Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
كتاب الدعاء

Kitab Al Dua

by Tibrani

2,251 Hadith318 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الدُّخُولِ عَلَى السُّلْطَانِ · حديث 1057

1057 - حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، وَإِسْحَاقَ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا تَخَوَّفْتَ مِنْ أَحَدٍ شَيْئًا فَقُلِ: اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، وَرَبَّ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ، كُنْ لِي جَارًا مِنْ فُلَانِ وَأَشْيَاعِهُ وَأَتْبَاعِهِ أَنْ يَفْرُطُوا عَلَيَّ أَوْ أَنْ يَطْغَوْا عَلَيَّ أَبَدًا، عَزَّ جَارُكَ وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ "

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جب تم میں سے کسی ایک کو کسی کی طرف ڈر پیدا ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ ان الفاظ میں دعا کرے :اللَّہُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَمَنْ فِیہِنَّ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ، وَرَبَّ جِبْرِیلَ وَمِیکَائِیلَ وَإِسْرَافِیلَ، کُنْ لِی جَارًا مِنْ فُلَانِ وَاَشْیَاعِہُ وَاَتْبَاعِہِ اَنْ یَفْرُطُوا عَلَیَّ اَوْ اَنْ یَطْغَوْا عَلَیَّ اَبَدًا، عَزَّ جَارُکَ وَجَلَّ ثَنَاوُکَ، وَلَا إِلَہَ إِلَّا اَنْتَ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِکَ،اے اللہ !اے ساتوں آسمانوں کے رب اور جو کچھ ان میں ہے ان کے رب ،اور اے عرش عظیم کے رب !اے جبریل ، میکائیل اور اسرافیل کے رب !تو میرامدد گاربن جا ، فلاں شخص کے شر کے مقابلے سے ، اس جیسوں کے شر اوران کے پیرورکارلوگوں کے شرسے کافی ہوجا کہ ان میں سے کوئی کبھی بھی مجھ پر ظلم و زیادتی کرے ۔تیری مدد بلند تر ہے تیری ثنا ء جلالت والی ہے اور تیرے سوا عبادت کے لائق نہیں ہے ،نیکی کرنے اور برائی سے بچنے کی ہمت تیری توفیق کے ساتھ ہے ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ← يُونُسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ أَبِي فَرْوَةَ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1057

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الدُّخُولِ عَلَى السُّلْطَانِ · حديث 1058

1058 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَرِيفٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ صُرِفَ إِلَيْهِ النَّفَرُ مِنَ الْجِنِّ فَأَتَى رَجُلٌ مِنَ الْجِنِّ شُعْلَةً مِنْ نَارٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: " يَا مُحَمَّدُ أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ إِذَا قُلْتَهُنَّ طُفِيَتْ شُعْلَتُهُ وَانْكَبَّ لِمِنْخَرِهِ، قُلْ: أَعُوذُ بِوَجْهِ اللَّهِ الْكَرِيمِ وَكَلِمَاتِهِ التَّامَّةِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ مِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ، وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا، وَمِنْ شَرِّ مَا ذَرَأَ فِي الْأَرْضِ، وَمَا تَخْرُجُ مِنْهَا، وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَمِنْ شَرِّ طَوَارِقِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِلَّا طَارِقٍ يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ "

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جنات سے ملاقات والی میںاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنات کی ایک جماعت گئے تھے ۔تب جنات میں سے ایک جن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک کا شعلہ لے کر آیا ، حضرت جبریل امین علیہ السلام نے آپ سے کہا:اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !کیا میں آپ کو ایسے کلمات نہ سکھلائوں کہ جب آپ وہ کلمات کہیں گے تو اس کی آگ کا شعلہ بجھ جائے گا اور یہ جن اپنے نتھنے کے بل گرجائے گا ،آپ یہ کلمات کہیں:اَعُوذُ بِوَجْہِ اللَّہِ الْکَرِیمِ وَکَلِمَاتِہِ التَّامَّۃِ الَّتِی لَا یُجَاوِزُہُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ مِنْ شَرِّ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَاء ِ، وَمَا یَعْرُجُ فِیہَا، وَمِنْ شَرِّ مَا ذَرَاَ فِی الْاَرْضِ، وَمَا تَخْرُجُ مِنْہَا، وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ، وَمِنْ شَرِّ طَوَارِقِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ إِلَّا طَارِقٍ یَطْرُقُ بِخَیْرٍ یَا رَحْمَنُ،میں اللہ کے کریم چہرے اور کے کامل کلمات کے ذریعے پناہ مانگتاہوں، اس کی تمام مخلوقات ، بالخصوص ان کی ذریت و نسل اور ہر قسم کے حیوانات کی برائی سے کہ ان سے نہ کوئی نیک تجاوز کرتا ہے اور نہ کوئی بد، اور آسمان سے اترنے والی ہر چیز کے شر سے اور اس میں چڑھنے والی ہر چیز کے شر سے اور زمین میں پھیلنے والی ہر نسل سے اور اس سے نکلنے والی ہر چیز کے شر سے اور رات اور دن کے فتنوں کے شر سے اور ہر کھٹکھٹانے والے کے شر سے ، مگر وہ آنے والا جو خیر و بھلائی کے ساتھ آئے، اے رحمن۔‘‘

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَرِيفٍ، ← أَبِي عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيِّ، ← أَبِيهِ ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ الدِّمَشْقِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1058

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الدُّخُولِ عَلَى السُّلْطَانِ · حديث 1059

1059 - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ وَهْبِ بْنِ مُهَاجِرٍ الْقُرَشِيُّ الْمِصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ الْعَمَّارُ، حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسِ الْحَجَّاجِ بْنِ يُوسُفَ وَهُوَ يَعْرِضُ خَيْلًا وَعِنْدَهُ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: يَا أَبَا حَمْزَةَ أَيْنَ هَذِهِ مِنَ الْخَيْلِ الَّتِي كَانَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: تِلْكَ وَاللَّهِ كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ} [الأنفال: 60] وَهَذِهِ هُيِّئَتْ بِالرِّيَاءِ وَالسُّمْعَةِ، فَغَضِبَ الْحَجَّاجُ وَقَالَ: لَوْلَا كِتَابُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ إِلَيَّ لَفَعَلْتُ وَلَفَعَلْتُ، فَقَالَ لَهُ أَنَسٌ: إِنَّكَ لَنْ تُطِيقَ ذَلِكَ لَقَدْ [ص:324] عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَحْتَرِزُ بِهِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ رَجِيمٍ وَمِنْ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ، فَجَثَا الْحَجَّاجُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَقَالَ: عَلِّمْنِيهِنَّ يَا عَمُّ، فَقَالَ: لَسْتَ لَهَا بِأَهْلٍ قَالَ: فَدَسَّ إِلَى عِيَالِهِ وَوَلَدِهِ فَأَبَوْا عَلَيْهِ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ: قَالَ أَبِي: حَدَّثَنِي بَعْضُ بَنِيهِ أَنَّهُ قَالَ: «بِسْمِ اللَّهِ عَلَى نَفْسِي وَدِينِي، بِسْمِ اللَّهِ عَلَى مَا أَعْطَانِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ، بِسْمِ اللَّهِ عَلَى أَهْلِي وَمَالِي، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ رَبِّي، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ رَبِّي لَا أُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، أَجِرْنِي مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ رَجِيمٍ، وَمِنْ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ، إِنَّ وَلِيِّيَ اللَّهُ الَّذِي نَزَّلَ الْكِتَابَ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِينَ، فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ»

محمد بن سہل عمار بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے بیان کیا کہ وہ حجاج بن یوسف کی مجلس میں موجود تھے ، ان کے سامنے ایک گھوڑے کو پیش کیا گیا ، اس کے پاس انس بن مالک رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے ، اس نے کہا:اے ابو حمزہ !یہ گھوڑا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھوڑے کے مقابلے میں کہاں ہے ؟انہوں نے کہا:اللہ کی قسم !وہ تواللہ تعالیٰ حکم کے موافق ہے جوکہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے :{تم ان کے مقابلے کے لئے اپنی طاقت بھر قوت کی تیاری کرو اور گھوڑوں کے تیار رکھنے کی کہ اس سے تم اللہ کے دشمنوں کو خوف زدہ رکھ سکو۔}(الانفال :60)یہ تو شہرت اور ریاکار ی کے لیے ہے ۔اس پر حجاج غضبناک ہوگیا ، اس نے کہا:اگر امیر المؤمنین عبد الملک کا خط میرے پاس نہ آیاہوتا تو میں یہ کرتا وہ کرتا ، اس پر ضحرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا:تو ایسا کچھ بھی نہیں کرسکتا ۔ اس لیے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تحفظ اور بچائو کے لیے حرز سکھلائے ہیں جن کے ذریعے ہر شیطان رجیم اور سرکش اور باغی حکمران وغیرہ کے شر سے بچا جاسکتا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی حجاج حضرت انس رضی اللہ عنہ کے سامنے دوزانو ہوکر بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ اے چچا !وہ دعا مجھے بھی سکھلادیں ۔حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :تم وہ دعا سیکھنے کے لائق نہیں ہو ۔ اس کے بعد اس نے اہل و عیال اور اپنے بچوں کو اس سفارش میں شامل کیا ، انہوں نے اس پر انکار کردیا ۔محمد بن سہل کہتے ہیں :میرے والد نے بتایا کہ مجھے انس رضی اللہ عنہ کے بیٹوں میں سے کسی نے بتایا کہ اس کے کلمات اس طرح سے ہیں :’’ بِسْمِ اللَّہِ عَلَی اَہْلِی وَمَالِی، اللَّہُ اَکْبَرُ، اللَّہُ رَبِّی، اللَّہُ اَکْبَرُ، اللَّہُ رَبِّی لَا اُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا، اَجِرْنِی مِنْ کُلِّ شَیْطَانٍ رَجِیمٍ، وَمِنْ کُلِّ جَبَّارٍ عَنِیدٍ{ إِنَّ وَلِیِّیَ اللَّہُ الَّذِی نَزَّلَ الْکِتَابَ وَہُوَ یَتَوَلَّی الصَّالِحِینَ، فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللَّہُ لَا إِلَہَ إِلَّا ہُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَہُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ}اللہ کے نام کے ساتھ اپنے اہل و عیال پر ،اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ ہی میرا رب ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ میرا رب ہے ، میں اس کے ساتھ کچھ بھی شرک نہیں کرتا ، مجھے ہر شیطان رجیم سے محفوظ فرما ، مجھے ہر سرکش اور عناد رکھنے والے سے محفوظ فرما ، بلاشبہ میرا ولی اور کارساز اللہ ہے ، جس نے کتاب کو نازل کیا ،اور ہی صالحین کا والی ہے ، اگر تم پھر گئے تو مجھے اللہ ہی کافی ہے ، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ، اسی پر میں نے توکل کیا اور وہ عظیم عرش کا رب ہے ۔‘‘

أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ الْعَمَّارُ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ وَهْبِ بْنِ مُهَاجِرٍ الْقُرَشِيُّ الْمِصْرِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1059

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الدُّخُولِ عَلَى السُّلْطَانِ · حديث 1060

1060 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: " إِذَا أَتَيْتَ سُلْطَانًا مَهِيبًا تَخَافُ أَنْ يَسْطُوَ بِكَ فَقُلِ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَعَزُّ مِنْ خَلْقِهِ جَمِيعًا، اللَّهُ أَعَزُّ مِمَّا أَخَافُ وَأَحْذَرُ، أَعُوذُ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْمُمْسِكُ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ أَنْ يَقَعْنَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ مِنْ شَرِّ عَبْدِكَ فُلَانٍ وَجُنُودِهِ وَأَتْبَاعِهِ وَأَشْيَاعِهِمْ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ، اللَّهُمَّ كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّهِمْ، جَلَّ ثَنَاؤُكَ وَعَزَّ جَارُكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ لَا إِلَهَ غَيْرُكَ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ "

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب تم کسی ظالم بادشاہ کے سامنے آئو اور تمہیں اس بات کا ڈر ہوکہ وہ تم پر حملہ آور ہوگا تو یہ دعا پڑھو:اَعُوذُ بِاللَّہِ الَّذِی لَا إِلَہَ إِلَّا ہُوَ الْمُمْسِکُ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ اَنْ یَقَعْنَ عَلَی الْاَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِہِ مِنْ شَرِّ عَبْدِکَ فُلَانٍ وَجُنُودِہِ وَاَتْبَاعِہِ وَاَشْیَاعِہِمْ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ، اللَّہُمَّ کُنْ لِی جَارًا مِنْ شَرِّہِمْ، جَلَّ ثَنَاوُکَ وَعَزَّ جَارُکَ، وَتَبَارَکَ اسْمُکَ لَا إِلَہَ غَیْرُکَ،اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوقات سے زیادہ عزتوں والا ہے ، اللہ تعالیٰ اس سے بھی زیادہ عزتوں والا ہے جس سے میں ڈر اورکانپ رہا ہوں ، میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں جس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ، وہ سات آسمانوں کو تھامنے والا ہے کہ وہ زمین پر گرنہ جائیں ، مگر اسی کی اجازت اور اس کے حکم سے ، تیرے فلاں بندے کے شر سے ، اس کے لشکر اور اس کے پبروکاروں کے شر اور جنات اور انسانوں میں سے ان جیسے لوگوں کے شر سے ۔ا ے اللہ !ان کے شر کے مقابلے میں تو میرا مدد گار بن جا ، تیری تعریف بلند ہے اور تیری مدد عزت والی ہے ، تیرا نام بابرکت ہے ،تیرے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ۔تین بار یہ دعا پڑھے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1060

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الدُّخُولِ عَلَى السُّلْطَانِ · حديث 1061

1061 - حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعَمَ، قَالَ: بَلَغَنِي أَنْ يُوسُفَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ دَخَلَ عَلَى الْمَلِكِ قَالَ: «إِنِّي أَسْأَلُكَ بِخَيْرِكَ مِنْ خَيْرِهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ غَيْرِهِ» ، فَأَعْطَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الَّذِي أَعْطَاهُ

عبد الرحمن بن زیاد بن انعم کہتے ہیں :مجھے یہ بات پہنچی کہ اللہ کے نبی یوسف علیہ السلام جب عزیز مصر کو دیکھا تو یہ دعا کی :إِنِّی اَسْاَلُکَ بِخَیْرِکَ مِنْ خَیْرِہِ، وَاَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّہِ وَشَرِّ غَیْرِہِ،اے اللہ !میں تیری خیر کے ساتھ اس کی خیر کا سوال کرتا ہوں اور میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس کے شر سے اور اس کے غیر کے شر سے ۔

بَلَغَنِي أَنْ يُوسُفَ حِينَ دَخَلَ عَلَى الْمَلِكِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1061

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الدُّخُولِ عَلَى السُّلْطَانِ · حديث 1062

1062 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، قَالَ: " لَمَّا رَأَى يُوسُفُ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَزِيزَ مِصْرَ قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِخَيْرِكَ مِنْ خَيْرِهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ غَيْرِهِ "

زید عمی کہتے ہیں کہ جب یوسف علیہ السلام نے عزیز مصر کو دیکھا تو یہ دعا کی :اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْاَلُکَ بِخَیْرِکَ مِنْ خَیْرِہِ، وَاَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّہِ وَشَرِّ غَیْرِہِ ،اے اللہ !میں تیری خیر کے ساتھ اس کی خیر کا سوال کرتا ہوں اور میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس کے شر سے اور اس کے غیر کے شر سے ۔

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِخَيْرِكَ مِنْ خَيْرِهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ غَيْرِهِ ← لَمَّا رَأَى يُوسُفُ عَزِيزَ مِصْرَ ← زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1062

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الدُّخُولِ عَلَى السُّلْطَانِ · حديث 1063

1063 - حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّهُ مَنْ دَخَلَ عَلَى ذِي سُلْطَانٍ فَقَالَ: بِسْمِ اللَّهِ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، وَقَاهُ اللَّهُ شَرَّهُ وَسُدِّدَ فِي مَنْطِقِهِ

عبد الرحمن بن زیاد کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی کہ جو شخص کسی حاکم کے پاس جاتا ہے اور یہ کلمات پڑھ لیتاہے :بِسْمِ اللَّہِ رَبِّی لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللَّہ،اللہ کے نام کے ساتھ جو میرا رب ہے ، اس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ، نیکی کرنے ہمت اور گناہ سے بچنے کی طاقت اللہ کی توفیق کے بغیر ممکن نہیں ۔تو اللہ تعالیٰ اس بندے کو اس کے شر سے بچالیتا ہے اور اسے بات کرنے کی مکمل سہولت میسر رہتی ہے ۔

بَلَغَنِي أَنَّهُ مَنْ دَخَلَ عَلَى ذِي سُلْطَانٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1063

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الدُّخُولِ عَلَى السُّلْطَانِ · حديث 1064

1064 - حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: " مَنْ دَخَلَ عَلَى ذِي سُلْطَانٍ غَاشِمٍ سَفِيهٍ فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَعِينُكَ عَلَيْهِ، وَأَدْفَعُ بِكَ فِي نَحْرِهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ، صَنَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ ذَلِكَ "

عبد الرحمن بن زیاد کہتے ہیں :جو شخص کسی ظالم اور بے وقوف بادشاہ کے پاس جاتا ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ شخص یہ دعا پڑھے :اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْتَعِینُکَ عَلَیْہِ، وَاَدْفَعُ بِکَ فِی نَحْرِہِ، وَاَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّہ،اے اللہ !میں تجھ سے اس پر مدد چاہتا ہوں ، اس کی مکاریوں کو میں تیری مدد سے دور کرتا ہوں اور میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس کے شر سے ۔اللہ عزوجل اس کی مدد فرماتا ہے ۔

مَنْ دَخَلَ عَلَى ذِي سُلْطَانٍ غَاشِمٍ سَفِيهٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1064

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الدُّخُولِ عَلَى السُّلْطَانِ · حديث 1065

1065 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَهْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: " كُنَّا عِنْدَ زِيَادٍ فَأُتِيَ بِرَجُلٍ وَمَا يَشُكُّ النَّاسُ فِي قَتْلِهِ، قَالَ: فَرَأَيْتُهُ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ بِشَيْءٍ فَخُلِّيَ سَبِيلُهُ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ: جِيءَ بِكَ وَمَا يَشُكُّ النَّاسُ فِي قَتْلِكَ فَرَأَيْتُكَ حَرَّكْتَ شَفَتَيْكَ بِشَيْءٍ فَخُلِّيَ سَبِيلُكَ، قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُمَّ رَبَّ إِبْرَاهِيمَ، وَرَبَّ إِسْحَاقَ، وَرَبَّ جِبْرِيلَ، وَرَبَّ مِيكَائِيلَ، وَرَبَّ إِسْرَافِيلَ، مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ الْعَظِيمِ ادْرَأْ عَنِّي شَرَّ زِيَادٍ فَدَرَأَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ شَرَّهُ "

امام شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں :ہم زیاد کے پاس موجود تھے، وہاں ایک آدمی کو لایاگیا ،اس کے قتل کے بارے میں لوگوں کو کوئی شک نہیں تھا ۔امام شعبی کہتے ہیں میں نے دیکھا کہ اس کے ہونٹ کچھ پڑھنے کی وجہ سے حرکت کررہے تھے ۔ اس کو اس کی حالت پر چھوڑ دیا گیا ۔ ایک آدمی اس کی طرف بڑھا ، اس نے کہا :تجھے یہاں لایاگیا ہے ، تیرے قتل کے بارے میں لوگ کسی شک میں مبتلا نہیں ہے ۔میں تجھے دیکھ رہا ہوں کہ تو کچھ پڑھنے میں مصروف ہے اس وجہ سے تیرے ہونٹ حرکت بھی کررہے ہیں ، اس لیے اب تجھی تیری حالت پر چھوڑ دیا گیا ہے ۔ اس نے کہا:میں یہ دعا پڑھ رہا ہوں :اللَّہُمَّ رَبَّ إِبْرَاہِیمَ، وَرَبَّ إِسْحَاقَ، وَرَبَّ جِبْرِیلَ، وَرَبَّ مِیکَائِیلَ، وَرَبَّ إِسْرَافِیلَ، مُنْزِلَ التَّوْرَاۃِ وَالْإِنْجِیلِ وَالْقُرْآنِ الْعَظِیمِ ادْرَاْ عَنِّی شَرَّ زِیَادٍ فَدَرَاَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ شَرَّہُ،اے اللہ !اے ابراہیم کے رب !اسحاق کے رب ، جبریل کے رب، میکائیل کے رب اور اسرافیل کے رب !توریت ،انجیل اورقرآن عظیم کو نازل کرنے والے ،مجھ سے زیاد کے شر کو دور کردے تو اللہ تعالیٰ نے زیاد کے شر کو مجھ سے دور کردیا ۔

الشَّعْبِيِّ، ← حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ← سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَهْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَسْكَرِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1065

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الدُّخُولِ عَلَى السُّلْطَانِ · حديث 1066

1066 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُسْتَمْلِي، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَائِشَةَ التَّيْمِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ بِلَالٍ السَّعْدِيُّ، قَالَا: ثَنَا صَالِحٌ الْمُرِّيُّ عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَهُوَ مَرِيضٌ فَلَمْ نَبْرَحْ حَتَّى قَضَى، فَبَسَطْنَا عَلَيْهِ ثَوْبًا وَأُمٌّ لَهُ عَجُوزٌ كَبِيرَةٌ عِنْدَ رَأْسِهِ فَقُلْنَا لَهَا: يَا هَذِهِ احْتَسِبِي مُصِيبَتَكِ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَتْ: «وَمَاتَ ابْنِي؟» قَالَ: قُلْنَا نَعَمْ، قَالَتْ: «حَقًّا تَقُولُونَ؟» قُلْنَا، نَعَمْ، قَالَ: فَمَدَّتْ يَدَيْهَا، فَقَالَتِ: «اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي أَسْلَمْتُ لَكَ وَهَاجَرْتُ إِلَى رَسُولِكَ رَجَاءَ أَنْ يُغِيثَنِي عِنْدَ كُلِّ شَدِيدَةٍ وَرَخَاءٍ، فَلَا تَحْمِلْ عَلَيَّ هَذِهِ الْمُصِيبَةَ الْيَوْمَ، فَكَشَفَ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ ثُمَّ مَا بَرِحْنَا حَتَّى طَعِمْنَا مَعَهُ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک انصاری صحابی کے گھر گئے، وہ بیمار تھا، ہم اس کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوراناس کی وفات ہوگئی ،ہم نے اس کے اوپر اس کی چادر کو ڈادیا،اس کی بوڑھی ماں اس کے سر کے قریب بیٹھی ہوئی تھی، ہم نے اس کی والدہ سے کہا: ماں جی ! اللہ تعالٰی کی طرف سے اس آنے والی مصیبت پرآپ ثواب کی امید رکھیں، وہ کہتی ہے کہ میرا بیٹا فوت ہوگیا ؟ہم نے کہا: جی ہاں ایسا ہی ہے ،اس نے کہا:کیا تم ٹھیک کہہ رہے ہو؟ میں نے کہا:بالکل ایسا ہی ہے ، تو اس نے اپنے ہاتھوں کو دعا کے انداز میں پھیلادیااور اس نے ان الفاظ میں دعا کی :اللَّہُمَّ إِنَّکَ تَعْلَمُ اَنِّی اَسْلَمْتُ لَکَ وَہَاجَرْتُ إِلَی رَسُولِکَ رَجَاء َ اَنْ یُغِیثَنِی عِنْدَ کُلِّ شَدِیدَۃٍ وَرَخَاء ٍ، فَلَا تَحْمِلْ عَلَیَّ ہَذِہِ الْمُصِیبَۃَ الْیَوْمَ،اے اللہ !شک تو جانتا ہے میں نے اپنے آپ کو تیرے لیے مطیع کیا ، تیری خاطر میں نے تیرے رسول کی طرف ہجرت کی ،اس امید پر کہ تو ہر مصیبت اور ہر آسانی میں میرا ساتھ دے گا اور میرا مددگار رہے گا، اس لئے اے اللہ !آج مجھے اس مصیبت سے دوچار نہ کرنااس نے اپنے بیٹے کے چہرے سے کپڑا ہٹایا تو وہ بالکل ٹھیک تھا ،یہاں تک کہ ہم نے اس کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← صالح المري ← دَاوُدُ بْنُ بِلَالٍ السَّعْدِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَائِشَةَ التَّيْمِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُسْتَمْلِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1066

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الدُّخُولِ عَلَى السُّلْطَانِ · حديث 1067

1067 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْحِنَّائِيُّ، ثنا الْمُعَلَّى بْنُ جُزَيِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مُهَاجِرٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ بْنُ التُّومِ الرَّقَاشِيُّ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ أَخَافَ رَجُلًا فَطَلَبَهُ لِيَقْتُلَهُ فَهَرَبَ الرَّجُلُ مِنْ عِنْدِهِ فَجَعَلَتْ رُسُلُهُ تَخْتَلِفُ إِلَى مَنْزِلِ ذَلِكَ الرَّجُلِ يَطْلُبُونَهُ وَفِي جِيرَانِهِ فَلَمْ يَظْفَرْ بِهِ، فَهَرَبَ الرَّجُلُ فَجَعَلَ لَا يَأْتِي بَلْدَةً إِلَّا قِيلَ لَهُ قَدْ كُنْتَ تُطْلَبُ هَاهُنَا، فَلَمَّا طَالَ عَلَيْهِ الْأَمْرُ وَخَشِيَ أَنْ لَا يُفْلِتَ مِنْهُ قَالَ: مَا أَجِدُ شَيْئًا خَيْرًا مِنْ أَنْ أَذْهَبَ إِلَى بِلَادٍ لَيْسَ لَهُ فِيهَا مَمْلَكَتُهُ، فَعَزَمَ عَلَى ذَلِكَ، فَأَقْبَلَ قَاصِدًا إِلَى أَهْلِهِ حَتَّى طَرَقَهُمْ لَيْلًا، فَدَقَّ الْبَابَ فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: مَنْ [ص:326] هَذَا؟ فَقَالَ: افْتَحِي أَنَا فُلَانٌ، فَقَالَتْ: وَيْحَكَ وَمَا الَّذِي جَاءَ بِكَ فَوَاللَّهِ مَا نَأْمَنُ وَلَا يَأْمَنُ جِيرَانُنَا، وَلَكِنْ أَرَى وَاللَّهِ الْحَيْنَ جَاءَ بِكَ، فَفَتَحَتْ لَهُ وَأَسْرَجَتْ لَهُ سِرَاجًا وَنَبَّهَتْ لَهُ عِيَالَهُ وَجَاءَتْهُ بِعَشَاءٍ فَتَعَشَّى، وَإِنَّهُ أَرَادَهَا عَلَى نَفْسِهَا فَلَمْ تَمْتَنِعْ عَلَيْهِ فَوَقَعَ بِهَا، وَقَالَتْ: يَا جَارِيَةُ ضَعِي لِمَوْلَاكِ فِي الْمُتَوَضَّأِ سِرَاجًا، وَضَعِي لَهُ مَاءً وَاذْهَبِي إِلَى فُلَانٍ وَفُلَانٍ أَرْبَعَةٌ مِنْ جِيرَانَهَا، وَلَا يَعْلَمُ الرَّجُلُ، فَأَتَتْ أَبْوَابَهُمْ فَدَقَّتْ عَلَيْهِمْ، فَقَالَتْ لَهَا: وَيْلَكِ مَا لُكُمْ، أَطَرَقَكُمُ اللَّيْلَةَ أَحَدٌ؟ قَالَتْ: لَا، قَالُوا فَلِأَيِّ شَيْءٍ بَعَثَتْكِ؟ قَالَتْ: مَا لِي بِهِ عِلْمٌ، قَالَ: فَدَقَّ هَذَا عَلَى هَذَا وَقَالُوا تَعَالَوْا إِلَى هَذِهِ الْبَائِسَةِ فَقَدِ اسْتَغَاثَتْ بِكُمْ، فَأْتَوْهَا فَفَتَحَتْ لَهُمُ الْبَابَ وَقَالَتِ: ادْخُلُوا الْبَيْتَ فَدَخَلُوا الْبَيْتَ فَقَامَ إِلَيْهِمْ فَاعْتَنَقَهُمْ، فَقَالُوا: مَا الَّذِي جَاءَ بِكَ فَوَاللَّهِ مَا نَأْمَنُ فِي مَنَازِلِنَا وَلَكِنَّا نَرَى الْحَيْنَ وَاللَّهِ جَاءَ بِكَ، فَقَالَ: يَا قَوْمُ إِنِّي لَمْ آتِ بَلْدَةً إِلَّا وَجَدْتُنِي أُطْلَبُ فِيهَا، فَلَمْ أَرَ شَيْئًا خَيْرًا مِنْ أَنْ أَدْخُلَ بَلْدَةً لَيْسَ عَلَيْهَا مَمْلَكَتُهُ وَهَذَا وَجْهِي، وَإِنَّمَا جِئْتُ لِأُوصِيَ هَذِهِ الْمَرْأَةَ وَصِيَّةَ الْمَوْتِ؛ لِأَنِّي إِنَّ دَخَلْتُ بِلَادًا غَيْرَ بِلَادِ الْإِسْلَامِ لَمْ أَقْدِرْ أَنْ أَخْرُجَ مِنْهَا، فَأَوْصَيْتُ إِلَيْهَا وَأُشْهِدُهُمْ عَلَى ذَلِكَ، ثُمَّ وَدَّعَهُمْ وَقَامُوا يَخْرُجُونَ، قَالُوا: أَيَّتُهَا الْمَرْأَةُ لِأَيِّ شَيْءٍ بَعَثْتِ إِلَيْنَا؟ فَقَالَتْ: أَلَيْسَ تَعْرِفُونَ الرَّجُلَ إِنَّهُ زَوْجِي؟ قَالُوا: بَلَى قَالَتْ: فَإِنَّهُ قَدْ كَانَ مِنْهُ اللَّيْلَةَ مَا يَكُونُ مِنَ الرَّجُلِ إِلَى أَهْلِهِ فَاشْهَدُوا عَلَى هَذِهِ اللَّيْلَةِ فَإِنِّي لَا أَدْرِي مَا يَكُونُ هَاهُنَا - وَأَوْمَأَتْ إِلَى بَطْنِهَا - فَيَقُولُ النَّاسُ مِنْ أَيْنَ جَاءَتْ بِهَذَا وَزَوْجُهَا غَائِبٌ، قَالَ: فَخَرَجَ الْقَوْمُ وَهُمْ يَقُولُونَ: مَا رَأَيْنَا كَالْيَوْمِ امْرَأَةً قَطُّ أَحْسَنَ عَقْلًا وَلَا أَقْرَبَ مَذْهَبًا، قَالَ: وَوَدَّعُوهُ وَخَرَجَ الرَّجُلُ تَرْفَعُهُ أَرْضٌ وَتَضَعُهُ أُخْرَى، حَتَّى ظَنَّ أَنَّهُ قَدْ خَرَجَ مِنْ مَمْلَكَتِهِ، قَالَ: فَبَيْنَا هُوَ فِي صَحْرَاءَ لَيْسَ فِيهَا شَجَرٌ وَلَا مَاءٌ إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ يُصَلِّي، قَالَ: فَخِفْتُهُ وَقُلْتُ: هَذَا يَطْلُبُنِي، قَالَ: ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى نَفْسِي، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ مَا مَعَهُ رَاحِلَةٌ وَلَا دَابَّةٌ وَلَا قِرْبَةٌ، قَالَ: فَكَأَنِّي آنَسْتُ فَقَصَدْتُ نَحْوَهُ، فَلَمَّا صِرْتُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ رَكَعَ ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ وَأَنَا قَائِمٌ، فَقَالَ: «لَعَلَّ هَذَا الطَّاغِي أَخَافَكَ» ، قُلْتُ: أَجَلْ، يَرْحَمُكَ اللَّهُ، قَالَ: «فَمَا يَمْنَعُكَ مِنَ السَّبْعِ» ، قُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ وَمَا السَّبْعُ؟ فَقَالَ: " قُلْ سُبْحَانَ الْوَاحِدِ الَّذِي لَيْسَ غَيْرُهُ إِلَهٌ، سُبْحَانَ الْقَدِيمِ الَّذِي لَا بَادِيَ لَهُ، سُبْحَانَ الدَّائِمِ الَّذِي لَا نَفَادَ لَهُ، سُبْحَانَ الَّذِي كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ، سُبْحَانَ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ، سُبْحَانَ الَّذِي خَلَقَ مَا يُرَى وَمَا لَا يُرَى، سُبْحَانَ الَّذِي عَلِمَ كُلَّ شَيْءٍ بِغَيْرِ تَعْلِيمٍ، ثُمَّ قَالَ: قُلْهَا، قَالَ: فَقُلْتُهَا وَحَفِظْتُهَا، قَالَ: فَأَلْقَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي قَلْبِي الْأَمْنَ وَرَجَعْتُ رَاجِعًا مِنْ طَرِيقِي الَّذِي جِئْتُ بِهِ، فَالْتَفَتُّ فَلَمْ أَرَ الرَّجُلَ، وَقَصَدْتُ قَاصِدًا أُرِيدُ أَهْلِي فَقُلْتُ: لَآتِيَنَّ بَابَ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ فَأَتَيْتُ بَابَهُ فَإِذَا هُوَ يَوْمَ إِذْنِهِ وَهُوَ يَأْذَنُ لِلنَّاسِ، فَدَخَلْتُ وَإِنَّهُ لَعَلَى فَرْشِهِ فَمَا غَدَا أَنْ رَآنِيَ فَاسْتَوَى عَلَى فَرْشِهِ ثُمَّ أَوْمَأَ إِلَيَّ فَمَا زَالَ يُدْنِينِي حَتَّى قَعَدْتُ مَعَهُ عَلَى الْفِرَاشِ، ثُمَّ قَالَ: سَحَرْتَنِي وَسَاحِرٌ أَيْضًا مَعَ مَا بَلَغَنِي عَنْكَ، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا أَنَا بِسَاحِرٍ وَلَا [ص:327] أَعْرِفُ السَّحَرَةَ وَلَا سَحَرْتُكَ، قَالَ: فَكَيْفَ، فَمَا ظَنَنْتُ أَنَّهُ يَتِمُّ مُلْكِي إِلَّا بِقَتْلِكَ، فَلَمَّا رَأَيْتُكَ لَمْ أَسْتَقِرَّ حَتَّى دَعَوْتُكَ فَأَقْعَدْتُكَ مَعِي عَلَى فِرَاشِي، وَهُوَ يَضْرِبُ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ ثُمَّ قَالَ اصْدُقْنِي أَمْرَكَ، فَأَخْبَرَهُ بِقِصَّتِهِ وَخَوْفِهِ وَأَمْرِهِ كُلِّهِ وَمَا كَانَ فِيهِ، قَالَ: يَقُولُ لَهُ سُلَيْمَانُ: الْخَضِرُ وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلَّمَكَهَا، اكْتُبُوا لَهُ أَمَانَةً وَأَحْسِنُوا جَائِزَتَهُ وَاحْمِلُوهُ إِلَى أَهْلِهِ

ابو عبید اللہ تؤم رقاشی کہتے ہیں کہ سلیمان بن عبدالملک کا ایک آدمی سے الجھائو ہوگیا ،اس نے اس کو ڈرایا کیا اور اس کے پیچھے لوگوں کو بھیجا تاکہ اس کوپکڑ کر قتل کر سکے کے،وہ آدمی ڈر گیا اور وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا،سلیمان نے اس کے پیچھے بہت سے لوگوں کو مختلف علاقوں اس کی تلاش میں پھیلادیا،اسی طرح کچھ کچھ لوگوں کو اس کے گھر اور اس کے ہمسایوں کے گھر پر مامور کیا تاکہ اس کی آمد پر اطلاع کرسکیں ،لیکن سلیمان کو کامیابی نہ ہوسکیں ،دوسری طرف وہ بھاگا ہوا شخص جس شہر یاعلاقے میں جاتا وہاںاسے بتایا جاتا ہے کہ یہاں پر تمہاری تلاش جاری ہے جب اس کا معاملہ طویل ہوا ،اس کو ڈر لاحق ہوا کہ وہ سلیمان سے بچ نہیں سکے گا تو اس نے کہا:اب میرے لیے اس کے علاوہ کوئی بھی خیر اور بھلائی نہیں والی جگہ نہیں ہے کہ میں ایسی جگہ جلاجائوں جہاں پر سلیمان کی بادشہات نہ ہو ،اس پر اس نے پختہ ارادہ کرلیا ، وہاں سے اپنے گھر کی طرف روانہ ہوا ،رات کے وقت اپنے گھر پہنچا ،اس نے اپنے گھر کا دروازہ بجایا ،اس کی بیوی نے کہا کون ہے؟ اس نے کہا :میں فلاں ہوں دروازہ کھولو، اس کی بیوی نے کہا تیرے لئے ھلاکت ہو تمہیں کونسی چیز یہاں پر لے آئی ہے۔ اللہ کی قسم !یہاں نہ ہم محفوظ ہیں اور نہ ہمارے ہمسائے محفوظ ہیں۔ لیکن میرا خیال ہے اللہ کی قسم !ہلاکت تمہیںیہاں پر لے کر آئی ہے۔ عورت نے اس کے لئے دروازہ کھول دیا، چراغ روشن کیا اور اس عورت نے اپنے اہل و عیال کو اس کے بارے میں مطلع کیا۔ اس کے لئے رات کا کھانا لے کر آئی، اس نے رات کا کھانا کھایا ،آرام کرنے کے کچھ وقت کے بعد اس نے اپنی بیوی کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کا ارادہ کیا، اس نے رکاوٹ نہ پیدا کی اس نے اپنی بیوی سے تعلقات قائم کئے، پھر اس نے اپنی لونڈی سے کہا: اپنے مالک کے لیے لئے وضو خانے میں چراغ جلائو اور پانی کا اہتمام کرو۔ اور اس کے بعدتم فلاں ، فلاں اور فلاںکے پاس چلی جاؤ، اس نے اپنے ہمسایوں میں سے چار لوگوں کے نام لئے۔کسی کو اس کی آمد کا علم نہ ہو، وہ ان کے دروازوںپرآئی، اس نے ان کے دروازے بجائے ،اس نے کہا : تمہارے لئے ہلاکت ہو تمہیں کیا ہوا ہے ؟کیا تمہارے پاس رات کے وقت کوئی آیا ہے ؟اس نے کہا: نہیں آیا، لوگوں نے کہا: پھر اس وقت انہوں نے تمہیں کیوں بھیجا ہے ؟اس نے کہا: مجھے اس کا کوئی کوئی علم نہیں ہے ۔اس نے ایک ایک کر کے دروازے بجائے۔اس طرح ان سب نے کہا:اس عورت کے ساتھ چلو یہ تم سے کوئی مدد طلب کر رہی ہے ۔وہ تمام لوگ وہاں آئے ۔انہوں نے آکر دروازہ بجایا ان کے لیے دروازہ کھول دیا گیا ، اس عورت نے کہا:گھر میں داخل ہوجائو ،ووہ سب لوگ گھر میں داخل ہوگئے ، اب بھاگا ہوا شحص اس کے سامنے آکھڑا ہوا ،اس نے اپنا آپ ان کے سپرد کردیا ان تمام لوگوں نے اسے کہا: تمہیں کون سی چیز یہاں لے کر آئی ہے۔ اللہ کی قسم! یہاں پر ہم اپنے گھروں میں محفوظ نہیں ہیں ۔ اللہ کی قسم! ہمارا خیال ہے کہ تمہیں تمہاری موت یہاں پر لے کر آئی ہے۔ اس نے کہا: میرے دوستو! میں یہاں اس لیے نہیں آیا کہ یہاں اپنے گھر میں رہ سکوں ، بات یہ ہے کہ میں جہاں بھی گیا ہوں وہاں پر مجھے پتا چلاہرجگہ میری تلاش کی جارہی ہے۔ اس لیے میں نے اپنے لیے خیر اور بھلائی اسی میں محسوس کی کہ میں کسی ایسے علاقے اور ایسے وطن میں چلا جاوئں جہاں پر سلیمان کی بادشاہت نہ ہو ۔یہی میرایہاں پر آنے کا مقصد ہے۔تاکہ میں اپنی بیوی کو موت کی وصیت کر سکوں ۔اس لیے کہ میں جہاں جائوں گا وہاں پر غیر مسلم لوگوں کی حکومت ہوگی ،وہاں سے واپس آنا میرے لیے ممکن نہیں ہوگا ،اس لیے میں نے اس کو وصیت کردی ہے ۔اور ان تمام لوگوں کو اس پر گواہ بنایا ہے۔ پھر اس نے ان تمام لوگوں کو الوداع کہا اور وہ سب کے سب وہاں سے جانے کے لیے کھڑے ہوگئے ،اب انہوں نے عورت کی طرف متوجہ ہوکر کہا :اے عورت ! تو نے ہمیں اس وقت یہاں کیوں بلا یا؟اس عورت نے کہا: تم نہیں جانتے کہ یہ آدمی میرا خاوند ہے۔ انہوں نے کہا: کیوں نہیں ہمیں اس بات کا علم ہے کہیہ تمہارا خاوند ہے،تب وہ کہتی ہے :یہ رات کے وقت آیا ہے، خاوند اور بیوی کی جو بھی معاملات ہوتے ہیں ہم نے وہکیے ہیں، اس وجہ سے میرے ساتھ بعد میں کیا ہونے والا ہے ، اس کے ساتھ ہی اس نے اپنے پیٹ کی طرف اشارہ کیا ۔ میں نے تمہیں یہاں پر اس لیے بلایا ہے کہ بعد میں لوگ کہیں گے اس کا خاوند تو گھر پر موجود نہیں تھا تویہ عورت بچہ کہاں سے لے آئی ہے ۔اس کے بعد وہاں سے یہ باتیں کہتے ہوئے روانہ ہوئے کہ ہم اس قدر سمجھدار معاملہ فہم اور دین دار عورت نہیں دیکھی ،وہ آدمی بھی وہاں سے رخصت ہوکر چلا گیا ،راستے میں کہیں ٹیلے اوربلندی والی زمین آ جاتی ہیں اور کہیںکوئی گہرائی والی زمین آ جاتی،جب اس کو یقین ہو گیا کہ وہ سلیمان کی بادشاہت سے نکل چکا ہے ،اسی طرح صحرا میں چلتے چلتے اس کا گزر ایسے علاقے سے ہوا جہاں پر کوئی درخت نہیں ہے اور نہ پانی ہے،اس نے وہاں پرایک بندے کو نماز پڑھتے دیکھا، اسے اس سے ڈر لاحق ہوا کہ یہ میری تلاش میں یہاں پر پہنچا ہے پھر اس نے اپنے آپ یہ کہتے ہوئے کو تسلی دی کہ اللہ کی قسم! اس کے پاس نہ کوئی سواری ہے ، نہ کوئی جانور ہے اور نہ مشکیزہ ۔اس کے بعد گویا میں اس سے مانوس ہوگیا اور اس کی طرف میرے قدم بڑھنے لگے ، میں میں اس کے قریب پہنچا ، تب وہ رکوع میں چلاگیا، اس کے بعد اس نے سجدہ کیا ،نماز سے فارغ ہوکر وہ میری طرف متوجہ ہوا ، میںاس کے سر پر کھڑا ہوا تھا ، اس نے کہا:شاید یہ کوئی مجرم ہے جو مجھ سے ڈر رہا ہے ؟میں نے کہا :ہاں!اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم فرمائے ، اس نے کہا:تمہیں درندوں سے کس نے محفوظ رکھا ؟ میں نے کہا:اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم فرمائے۔درندے کیا ہیں ؟اس نے کہا تم یہ دعا پڑھو : سُبْحَانَ الْوَاحِدِ الَّذِی لَیْسَ غَیْرُہُ إِلَہٌ، سُبْحَانَ الْقَدِیمِ الَّذِی لَا بَادِیَ لَہُ، سُبْحَانَ الدَّائِمِ الَّذِی لَا نَفَادَ لَہُ، سُبْحَانَ الَّذِی کُلَّ یَوْمٍ ہُوَ فِی شَاْنٍ، سُبْحَانَ الَّذِی یُحْیِی وَیُمِیتُ، سُبْحَانَ الَّذِی خَلَقَ مَا یُرَی وَمَا لَا یُرَی، سُبْحَانَ الَّذِی عَلِمَ کُلَّ شَیْء ٍ بِغَیْرِ تَعْلِیمٍ،پاک ہے وہ ذات جو واحد ہے اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں پاک ہے ،پاک ہے وہ قدیم ذات جسے کوئی ظاہر کرنے والا نہیں، پاک ہے وہ ذات ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہنے والی ہے ، جس سے کوئی بچ نہیں سکتا ،پاک ہے وہ ذات کہ روزانہ جس کی نئی آن ،بان اور شان ہے، پاک ہے وہ ذات جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے ،پاک ہے وہ ذات جس نے اس مخلوق کو پیدا کیا جو دکھائی دیتی ہے اور اس مخلوق کو پیدا کیا جو دکھائی نہیں دیتی ،وہ ذات جس نے بغیر تعلیم کے جو جو بغیر تعلیم کے ہر چیز کو جاننے والا ہے، اس نے کہا: یہ کلمات کہو :میں نے کہا :میں نے ان کو یاد کر لیا ،اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں امن پیدا کر دیا، میرا دل مطمئن ہو گیا،میں واپس اسی راستے پلٹ گیا،جس راستے سے میں آیا تھا ،میں نے واپس مڑ کر دیکھا تو وہ شخص مجھے دکھائی نہیں دیا ، میں نے اپنے گھر لوٹ جانے کا ارادہ کیا ، میں نے کہا : میں سلیمان بن عبدالملک کے پاس ضرورجاؤں گا،جب میںاس کے دروازے پر پہنچا، تب وہ کھلی کچہری میں لوگوں کے سامنے بیٹھا ہوا تھا،میں اس کے پاس چلا گیا۔میں اس کے پاس چلاگیا ، وہ اپنے تخت پر بیٹھا ہوا تھا ، جب اس نے مجھے دیکھا تو وہ سیدھا ہوکر بیٹھ گیا اور اس نے مجھے اپنے قریب ہوکر بیٹھنے کا اشارہ کیا ، وہ مسلسل مجھے اپنے قریب کرتا رہا یہاں تک کہ میں اس کے پاس تخت پر جابیٹھا ، اس نے کہا:تم نے مجھ پر جادو کردیا ہے اوراسی طرح اس جادو گر کے کے بارے میڈ مجھے علم ہوا جو تمہارے ساتھ ہے ۔ میں نے کہا:اللہ کی قسم !اے امیر المؤمنین !نہ میں جادوگر ہوں ، نہ میں نے آپ پر کوئی جادو کیا ہے اور نہ میں کسی قسم کے جادو کو جانتا ہوں ۔ اس نے کہا:پھر یہ کیسے ہوگیا ؟ میں نے تیرے بارے میں فیصلہ کررکھا تھا کہ تو میری بادشاہت میں جہاں بھی پایا گیا تجھے قتل کردیا جائے گا ۔ اب جب تم میرے سامنے آئے ہو تو میں نے تمہیں بلا کر اپنے قریب کر کے اپنے تخت برابر بٹھا لیا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے ہاتھوں کو اپنی رانوں پر مارے جارہا تھا ۔ اس کے بعد اس نے کہا:تمہارا اصل معاملہ کیا ہے ؟میرے سامنے تمام تفصیل سچائی کے ساتھ بیان کرو ۔ میں نے اس کے سامنے اپنا تمام قصہ ، اس کا ڈر ، خوف اور دیگر تمام معاملات بیان کیے ۔اس پر سلیما ن نے کہا:اللہ کی قسم !خضر ہیں ۔قسم ہے اس ذات کی جس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ، بات بالکل ایسے ہی ہے جس طرح تم نے بیان کی ہے اور تمہیں سکھلائی گئی ہے ۔۔ اس نے کہا:اس کے لیے امان لکھ دو ۔ اس کا مناسب وظیفہ مقرر کردو اور اس کو اس کے گھر تک پہنچاکر آئو ۔

أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ بْنُ التُّومِ الرَّقَاشِيُّ، ← الْمُعَلَّى بْنُ جُزَيِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مُهَاجِرٍ الْبَصْرِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْحِنَّائِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1067

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الدُّخُولِ عَلَى السُّلْطَانِ · حديث 1068

1069 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ كِتَابِ رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَعْمَرٍ حِينَ سَارَ إِلَى الْحَرُورِيَّةِ يُخْبِرُهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ الَّتِي لَقِيَ فِيهَا الْعَدُوَّ انْتَظَرَ حَتَّى إِذَا مَالَتِ الشَّمْسُ قَامَ فِيهِمْ فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، وَسَلُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ الْعَافِيَةَ، فَإِنْ لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلِّ السُّيُوفِ» ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، وَمُجْرِيَ السَّحَابِ، وَهَازِمَ الْأَحْزَابِ، اهْزِمْهُمْ وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ» وَذَكَرَ أَيْضًا أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا فِي مِثْلِ ذَلِكَ فَقَالَ «اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّهُمْ نَحْنُ عِبَادُكَ وَهُمْ عِبَادُكَ وَنَوَاصِينَا وَنَوَاصِيهِمْ بِيَدِكَ اهْزِمْهُمْ وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ»

ابو نضر صحابہ کرام میں سے حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عمر بن عبید اللہ یعنی ابن معمر کوجب وہ حروریہ کی طرف روانہ ہورہے تھے تب ان کو لکھا اس بات سے آگاہ کرنے کے لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لڑائی میں،جس میں دشمن سے سامنا تھا، سورج ڈھلنے کا انتظار کیا۔ پھر ان کے بیچ کھڑے ہوکر فرمایا:لوگو!دشمنوں سے مقابلہ کی تمنا نہ کرو اور اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو۔ لیکن جب ان سے مقابلہ ہو جائے، تو صبر سے کام لو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔ پھرآپ نے یہ دعا کی:اللَّہُمَّ مُنْزِلَ الْکِتَابِ، وَمُجْرِیَ السَّحَابِ، وَہَازِمَ الْاَحْزَابِ، اہْزِمْہُمْ وَانْصُرْنَا عَلَیْہِمْ ،اے اللہ!کتابوں کے نازل فرمانے والے،بادلوں کو چلانے والے اور جتھوں کو شکست دینے والے!انھیں شکست سے دوچار کردے اور ہمیں ان پر غلبہ عطا فرما۔

أَبِي النَّضْرِ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1068

chevron_left Previous
1…888990…188
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter