Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
كتاب الدعاء

Kitab Al Dua

by Tibrani

2,251 Hadith318 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ أَخْذِ الْمَضَاجِعِ · حديث 232

232 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالْقَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

حضرت علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح بیان کرتے ہیں ۔

النَّبِیِّ مِثْلَہُ ← عَلِيٍّ، ← أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 232

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ أَخْذِ الْمَضَاجِعِ · حديث 233

233 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، وَزَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: اشْتَكَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مَجْلَ يَدَيْهَا مِنَ الطَّحِينِ، فَقُلْتُ: لَوْ أَتَيْتِ أَبَاكِ فَسَأَلْتِيهِ خَادِمًا، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ تُصَادِفْهُ فَلَمَّا جَاءَ أُخْبِرَ فَأَتَانَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا وَعَلَيْنَا قَطِيفَةٌ إِذَا لَبِسْنَاهَا طُولًا خَرَجَتْ مِنْهُ جُنُوبَنَا، وَإِذَا لَبِسْنَاهَا عَرْضًا خَرَجَتْ رُءُوسُنَا وَأَقْدَامُنَا، فَقَالَ: «يَا فَاطِمَةُ أُخْبِرْتُ أَنَّكِ جِئْتِ فَهَلْ كَانَتْ حَاجَةٌ؟» قَالَتْ: لَا، فَقُلْتُ: بَلَى، شَكَتْ إِلَيَّ مَجْلَ يَدَيْهَا مِنَ الطَّحِينِ، فَقُلْتُ: لَوْ أَتَيْتِ أَبَاكِ فَسَأَلْتِيهِ خَادِمًا قَالَ: «أَدُلُّكُمَا عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنَ الْخَادِمِ، إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا تَحْمَدَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتُسَبِّحَا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ وَتُكَبِّرَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ»

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ نے نے آٹاپیسنے کی وجہ سے اپنے ہاتھوں پر بننے والے آبلوں کی شکایت کی، میں نے کہا:اگر آپ اپنے والد گرامی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلی جائیں۔ ان سے کسی خادم کا سوال کریں۔ تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہااللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں لیکن آپ گھر پر موجود نہ تھے۔ جب آپ صلی اللہ وسلم گھر میں تشریف فرما ہوئے آپ کو بتایا گیا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے ۔ ہم سب اپنے بستروں پر سونے کے لئے لیٹ چکے تھے ۔ہم نے اپنے اوپر ایک چادرلمبائی ڈالی ہوئی تھی، اس میں سے پہلوئوں کی طرف سے ہمارے جسم کا کچھ حصہ باہر نمایاں ہو رہا تھا جبکہ یک چادر ہم نے چوڑائی میں ڈالی ہوئی تھی اس میں سے ہمارے سر باہر نکلے ہوئے تھے اور ہمارے پاؤں دکھائی دے رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے فاطمہ !مجھے اس بات کی خبر دی گئی ہے کہ تم میرے پاس آئی تھی ،کیا تمہیں کوئی ضرورت اور کام تھا؟ انہوں نے کہا کہ نہیں ،میں نے کہا :کیوں نہیں ، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے چکی پیسنے کی وجہ سے اپنے ہاتھوں پر بننے والے آبلوں کی شکایت کی۔ میں نے کہا :آپ اپنے والد گرامی کے پاس جائیں ،ان سے خادم کا سوال کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :کیا میں تمہیں ایسی چیز کے بارے میں بتا دوں جو تمہارے لئے خادم کے مقابلے میں زیادہ بہتر اور خیر کا باعث ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم اپنے بستر پر لیٹنے کے لئے تو تینتیس مرتبہ الحمدللہ کہو چونتیس مرتبہ سبحان اللہ کہو اور تینتیس مرتبہ اللہ اکبر کہو ۔

عَلِيٍّ، ← عُبَيْدَةُ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← ابْنِ عَوْنٍ ← أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَی ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ وَزَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 233

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ أَخْذِ الْمَضَاجِعِ · حديث 234

234 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالَا: ثنا عِيسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَعْلَى النَّهْدِيَّ، يَقُولُ: قَالَ عَلِيُّ: أَتَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْكُو إِلَيْهِ الْعَمَلَ وَتَسْأَلُهُ خَادِمًا، فَقَالَ: «أَوَلَا أَدُلُّكِ عَلَى خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ، إِذَا أَوَيْتِ إِلَى فِرَاشِكِ تُسَبِّحِي اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَاحْمَدِيهِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبِّرِيهِ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ» قَالَ عِيسَى: فَقُلْتُ: أَدْرَكْتَ عَلِيًّا؟ قَالَ: نَعَمْ، وَأَنَا شَابٌّ يَوْمَ صِفِّينَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي نُعَيْمٍ

حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ،اپنے کام کی مشق کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے خادم کا تقاضا کرنے لگیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا تمہیں ایسے عمل کے بارے میں نہ بتادوں ؟جو تمہارے لیے اس سے بہت ہی بہتر ہے جس کا تم نے سوال کیا ہے ۔آپ نے فرمایا:جب تم اپنے بستروں پر آئو تو تینتیس باسبحان اللہ کہو ، تینتیس بار الحمد للہ کہو اورچونتیس باراللہ اکبر اللہ کہو ۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَعْلَى النَّهْدِيَّ، ← عِيسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← يُوسُفُ الْقَاضِي ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 234

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ أَخْذِ الْمَضَاجِعِ · حديث 235

235 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْوَرْدِ، عَنِ ابْنِ أَعْبُدٍ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا ابْنَ أَعْبُدٍ، هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الطَّعَامِ إِذَا طَعِمْتَ؟ قُلْتُ: وَمَا حَقُّهُ يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ؟ قَالَ: أَنْ تَقُولَ بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيمَا رَزَقْتَنَا، وَهَلْ تَدْرِي مَا شُكْرُهُ إِذَا فَرَغْتَ؟ قُلْتُ: وَمَا شُكْرُهُ؟ قَالَ: شُكْرُهُ أَنْ تَقُولَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا، ثُمَّ قَالَ: أَلَا أُخْبِرُكَ عَنِّي وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ مِنْ أَكْرَمِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ، وَكَانَتْ زَوْجَتِي فَرَحَّتِ الرَّحَا حَتَّى أَثَّرَ الرَّحَا بِيَدِهَا، وَاسْتَقَتْ بِالْقِرْبَةِ حَتَّى أَثَّرَتِ الْقِرْبَةُ بِنَحْرِهَا، وَقَمَّتِ الْبَيْتَ حَتَّى اغْبَرَّتْ ثِيَابُهَا، وَأَوْقَدَتْ تَحْتَ الْقَدْرِ حَتَّى دَنِسَتْ ثِيَابُهَا فَأَصَابَهَا مِنْ ذَلِكَ الضُّرُّ، قَالَ: وَقَدِمَ [ص:96] عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَدَمٌ أَوْ سَبْي، فَقُلْتُ لَهَا: لَوْ أَتَيْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتِيهِ خَادِمًا يُعِينُكِ عَلَى مَا أَنْتِ فِيهِ، قَالَ: فَانْطَلَقَتْ وَرَجَعَتْ وَلَمْ تَسْأَلْهُ فَغَدَا عَلَيْهَا وَكَانَ يَفْعَلُ فَقَالَ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَأَدْخُلُ؟» قَالَ: وَنَحْنُ فِي لُفُعِنَا فَاسْتَحْيَيْنَا مِنْ مَكَانِنَا، فَمَكَثْنَا، فَأَعَادَ الْقَوْلَ فَقَالَ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَأَدْخُلُ؟» فَرَهِبْنَا - أَوْ قَالَ رَهِبْتُ - أَنْ يُعِيدَ الثَّالِثَةَ فَنَسْكُتُ وَيَسْكُتُ، قَالَ: فَقُلْتُ وَعَلَيْكَ السَّلَامُ ادْخُلْ، قَالَ: فَدَخَلَ فَقَعَدَ عِنْدَ رُءُوسِنَا فَاسْتَحْيَتْ فَاطِمَةُ مِنْ مَكَانِهَا فَأَدْخَلَتْ رَأْسَهَا فِي لُفُعِهَا فَقَالَ: «يَا فَاطِمَةُ إِنَّكِ جِئْتَنِي أَمْسِ، فَمَا كَانَتْ حَاجَتُكِ إِلَى آلِ مُحَمَّدٍ» فَسَكَتَتْ، فَأَعَادَ عَلَيْهَا فَسَكَتَتْ فَرَهِبَتْ أَنْ يُعِيدَ الثَّالِثَةَ فَتَسْكُتُ، فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ وَأَنَّهُ بَلَغَهَا أَنَّهُ قَدِمَ عَلَيْكَ خَدَمٌ أَوْ سَبْي فَقُلْتُ لَهَا: لَوْ أَتَيْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتِيهِ خَادِمًا يُعِينُكِ عَلَى مَا أَنْتِ فِيهِ فَانْطَلَقَتْ فَاسْتَحْيَتْ، فَرَجَعَتْ وَلَمْ تَسْأَلْكَ، فَقَالَ: «يَا فَاطِمَةُ اتَّقِي اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَاعْمَلِي عَمَلَ أَهْلِكِ، أَلَا أَدُلُّكِ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ، إِذَا أَوَيْتِ إِلَى فِرَاشِكِ فَسَبِّحِي اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَاحْمَدِيهِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبِّرِيهِ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ» فَأَخْرَجَتْ رَأْسَهَا مِنْ لُفُعِهَا وَقَالَتْ: رَضِيتُ عَنِ اللَّهِ تَعَالَى وَعَنْ رَسُولِهِ، رَضِيتُ عَنِ اللَّهِ تَعَالَى وَرَسُولِهِ

ابن اَعبُد کہتے ہیں کہ حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابناَعبُد!کیا تمہیں پتہ ہے کہ جب تم کھانا کھاتے ہو تو کھانے کا حق کیا ہے ؟میں نے کہا کہ ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کھانے کا کیا حق ہے ؟انہوں نے فرمایا : تم یہ دعا پڑھو: بِسْمِ اللَّہِ اللَّہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیمَا رَزَقْتَنَا،اللہ کے نام کے ساتھ ۔اے اللہ !جو تو نے ہمیں رزق عطا کیا ہے اس میں برکتیں عطا فرما اور کیا تم جانتے ہو کے شکر کیا ہے؟جب کھانے سے فارغ ہوجاؤمیں نے کہا:شکرکیا ہے ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہنے کہا:جب تم کھانے سے فارغ ہو جائو کہو :َ الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی اَطْعَمَنَا وَسَقَانَا،تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے ہمیں کھانا کھلایا،جس نے ہمیں پانی پلایا۔ پھر انہوں نے کہا کہ میں تمہیں خبر نہ دوںمیں اپنی طرف اور فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کہ جو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سب سے زیادہ معزز و محترم تھیں اور میری زوجیت میں تھیں۔انہوں نے اپنے ہاتھ سے چکی کو پیسا اس کے نشانات ان کے ہاتھوںپر بن گئے ،اسی طرح وہ مشکیزہ پانی کا بھر کر لایا کرتی تھیںپانی کے مشکیزوںنے ان کے کندھوں کے اوپر اور ان کی کمر کے اوپر نشان چھوڑ دئیے ۔ اسی طرح انہوں نے گھر کے کام کاج کو سنبھالا یہاں تک کہ ان کا لباس گرد آلود ہو گیا ،انہوں نے اپنے گھر میں کھانا بنانے کے لیے انڈیا کے نیچے آگ جلائیاس سے ان کا لباس میں میلا کچیلا ہو گیا اسپروہ پریشان ہوئیں اور تکلیف میں مبتلا ہوئیں۔ اسی دوران اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ خدام اور لونڈیاں آئیں۔ میں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا:اگر آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلی جائیں آپسے خادم کا سوال کریں تاکہ وہ خادم آپ کے گھریلو کام کاج میں آپ کا تعاون کردے ۔حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا گئیں اور پھر واپس آ گئیں ۔انہوں نے آپ سے سوال نہیں کیا ۔جب واپس آئیں تو اگلے دن پھر انہوں نے گھر کا کام کیا تونبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف فرما ہوئے ۔ آپ نے سلام کہا اور کہا کہ کیامیں اندرآ سکتا ہوں؟ ہم اپنے اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے ،ہمیں شرم اور حیا محسوس ہوئی ،ایک ہی بستر پر لیٹنے کی وجہ سے ،ہم جلدی سے اٹھے۔آپ نے دوبارہ سے وہی بات کہی کہ تمہارے پر سلامتی ہو کیا میں اندر آ سکتا ہوں ؟میں نے کہا: وعلیکم السلام آپ اندر آ جائیں ۔حضرت علی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور ہمارے سروں کی جانب بیٹھ گئے ۔ مجھے اس بات پر حیا محسوس ہوئی کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا میرے نکاح میں تھیں۔ تو انہوں نے اپنا سر اپنے لحاف میں داخل کر لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے فاطمہ رضی اللہ عنہا !تم میرے پاس کل آئی تھی تو تمہیں کوئی کام اور ضرورت تھی؟حضرت فاطمہ خاموش رہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات کو پھر دہرایا ۔ اس کے بعد نبی صلی وسلم نے تیسری مرتبہ کہا توحضرت فاطمہ خاموش رہی ۔میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سارا واقعہ بیان کر دیا اور یہ بھی کہا کہ چونکہ آپ کے پاس کچھ خدام اور لونڈیاں آئی تھیں ۔میں نے ان سے کہا تھا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوجائیں اور آپ سے سوال کریںکسی خادمہ یا لونڈی کی تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے فاطمہ اللہ سے ڈرتی رہو اور گھریلو کام کرتی رہو اور کیامیں تمہیں اس ایسے کام کے بارے میں بتا دوں جو تمہارے لئے خادم اورلونڈی سے بہتر ہے؟ جب تم اپنے بستر پر جاؤ توتینتیس مرتبہ سبحان اللہ کہوتینتیس مرتبہ الحمد للہ کہو اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر کہو ۔تب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے لعاف سے اپنا سر باہر نکالا اور کہا :میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے راضی ہوں ،میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے راضی ہوں ۔

ابْنِ أَعْبُدَ، ← أَبِي الْوَرْدِ، ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 235

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ أَخْذِ الْمَضَاجِعِ · حديث 236

236 - حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَوَّارٍ الْعَنْبَرِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ، ثنا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَوَّارٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَسَّانَ الْعَنْبَرِيُّ، أَنَّ جَدَّتَيْهِ، أَخْبَرَتَاهُ أَنَّ قَيْلَةَ بِنْتَ مَخْرَمَةَ كَانَتْ إِذَا أَخَذَتْ حَظَّهَا مِنَ الْمَضْجَعِ بَعْدَ الْعَتَمَةِ قَالَتْ: بِسْمِ اللَّهِ وَأَتَوَكَّلُ عَلَى اللَّهِ، وَضَعْتُ جَنْبِي لِرَبِّي، وَأَسْتَغْفِرُهُ لِذَنْبِي، حَتَّى تَقُولَهَا مِرَارًا ثُمَّ تَقُولُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ وَبِكَلِمَاتِهِ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ مِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا، وَشَرِّ مَا يَنْزِلُ فِي الْأَرْضِ، وَشَرِّ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا، وَشَرِّ فِتَنِ النَّهَارِ وَشَرِّ طَوَارِقِ اللَّيْلِ إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ، آمَنْتُ بِاللَّهِ وَاعْتَصَمْتُ بِهِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي اسْتَسْلَمَ لِقُدْرَتِهِ كُلُّ شَيْءٍ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي ذَلَّ لِعِزَّتِهِ كُلُّ شَيْءٍ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي تَوَاضَعَ لِعَظَمَتِهِ كُلُّ شَيْءٍ، وَالْحَمْدُ اللَّهِ الَّذِي خَشَعَ لِمُلْكِهِ كُلُّ شَيْءٍ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِمَعَاقِدِ الْعِزِّ مِنْ عَرْشِكَ وَمُنْتَهَى الرَّحْمَةِ مِنْ كِتَابِكَ، وَجَدِّكَ الْأَعْلَى وَاسْمِكَ الْأَكْبَرِ، وَكَلِمَاتِكَ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ أَنْ تَنْظُرَ إِلَيْنَا نَظْرَةً مَرْحُومَةً، لَا تَدَعُ لَنَا ذَنْبًا إِلَّا غَفَرْتَهُ، وَلَا فَقْرًا إِلَّا جَبَرْتَهُ، وَلَا عَدُوًّا إِلَّا [ص:97] أَهْلَكْتَهُ، وَلَا عَرِيًّا إِلَّا كَسَوْتَهُ، وَلَا دَيْنًا إِلَّا قَضَيْتُهُ، وَلَا أَمْرًا لَنَا فِيهِ صَلَاحٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا أَعْطَيْتَنَاهُ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ، آمَنْتُ بِاللَّهِ وَاعْتَصَمْتُ بِهِ، ثُمَّ تَقُولُ: سُبْحَانَ اللَّهِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ، ثُمَّ تَقُولُ: يَا بُنَيَّتِي هَذِهِ رَأْسُ الْخَاتِمَةِ إِنَّ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَتْهُ تَسْتَخْدِمُهُ فَقَالَ: «أَلَا أَدُلُّكِ عَلَى خَيْرٍ مِنَ الْخَادِمِ؟» قَالَتْ: بَلَى، فَأَمَرَهَا بِهَذِهِ الْمِائَةِ عِنْدَ الْمَضْجَعِ بَعْدَ الْعَتَمَةِ

عبداللہ بن حسان عنبری بیان کرتے ہیں کہ ان کے دادا اور دادی نے ان کو بیان کیا کہ قیلہ بنت مخرمہ عشاء کی نماز کے بعدجب اپنے بسترپرلیٹتی تو یہ دعا پڑھا کرتیں:بِسْمِ اللَّہِ وَاَتَوَکَّلُ عَلَی اللَّہِ، وَضَعْتُ جَنْبِی لِرَبِّی، وَاَسْتَغْفِرُہُ لِذَنْبِی،اللہ کے نام کے ساتھ اورمیں اللہ پر توکل کرتی ہوں میں نے اپنے پہلو کو اپنے رب کے لئے رکھا ہے میں اپنے رب سے اپنے گناہوں کی بخشش کا سوال کرتی ہوں۔ ان کلمات کے کثرت سے کہا کرتیں ۔اس کے بعد یہ دعا پڑھا کرتیں : اَعُوذُ بِاللَّہِ وَبِکَلِمَاتِہِ التَّامَّاتِ الَّتِی لَا یُجَاوِزُہُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ مِنْ شَرِّ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَاء ِ وَمَا یَعْرُجُ فِیہَا، وَشَرِّ مَا یَنْزِلُ فِی الْاَرْضِ، وَشَرِّ مَا یَخْرُجُ مِنْہَا، وَشَرِّ فِتَنِ النَّہَارِ وَشَرِّ طَوَارِقِ اللَّیْلِ إِلَّا طَارِقًا یَطْرُقُ بِخَیْرٍ، آمَنْتُ بِاللَّہِ وَاعْتَصَمْتُ بِہِ، الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی اسْتَسْلَمَ لِقُدْرَتِہِ کُلُّ شَیْء ٍ، وَالْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی ذَلَّ لِعِزَّتِہِ کُلُّ شَیْء ٍ، وَالْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی تَوَاضَعَ لِعَظَمَتِہِ کُلُّ شَیْء ٍ، وَالْحَمْدُ اللَّہِ الَّذِی خَشَعَ لِمُلْکِہِ کُلُّ شَیْء ٍ، اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْاَلُکَ بِمَعَاقِدِ الْعِزِّ مِنْ عَرْشِکَ وَمُنْتَہَی الرَّحْمَۃِ مِنْ کِتَابِکَ، وَجَدِّکَ الْاَعْلَی وَاسْمِکَ الْاَکْبَرِ، وَکَلِمَاتِکَ التَّامَّاتِ الَّتِی لَا یُجَاوِزُہُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ اَنْ تَنْظُرَ إِلَیْنَا نَظْرَۃً مَرْحُومَۃً، لَا تَدَعُ لَنَا ذَنْبًا إِلَّا غَفَرْتَہُ، وَلَا فَقْرًا إِلَّا جَبَرْتَہُ، وَلَا عَدُوًّا إِلّاَاہْلَکْتَہُ، وَلَا عَرِیًّا إِلَّا کَسَوْتَہُ، وَلَا دَیْنًا إِلَّا قَضَیْتُہُ، وَلَا اَمْرًا لَنَا فِیہِ صَلَاحٌ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ إِلَّا اَعْطَیْتَنَاہُ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ، آمَنْتُ بِاللَّہِ وَاعْتَصَمْتُ بِہِ،میں اللہ کی پناہ میں آتی ہوں اللہ تعالیٰ کے کامل اور مکمل کلمات کے ذریعے سے جن سے کوئی نیک اور فاجرتجاوز نہیں کرسکتا ہر اس شرسے جو آسمان سے اترنے والا ہے ،جو آسمان کی طرف بلند ہونے والا ہے۔ ہر اس چیز سے پناہ چاہتی ہوں جو زمین کی طرف نازل ہوتا ہے اور جو زمین سے نکلتا ہے۔ ہر اس فتنے سے پناہ چاہتی ہوںجو دن کا فتنہ ہے اور ہر رات چمکنے والے فتنے سے سوائے اس کے جوخیر اور بھلائی کے ساتھ چمکتا ہے۔ میں اللہ پر ایمان لاتی ہوں، اللہ پر توکل کرتی ہوں ۔تمام تعریفیں اللہ کی ذات کے لئے ہیںکہ جس کی قدرت پر ہر چیز تابع ہوچکی ہے ۔تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں کہ جس کی عزت کے لیے ہر چیز جھکائو اختیار کر چکی ہے ۔تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس کی عظمت کے لیے ہر چیز تواضع اختیار کرنے والی ہے۔ تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں کہ جس کی بادشاہت کی وجہ سے ہر چیز ڈرنے والی ہے ۔میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری عزت کے واسطے تیرے عرش اور تیری رحمت کی انتہا کے ذریعے سے جو تیری کتاب درج ہے، تیری بلند و بالا بزرگی کے واسطے سے ، تیرے بڑے نام کے واسطے سے اور تیرے کامل کلمات کے ذریعے سے کہ جن سے کوئی نیک اور فاجر تجاوز نہیں کرسکتا کہ تو ہماری طرف اپنی نظرِ رحمت کو مرکوزفرما دے ۔ہمارے لئے ہمارے کسی گناہ کو نہ چھوڑ، تمام گناہوں کو معاف کر دے ۔ہم میں سے جو بھی ضرورت مند ہیں ان کے نقصانات کو پورا فرما دے جو بھی ہمارے دشمن کوھلاک فرمادے ۔جوبرہنا ہے ان کو لباس عطاء کردے ، جو مقروض ہیں انہیں قرض سے خلاصی عطا فرما دے ،ہمارے کوئی بھی ایسے معاملات ہیں جس میں ہمارے لئے دنیا اور آخرت کی بھلائی ہے وہ ہمیں عطا فرما دے ۔اے سب سے بڑھ کر رحم کرنے والے! میں اللہ پر ایمان لایاہوں، اللہ پر توکل کرتا ہوں ۔ اس کے بعد یہ تسبیحات کہا کرتے :تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ اللہ اکبراور چونیتس مرتبہ الحمد للہ ۔پھر انہوں نے کہا:اے میری بیٹی! یہ ہے ایک خادمہ کا سر ہے شک اللہ کے نبی صلی اللہ وسلم کی بیٹی ان کے پاس آیا کرتی، میں ان کی خدمت کیا کرتی اورانھوں نے کہا تھا کہ کیا میں تمہیں ایسے عمل کے بارے میں بتا دوں جو تمہارے لئے خادم سے بہتر ہو؟میں نے کہا تھا کیوں نہیں انہوں نے ان کو حکم دیا تھا کہ سومرتبہ یہ تسبیحات پڑھی جائیںعشاء کے بعد جب سونے کے لئے اپنے بستر پر لیٹو۔

عَبْدُ اللهِ بْنُ حَسَّانَ الْعَنْبَرِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَوَّارٍ الْعَنْبَرِيُّ ← أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَوَّارٍ الْعَنْبَرِيُّ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 236

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ أَخْذِ الْمَضَاجِعِ · حديث 237

237 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا أَبُو الْجَوَّابِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، وَأَبِي مَيْسَرَةَ عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ عِنْدَ مَضْجَعِهِ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِوَجْهِكَ الْكَرِيمِ وَكَلِمَاتِكَ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، إِنَّكَ تَكَشِفُ الْمَغْرَمَ وَالْمَأْثَمَ، اللَّهُمَّ لَا يُهْزَمُ جُنْدُكَ، وَلَا يُخْلَفُ وَعْدُكَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدِّ، سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ»

حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کے لیے اپنے بستر پر آتے تو یہ دعا پڑھا کرتے :اَعُوذُ بِوَجْہِ اللَّہِ الْکَرِیمِ، وَبِکَلِمَاتِہِ التَّامَّۃِ مِنْ شَرِّ مَا اَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِیَتِہِ، اللَّہُمَّ اَنْتَ تَکَشِفُ الْمَغْرَمَ وَالْمَاْثَمَ، اللَّہُمَّ لَا یُہْزَمُ جُنْدُکَ، وَلَا یُخْلَفُ وَعْدُکَ، وَلَا یَنْفَعُ ذَا الْجَدَّ مِنْکَ الْجَدِّ، سُبْحَانَکَ وَبِحَمْدِکَ ،میں اللہ کریم کی پناہ میں آتاہوں اور اس کے کامل کلمات کی پناہ میںآتا ہوں اس شر سے کہ جس کی پیشانی کو تو پکڑے ہوئے ہے ۔اے اللہ !مقروض کو قرض سے تو ہی خلاصی عطا کرتا ہے اور گناہ گاہ کو گناہ سے تو ہی بچاتا ہے ۔اے اللہ !تیرے لشکروں کو شکست نہیں دی جاسکتی ، تیرے وعدوں کی خلاف ورزی نہیں کی جاسکتی اور تیرے مقابلے میں کسی بزرگی والے کو اس کی بزرگی فائدہ نہیں دے سکتی ۔اے اللہ !تو پاک ہے اپنی حمد کے ساتھ ۔

رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ كَانَ ← عَلِيٍّ، ← الْحَارِثِ، وَأَبِي مَيْسَرَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ← أَبُو الْجَوَّابِ ← الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 237

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ أَخْذِ الْمَضَاجِعِ · حديث 238

238 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ أَبِي حَسَّانَ الْأَنْمَاطِيُّ، قَالُوا: ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكَلْبِيُّ الْكُوفِيُّ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَتَبَ إِلَيَّ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ كِتَابًا وَقَالَ: أَمَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ فَقُلْ: أَعُوذُ بِوَجْهِ اللَّهِ الْكَرِيمِ، وَبِكَلِمَاتِهِ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ مَا أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، اللَّهُمَّ أَنْتَ تَكَشِفُ الْمَغْرَمَ وَالْمَأْثَمَ، اللَّهُمَّ لَا يُهْزَمُ جُنْدُكَ، وَلَا يُخْلَفُ وَعْدُكَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدَّ مِنْكَ الْجَدِّ، سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ "

ابو اسحاق ہمدانی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ نے انہیں ایک خط لکھا او راس میں انہوں نے ذکر کیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کا حکم دیا تھا کہ جب تم سونے کے لیے اپنے بستر پر آئو تو یہ دعا پڑھو :اَعُوذُ بِوَجْہِ اللَّہِ الْکَرِیمِ، وَبِکَلِمَاتِہِ التَّامَّۃِ مِنْ شَرِّ مَا اَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِیَتِہِ، اللَّہُمَّ اَنْتَ تَکَشِفُ الْمَغْرَمَ وَالْمَاْثَمَ، اللَّہُمَّ لَا یُہْزَمُ جُنْدُکَ، وَلَا یُخْلَفُ وَعْدُکَ، وَلَا یَنْفَعُ ذَا الْجَدَّ مِنْکَ الْجَدِّ، سُبْحَانَکَ وَبِحَمْدِکَ ،میں اللہ کریم کی پناہ میں آتاہوں اور اس کے کامل کلمات کی پناہ میںآتا ہوں اس شر سے کہ جس کی پیشانی کو تو پکڑے ہوئے ہے ۔اے اللہ !مقروض کو قرض سے تو ہی خلاصی عطا کرتا ہے اور گناہ گاہ کو گناہ سے تو ہی بچاتا ہے ۔اے اللہ !تیرے لشکروں کو شکست نہیں دی جاسکتی ، تیرے وعدوں کی خلاف ورزی نہیں کی جاسکتی اور تیرے مقابلے میں کسی بزرگی والے کو اس کی بزرگی فائدہ نہیں دے سکتی ۔اے اللہ !تو پاک ہے اپنی حمد کے ساتھ ۔

أَمَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ ← إِلَيَّ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ كِتَابًا ← أَبِيهِ ← أَبُو إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ← حَمَّادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكَلْبِيُّ الْكُوفِيُّ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي حَسَّانَ الْأَنْمَاطِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 238

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ أَخْذِ الْمَضَاجِعِ · حديث 239

239 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَابِسٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ قَالَ: «اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ، وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ»

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اپنے بستر پر لیٹتے تو یہ دعا پڑھا کرتے:اللَّہُمَّ اَسْلَمْتُ نَفْسِی إِلَیْکَ، وَوَجَّہْتُ وَجْہِی إِلَیْکَ، وَفَوَّضْتُ اَمْرِی إِلَیْکَ، وَاَلْجَاْتُ ظَہْرِی إِلَیْکَ، رَغْبَۃً وَرَہْبَۃً إِلَیْکَ، لَا مَنْجَا مِنْکَ إِلَّا إِلَیْکَ، آمَنْتُ بِکِتَابِکَ الَّذِی اَنْزَلْتَ وَنَبِیِّکَ الَّذِی اَرْسَلْتَ،اے اللہ!میں نے اپنے آپ کو تیر ی اطاعت میں دے دیا ۔ اپنا سب کچھ تیرے سپرد کردیا۔ اپنے معاملات تیرے حوالے کر دئیے ۔ خوف کی وجہ سے اور تیری ( رحمت وثواب کی ) امید میں کوئی پناہ گا ہ کوئی مخلص تیرے سوا نہیں میں تیری کتاب پر ایمان لایا جو تو نے نازل کی ہے اور تیرے نبی پر جن کو تو نے بھیجاہے ۔

كَانَ النَّبِيُّ إذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ ← عَلِيٍّ، ← عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← علي بن عابس ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ اَبَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 239

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ أَخْذِ الْمَضَاجِعِ · حديث 240

240 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، وَسَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا بَرَاءُ كَيْفَ تَقُولُ إِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ؟» قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ طَاهِرًا فَتَوَسَّدْ يَمِينَكَ وَقُلِ: اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ " فَقُلْتُ كَمَا عَلَّمَنِي غَيْرَ أَنِّي قُلْتُ: وَبِرَسُولِكَ، فَقَالَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي: «وَنَبِيِّكَ» قَالَ: «فَمَنْ قَالَهَا فِي لَيْلَةٍ ثُمَّ مَاتَ مَاتَ عَلَى الْفِطْرَةِ»

حضرت براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اے براء !جب تم رات کے وقت سونے کے لیے اپنے بستر پر لیٹتے ہو توکیا پڑھتے ہو؟میں نے کہا:اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم اپنے بستر آئو تو باوضوء حالت میں آئو ، دائیں ہاتھ کو رخسار کے نیچے رکھو اوریہ دعا پڑھا کرو:اللَّہُمَّ وَجَّہْتُ وَجْہِی إِلَیْکَ، وَاَسْلَمْتُ نَفْسِی إِلَیْکَ، وَفَوَّضْتُ اَمْرِی إِلَیْکَ، وَاَلْجَاْتُ ظَہْرِی إِلَیْکَ، رَغْبَۃً وَرَہْبَۃً إِلَیْکَ، لَا مَلْجَاَ وَلَا مَنْجَا مِنْکَ إِلَّا إِلَیْکَ، آمَنْتُ بِکِتَابِکَ الَّذِی اَنْزَلْتَ وَنَبِیِّکَ الَّذِی اَرْسَلْتَ ،اے اللہ!میں نے اپنے آپ کو تیر ی اطاعت میں دے دیا ۔ اپنا سب کچھ تیرے سپرد کردیا۔ اپنے معاملات تیرے حوالے کر دئیے ۔ خوف کی وجہ سے اور تیری ( رحمت وثواب کی ) امید میں کوئی پناہ گا ہ کوئی مخلص تیرے سوا نہیں میں تیری کتاب پر ایمان لایا جو تو نے نازل کی ہے اور تیرے نبی پر جن کو تو نے بھیجاہے ۔میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس دعا کو مکمل طور پر اسی طر ح دُہرایا جس طرح آپ نے مجھے دعا سکھلائی تھی ، سوائے ایک لفظ کے ، میں نے بنیک الذی کی جگہ پر برسولک الذی کہا ، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر مارا اور فرمایا:ونبیک الذی کہو ۔جس شخص نے رات سوتے وقت یہ کلمات کہے اور اس رات اس کی موت ہوگئی تو اس کی موت فطرت اسلام پر ہوگی ۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ، وَسَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، ← فِطْرِ بن خليفة ← أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُکَيْنٍ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 240

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ أَخْذِ الْمَضَاجِعِ · حديث 241

242 - أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، قَالَ: أَنْبَأَ أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يَقُولُ: ح وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُخْتَارِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّوَّافُ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ الْكُوفِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حُبَاشٍ الْحِمَّانِيُّ الْكُوفِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْعَطَّارُ الْكُوفِيُّ، ثنا سَيْفُ بْنُ عَمِيرَةَ، حَدَّثَنِي أَبَانُ بْنُ تَغْلِبَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، وَحَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ أَبِي عِمَادٍ الْمَكِّيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، ح وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ ثنا أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ، ثنا عَمِّي، ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ السَّبِيعِيُّ، عَنِ الْبَرَاءِ، ح وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، وَحَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، زَيْدُ بْنُ الْحَرِيشِ، قَالُوا: ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، ح وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَافِعٍ الطَّحَّانُ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ رَجُلًا إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ أَنْ يَقُولَ: اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ، وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَبِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ فَإِنْ مَاتَ مِنْ لَيْلَتِهِ مَاتَ عَلَى الْفِطْرَةِ، وَإِنْ أَصْبَحَ أَصْبَحَ وَقَدْ أَصَابَ خَيْرًا وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ مَعْمَرٍ وَالْآخَرُونَ نَحْوَهُ وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ الْفَضْلُ بْنُ مُوَفَّقٍ عَنْ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ وَأَدْخَلَ بَيْنَ أَبِي إِسْحَاقَ وَالْبَرَاءِ أَبُوعُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ

حضرت براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کو حکم دے رہے تھے کہ جب وہ رات کے وقت سونے کے لیے بستر پر لیٹے تو یہ دعا پڑھے :اللَّہُمَّ اَسْلَمْتُ نَفْسِی إِلَیْکَ، وَوَجَّہْتُ وَجْہِی إِلَیْکَ، وَفَوَّضْتُ اَمْرِی إِلَیْکَ، وَاَلْجَاْتُ ظَہْرِی إِلَیْکَ، رَغْبَۃً وَرَہْبَۃً إِلَیْکَ، لَا مَلْجَاَ وَلَا مَنْجَا مِنْکَ إِلَّا إِلَیْکَ، آمَنْتُ بِکِتَابِکَ الَّذِی اَنْزَلْتَ وَبِرَسُولِکَ الَّذِی اَرْسَلْتَ،اے اللہ!میں نے اپنے آپ کو تیر ی اطاعت میں دے دیا ۔ اپنا سب کچھ تیرے سپرد کردیا۔ اپنے معاملات تیرے حوالے کر دئیے ۔ خوف کی وجہ سے اور تیری ( رحمت وثواب کی ) امید میں کوئی پناہ گا ہ کوئی مخلص تیرے سوا نہیں میں تیری کتاب پر ایمان لایا جو تو نے نازل کی ہے اور تیرے رسول پر جن کو تو نے بھیجاہے اس کے بعد اگر تم مرگئے تو فطرت(دین اسلام پر مروگے )اور اگر اس نے صبح کی تو صبح خیر اور بھلائی کے ساتھ کرے گا ۔

شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← يُوسُفُ الْقَاضِي، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ، ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ الدَّبْرِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 241

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ أَخْذِ الْمَضَاجِعِ · حديث 242

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُوَفَّقٍ، ثنا أَبِي، ثنا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تَقُولُ إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ؟» قُلْتُ: اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " قُلِ: اللَّهُمَّ وَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَأَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ

حضرت براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب رات کے وقت سونے کے لیے بستر پر لیٹتے ہو کیا پڑھتے ہو؟میں نے کہا:اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم یہ دعا پڑھا کرو:اللَّہُمَّ وَجَّہْتُ وَجْہِی إِلَیْکَ، وَاَسْلَمْتُ نَفْسِی إِلَیْکَ، وَفَوَّضْتُ اَمْرِی إِلَیْکَ، وَاَلْجَاْتُ ظَہْرِی إِلَیْکَ، رَغْبَۃً وَرَہْبَۃً إِلَیْکَ، لَا مَلْجَاَ وَلَا مَنْجَا مِنْکَ إِلَّا إِلَیْکَ، آمَنْتُ بِکِتَابِکَ الَّذِی اَنْزَلْتَ وَنَبِیِّکَ الَّذِی اَرْسَلْتَ ،اے اللہ!میں نے اپنے آپ کو تیر ی اطاعت میں دے دیا ۔ اپنا سب کچھ تیرے سپرد کردیا۔ اپنے معاملات تیرے حوالے کر دئیے ۔ خوف کی وجہ سے اور تیری ( رحمت وثواب کی ) امید میں کوئی پناہ گا ہ کوئی مخلص تیرے سوا نہیں میں تیری کتاب پر ایمان لایا جو تو نے نازل کی ہے اور تیرے نبی پر جن کو تو نے بھیجاہے ۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← فِطْرِ بن خليفة ← أَبِي ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُوَفَّقٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 242

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ أَخْذِ الْمَضَاجِعِ · حديث 243

حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنْبَأَ شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ: فَذَكَرَ نَحْوَهُ

حضرت براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کو حکم دے رہے تھے کہ جب وہ رات کے وقت سونے کے لیے بستر پر لیٹے ۔۔۔باقی حدیث اسی طرح بیان کی ۔

الْبَرَاءِ، ← سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنْبَأَ شُعْبَةُ، ← يُوسُفُ الْقَاضِي

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 243

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter
307. Chapter
308. Chapter
309. Chapter
310. Chapter
311. Chapter
312. Chapter
313. Chapter
314. Chapter
315. Chapter
316. Chapter
317. Chapter