كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ لِلْمَجْنُونِ · حديث 1081
1081 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَرَأَ فِي أُذُنِ مُبْتَلًى فَأَفَاقَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا قَرَأْتَ فِي أُذُنِهِ؟» قَالَ: قَرَأْتُ {أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ} [المؤمنون: 115] حَتَّى فَرَغَ مِنَ السُّورَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ أَنَّ رَجُلًا مُوقِنًا قَرَأَهَا عَلَى جَبَلٍ لَزَالَ»
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک مریض کے کان میں قرآن مجید کی آیت کی تلاوت کی ، وہ ٹھیک ہوگیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا :تم نے اس کے کان میں کیا پڑھا تھا ؟حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :میں نے قرآن مجید کی یہ آیت تلاوت کی تھی:{کیا تم یہ گمان کئے ہوئے ہو کہ ہم نے تمہیں یوں ہی بیکار پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹائے ہی نہ جاؤ گے،اللہ تعالیٰ سچا بادشاہ ہے وہ بڑی بلندی والا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی بزرگ عرش کا مالک ہے۔جو شخص اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو پکارے جس کی کوئی دلیل اس کے پاس نہیں، پس اس کا حساب تو اس کے رب کے اوپر ہی ہے۔ بیشک کافر لوگ نجات سے محروم ہیں۔اور کہو :{اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنَاکُمْ عَبَثًا وَاَنَّکُمْ إِلَیْنَا لَا تُرْجَعُونَ}کیا تم نے یہ گمان کررکھا ہے کہ ہم نے تمہیں بے مقصد پیدا کیا ہے اور تم ہماری نہیں لوٹائے جائو گے ۔(مؤمنین : 115)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکمل یقین رکھنے والا شخص اگر کسی پہاڑ پر کھڑے ہوکر ان آیات کو پڑھے تو پہاڑ اپنی جگہ سے زائل ہوجائے گا ۔
حَتَّى فَرَغَ مِنَ السُّورَةِ ← فِي أُذُنِهِ ← لَهُ رَسُولُ اللهِ «مَا ← ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ قَرَأَ فِي أُذُنِ مُبْتَلًى فَأَفَاقَ ← حنش الصنعاني ← عبد الله بن هبيرة ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ
Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1081
