبَرَأَ، مَنْ قَالَهُنَّ عُصِمَ مِنْ كُلِّ سَاحِرٍ وَكَاهِنٍ وَشَيْطَانٍ وَحَاسِدٍ "

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو شخص شام کے وقت یہ دعا پڑھتا ہے :اَمْسَیْنَا وَاَمْسَی الْمُلْکُ لِلَّہِ، وَالْحَمْدُ لِلَّہِ، اَعُوذُ بِاللَّہِ الَّذِی یُمْسِکُ السَّمَاء َ اَنْ تَقَعَ عَلَی الْاَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِہِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَذَرَاَ وَبَرَاَ، مَنْ قَالَہُنَّ عُصِمَ مِنْ کُلِّ سَاحِرٍ وَکَاہِنٍ وَشَیْطَانٍ وَحَاسِدٍ ،ہم نے شام کی اور اللہ کی بادشاہت کو دوام حاصل رہا،تمام تعریفات اسی کے لیے ہیں ، میں اس اللہ کی پناہ میں آتاہوں جس نے آسمان کو تھاما ہوا ہے کہ وہ زمین پر گر نہ جائے مگر اسی کی اجازت سے ہر اس چیز کے شر سے جس کو اس نے پیدا کیا اور ان کی ذریت و نسل اور ہر قسم کے حیوانات کی برائی سے۔اس شخص کو ہر جادو سے بچالیا جاتا ہے ، کاہن کے شر سے محفوظ کرلیا جاتا ہے ، شیطان سے بچالیا جاتا ہے اور ہر حسد کرنے والے سے بچالیا جاتا ہے ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← الْحَكَمِ ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← أَبُو شِهَابٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَکَانِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 344

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الصَّبَّاحِ وَالْمَسَاءِ · حديث 345

345 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، ثنا أَبِي، ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، أَنْبَأَ عَبْدُ الْجَلِيلِ بْنُ عَطِيَّةَ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَلِيلِ بْنُ عَطِيَّةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَدْعُو، بِهَذَا الدُّعَاءِ: «اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَدَنِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي سَمْعِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَصَرِي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ غُدْوَةً وَعَشَيَّةً» ، قَالَ: «يَا بُنَيَّ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ وَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَسْتَنَّ بِسُنَّتِهِ»

عبد الرحمن بن ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو دعا کرتے ہوئے سنا :اللَّہُمَّ عَافِنِی فِی بَدَنِی، اللَّہُمَّ عَافِنِی فِی سَمْعِی، اللَّہُمَّ عَافِنِی فِی بَصَرِی، لَا إِلَہَ إِلَّا اَنْتَ ،اے اللہ!تو مجھے جسمانی صحت میں عافیت عطا فرما، اے اللہ ! تو میری قوتِ سماعت میں عافیت عطا فرما، اے اللہ ! تو میری قوتِ بینائی میں عافیت عطا فرما، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔صبح کے وقت اور شام کے وقت ۔انہوں نے کہا:اے میرے بیٹے !میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ یہ دعا کیا کرتے تھے اور میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ میں آپ کی سنت کو اختیار کروں ۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ ← جَعْفَرُ بْنُ مَيْمُونٍ ← عَبْدِ الْجَلِيلِ بْنِ عَطِيَّةَ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، أَنْبَأَ عَبْدُ الْجَلِيلِ بْنُ عَطِيَّةَ، ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 345

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الصَّبَّاحِ وَالْمَسَاءِ · حديث 346

346 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَنْبَأَ مَالِكٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ قَالَ: مَا نِمْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِنْ أَيِّ شَيْءٍ؟» قَالَ: لَدَغَتْنِي عَقْرَبٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَا إِنَّكَ لَوْ قُلْتَ حِينَ أَمْسَيْتَ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ يَضُرُّكْ شَيْءٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو اسلم قبیلہ کے ایک شخص نے کہاکہ میں ساری رات سو نہیں سو سکا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا :نیند نہ آنے کی کیا وجہ ہے ؟اس نے کہا: مجھے بچھو نے ڈس لیا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہا :اگر تم شام کے وقت یہ دعا پڑھی ہوتی تو اللہ عزوجل کے حکم سے تمہیں کوئی چیز نقصان نہ پہنچا سکتی ، دعا کے الفاظ :اَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللَّہِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ،میں اللہ تعالیٰ کے کامل اور مکمل کلمات کے ذریعے سے اس کی مخلوقات کے شر سے پناہ چاہتا ہوں۔

لَدَغَتْنِي عَقْرَبٌ ← لَهُ رَسُولُ اللَّهِ «مِنْ أَيِّ شَيْءٍ؟» ← مَا نِمْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَنْبَأَ مَالِكٌ، ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 346

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter
307. Chapter
308. Chapter
309. Chapter
310. Chapter
311. Chapter
312. Chapter
313. Chapter
314. Chapter
315. Chapter
316. Chapter
317. Chapter