Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
كتاب الدعاء

Kitab Al Dua

by Tibrani

2,251 Hadith318 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ لِلْفَقْرِ وَالسَّقَمِ · حديث 1045

1045 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ وَاقِدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَقْبَلَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ رَثُّ الثِّيَابِ رَثُّ الْهَيْئَةِ مِسْقَامٌ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا فُلَانُ مَا الَّذِي بَلَغَ بِكَ مَا أَرَى؟» قَالَ الْفَقْرُ وَالسَّقَمُ، قَالَ: «أَفَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ إِذَا قُلْتَهُنَّ ذَهَبَ عَنْكَ الْفَقْرُ وَالسَّقَمُ؟» فَقَالَ: مَا يَسُرُّنِي بِهِمَا أَنِّي شَهِدْتُ مَعَكَ بَدْرًا وَأُحُدًا، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِيهِنَّ، قَالَ: " قُلْ: تَوَكَّلْتُ عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ: وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ وَلِيُّ مِنَ الذُّلِّ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا " قَالَ: فَلَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَيَّامٍ فَقَالَ: «يَا أَبَا هُرَيْرَةَ مَا هَذَا الَّذِي أَرَى مِنْ حُسْنِ حَالِكَ؟» قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا زِلْتُ أَقُولُ الْكَلِمَاتِ مُنْذُ عَلَّمْتَنِيهِنَّ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا کہ انصاریوں میں سے ایک شخص ہمارے سامنے آتا ہے جس کے کپڑے میلے کچیلے تھے، اس کی حالت نہ گفتہ بہ تھی اور و ہ بیماری میں مبتلا تھا ۔اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا:اے فلاں شخص! تمہاری یہ کیا حالت ہو چکی ہے جو میں دیکھ رہا ہوں، وہ شخص کہتا ہے:تنگدستی اور بیماری کی وجہ سے میرے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھادوں کہ جب تم وہ کلمات کہے گا تو اس کی وجہ سےفقر دور ہو جائے گا، بیماری ختم ہو جائے گی۔ اس نے کہا: مجھے ان کے مقابلے میں یہ بات زیادہ خوش کرتی ہے کہ میں آپ کے ساتھ ساتھ جنگ بدر و اُحد میں شریک رہا ہوں ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !وہ کلمات مجھے سکھا دیں، آپ نے فرمایا: تم یہ کلمات کہا کرو: میں نے اس اللہ پر توکل کیا جو ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے، اس کو موت نہیں آئے گی: تَوَکَّلْتُ عَلَی الْحَیِّ الَّذِی لَا یَمُوتُ: وَالْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ یَکُنْ لَہُ شَرِیکٌ فِی الْمُلْکِ وَلَمْ یَکُنْ لَہُ وَلِیُّ مِنَ الذُّلِّ وَکَبِّرْہُ تَکْبِیرًا،تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جو نہ اولاد رکھتا ہے نہ اپنی بادشاہت میں کسی کو شریک وساجھی رکھتا ہے اور نہ وہ کمزور ہے کہ اسے کسی حمایتی کی ضرورت ہو اور تو اس کی پوری پوری بڑائی بیان کرتے رہو۔ حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دنوں کے بعد مجھے ملے،فرمایا:اے ابو ہریرہ !تمہاری یہ اس قدر اچھی حالت ،اس کی وجہ کیا ہے ،میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! وہ کلمات جو آپ نے مجھے سکھلائے تھے ،میں مسلسل وہ کلمات کہتا رہا ہوں ان کی وجہ سے یہ میرے حالات اچھے ہوگئے ہیں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، ← موسى بن عبيدة ← حَمَّادُ بْنُ وَاقِدٍ الصَّفَارُ ← عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1045

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ لِلْفَقْرِ وَالسَّقَمِ · حديث 1046

1046 - حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ النَّضْرِ الْقُرَشِي الْبَصْرِيُّ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ حَرْبِ بْنِ زِيَادٍ الْكِلَابِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو مُدْرِكٍ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى إِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاتَّبَعْتُهُ، فَقَالَ: انْطَلِقْ بِنَا حَتَّى نَدْخُلَ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهَا فَإِذَا هِيَ نَائِمَةٌ مُضْطَجِعَةٌ، فَقَالَ: «يَا فَاطِمَةُ مَا يُنِيمُكِ هَذِهِ السَّاعَةِ؟» قَالَتْ: مَا زِلْتُ الْبَارِحَةَ مَحْمُومَةً، قَالَ: «فَأَيْنَ الدُّعَاءُ الَّذِي عَلَّمْتُكِ؟» قَالَتْ: نَسِيتُهُ، قَالَ: " قُولِي: يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ، وَلَا تَكِلْنِي إِلَى أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ وَلَا إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ "

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں تھے،جب سورج طلوع ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے باہر نکلے میں آپ کے ساتھ تھا ۔آپ نے فرمایا: ہمارے ساتھ چلو ہم فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس جائیں گے ،ہم گئے سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے گھر میں داخل ہوئے ۔توفاطمہ لیٹ کر سوئی ہوئی تھیں، اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے فاطمہ! اس وقت تمہیں کس چیز میں سلا رکھا ہے۔ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کہتی ہیں:میںساری رات پریشانی کا شکار رہی ہوں، آپ نے فرمایا :وہ دعا کہا ں ہے جو میں نے تمہیں سکھلائی تھی ؟ فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہ دعامجھے دعا بھول گئی ہے، آپ نے فرمایا: بیٹی تم یہ دعا کہا کرو:یَا حَیُّ یَا قَیُّومُ بِرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیثُ اَصْلِحْ لِی شَاْنِی کُلَّہُ، وَلَا تَکِلْنِی إِلَی اَحَدٍ مِنَ النَّاسِ وَلَا إِلَی نَفْسِی طَرْفَۃَ عَیْنٍ،اے زندہ رہنے والے !اے ہمیشہ قائم رہنے والے !میں تیری رحمت کے ساتھ مدد کا سوال کرتی ہوں ، میرے تمام معاملات کو درست فرمادے ۔ مجھے ایک لمحے کے لئے لوگوں کے سپرد نہ کرنا اور نہ ہی آنکھ جھپکنے کے برابر مجھے میرے اپنے نفس کے حوالے کرنا ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أبو مدركٍ، ← سَلَمَةُ بْنُ حَرْبِ بْنِ زِيَادٍ الْكِلَابِيُّ، ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ← خَالِدُ بْنُ النَّضْرِ الْقُرَشِي الْبَصْرِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1046

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ لِلْفَقْرِ وَالسَّقَمِ · حديث 1047

1047 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُصَيْرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ: أَصَابَتْ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَاقَةٌ، فَقَالَ لِفَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: لَوْ أَتَيْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتِيهِ وَكَانَ عِنْدَ أُمِّ أَيْمَنَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَدَقَّتِ الْبَابَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُمِّ أَيْمَنَ: «إِنَّ هَذَا لَدَقُّ فَاطِمَةَ، وَلَقَدْ أَتَتْنَا فِي سَاعَةٍ مَا عَوَّدَتْنَا أَنْ تَأْتِيَنَا فِي مِثْلِهَا، فَقُومِي فَافْتَحِي لَهَا الْبَابَ» قَالَتْ: فَفَتَحْتُ لَهَا الْبَابَ، فَقَالَ: «يَا فَاطِمَةُ، لَقَدْ أَتَيْتِنَا فِي سَاعَةٍ مَا عَوَّدْتِنَا أَنْ تَأْتِينَا فِي مِثْلِهَا» فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ الْمَلَائِكَةُ طَعَامُهَا التَّسْبِيحُ وَالتَّحْمِيدُ وَالتَّمْجِيدُ، فَمَا طَعَامُنَا؟ قَالَ: «وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ مَا اقْتَبَسَ فِي آلِ مُحَمَّدٍ نَارٌ مُنْذُ ثَلَاثِينَ يَوْمًا وَقَدْ أَتَانَا أَعْنُزٌ فَإِنْ شِئْتِ أَمَرْتُ لَكِ بِخَمْسَةِ أَعْنُزٍ، وَإِنْ شِئْتِ عَلَّمْتُكَ خَمْسَ كَلِمَاتٍ عَلَّمَنِيهِنَّ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ آنِفًا» قَالَتْ: بَلْ عَلِّمْنِي الْخَمْسَ كَلِمَاتٍ الَّتِي عَلَّمَكَهُنَّ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، قَالَ: " قُولِي: يَا أَوَّلَ الْأَوَّلِينَ، يَا آخِرَ الْآخَرِينَ، ذَا الْقُوَّةِ الْمَتِينَ، وَيَا رَاحِمَ الْمَسَاكِينِ، وَيَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ " قَالَ: فَانْصَرَفَتْ حَتَّى دَخَلَتْ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَتْ: ذَهَبْتُ مِنْ عِنْدِكِ إِلَى الدُّنْيَا وَأَتَيْتُكَ بِالْآخِرَةِ، قَالَ: خَيْرًا يَأْتِيكِ، خَيْرًا يَأْتِيكِ

سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ فقر کا شکار ہوئے ،انہوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا:آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں، آپ سے کچھ سوال کریں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہ کے پاس تھے ، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا وہاں آئیں ،انہوں نے دروازہ بجایا ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام ایمن سے کہا دروازے پر فاطمہ ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزیدفرمایا: اس وقت کسی خاص مقصد کے لییہی فاطمہ کا آنا ہوا ہوگا، اس لیے اٹھو اور دروازہ کھول دو،ام ایمن کہتی ہیں: میں نے جاکر فاطمہ رضی اللہ عنہ کے لیے دروازہ کھول دیا، آپ نے فرمایا: اے فاطمہ تم! اس وقت آئی ہو کہ اس وقت ہم جیسے بغیر کسی نہایت مجبوری کے کسی کے گھر نہیں جایا کرتے، فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !یہ فرشتے ہیں، ان کی غذا تسبیح،تحمیداور تمجیدہے ، ہمارا کھانا اور ہماری غذا کیا ہے ؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے حق دے کر بھیجا ہے !آلِ محمد نے تیس دنوں سے گھر میں آگ نہیں جلائی ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے پاس کچھ دودھ والے جانور آئے ہیں، اگر تم چاہو تو میں تمہارے لیے پانچجانوروں کا حکم دے دیتا ہوں اور اگر تم چاہو تو میں تمہیں پانچ کلمات سکھا دیتا ہوں جو کلمات مجھے جبریل امین علیہ السلام نے ابھی سکھلائے ہیں ۔سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:آپ مجھے وہ کلمات سکھلا دیں جو جبریل علیہ السلام نے آپ کوسکھائے ہیں ۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے یہ پانچ کلمات ان کو سکھلائے :یَا اَوَّلَ الْاَوَّلِینَ، یَا آخِرَ الْآخَرِینَ، ذَا الْقُوَّۃِ الْمَتِینَ، وَیَا رَاحِمَ الْمَسَاکِینِ، وَیَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِین،اے اولین کے اول !اے آخروںکے آخر !اے طاقتوں والے اور قوتوں والے! اے مسکینوں پر رحم کرنے والے! اے سب سے بڑھ کر رحم کرنے والے! حضرت سوید بن غفلہ کہتے ہیں: فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا وہاں سے واپس چلی گئیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس جاکر ان کوبتایا آیا کہ میں آپ کے پاس سے دنیا کے حصول کے لیے گئی تھی لیکن میں تمہارے پاس آخرت کو لے کر آئی ہوں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں بہت ہی خیر اور بھلائی کو لے کر واپس آئی ہو۔بہت ہی خیر اور بھلائی کو لے کر واپس آئی ہو۔

فَفَتَحْتُ لَهَا الْبَابَ، ← لِفَاطِمَةَ لَوْ أَتَيْتِ رَسُولَ اللَّهِ فَسَأَلْتِيهِ وَكَانَ عِنْدَ أُمِّ أَيْمَنَ فَدَقَّتِ الْبَابَ ← أَصَابَتْ عَلِيًّا فَاقَةٌ، ← سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ← عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ نُصَيْرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1047

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ لِلْفَقْرِ وَالسَّقَمِ · حديث 1048

1048 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَنْدَةَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، سَنْدِيلَةُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو هَانِئٍ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ زَائِدَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رِجَالٌ أَصْحَابُ الصُّفَّةِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:320] فَشَكَوْا إِلَيْهِ الْحَاجَةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَادَ الْفَقْرُ أَنْ يَكُونَ كُفْرًا، وَكَادَ الْحَسَدُ أَنْ يَسْبِقَ الْقَدَرَ، قُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ "

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ اہل صفہ میں سے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، انہوں نے آ کر اپنی پریشانیوں کا اظہار کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:فقر اس حد تک خطرناک ہے کہ یہ انسان کو کفر تک لے جاسا ہے اور حسد ااس قدر نقصان دہ اور مہلک ہے کہ یہ تقدیر سے سبقت لے جاسکتا ہے ۔اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم یہ دعا پڑھا کرو :اللَّہُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ، اقْضِ عَنَّا الدَّیْنَ وَاَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ،اے اللہ !اے سات آسمانوں کے رب !اور عرش عظیم کے رب !مجھ سے میرے قرض کو ادا کردے اور مجھے فقر سے بے نیا زکردے ۔

جَاءَ رِجَالٌ أَصْحَابُ الصُّفَّةِ إِلَى النَّبِيِّ [ص:320] فَشَكَوْا إِلَيْهِ الْحَاجَةَ، ← عُمَرَ، ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← الْاَعْمَشِ ← معمر بن زائدة ← أَبُو هَانِئٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَيُّوبَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، سَنْدِيلَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَنْدَهْ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1048

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدُّعَاءِ لِلْفَقْرِ وَالسَّقَمِ · حديث 1049

1049 - حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْمِصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ مَيْمُونٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو يَقُولُ: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ أَوْسَعَ رِزْقِكَ عَلَيَّ عِنْدَ كِبَرِ سِنِّي، وَانْقِطَاعِ عُمْرِي»

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے :اللَّہُمَّ اجْعَلْ اَوْسَعَ رِزْقِکَ عَلَیَّ عِنْدَ کِبَرِ سِنِّی، وَانْقِطَاعِ عُمْرِی،اے اللہ !میرے بڑھاپے کی عمر میں اور میری زندگی کے آخری لمحات میں میرے رزق کو کشادہ کر دینا۔

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← عِيسَى بْنُ مَيْمُونَ، ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ← سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْمِصْرِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1049

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الدُّخُولِ عَلَى السُّلْطَانِ · حديث 1050

1050 - حَدَّثَنَا طَاهِرُ بْنُ عِيسَى الْمُقْرِئُ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ عَمِّهِ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَخْتَلِفُ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حَاجَتِهِ وَكَانَ عُثْمَانُ لَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِ وَلَا يَنْظُرُ فِي حَاجَتِهِ، فَلَقِيَ ابْنَ حُنَيْفٍ فَشَكَا ذَلِكَ إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ: ائْتِ الْمِيضَأَةَ فَتَوَضَّأْ، ثُمَّ ائْتِ الْمَسْجِدَ، فَصَلِّ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ وَقُلِ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا نَبِيِّ الرَّحْمَةِ: يَا مُحَمَّدُ إِنِّي أَتَوَجَّهُ بِكَ إِلَى رَبِّكَ فَيَقْضِي لِي حَاجَتِي، وَتُذْكُرُ حَاجَتَكَ " حَتَّى أَرْوَحَ مَعَكَ، فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ فَصَنَعَ مَا قَالَ لَهُ، ثُمَّ أَتَى بَابَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَجَاءَهُ الْبَوَّابُ حَتَّى أَخَذَ بِيَدِهِ فَأَدْخَلَهُ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَأَجْلَسَهُ مَعَهُ عَلَى الطِّنْفِسَةِ فَقَالَ: حَاجَتُكَ؟ فَذَكَرَ حَاجَتَهُ وَقَضَاهَا لَهُ، وَقَالَ لَهُ: مَا فَهِمْتَ حَاجَتَكَ حَتَّى كَانَ السَّاعَةُ، وَقَالَ لَهُ: مَا كَانَ لَكَ مِنْ حَاجَةٍ فَسَلْ، ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِ عُثْمَانَ فَلَقِيَ عُثْمَانَ بْنَ حُنَيْفٍ فَقَالَ لَهُ جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا مَا كَانَ يَنْظُرُ إِلَيَّ فِي حَاجَتِي وَلَا يَلْتَفِتُ إِلَيَّ حَتَّى كَلَّمْتُهُ فِي، فَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ: مَا كَلِمَتُهُ فِيكَ، وَلَكِنِّي شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ ضَرِيرٌ فَشَكَا إِلَيْهِ ذَهَابَ بَصَرِهِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَتَصْبِرُ؟» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَيْسَ لِي قَائِدٌ وَقَدْ شَقَّ عَلَيَّ [ص:321] فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ: «ائْتِ الْمِيضَأَةَ فَتَوَضَّأْ، ثُمَّ صَلِّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ ادْعُ بِهَذِهِ الدَّعَوَاتِ» قَالَ ابْنُ حُنَيْفٍ: وَاللَّهِ مَا تَفَرَّقْنَا حَتَّى دَخَلَ عَلَيْنَا الرَّجُلُ كَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِهِ ضَرَرٌ قَطُّ قَالَ الطَّبَرَانِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: خَالَفَ شُعْبَةُ رَوْحَ بْنَ الْقَاسِمِ فِي إِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثِ فَرَوَاهُ عَنُ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک شخص حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس اکثر آیا کرتا تھا اور آکر ان سامنے اپنی پریشانی کا اظہار کیا کرتا تھا ،جبکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اس کی طرف توجہ نہیں دیاکرتے تھے اور نہ ہی اس کی پریشانیوں کو دیکھتے تھے۔ ایک دن وہ شخص ابن حنیف کو ملا اور ان کے سامنے اس بات کا شکوہ کیا ۔حضرت عثمان بن حنیف نے اس سے کہا :تم میضاء کے کنویں پر جاؤ ، روضوء ا کرو اورمسجد میںآکر مسجد میں آ کر دو رکعت نماز ادا کرو اور پھر اللہ تعالیٰ سے ان الفاظ میں دعا کرو: اللَّہُمَّ إِنِّی اَسْاَلُکَ وَاَتَوَجَّہُ إِلَیْکَ بِنَبِیِّنَا نَبِیِّ الرَّحْمَۃِ: یَا مُحَمَّدُ إِنِّی اَتَوَجَّہُ بِکَ إِلَی رَبِّکَ فَیَقْضِی لِی حَاجَتِی، وَتُذْکُرُ حَاجَتَک،اے اللہ!میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیری طرف آپ کے نبی رحمت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے متوجہ ہوتا ہوں، (اے نبی)میں آپ کے توسل سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوا: تاکہ میری اس ضرورت کو پورا کردیا جائے ، اے اللہ!تو میرے حق میں ان کی سفارش قبول فرما۔وہ شخص چلا گیا اس نے وہی کیا جواس کو کو عثمان بن حنیف نے کہا تھا: اس کے بعد وہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ کے دروازے پر آیا، دروازے پہ دربان آیا، اس نے اس کے ہاتھ کو پکڑ لیا اور اس کو لے جا کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے چٹائی پربٹھا دیا ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تمہاری حاجت کیاہے؟ اس نے اپنی حاجت کو بیان کیا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کی ضرورت کو پورا کیا اور اسے کہا میں تمہاری حاجت کوپہلے نہیں سمجھ سکا، یہاں تک کہ آج کا وقت آگیا ،اس سے کہا : تمہاری جو بھیضرورت ہے ،آج مجھ سے سوال کرو، مجھ سے مانگو ، وہ آدمی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس سے نکل کر عثمان بن حنیف کو ملا اور ان سے کہا: اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے اور آسمان کی طرف دیکھتے تھے، نا تومیری طرف توجہ کرتے تھے اور نہ میری ضروریات کے بارے میں پوچھتے تھے ،یہاں تک کہ میں نے یہ کلمہ کہا۔عثمان بن حنیف نے پوچھا :آج انہوں نے تمہیں کیا کہا؟اس نے بتانا شروع کیا کہ وہ کہتے ہیں: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ آپ کے پاس ایک نابینا آدمی آیا اس کی بصارت ختم ہو چکی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: صبر کرے گا اس نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میری رہنمائی کرنے والا نہیں ہے، لانے لے جانے والا کوئی نہیں ہے، میرے لیے گزر بسر مشکل ہو چکی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو یہی فرمایا تھا،میضاء کے کنویں پر جاؤ وضوء کرو، دو رکعت نماز ادا کرو، پھر انہی کلمات کے ساتھ دعا کرو کرو۔ ابن حنیف کہتے ہیں :اللہ کی قسم! ہم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس سے اٹھ کر نہیں گئے تھے کہ وہ آدمی ہمارے پاس واپس آیا تو اس کی حالت یہ تھی گویا وہ کبھی نابینا ہوا ہی نہیں۔

عمه عثمان بن حنيف ← أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ← أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← شَبِيبُ بْنُ سَعِيدٍ، ← أَبِي سَعِيدٍ الْمَكِّيِّ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، ← طَاهِرُ بْنُ عِيسَى الْمُقْرِئُ الْمِصْرِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1050

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الدُّخُولِ عَلَى السُّلْطَانِ · حديث 1051

1051 - حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ فَارِسٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ

حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح بیان کرتے ہیں ۔

النَّبِيِّ بِمَعْنَاهُ ← عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ، ← عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ ← أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ ← شُعْبَةُ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ فَارِسٍ ← إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1051

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الدُّخُولِ عَلَى السُّلْطَانِ · حديث 1052

1052 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْمَدِينِيِّ، يَقُولُ: رَوَى شُعْبَةُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ، فَذَكَرَ حَدِيثَ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ عَلِيُّ: وَرَوَاهُ رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ عَلِيُّ: وَمَا أَرَى رَوْحَ بْنَ الْقَاسِمِ إِلَّا قَدْ حَفِظَهُ قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: وَرَوَاهُ عَوْنُ بْنُ عُمَارَةَ عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى عُثْمَانَ

ایک روایت میں عثمان بن حنیف بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:روح بن قاسم نے اس کو یاد کرلیا تھا ۔دوسری روایت میںحضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کام تھا ۔

جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى عُثْمَانَ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← الطَّبَرَانِيُّ: وَرَوَاهُ عَوْنُ بْنُ عُمَارَةَ ← عَلِيُّ: وَمَا أَرَى رَوْحَ بْنَ الْقَاسِمِ إِلَّا قَدْ حَفِظَهُ ← عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ، ← أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، ← أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ ← عَلِيُّ: وَرَوَاهُ رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ، فَذَكَرَ حَدِيثَ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ، ← رَوَى شُعْبَةُ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1052

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الدُّخُولِ عَلَى السُّلْطَانِ · حديث 1053

1053 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا عَوْنُ بْنُ عُمَارَةَ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ شَبِيبِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ قَالَ الطَّبَرَانِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَهِمَ عَوْنٌ فِي الْحَدِيثِ وَهْمًا فَاحِشًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کام تھا ۔۔امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عون کو حدیث بیان کرنے میں وہم فاحش لاحق ہوا ہے ۔

الطَّبَرَانِيُّ وَهِمَ عَوْنٌ فِي الْحَدِيثِ وَهْمًا فَاحِشًا ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← مِثْلَ حَدِيثِ شَبِيبِ بْنِ سَعِيدٍ، ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَجُلًا كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى عُثْمَانَ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← عَوْنُ بْنُ عُمَارَةَ ← عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1053

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الدُّخُولِ عَلَى السُّلْطَانِ · حديث 1054

1054 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا فَرْوَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ الْأَنْصَارِيُّ، بِالْأَبْوَاءِ، حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ يَحْيَى الْحَاطِبِيُّ، حَدَّثَنِي زَكَرِيَّا بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَمِّهِ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ غَدَوْنَا يَوْمًا غَدَاةً مِنَ الْغَدَوَاتِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كُنَّا فِي مَجْمَعِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَبَصُرْنَا بِأَعْرَابِيٍّ آخِذٍ بِخِطَامِ بَعِيرِهِ حَتَّى وَقَفَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:322] وَنَحْنُ حَوْلَهُ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، فَرَدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّلَامَ فَقَالَ: كَيْفَ أَصْبَحْتَ؟ قَالَ: وَرَغَا الْبَعِيرُ، وَجَاءَ رَجُلٌ كَأَنَّهُ حَرَسِيُّ، فَقَالَ الْحَرَسِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الْأَعْرَابِيُّ سَرَقَ الْبَعِيرَ، فَرَغَا الْبَعِيرُ سَاعَةً وَحَنَّ فَأَنْصَتَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْمَعُ رُغَاهَ وَحَنِينَهُ فَلَمَّا هَدَأَ الْبَعِيرُ أَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْحَرَسِيِّ فَقَالَ: «انْصَرِفْ عَنْهُ، فَإِنَّ الْبَعِيرَ يَشْهَدُ عَلَيْكَ أَنَّكَ كَاذِبٌ» فَانْصَرَفَ الْحَرَسِيُّ، فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْأَعْرَابِيِّ فَقَالَ: «أَيُّ شَيْءٍ قُلْتَ حِينَ جِئْتَنِي؟» قَالَ: قُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ حَتَّى لَا تَبْقَى صَلَاةٌ، اللَّهُمَّ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ حَتَّى لَا تَبْقَى بَرَكَةٌ، اللَّهُمَّ وَسَلِّمْ عَلَى مُحَمَّدٍ حَتَّى لَا يَبْقَى سَلَّامٌ، اللَّهُمَّ وَارْحَمْ مُحَمَّدًا حَتَّى لَا تَبْقَى رَحْمَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَبْدَاهَا لِي وَالْبَعِيرُ يَنْطِقُ بِعُذْرِهِ وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ قَدْ سَدُّوا الْأُفُقَ»

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن صبح کے وقت ہم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کی گلیوں میں موجود تھے۔ ہم نے ایک اعرابی کو دیکھا ۔اس نے ایک اونٹ کی لگام کو تھما ہوا تھا، وہ چلتا ہوا ہماری طرف آیا اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر رک گیا۔تب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آس پاس موجود تھے۔ اس نے کہا: اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم!السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ ! آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا اور اس سے پوچھا: تمہارا کیا حال ہے ؟ اس کے ساتھ ہی اس کا اونٹ بلبلانے لگا ،اسی دوران ایک اور آدمی وہاں آیا گویا وہ حرسی تھا، اس نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اس اعرابی نے اونٹ چوری کیا ہے ۔اس پر اونٹ رونے اور بلبلانے لگا ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو خاموش کیا، آپ اس کے بلانے اور اس کے رونے کی آواز کو سن رہے تھے ،جب اونٹ خاموش ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا :تم ان سے الگ ہو جائو۔ یہ اون تیرے خلاف گواہی دے رہا ہے ہے،وہ حرسی چلا گیا۔ اس کے جانے کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اعرابی کی طرف متوجہ ہوئے اور اس سے کہا: جب تو میرے پاس آیا تھا تونے آتے وقت کونسی دعا پڑھی تھی، اس نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں!میں نے آتے ہوئے آپ پر ان الفاظ میں درود پڑھا تھا: اللَّہُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ حَتَّی لَا تَبْقَی صَلَاۃٌ، اللَّہُمَّ وَبَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ حَتَّی لَا تَبْقَی بَرَکَۃٌ، اللَّہُمَّ وَسَلِّمْ عَلَی مُحَمَّدٍ حَتَّی لَا یَبْقَی سَلَّامٌ، اللَّہُمَّ وَارْحَمْ مُحَمَّدًا حَتَّی لَا تَبْقَی رَحْمَۃٌ،اے اللہ !محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نازل فرما! ایسا درود کہ درود کی کوئی قسم باقی نہ رہے۔اے اللہ ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر برکتیں نازل فرما!کہ ایک برکت بھی باقی نہ رہے۔اے اللہ ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر سلامتی نازل فرما !یہاں تک کہ سلامتی کا ذرا بھی باقی نہ رہے۔اے اللہ !محمد صلی اللہ علیہ وسلمپر رحمتوں کا نزول فرما! کہ کوئی بھی رحمت باقی نہ رہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ عزوجل نے اس کو اسی وجہ سے میرے لئے ظاہر کردیا اور اونٹ نے بول کر تمہاری بے گناہی ثابت کردی بولنے لگا اور بے شک اللہ کے فرشتوں نے افق کو اس کے لیے بند کر دیا تھا

عَمِّهِ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ← أَبِيهِ إِسْمَاعِيلَ، ← زَكَرِيَّا بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← هارون بن يحيى الحاطبي ← فَرْوَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ الْأَنْصَارِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1054

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الدُّخُولِ عَلَى السُّلْطَانِ · حديث 1055

1055 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمُّوسِ بْنِ نَصْرٍ الْقَطَّانُ الْهَمْدَانِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الْوَصَّابِيُّ الْحِمْصِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مُوسَى الْأَزْدِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءُوا بِرَجُلٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَهِدُوا عَلَيْهِ أَنَّهُ سَرَقَ نَاقَةً لَهُمْ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْطَعَ فَوَلَّى الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ صَلِّي عَلَى مُحَمَّدٍ حَتَّى لَا يَبْقَى مِنْ صَلَاتِكِ شَيْءٌ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ حَتَّى لَا يَبْقَى مِنْ بَرَكَاتِكَ شَيْءٌ، وَسَلِّمْ عَلَى مُحَمَّدٍ حَتَّى لَا يَبْقَى مِنَ السَّلَامِ شَيْءٌ، فَتَكَلَّمَ الْجَمَلُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّهُ بَرِيءٌ مِنْ سَرِقَتِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَأْتِينِي بِالرَّجُلِ؟» فَابْتَدَرَهُ سَبْعُونَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ فَجَاءُوا بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا هَذَا مَا قُلْتَ آنِفًا وَأَنْتَ مُدْبِرٌ؟» فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِذَلِكَ نَظَرْتُ إِلَى الْمَلَائِكَةَ يَخْتَرِقُونَ سِكَكَ الْمَدِينَةِ حَتَّى كَادَ أَنْ يَحُولَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ الْمَلَائِكَةُ " ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَتَرِدَنَّ عَلَى الصِّرَاطِ وَوَجْهُكَ أَضْوَأُ مِنَ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ»

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگ ایک آدمی کو پکڑ کررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے ،وہ سب گواہی دے رہے تھے کہ اس شخص نے ان کی اونٹنی چرائی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا کہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے ۔ جب وہ شخص وہاں سے واپس پلٹا تو اس نے ان الفاظ میں دعا کی :اللَّہُمَّ صَلِّی عَلَی مُحَمَّدٍ حَتَّی لَا یَبْقَی مِنْ صَلَاتِکِ شَیْء ٌ، وَبَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ حَتَّی لَا یَبْقَی مِنْ بَرَکَاتِکَ شَیْء ٌ، وَسَلِّمْ عَلَی مُحَمَّدٍ حَتَّی لَا یَبْقَی مِنَ السَّلَامِ شَیْئٌ،اے اللہ !محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نازل فرما! کہ تیرا کوئی درود باقی نہ رہے۔اے اللہ ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر برکتیں نازل فرما!کہ تیری برکتوں میں سے ایک برکت بھی باقی نہ رہے۔اے اللہ ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر سلامتی نازل فرما !یہاں تک کہ تیری سلامتی میں سے ایک سلامتی باقی نہ رہے۔اس کے خلاف گواہی دینے والوں میں سے ایک نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !وہ شخص میری چوری سے بری ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس شخص کو میرے پاس کون لے کر آئے گا ؟بدری صحابہ میں سے ستر صحابہ اس کی طرف لپکے ۔ اس کو نبی اکر م صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے ، آپ نے اس سے پوچھا :اے اللہ کے بندے !تو نے ابھی واپس جاتے ہوئے کون سی دعا کی تھی ؟اس نے اپنی طرف سے کی ہوئی دعا کے بارے میں بتایا ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اسی وجہ سے میں نے اللہ کے فرشتوں کو دیکھا ہے وہ مدینہ کی گلیوں کو اپنے گھیرے میں لیے ہوئے ہیں ، یہاں تک وہ تیرے پاس پہنچنے والے تھے ۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا:تو میرے پاس صراط پر اس حال میں آئے گا کہ تیرا سر ما کامل سے زیادہ روشن ہوگا ۔

جَاءُوا بِرَجُلٍ إِلَى النَّبِيِّ فَشَهِدُوا عَلَيْهِ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← سَعِيدُ بْنُ مُوسَى الْأَزْدِيُّ، ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الْوَصَّابِيُّ الْحِمْصِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حَمُّوسِ بْنِ نَصْرٍ الْقَطَّانُ الْهَمْدَانِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1055

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الدُّخُولِ عَلَى السُّلْطَانِ · حديث 1056

1056 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْعَبَّاسِ الرَّازِيُّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، قَالَا: ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا جُنَادَةُ بْنُ سَلْمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا تَخَوَّفَ أَحَدُكُمُ السُّلْطَانَ فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّ فُلَانٍ - تُسَمِّي الَّذِي تُرِيدُ - وَشَرِّ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَأَتْبَاعِهِمْ أَنْ يَفْرُطَ عَلَيَّ أَحَدٌ مِنْهُمْ، عَزَّ جَارُكَ وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ "

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جب تم میں سے کسی ایک کو کسی بادشاہ کی طرف ڈر پیدا ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ ان الفاظ میں دعا کرے :اللَّہُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ، کُنْ لِی جَارًا مِنْ شَرِّ فُلَانٍ۔تُسَمِّی الَّذِی تُرِیدُ۔وَشَرِّ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَاَتْبَاعِہِمْ اَنْ یَفْرُطَ عَلَیَّ اَحَدٌ مِنْہُمْ، عَزَّ جَارُکَ وَجَلَّ ثَنَاوُکَ وَلَا إِلَہَ غَیْرُکَ،اے اللہ !اے ساتوں آسمانوں کے رب ،عرش عظیم کے رب !تو میرامدد گاربن جا ، فلاں شخص کے شر کے مقابلے میں ۔۔ اس آدمی کا نام لے کر دعا کرے جس شر کے حوالے سے ڈر ہو۔۔جنات کے شر سے کا فی ہوجا اور اور انسانوں کے شر سے کافی ہوجا اور ان کے پیرورکارلوگوں کے شرسے کافی ہوجا ، کہ ان میں سے کوئی بھی مجھ پر ظلم و زیادتی کرے ۔تیری مدد بلند تر ہے تیری ثنا ء جلالت والی ہے اور تیرے سوا عبادت کے لائق نہیں ہے ۔

النَّبِيِّ ← جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِيهِ ← عتبة بن عبد الله بن عتبة بن مسعود، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← جُنَادَةُ بْنُ سَلْمٍ، ← سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ← الْحَسَنُ بْنُ الْعَبَّاسِ الرَّازِيُّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1056

chevron_left Previous
1…878889…188
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter